Baaghi TV

Tag: ایوان صدر

  • نمایاں خدمات انجام دینےوالوں کیلئےعسکری اعزازات:     ایوان صدرپاکستان زندہ بادکےنعروں سےگونچ اٹھا

    نمایاں خدمات انجام دینےوالوں کیلئےعسکری اعزازات: ایوان صدرپاکستان زندہ بادکےنعروں سےگونچ اٹھا

    اسلام آباد: ایوان صدرمیں تقریب،نمایاں خدمات انجام دینےوالوں کیلئےعسکری اعزازات،اطلاعات کے مطابق ایوان صدر میں عسکری اعزازات دینے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صدر مملکت عارف علوی مہمان خصوصی تھے، وزیر اطلاعات فواد چودھری بھی شریک ہوئے جبکہ نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔

    ایوان صدرمیں عسکری اعزازات دینے کی تقریب میں صدر پاکستان نے پاک فضائیہ کے افسران کو نان آپریشنل فوجی اعزازات سے نوازا۔

     

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق قابلِ فخر خدمات سر انجام دینے پر ایئر وائس مارشل محمد ندیم صابر، ایئر وائس مارشل محمد قیصر جنجوعہ اور ایئر وائس مارشل شمس الحق کو ہلال امتیاز (ملٹری) جبکہ ایئر مارشل ذوالفقار احمد قریشی، ایئر مارشل عرفان احمد کے لیے ہلال امتیازعسکری کا اعزاز عطا کیا گیا۔

    پاک فضائیہ کے 21 افسران کو ستارۂ امتیاز(ملٹری)، 18 افسران کو تمغہ امتیاز (ملٹری) اور 13 افسران کو امتیازی اسناد سے نوازا گیا۔

    ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں حوالدار شعیب علی شہید اور لانس حوالدار رحمان الحق شہید، لانس نائیک سید محمد عباس شہید، سپاہی محمد ساجد شہید، سپاہی اسد خان شہید کے لیے بعداز شہادت ستارہ بسالت کا اعزاز عطا کیا گیا۔

    تقریب میں میجر جنرل حفیظ الدین، میجر جنرل محمد سلمان اشرف، میجر جنرل سلمان سلیم، ایئر مارشل محمد مغیث افضل، میجر جنرل قدرت اللہ ملک، میجرجنرل عامر اکرام کو ہلال امتیازعسکری کے اعزاز سے نوازا گیا۔

  • ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی ایوان صدر تقریب رونمائی:تحریر: طہٰ منیب

    ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی ایوان صدر تقریب رونمائی:تحریر: طہٰ منیب

    ڈاکٹر قاسم فکتو سالار حریت جو اپنی زندگی کی انتیس بہاریں بھارتی جیلوں میں کاٹ چکے ہیں ، جہاں ان پر بھارتی ظلم و ستم کے توڑے گئے پہاڑ بھی انہیں توڑ نا سکے بلکہ ہر گزرتا دن ہفتہ ماہ و سال انکے عزم و استقلال کو اور بڑھاتے رہے ، کتابیں اور خطوط انکا اپنی اولاد اور فیملی سے رابطہ کا واحد زریعہ تھا،

    احمد بن قاسم جو والد کی دوبارہ گرفتاری کے وقت محظ دو ماہ کے تھے انکے بقول والد صاحب ڈاکٹر قاسم فکتو جو ہمیں پیغام دینا یا ہماری تربیت کرنا چاہتے کتب میں کچھ لائنوں کو ہائی لائٹ کر دیتے، ڈاکٹر قاسم فکتو جو نیلسن منڈیلا سے زیادہ قید کاٹ چکے اور آگے بھی بھارتی حکومت انہیں کسی قسم کا ریلیف دئے بغیر متعدد پابندیاں لگا رہی ہے تاکہ انہیں جھکا سکے،

    ان پابندیوں میں ان تک کتب اور مزید تعلیم کے دروازے بند کرنے کے ساتھ ساتھ قید تنہائی اور جبر و ستم کے سلسلے وسیع کرنا شامل ہیں ، لیکن افسوس کی بات ہے پاکستان اور دنیا بھر انکا تعارف انکے شایان شان نا تھا۔ انہوں نے جیل سے ہی متعدد کتب لکھنے کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کی۔ انہیں کتب میں سے "بانگ” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی گئی جس میں بھارتی اکھنڈ بھارت نظریہ پر روشنی ڈالی گئی ہے، اس کتاب کی تقریب رونمائی کی پروقار تقریب کشمیر یوتھ الائنس کے زیر اہتمام ڈاکٹر مجاہد گیلانی کی کاوشوں سے گزشتہ روز ممکن ہو پائی۔ جہاں ملک بھر سے کشمیر یوتھ الائنس کی درجنوں ممبر تنظیمات کے سینکڑوں کارکنان ڈاکٹر قاسم فکتو کے پیغام حریت کو سننے ایوان صدر تشریف لائے۔

    جہاں ڈاکٹر قاسم فکتو کے فرزند احمد بن قاسم نے مسئلہ کی اساس کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم نہیں بلکہ بھارتی جارحانہ قبضہ ہے، جبکہ انہوں اپنے بچپن کی یادیں شئر کیں تو ہال میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی۔

    پروگرام کے مہمان خصوصی ڈاکٹر قاسم فکتو سمیت تمام جانثاران حریت کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ہر طرح سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور انکا مقدمہ اقوام عالم تک پہنچانے میں کوئی کثر اٹھا نا رکھیں گے، تقریب کے مہمان چئیرمین کشمیر کمیٹی نے مسئلہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم و ستم کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور ہر طرح کے وسائل بروئے کار لانے کا عزم کیا۔

    پروگرام کے ایک اور مقرر ملک کے نامور اینکر عمران ریاض خان تھے، جنکی فیملی مقبوضہ کشمیر و پاکستان میں منقسم ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آبائی گھر کے خواب آنکھوں میں سجائے کشمیر کی آزادی کے منتظر ہیں اور اپنی بساط میں میڈیا کے محاذ کو بھرپور استعمال کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور یہی پیغام اپنی میڈیا برادری کو بھی دیا۔

    استقبالیہ پروگرام کے روح رواں صدر کشمیر یوتھ الائنس جناب ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے دیا، اس قدر خوبصورت پروگرام یقیناً ڈاکٹر مجاہد کی انتھک کوششوں کے بعد ہی ممکن ہو پایا ہے، پروگرام میں نقابت کے فرائض سیکرٹری جنرل کشمیر یوتھ الائنس رضی طاہر اور وائس پریزیڈنٹ کشمیر یوتھ الائنس پلوشہ سعید نے بخوبی سرانجام دئے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اسلام آباد اور راولپنڈی کی ٹیم کی مسلسل محنت کا اس پروگرام کی کامیابی میں بنیادی کردار تھا جبکہ کشمیر یوتھ الائنس کی نوے سے زائد ممبر تنظیمات کے سینکڑوں کارکنان و قیادت کی ملک کے طول و عرض سے شرکت نے پروگرام کو چار چاند لگا دئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس معمولی کاوش کو شرف قبولیت بخش کر آزادی کی منزلوں کے پانے تک استقامت کی توفیق دے۔ آمین

  • فلم "کھیل کھیل میں” کی ایوان صدر میں خصوصی نمائش

    فلم "کھیل کھیل میں” کی ایوان صدر میں خصوصی نمائش

    کورونا کی وبا کے باعث تقریبا دو سال بعد ریلیز ہونے والی فلم ’کھیل کھیل میں‘ کو خصوصی طور پر ایوان صدر میں دکھانے کا اہتمام کیا گیا-

