Baaghi TV

Tag: ایونٹ

  • ریجنل انٹر ڈسٹرکٹ سینئر کرکٹ ٹورنامنٹ،104 ٹیمیں،259 میچ ہوںگے

    ریجنل انٹر ڈسٹرکٹ سینئر کرکٹ ٹورنامنٹ،104 ٹیمیں،259 میچ ہوںگے

    ریجنل انٹر ڈسٹرکٹ سینئر کرکٹ ٹورنامنٹ 24۔2023ء اتوار کے روز سے شروع ہوگا جس میں ایک سو ایک ڈسٹرکٹس اور زونز کی ایک سو چار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    اس ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ پی سی بی کے اہم ڈومیسٹک ایونٹس میں اپنے ریجنز کی نمائندگی کرسکیں جو اس سال ستمبر میں ہونگے۔ریجنل انٹرڈسٹرکٹ سینئر ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر259 میچز کھیلے جائیں گے ۔ ایبٹ آباد، آزاد جموں و کشمیر، بہاولپور، ڈیرہ مراد جمالی، فاٹا، حیدرآباد، کراچی، لاڑکانہ، کوئٹہ اور سیالکوٹ ریجنز میں 16 جولائی سے میچز شروع ہوں گے، ملتان 19 جولائی سے میچز کی میزبانی کرے گا۔ 24 جولائی سے فیصل آباد، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں میچز کھیلے جائیں گے۔

    ۔ ایبٹ آباد ۔ بہاولپور۔ ڈیرہ مراد جمالی۔ فاٹا۔ حیدرآباد۔ کراچی ۔ ملتان ۔ لاڑکانہ ۔ کوئٹہ ۔ راولپنڈی اور سیالکوٹ ریجن میں میچز سولہ جولائی سے شروع ہونگے۔ جبکہ آزاد جموں کشمیر فیصل آباد اسلام آباد۔ لاہور اور پشاور میں ان میچوں کا آغاز چوبیس جولائی سے ہوگا۔ہر میچ تین روزہ ہوگا جس کی پہلی اننگز 75 اوورز پر مشتمل ہوگی۔پہلی اننگز میں برتری کے ساتھ جیتنے والی ٹیم کو نو پوائنٹس، پہلی اننگز کی برتری کے بغیر جیتنے والی ٹیم کو چھ پوائنٹس اور ڈرا میچ میں پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے والی ٹیم کو تین پوائنٹس دیے جائیں گے۔

    ٹورنامنٹ کے قواعد وضوابط کے مطابق ہر ٹیم کو اپنی حتمی ٹیم میں زیادہ سے زیادہ دو تبدیلیاں کرنے کی اجازت ہوگی لیکن یہ ہر دو میچ کے بعد ممکن ہوگا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مناسب مواقع مل سکیں اور زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو ریجنل اسکواڈز میں جگہ بنانے کے مواقع میسر آسکیں۔کوئٹہ اور فاٹا ریجنز کے دس دس ڈسٹرکٹس ہیں لہذا ٹیموں کو دو گروپ میں برابر تقسیم کیا گیا ہے جس کا فائنل سات سے نو اگست تک کھیلا جائے گا۔ بقیہ چودہ ریجنز اپنے میچز سنگل لیگ کی بنیاد پر کھیلیں گے جس میں پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ٹیمیں فاتح قرار پائیں گی۔

    سولہ ریجنز میں ایبٹ آباد ( سات ڈسٹرکٹس ) آزاد جموں کشمیر ( پانچ ڈسٹرکٹس ) بہاولپور ( سات ڈسٹرکٹس) ڈیرہ مراد جمالی ( پانچ ڈسٹرکٹس) فیصل آباد ( چھ ڈسٹرکٹس ) فاٹا ( دس ڈسٹرکٹس ) حیدرآباد ( سات ڈسٹرکٹس) اسلام آباد ( چار زونز اور ایک ڈسٹرکٹ ) کراچی ( سات زونز) لاہور ( تین زونز چھ ٹیمیں ) لاڑکانہ ( چھ ڈسٹرکٹس ) ملتان ( سات ڈسٹرکٹس ) پشاور ( پانچ ڈسٹرکٹس ) کوئٹہ ( دس ڈسٹرکٹس ) راولپنڈی ( چار ڈسٹرکٹس ) اور سیالکوٹ ( سات ڈسٹرکٹس ) شامل ہیں۔

    ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی ایک سو چار ٹیموں کا انتخاب سلیکشن کے ان اصولوں کے مطابق کیا گیا ہے جس پر تمام ڈسٹرکٹس کے نمائندوں نے اتفاق کیا تھا۔ریجنل ، ڈسٹرکٹ سلیکشن کمیٹیوں میں ہیڈ کوچز ۔اسسٹنٹ کوچزاور ڈسٹرکٹ کے نمائندے شامل تھےجنہوں نے پہلا ڈرافٹ تیار کیا تھا جس کا جائزہ اور منظوری پی سی بی کے ریویو پینل نے دی جس میں سابق فرسٹ کلاس کرکٹرز جاوید حیات ۔ کامران خان۔ ثناء اللہ بلوچ اور وقار اورکزئی شامل تھے۔

    سلیکشن کرائٹریا میں مندرجہ ذیل نکات شامل تھے۔

    1۔وہ کھلاڑی جنہوں نے پچھلے دو برسوں کے دوران پاکستان انڈر 19 کی نمائندگی کی ہو لیکن اب اوور ایج ہوگئے ہیں۔

    2۔وہ کھلاڑی جنہوں نے گزشتہ سال انڈر 19 کھیلی لیکن اب اوور ایج ہوگئے ہیں۔

    3۔گزشتہ سال کے ڈسٹرکٹ اور سی سی اے ایونٹس کے تین سب سے کامیاب بیٹرز اور دو سب سے کامیاب بولرز۔

    4۔گزشتہ سال ڈویژنل مقابلے میں عمدہ پرفارمنس دینے والے کھلاڑی۔

    5۔باصلاحیت کھلاڑی جو گزشتہ سال سیکنڈ الیون ایونٹ میں پرفارم نہ کرپائے۔

  • ہمیشہ پاکستان کے نام کی سربلندی کیلئے میدان میں لڑی ملک میری پہچان ہے۔ نقش ہمدانی

    ہمیشہ پاکستان کے نام کی سربلندی کیلئے میدان میں لڑی ملک میری پہچان ہے۔ نقش ہمدانی

    ہمیشہ پاکستان کے نام کی سربلندی کیلئے میدان میں لڑی ہوں میرا ملک میری پہچان ہے۔ نقش ہمدانی

    چوتھی کومبیکس ایشین انٹرنیشنل اوپن تائیکوانڈو چیمپئین شپ میں پاکستان کیلئے گولڈ میڈل حاصل کرنے والی نقش ہمدانی نے کہا ہے کہ ہمیشہ پاکستان کے نام کی سربلندی کیلئے میدان میں لڑی ہوں میرا ملک میری پہچان ہے ایشین چیمپئین شپ میں گولڈ میڈل جیتنا میرے لئے باعث اعزاز ہے اس جیت کے بعد مجھے نیا جذبہ ملا ہے ایشیاء کے سب سے بڑے تائیکوانڈو ایونٹ کیلئے میں نے خاصی تیاری کی تھی میری کامیابی میں ایران سے تعلق رکھنے والے میرے ہیڈ کوچ ماسٹر یوسف کرامی نے اہم کردار ادا کیا

    واضح رہے کہ ایشین چیمپئین شپ میں خواتین کی 53- کیٹیگری میں نقش ہمدانی نے افغانستان کی زہرومیرزئی کوشکست دیکر پاکستان کیلئے سونے کاتمغہ جیتا تھا مردوں کے 54- کے جی فائنل کے گولڈ میڈلسٹ شاہ زیب خان کاکہنا ہے کہ انٹرنیشنل ایونٹس میں پاکستان کیلئے میڈلزجیتنے والے کھلاڑیوں کی حکومتی اور پرائیوٹ اداروں کیجانب سے حوصلہ افزائی کی جائے تو مستقبل میں مزید بہترین نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں میری خواہش ہے کہ بحیثیت تائیکوانڈو کھلاڑی پوری دنیا میں پاکستان کے سافٹ امیج میں اضافے کا باعث بنوں 87+ کے جی کے سلورمیڈلسٹ حمزہ سعید نے کہا کہ انٹرنیشنل ایونٹس میں میڈلزجیتنا ملک میں کھیلوں کی ترقی اور فروغ کے حوالے سے بہت معاون ثابت ہوتا ہے اس سے نہ صرف دنیا کھیل میں پاکستان کا مقام بلند ہوتا ہے بلکہ ہمارے کھلاڑیوں کوبھی عالمی سطح پرپذیرائی ملتی ہے جوان کیلئے مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہیں

    چیمپئینپ شپ کی جونیئر کیٹیگری 73+کے برونزمیڈلسٹ سعدآصف نے اپنامیڈل 16 دسمبر کے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے شہداء کے نام کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل کھلاڑیوں سے مقابلے کاتجربہ شاندار رہا بڑے ایونٹ سے بہت کچھ سیکھنے کوملا مستقبل میں ملک کیلئے گولڈمیڈل جیتنے کی کوشش کروں گا