Baaghi TV

Tag: ایٹم

  • پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں۔ تجزیہ:- شہزاد قریشی

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں۔ تجزیہ:- شہزاد قریشی

    جوبائیڈن کو امریکی الیکشن کے پس منظر میں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر بیان بازی کا سہارا نہیں لینا چاہیے پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ مضبوط اور ذمہ دار ہاتھوں میں ہے جس کا اعتراف ماضی قریب میں بشمول امریکی انتظامیہ دیگر بین الاقوامی ایجنسیاں کر چکی ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جنوبی ایشیا خطے کی صورتحال میں پاکستان آرمی اور بالخصوص آئی ایس آئی کی موجودہ قیادت نے علی پیشہ ورانہ اور انتہائی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور نیٹو فورسز سمیت دیگر ممالک کی عسکری قیادت نے پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کی کامیابیوں کا اعتراف بھی کیا

    اس تناظر ٹریک ریکارڈ کے باوجود امریکی صدر کا بیان آقائے اور تجربات کے منافی ہے جس کو محض الیکشن اسسٹنٹ ٹھیک گردانا جاسکتا ہے پاکستانی افواج اور دیگر عسکری ادارے ہیں وطن سے کبھی غافل نہیں ہیں اور اپنے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی ہمہ تن صلاحیت سے لیس ہیں اور اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے دشمن کے خلاف امن قائم رکھنے کے لیے استعمال جانتے ہیں پاکستان کبھی بھی جارح ملک نہیں رہا ماضی قریب میں پاکستان کو شرکت کی سرحد پر واقع ہندوستان نے کی موقع میں غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ حرکات کرکے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کشمیر میں شرمناک خلاف ورزیاں کیں بلکہ پاکستان کی حدود میں میزائل بھی داغے ڈالے جس پر پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑا

    امریکی صدر کو پاکستان کے بجائے بھارت کے ایٹمی پروگرام اور ان کے اشتعال انگیز پالیسیوں پر بیان جاری کرنا چاہیے رہا سوال پاکستان میں سیاسی عمان گی کا تو پاکستانی عوام دفاعی پاکستان کی ضامن افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں اور چند نہاد سیاسی حلقوں کوچاہئے کہ وہ عوامی سیاست کریں اور پاکستان کے دفاعی اداروں کو سیاست میں ملوث نہ کریں چھبیس ستمبر کو میں نے اپنے تجزیے میں خبردار کیا تھا کہ غیر سنجیدہ بیانات سے اجتناب برتیں ہمارے الیکٹرانک میڈیا کو بھی سیاسی حلقوں کی کوریج پر ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا

  • یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    کیف: ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق کیف میں یوکرائن کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار ستائیس فروری کی صبح بتایا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں۔

    دوسری طرف انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی۔اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔‘‘

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کے مطابق روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرائنی حکام کے مطابق روسی فوجی گاڑیاں اب اس شمال مشرقی شہر کی سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں۔ ساتھ ہی اسی شہر میں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کو بھی توپوں سے گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔

    گولہ باری کے وقت اس عمارت کے زیادہ تر رہائشی اپنی حفاظت کے لیے عمارت کے تہہ خانے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    ماسکو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی یوکرائن کے شہر خیرسون اور جنوب مشرقی شہر بیردیانسک کا ‘مکمل‘ محاصرہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گہا کہ روسی فورسز یوکرائن کے مختلف حصوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    روسی خبر رساں اداروں کے ذریعے نشر کردہ ملکی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے ایک بیان کے مطابق، ”گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران روسی مسلح افواج نے یوکرائن کے دو شہروں خیرسون اور بیردیانسک کو مکمل طور پر اپنے محاصرے میں لے لیا۔‘‘