    باغی ٹی وی : حکومت پاکستان کی جانب سے کی گئی ٹوئٹ کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ’کھیل کھیل میں‘ کی خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں صدر مملکت عارف علوی، خاتون اول اور وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین سمیت دیگر وزرا نے بھی شرکت کی جبکہ اسکریننگ میں ’کھیل کھیل میں‘ کی کاسٹ، ہدایت کار نبیل قریشی اور پروڈیوسر فضا علی مرزا بھی تقریب میں شریک ہوئیں۔


    فلم اسکریننگ کے موقع پر صدر مملکت اور خاتون اول اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے فلم کے مرکزی اداکاروں سجل علی اور بلال عباس کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں –

    ثروت گیلانی نے ” چڑیلز” کا دوسرا سیزن بنائے جانے کی تصدیق کر دی

    فلم کی خصوصی اسکریننگ کے حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ٹوئٹ کی اور ساتھ ہی لوگوں کو فلم دیکھنے کی تجویز بھی دی انہوں نے ٹوئٹ کی کہ سانحہ 1971کے پس منظر میں بننے والی فضا علی کی فلم کھیل کھیل کا پریمیئر دیکھا، سقوط ڈھاکہ کے نتیجے میں جس انسانی المیے نے جنم لیا اس پر بہت کم کام ہوا ہے ساری ٹیم انتہائی مبارک کی مستحق ہے کہ انہوں نے انتہائی مشکل موضوع کو بہت سنبھال کے چلایا اور ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مذکورہ فلم ضرور دیکھیں۔

    معروف بھارتی ڈیزائنر بھی پاکستانی ڈرامہ”پری زاد” کے مداح

    اسی طرح ہدایتکار نبیل قریشی اوع پروڈیوسر فضا علی نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مذکورہ تصایور پوسٹس کیں اور ایوان صدر میں فلم کی اسکریننگ کو اپنے اور فلم انڈسٹری کے لیے اعزاز قرار دیا-

    واضح رہے کہ ’کھیل کھیل میں‘ کو گزشتہ ماہ 19 نومبر کو سینما گھروں میں ریلیز کیا گیا تھا، جو تقریبا دو سال بعد ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم تھی کیوںکہ ملک بھر میں مارچ 2020 سے کورونا کے پیش نظر سینما گھر بند تھے۔

    کھیل کھیل میں‘ کی ہدایات نبیل قریشی نے دی ہیں اور اسے فضا علی مرزا نے پروڈیوس کیا ہے جب کہ سجل علی اور بلال عباس، علی ظفر، شہریار منور اور جاوید شیخ، منظر صہبائی اور ثمینہ احمد سمیت دیگر اداکاروں نے کردار ادا کیے ہیں۔

    لاہور لاہور اے ، یہاں آ کر ہمیشہ بہت پیار ملا، ثانیہ مرزا

    فلم کی کہانی ’سقوط ڈھاکا‘ کے پس منظر کے گرد گھومتی ہے، فلم میں یونیورسٹی کے کچھ طلبہ سقوط ڈھاکا پر تھیٹر پیش کرکے بعض حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    فلم میں پاکستان ٹوٹنے اور بنگلادیش بننے کے واقعات کو فکشنل انداز میں دکھایا گیا ہے جب کہ ڈھاکا میں پھنسے رہ جانے والے پاکستانیوں کی حالت زار بھی دکھائی گئی ہے۔
    https://youtu.be/hIprxEg5AQg

  • ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور دیگر فریقین کو عدالتی معاونت کا حکم دے دیا،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے،خوشدل خان ممبر صوبائی اسمبلی اور کامران مرتضٰی سینیٹر ہیں تمام فریقین عدالت کی معاونت کرتے ہوئے غیر جانبدار رہیں،تمام فریقین کا مقصد صاف و شفاف انتخابات ہونا چاہیے،کیس تین رکنی بینچ کے سامنے لگایا جائے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کر دی جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیاد پر کیوں نہیں ہو سکتے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں وجوہات نہیں دیں،پشاور ہائیکورٹ نے 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا حکم دے رکھا ہے، پشاور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں وجوہات کا انتظار کر لیتے ہیں، ،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جماعتی بنیاد پر الیکشن کرانے کا قانونی طریقہ کار موجود نہیں ،حکومت جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے راضی ہو بھی جائے تو قانون میں گنجائش نہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ارڈیننس لے آئیں، باقی تینوں صوبے بھی بلدیاتی انتخابات جماعتوں بنیادوں پر کراتے ہیں،باقی صوبوں کا میکینزم اپنانے میں کیا مسئلہ ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ ہائیکورٹ کو حکم دیتے ہوئے شیڈیول دینے کے بجائے انتخابات کیلئے وقت دینا چاہیے تھا،شمائل بٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اپنی نوعیت کا پہلا الیکشن ہو گا جس میں ایک ہی بیلٹ پیپر پر ایک پارٹی کے تین امیدواروں کے انتخابی نشانات ہوں گے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جو ووٹر پڑھنا لکھنا نہیں جانتا وہ کیسے فرق کرے گا کہ ایک ہی پارٹی کے کون سے نشان پر ٹھپہ لگانا ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کون سے قانون میں ترمیم سے ولیج کونسل کے انتخابات جماعتی بنیاد پر ہو سکیں گے؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ مانتے ہیں اتنے کم وقت میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا میکنزم نہیں بن سکتا،الیکشن کمیشن نے اس مسئلے کا حل نکال کر بیلٹ پیپر جاری کرنے کا کام شروع کیا ہے، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ
    الیکشن کمیشن نے کیا حل نکال کر بیلٹ پیپر جاری کرنے شروع کیے ہیں؟جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کی تصاویر لگا دی جائیں، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ حل جو بھی ہو الیکشن کمیشن تب تک کچھ نہیں کر سکتا جب تک صوبائی حکومت رولز میں ترمیم نا کر لے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں تمام فریقین اپنی تجاویز سے عدالت کی معاونت کریں، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، اگر الیکشن کمیشن آ کر کہے کہ انہیں انتخابات کرانے میں وقت درکار نہیں تو مسئلہ ختم ہو جائے گا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں ایف ڈبلیو او کے زمینوں کے حصول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے ایف ڈبلیو او کی تشکیل کا صدارتی حکم طلب کرلیا ، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ کیا حکم دیتے وقت جنرل یحییٰ ہوش و حواس میں تھے ؟ جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ملک میں مختلف عمارتوں سے ریکارڈ غائب کرنے کیلئے تو آگ لگتی رہی ہے،ایوان صدر میں تو آج تک آگ بھی نہیں لگی ،ایف ڈبلیو او تو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آگ لگ گئی صدارتی حکم نہیں مل رہا ،اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائے ایف ڈبلیو او کے وکیل بتائیں کہ صدارتی حکم کی اہمیت ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں تو کیس کو صدارتی حکم کے بغیر ہی چلا کر فیصلہ کرتے ہیں، ایف ڈبلیو او کا وجود اور اختیارات کیس کے بنیادی نقطے ہے،وکیل احسن بھون نے کہا کہ صدارتی حکم کی تلاش کیلئے مزید مہلت دی جائے،عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی . جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے خود سول اسپتال مٹھی کا دورہ کیا ،کوئی سہولت نہیں تھی ، آپریشن تھیٹر مارچری لگ رہا تھا اسپتال میں ایک ڈاکٹر تھا جس نے کہا رات کو بتایا گیا ہے کل آجانا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں بہت برا حال ہے ،لوگ اللہ کے سہارے پڑے ہیں بجلی بھی 2 گھنٹے کیلئے آتی ہے ،پانی کیلئے بارش کا انتظار کرتے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آر او پلانٹس پر کروڑوں روپے لگادیئے جو سب خراب ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں صرف بھرتیاں ہورہی ہیں ،وہاں کوئی کام کرنے والا نہیں دس، پندرہ ہزار صحت کا عملہ ہوگا مگر کوئی نظر نہیں آتا ،

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس