Baaghi TV

Tag: ایوان بالا

  • فاٹااور بلوچستان کے طالبعلموں کے  میڈیکل وظائف کا معاملہ، چیئر مین پی ایم سی  کے خلاف نوٹس جاری

    فاٹااور بلوچستان کے طالبعلموں کے میڈیکل وظائف کا معاملہ، چیئر مین پی ایم سی کے خلاف نوٹس جاری

    ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئر مین کمیٹی سینیٹر عثما ن خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ فاٹااور بلوچستان کے طالبعلموں کو کئی برسوں سے 265 میڈیکل وظائف دیئے جا رہے تھے جس پرا یچ ای سی نے آما دگی کا اظہار کیا تھا ان کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں تھی اورا یچ ای سی وظائف دینے کے لیئے تیارہے۔

    مگر پی ایم سی کی جانب سے سکالرشپز دینے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور آج کمیٹی کے اجلاس میں چیئر مین پی ایم سی ،نائب چیئر مین پی ایم سی اور سیکرٹری ہیلتھ کی عدم حاضری پر چیئر مین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑاور اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے احتجاجاََکمیٹی کا اجلاس ملتوی کر دیا اور ان تینوں کے خلاف نوٹسسزجاری کرنے کا حکم دیااورفیصلہ کیا کہ ان کے خلاف تحریک استحقاق ایوان میں لے کرجانے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین واراکین ِکمیٹی نے متعلقہ حکام کے رویوں کے بارے میں چیئرمین سینیٹ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور تمام صورتحال سے تفصیلی آگاہ کیا ۔

    کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز فد ا محمد ، سردار محمد شفیق ترین اور نصرت شاہین کے علاوہ وزارت ہیلتھ ،ایچ ای سی اور پی ایم سی کے حکام نے شرکت کی۔

  • ایوان بالا کا اجلاس برائے اقلیتوں کا تحفظ ، تبدیلی مذہب  کا عدالتی طریقہ کار وضع کرنے کی منطوری

    ایوان بالا کا اجلاس برائے اقلیتوں کا تحفظ ، تبدیلی مذہب کا عدالتی طریقہ کار وضع کرنے کی منطوری

    ایوان بالا کی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے اجلاس میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق قانون سازی اور ”ولی“ اور ”جبری تبدیلی“کی تعریف کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ رابطے کا ایجنڈا زیرغور آیا۔

    کمیٹی جلاس میں کنوینیر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو نے کہاکہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کی یہ شکایت رہی ہے کہ یہاں مذہب کو صرف شادی کے لئے تبدیل کرایا جاتا ہے۔ بیرون ممالک میں مذہب کو تبدیل کرنے کے لئے باقاعدہ عدالتوں میں طریقہ کار وضع ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق بل پر غور کیا گیا اور بحث کی گئی۔ کمیٹی اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ بل صرف اسلام آباد میں نہیں بلکہ پورے ملک میں نافذ العمل ہوگااورمذہب کی تبدیلی کے لئے مجسٹریٹ کے پاس رجسٹریشن ضروری قرار دی جائیگی۔ کمیٹی اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ 18 سال سے کم عمر کے افراد کونابالغ ہی تصور کیا جائے۔کمیٹی کے اجلاس میں مذہب تبدیل کرنے والا باقاعدہ مجسٹریٹ کو درخواست دے گا، مجسٹریٹ مذہب تبدیلی کے حوالے سے باقاعدہ تقریب کا انعقاد کرے گا، جبری تبدیلی مذہب میں ملوث افراد کو پانچ سے دس سال قید کی سزا او راس معاملے میں سہولت کار کو تین سے پانچ سال سزا کی بھی تجاویز زیر غور آئیں۔ کنونیئر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو نے وزرات انسانی حقوق اور وزرات قانون کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر بل ڈرافٹ تیار کیاجائے۔

    کمیٹی اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جبری تبدیلی مذہب سے متعلق قانون سازی اور ”ولی“ او ر”زبردستی تبدیلی“کی تعریف کے حوالے سے جواب جمع کرایا گیا اور کہا گیا کہ کونسل ابھی مکمل نہیں ہے لہذا عبوری رائے دے سکتے ہیں۔جس پر کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ کونسل کے جواب کا آئندہ اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

    کمیٹی اجلاس میں ایم این اے لال چند کے علاوہ وزارت قانون، اسلامی نظریاتی کونسل، وزارت مذہبی امور اور وزارت انسانی حقوق کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی