Baaghi TV

Tag: ایٹمی

  • چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

    چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

    امریکا نے پہلا جدید بمبار طیارہ ’بی-21 ریڈر‘ کی رونمائی کرلی، یہ طیارہ روایتی ہتھیار سمیت جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر یہ بمبار طیارہ بغیر عملے کے پرواز کر سکے گا۔

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں طیارہ کی رونمائی کی تقریب منعقد کی گئی، تقریبا کا آغاز امریکی قومی ترانے کے ساتھ کیا گیا، طیارہ کی رونمائی کے بعد ہجوم نے تالیاں بجائیں۔

    تقریبا رونمائی میں امریکی سیکریٹری دفاع لوئیڈ آسٹن نے کہا کہ بی-21 کے صرف ایک طیارے کی تیاری پر تقریباً 70 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں یہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں بننے والا پہلا امریکی جنگی طیارہ ہے، یہ طیارہ امریکا کے جدید اور جنگی ایجادات میں برتری کا ثبوت ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی طویل فاصلے سے نشانہ بنانے والا بمبار ، ’بی 21‘ ریڈر کی صلاحیت اور اس کی پائیداری سے مماثلت نہیں رکھ سکتا، اس طیارے کا ڈیزائن اب تک کا سب سے زیادہ مستحکم رہنے والا بمبار طیارہ ہے۔

    ایف-22 اور ایف-35 جنگی طیاروں کی طرح بی-12 طیارہ ایسی ٹیکنالوجی کی مدد سے بنایا گیا ہے جس سے اس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے اور دشمن اسے آسانی سے ڈھونڈ نہیں سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو بھی بی-21 طیارہ ڈھونڈنے کےلیے مشکل ہوسکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ طیارہ کھلے نظامِ تعمیر (اوپن سسٹم آرکیٹکچر) کے ساتھ بنایا گیا ہے، یہ ایسے نئے ہتھیاروں کی شمولیت کی بھی اجازت دیتا ہے جو ابھی تک ایجاد نہیں ہوئے ہیں۔

    تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایمی نیلسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ بی-21 کو نظام میں مزید ترقی کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’اوپن آرکیٹکچر‘ کی مدد سے مستقبل میں مزید بہتر سافٹ وئیر متعارف ہوں گے تاکہ طیارے جلد خراب نہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پرانے طیاروں کے مقابلے بی-21 جدید ترین ہے، یہ نہ صرف دوہری صلاحیت رکھتا ہے (جس کا مطلب یہ جوہری یا روایتی میزائل لانچ کرسکتا ہے) بلکہ طویل اور کم فاصلے پر بھی میزائل لانچ کر سکتا ہے۔

    امریکی ائیر فورس کے ترجمان این اسٹیفنک نے اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی تو صرف امکان ہے کہ طیارہ بغیر عملے کے پرواز کرسکتا ہے لیکن ابھی اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بی-21 ہمارے مستقبل کی جنگی طاقت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، یہ دنیا بھر میں مہارت سے کسی بھی ہدف کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔فضائی اور دفاعی کمپنی نارتھروپ گرومن نے بتایا کہ اس وقت 6 طیارے کیلیفورنیا کے شہر پامڈیل میں جانچ اور آزمائش کے مختلف مراحل میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ طیارہ امریکی جوہری نظام کا اہم حصہ ہوگا جس میں ایسے ہتھیار موجود ہیں جنہیں زمین، فضا اور سمندر سے لانچ کیا جاسکتا ہے۔

    جنگی طیارہ ’ریڈار‘ کا نام اس وقت رکھا گیا جب 1942 میں امریکی بمباروں نے جاپان کے شہر ٹوکیو پر حملہ کیا تھا، اس آپریشن کی سربراہی لفٹیننٹ کرنل جیمز ڈولٹل نے کی تھی، جو جاپان کی جانب سے 1941 میں کئے گئے پرل ہاربر حملے کے بعد جاپان کی سرزمین پر امریکا کا پہلا حملہ تھا۔جیمز آسٹن نے مزید بتایا کہ پرل ہاربر حملے کے چار ماہ بعد اپریل کی ایک صبح کو بحرالکاہل میں امریکی فوج کے 16 بمبار طیاروں نے بحری جہاز سے اڑان بھری تھی۔

    یاد رہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ چین کے میزائل ٹیسٹ اور جوہری ہتھیار واشنگٹن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔پینٹاگون کی جانب سے منگل کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اگر چین نے اپنی موجودہ جوہری تیاری کی رفتار کو جاری رکھا تو اس کے پاس ممکنہ طور پر 2035 تک 1,500 جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہو جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین عالمی بالا دستی کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ چین سے متعلق پینٹاگون کی یہ رپورٹ کانگریس کو پیش کی جائے گی۔

    اس رپورٹ میں بنیادی طور پر 2021 میں ہونے والی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق چین کے پاس اس وقت 400 سے زیادہ جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہے۔

    چین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کو کم کرنے کے لیے بات چیت پر تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب واشنگٹن اپنے جوہری ذخیرے کو چین کی سطح تک کم کر دے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے تھنک ٹینک کے مطابق، امریکا کے پاس تقریباً 3,700 جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہے، جن میں سے تقریباً 1,740 کو مختلف مقامات پر پوزیشن میں لایا جا چکا ہے۔

  • ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

    ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

    کیف:ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کی جانب سے ریلوے اسٹیشن پر میزائل حملے میں 25 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یوکرین کے یوم آزادی کے موقع پر مشرقی یوکرین میں روسی میزائل حملے میں 25 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسافر ٹرین کو آگ لگ گئی۔

    امریکا کی یوکرین کیلئے مزید 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی راکٹ مشرقی یوکرین میں ٹرین سے ٹکرائے، مرنے والوں میں دو بچے شامل ہیں جن کی عمریں 6 اور 11 برس ہیں، بدقسمتی سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری طرف یوکرین کے یومِ آزادی پر دارالحکومت کیف سمیت دیگر شہروں میں کرفیو نافذ رہا اور ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد رہی۔امریکا، یونان، برطانیہ، جرمنی، بیلجیم اور کینیڈا میں یوکرین کے یومِ آزدی پر شہریوں نے ریلیاں نکالیں اور روس کی یوکرین میں کارروائی کی شدید مخالفت کی۔

    امریکہ کی یوکرین کومزید 800 ملین ڈالرز کی اضافی امداد

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کیلئے 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے، صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکا کیف کو ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کیلئے تقریباً 3 ارب ڈالر فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس امداد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یوکرین طویل مدت تک اپنا دفاع جاری رکھ سکے۔

  • دنیا کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہو گئی: یورپی یونین

    دنیا کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہو گئی: یورپی یونین

    جوزف بورل نے اعتراف کیا ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی ناکام ہو گئی ہے ۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے فنانشل ٹائمز اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی شکست کھا چکی ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لئے اقدامات کریں۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے اس مضمون میں کہا ہے کہ جوہری معاہدہ، آئی اے ای اے کیجانب سے ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نگرانی کے سب سے بڑے نظام کی قسم ہے جس نے ایران کیخلاف امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی منسوخی کے لئے زمین ہموار کی ہے، لیکن امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوکر ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنائی جو ناکام ہوگئی اور اصل میں ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی شکست کھا چکی ہے۔

    جوزف بورل نے کہا کہ اگرچہ جوہری معاہدہ، ایک مکمل معاہدہ نہیں ہے لیکن اس میں تمام بنیادی عناصر پر توجہ دی گئی ہے جس سے اراکین نے سختی سے اتفاق کیا ہے لہذا اب جوہری معاہدے کی بحالی کے اس اچھے موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا؛ میری رائے میں جوہری معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کی بحالی نہ صرف ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی میں موثر ہوگی بلکہ یہ خطے میں سلامتی کے ماحول کو مستحکم کر سکتی ہے اور ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کی طرف ایک مثبت قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

    جوزف بورل نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا تجویز کردہ متن، مذاکرات کی بحالی اور نتیجے کے حصول کیلئے اہم اور مفید ہو سکتا ہے۔

  • روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے:   40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

    روس نے جوابی اقدام کے طور پر جرمنی کے 40 سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تعداد روس میں تعینات جرمن سفارت کاروں کی ایک تہائی بنتی ہے۔

    اِس سے قبل روس یوکرین جنگ کے تناظر میں جرمنی نے روسی سفارت کاروں کو جرمنی سے نکل جانے کا کہا تھا جس پر روس کی وزارتِ خارجہ نے ملک میں متعین جرمن سفارت کار کو طلب کر کے جرمن حکومت کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

    اب روس نے اپنے ردعمل میں 40 جرمن سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے تاہم جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے الزام عائد کیا ہے کہ جرمنی سے بے دخل کیا گیا روس کا سفارتی عملہ سفارت کاروں کی بجائے جاسوسوں پر مشتمل تھا۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے مزید کہا ہے کہ روس سے بے دخل کیے جانے والے سفارت ک‍اروں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ انہوں نے روسی حکومت کے اِس اقدام کو نا انصافی پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے۔روس نے کہا ہے کہ دنیا سنگین جوہری جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے دیکھے، یہ قابل غور ہے۔

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی کرکے دراصل روس کے ساتھ بالواسطہ جنگ میں مصروف ہے۔ اِن ہتھیاروں سے یقینی طور پر روسی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس جوہری تصادم کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والے مصنوعی خطرات کے امکانات کو کم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا اصولی مؤقف ہے جس پر تمام کارروائیاں ہورہی ہیں۔

    وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ جنگ روس اور یوکرین کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے تاہم اس معاہدے کی شرائط اس وقت ملک میں فوجی صورتحال پر منحصر ہوں گی۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے انٹرویو کے بعد یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے ٹویٹ کیا کہ روس دنیا کو ڈرانے کا آخری موقع بھی کھو چکا ہے اور اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ اُسے اپنی شکست کا اندازہ ہو گیا ہے۔

    یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کارروائی کے تین ماہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیاں مشرقی یوکرین کے محصور علاقوں میں شہریوں تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس آج سے روس کا تین روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں جس کے بعد وہ یوکرین کا دورہ بھی کریں گے۔ یوکرین بحران سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے محدود کردار پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی تنقید کی زد میں ہیں۔

  • روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    کیف:روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر کی روس کی جنگ کے خلاف مدد کی اپیل میں ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یوکرین پہنچنے والے افراد کے مجموعی جنگی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    ستائیس فروری کو یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کُولیبا نے اپنے ملکی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا ایم پیغام ٹویٹر پر جاری کیا تھا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے غیر ملکی افراد روسی فوج کشی کے خلاف عملی طور شریک ہوں۔

    اس پیغام کی ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ پانچ مارچ سے یوکرینی صدر کے اس پیغام کے جاری ہونے کے بعد سے جنگ میں شریک ہونے والے رضاکاروں کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی ویب سائیٹ بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے مختلف شہروں میں کئی غیر ملکی جنگجوؤں کے پہنچنے کا بتایا گیا ہے اس ویب سائیٹ میں جنگ میں شریک ہونے کی درخواست کا مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

    یوکرینی حکومت نے ایسے رضاکاروں کی ممکنہ فوج کا نام ‘انٹرنیشنل ڈیفینس لیجیئن‘ تجویز کیا ہے۔ جنگ میں شامل ہونے کے خواہشمند رضاکار اس مناسبت سے مکمل تعداد کو بیان نہیں کیا گیا لیکن ہزاروں غیر ملکی افراد نے یوکرینی دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

    لندن میں یورپی سکیورٹی کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ریسرچر ایڈ آرنلڈ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے والے رضاکاروں کی تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں لیکن محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ذرائع کے مطابق کئی جاپانی بھی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں اور پانچ سو بیلاروس کے شہریوں نے بھی رضاکار بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔

    ایڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں شریک سابقہ فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار دنوں میں اتنے فائر کیے ہیں جتنے وہ افغانستان میں قیام کے دوران نہیں کر سکے تھے۔ بعض جرمن میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک ہزار جرمن شہری یوکرین کا سفر اختیار کر چکے ہیں۔

    ان رضاکاروں یا یوکرینی صدر کی اپیل پر جرمن شہریوں کے مثبت ردِعمل بارے برلن سے وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ایسے افراد کے سفر کے بارے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ اسی طرح سے جرمن وزارتِ داخلہ کے ترجمان میکسمیلین کارل نے بھی بدھ نو مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں یوکرین کا سفر اختیار کرنے والے ایک ہزار افراد سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شینگن علاقے میں شہری آزادانہ طور پر سفر اختیار کر سکتے ہیں اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن افراد نے امکانی طور پر ایسا کیا ہے وہ یقینی طور پر یوکرینی نژاد جرمن افراد ہو سکتے ہیں۔

    میکسمیلن کارل نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی کے ادارے انتہائی دائیں بازو کے جرمن حلقوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسے افراد کی روانگی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    گزشتہ چند ایام کے دوران کچھ یورپی ممالک اور بالٹک ریاستوں جیسا کہ لیتھوانیا اور لٹویا، نے ایسی ہنگامی قانون سازی کی ہے، جس کے تحت یوکرین کی جنگ میں شرکت کے خواہشمندوں کے لیے قانونی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔

  • دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے      میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    کیف : دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت تھے،دوستوں نے مروا دیا:یوکرینی وزیراعظم کا اظہار افسوس بار بار تڑپانے لگا ، یوکرین 30 سال قبل اپنی ایٹمی قوت سے دستبرداری کو اب یاد کر رہا ہے، یوکرین نے مغرب اور روس کی بات مان کر اگر یہ عمل نہ کیا ہوتا تو آج روس اسے اس طرح دھمکا نہیں سکتا تھا۔

    یوکرین کے وزیراعظم نے کہا کہ تین دہائیوں قبل یوکرین نے مغرب اور روس کے درمیان تخفیف اسلحہ کے مذاکرات کے نتیجے میں اور روس کی جانب سے سلامتی کی گارنٹی کے بدلے میں اپنے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کو تلف کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج ان ضمانتوں کی حیثیت ان کاغذ کے ٹکڑوں جتنی بھی نہیں جن پر انہیں تحریر کیا گیا تھا۔

    اسی سابقہ تجربے کے پیش نظر انہوں نے اپنے لوگوں اور دنیا کو خبردار کیا کہ یوکرین کو دوبارہ ایسا بڑا معاہدہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، جس کا روس دوبارہ احترام نہیں کرے گا۔اس کی بجائے انہوں نے تجویز کیا کہ یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا اس کی حقیقی سلامتی کی ضمانت ہوگی۔

    نتیجتاً آج روس یوکرین پر حملہ آور ہے اور یوکرینی صدر ساری یورپی دنیا میں پاگلوں کی طرح مدد کی بھیک مانگتا پھر رہا ہے. مگر کوئی یوکرین کی مدد کو نہیں آیا.

    خیال رہےکہ یوکرین 1991 تک سوویت یونین کا حصہ تھا اور سوویت یونین سے علیحدگی کے وقت یوکرین کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود تھے جو کہ تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس وقت تیسرے نمبر پر تھے، یہ ہتھیار سوویت یونین کی جانب سے وہاں چھوڑے گئے تھے تاہم آزادی کے بعد یوکرین نے خود کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنےکا بڑا فیصلہ کیا۔

    دستاویزات کے مطابق 1991 میں سوویت یونین سے یوکرین کی آزادی کے وقت، یوکرین کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 1,900 اسٹریٹجک وار ہیڈز، 176 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) اور 44 اسٹریٹجک بمبار شامل تھے۔ 1996 تک، یوکرین نے اقتصادی امداد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے اپنے تمام جوہری وار ہیڈز روس کو واپس کر دیے تھے، اور دسمبر 1994 میں، یوکرین 1968 کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا ایک غیر جوہری ہتھیار رکھنے والا ریاستی فریق بن گیا۔ یوکرین میں آخری اسٹریٹجک نیوکلیئر ڈیلیوری گاڑی کو 1991 کے اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (START) کے تحت 2001 میں ختم کردیا گیا تھا۔ یوکرین سے ہتھیاروں اور جوہری بنیادی ڈھانچے کو ہٹانے کے لیے 1992 میں لزبن پروٹوکول کے ساتھ شروع ہونے والے سیاسی تدبیروں اور سفارتی کاموں کے برسوں لگے۔

    جزوی طور پر بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوشش میں، یوکرین کی آزادی سے پہلے کی تحریک نے NPT میں غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کے طور پر شامل ہونے کی کوششوں کی حمایت کی۔ 16 جولائی 1990 کو اپنی خودمختاری کے اعلان کے ساتھ، یوکرین نے "جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا

    سوویت یونین کی تحلیل کے ساتھ، آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ نے 30 دسمبر 1991 کو منسک معاہدے پر دستخط کیے، اس بات پر اتفاق کیا کہ روسی حکومت کو تمام جوہری ہتھیاروں کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ تاہم، جب تک یہ ہتھیار بیلاروس، یوکرین اور قازقستان میں موجود ہیں، ان ممالک کی حکومتوں کو ان کے استعمال کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اسلحے کو ختم کرنے کا ہدف 1994 کے آخر تک مقرر کیا گیا تھا۔

    یوکرین نے 23 مئی 1992 کو لزبن پروٹوکول پر دستخط کیے تھے۔ پروٹوکول میں بیلاروس، قازقستان اور یوکرین کے جوہری ہتھیار روس کو واپس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تمام ریاستوں کو START اور NPT میں شامل ہونا تھا۔ تاہم، یوکرین کے اندر، START کی توثیق، NPT میں شمولیت، یا مجموعی طور پر جوہری تخفیف کی طرف بہت کم پیش رفت ہوئی۔ پروٹوکول کا تقاضا تھا کہ یوکرین جلد سے جلد NPT پر عمل کرے، لیکن اس نے ملک کو اس پر عمل کرنے کے لیے سات سال تک کا وقت دیا۔

    1992 کے اواخر تک، یوکرین کی پارلیمنٹ زیادہ جوہری حامی خیالات کا اظہار کر رہی تھی۔ کچھ کا خیال تھا کہ یوکرین کم از کم عارضی جوہری ہتھیاروں کا حقدار ہے۔ شاید امید کے ساتھ، امریکی حکومت نے یوکرین کو تباہی کے لیے 175 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا۔ اس کے بجائے، یوکرین کی حکومت نے جوہری قوتوں کے انتظامی انتظام پر عمل درآمد شروع کر دیا اور وار ہیڈز کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔

    اپریل 1993 کے آخر میں، 162 یوکرائنی سیاست دانوں نے START کی توثیق کے لیے 13 پیشگی شرائط شامل کرنے کے لیے ایک بیان پر دستخط کیے، جس سے توثیق کے عمل میں مایوسی ہوئی۔ پیشگی شرائط کے لیے روس اور امریکہ کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانی، سیکورٹی کے لیے غیر ملکی امداد اور جوہری مواد کے لیے معاوضہ درکار تھا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یوکرین اپنی ڈیلیوری گاڑیوں کا صرف 36 فیصد اور اپنے وار ہیڈز کا 42 فیصد ختم کر دے گا، باقی یوکرین کے کنٹرول میں چھوڑ دے گا۔ روس اور امریکہ نے ان مطالبات کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن یوکرین اس سے باز نہیں آیا۔ مئی 1993 میں، امریکہ نے کہا کہ اگر یوکرین START کی توثیق کرتا ہے، تو واشنگٹن مزید مالی امداد فراہم کرے گا۔ اس کے بعد یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرائنی جوہری تخفیف کے مستقبل پر بات چیت شروع ہوئی۔

    1993 میسنڈرا ایکارڈز

    یوکرائنی اور روسی حکام نے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے پروٹوکول، طریقہ کار اور معاوضے کی شرائط سمیت معاہدوں کے ایک سیٹ پر پہنچے۔ تاہم، دونوں فریق حتمی دستاویز پر متفق نہیں ہو سکے، اور سربراہی اجلاس بالآخر ناکام ہو گیا۔

    1994 سہ فریقی بیان

    میسنڈرا ایکارڈز نے بالآخر کامیاب سہ فریقی مذاکرات کا مرحلہ طے کیا۔ جیسا کہ امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی، تینوں ممالک نے 14 جنوری 1994 کو سہ فریقی بیان پر دستخط کیے۔ یوکرین نے امریکہ اور روس کی طرف سے اقتصادی مدد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے میں مکمل تخفیف اسلحہ، بشمول تزویراتی ہتھیاروں کا عہد کیا۔ یوکرین نے اپنے جوہری وار ہیڈز روس کو منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور میزائلوں، بمباروں اور جوہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے میں امریکی مدد قبول کی۔ یوکرین کے وار ہیڈز کو روس میں ختم کر دیا جائے گا، اور یوکرین کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تجارتی قیمت کا معاوضہ ملے گا۔ یوکرین نے 3 فروری 1994 کو اپنی ابتدائی شرائط کو منسوخ کرتے ہوئے START کی توثیق کی، لیکن وہ مزید حفاظتی یقین دہانیوں کے بغیر NPT میں شامل نہیں ہوگا۔

    1994 سیکورٹی کی یقین دہانیوں پر بوڈاپیسٹ میمورنڈم

    یوکرین کے ساتھ سلامتی کے وعدوں کو مستحکم کرنے کے لیے، امریکہ، روس، اور برطانیہ نے 5 دسمبر 1994 کو بڈاپسٹ میمورنڈم آن سیکیورٹی ایشورنس پر دستخط کیے تھے۔ ہیلسنکی معاہدے کے اصولوں کے مطابق ایک سیاسی معاہدہ، یادداشت میں سلامتی کی یقین دہانیاں شامل تھیں۔ یوکرین کی سرزمین یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کا استعمال۔ ممالک نے یوکرین کی خودمختاری اور موجودہ سرحدوں کا احترام کرنے کا وعدہ کیا۔ بیلاروس اور قازقستان کے لیے بھی متوازی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے جواب میں، یوکرین نے 5 دسمبر 1994 کو ایک غیر جوہری ہتھیاروں والی ریاست کے طور پر NPT سے باضابطہ طور پر الحاق کیا تھا۔ اس اقدام نے START کی توثیق کی حتمی شرط کو پورا کیا، اور اسی دن، پانچ START ریاستوں کے فریقین نے توثیق کے آلات کا تبادلہ کیا، معاہدے کو نافذ کرنا۔

    روس اور امریکہ کا 2009 کا مشترکہ اعلامیہ

    روس اور امریکہ نے 2009 میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 1994 کے بوڈاپیسٹ میمورنڈم میں کی گئی سیکورٹی کی یقین دہانیاں 2009 میں START کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی درست رہیں گی۔

    یاد رہے کہ 1986 میں یوکرین کے شہر چرنوبل کے جوہری پاور پلانٹ میں دھماکےکے بعد سے وہاں کے رہائشی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرگئے تھے اور 4000 مربع کلومیٹر کا علاقہ اب بھی خالی پڑا ہے، یوکرین کی حکومت کا کہنا ہےکہ چرنوبل کے اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے۔

    دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور وہاں مسلسل 10 دن تک آگ لگی رہی، تابکار دھوئیں کی گرد کے بادل ہوا کے ذریعے پورے مشرقی یورپ میں پھیل گئے تھے، اس دوران امدادی سرگرمیاں سرانجام دینے والے 134 کارکنوں میں تابکاری سے متعلق بیماری تشخیص ہوئی تھی جن میں سے 28 کارکنوں کی موت اس واقعے کے چند ماہ کے اندر ہی واقع ہو گئی جب کہ مزید 19افراد بھی بعد ازاں چل بسے

  • روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس نے امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن کے بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ قازقستان کو شاید روسی فوجیوں سے چھٹکارا پانے میں مشکل کا سامنا ہو۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ کے بیان پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے روس نے کہا کہ انہیں اس کے بجائے دنیا بھر میں امریکی فوج کی مداخلت پر سوچنا چاہیئے۔

    جمعے کے روز بلنکن نے روس کی جانب سے کئی دنوں سے متشدد افراتفری کا شکار قازقستان میں فوج بھیجنے کی توجیہ پر سوال اٹھایا تھا۔

    بلنکن کا کہنا تھا ’ماضی قریب کا ایک سبق یہ ہے کہ ایک بار روسی آپ کے گھر میں آ جائیں، ان کا نکلا جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

    روسی وزیر خارجہ نے بلنکن کے بیان کو ’ناگوار‘ قرار دیا اور ان پر قازقستان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر مذاق کرنے کا الزام عائد کیا۔

    وزارت نے اپنے ٹیلی گرام سوشل میڈیا چینل پرکہا کہ ’اگر انتھونی بلنکن کو تاریخ کے اسباق اتنے پسند ہیں، پر ان کو یہ معلوم ہونا چاہیئے: جب امریکی آپ کے گھر میں آ جائیں، تو زندہ رہنا، نہ لُٹنا یا ریپ نہ کیا جانا مشکل ہو سکتا ہے۔‘مزید یہ بھی کہا گیا ’ہمیں یہ صرف ماضی قریب سے نہیں بلکہ امریکی ریاست کے 300 سالوں سے پڑھایا گیا ہے۔‘

    وزارت کا کہنا تھا کہ قازقستان میں تعیناتی قازقستان کی درخواست کا قانونی جواب تھا تا کہ Collective Security Treaty Organisation(CSTO) کے تحت سپورٹ کیا جائے۔

    روس کی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں مختلف ملکوں منجملہ کوریا، ویتنام، شام اور عراق کی طرف اشارہ بھی کیا۔

    روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے قزاقستان کے افسوسناک حالات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے البتہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ انھوں نے اس قسم کا مداخلت پسندانہ بیان دیا ہے ۔

    CSTO سابق سوویت ریاستوں کا ایک اتحاد ہے جس میں روس شامل ہے۔

    قازقستان میں فوج کی تعیناتی ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات شدید تناؤ میں ہیں۔

    دونوں ممالک پیر کو یوکرین بحران پر شروع ہونے والے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ماسکو نے یوکرین کے قریب اپنی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی ہے لیکن روس کی جانب حملہ کرنے کے منصوبے کے مغربی الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

  • ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    تہران :ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی ،اطلاعات کے مطابق ایران نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی سمیت 50 سے زائد امریکی افراد پر پابندیاں عائد کر ‏دیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پابندی کے فیصلے کے تحت ایران میں موجود جنرل مارک ملی سمیت 50 ‏سے زائد امریکیوں کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔

    مذکورہ افراد پر پابندی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عائد کی گئی ‏ہے۔ اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پابندی والے افراد میں دہشتگردی کو بڑھاوا دینے والے بھی ‏شامل ہیں۔

    وزارت خارجہ نے بیان میں بتایا ہے جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق امریکی فوج ‏سے ہے۔ پابندی کے تحت ایران میں موجود ان کے اثاثے اور املاک ضبط کی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ امریکی جانب سے ایران پر کئی بار معاشی، اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ‏ایرانی کمپنیوں، تجارتی و کاروباری افراد سمیت اعلیٰ حکومت ارکان بھی پابندی والے افراد میں شامل ہیں۔

    ایران نے بھی ردعمل میں امریکی اہلکاروں، تاجروں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کو پابندی والی فہرست میں شامل ‏کر رکھا ہے۔

    جنوری 2020 میں عراقی دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی ‏جنرل سمیت 9 افراد ‏ہلاک ہوئے تھے۔ فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے ‏سربراہ تھے۔

    ادھرویانا میں ایران کے خلاف غیر قانونی و ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے مقصد سے جاری مذاکرات میں اختلافی نکات میں کمی آ رہی ہے۔ ویانا مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سینیئر مذاکرات کار علی باقری نے یہ بات کہی۔

    علی باقری نے گروہ 4+1 کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاس کے بعد سنیچر کی رات کو بتایا کہ اختلافی مسائل کم ہو رہے ہیں۔

    ان مذاکرات میں شامل قریب سبھی ممالک نے مذاکرات کے عمل کو مثبت اور رو بپیشرفت قرار دیا۔

    ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں روس کے مستقل مندوب میخائیل اولیانوف نے حال ہی میں کہا کہ نہ صرف روس بلکہ باقی فریقوں کا یہ خیال ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہ

  • روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    واشنگٹن : روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے تنازعہ پر امریکہ اور روس ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں ۔تناو بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کو روس کے ارادے نیک نظر نہیں آرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر کسی بھی حملے کی صورت میں سخت امریکی ردعمل سامنے آئے گا جب کہ روس نے جواباً کہا کہ ماسکو مخالف پابندیاں ایک ’سنگین غلطی‘ ہوگی۔دونوں صدور نے یہ باتیں تین ہفتوں میں ہونے والی دوسری براہ راست بات چیت کے دوران کیں۔

    دونوں سربراہوں کے درمیان جمعرات کو ہونے والی 50 منٹ کی فون کال سے روس اور مغربی حمایت یافتہ یوکرین کے درمیان کشیدہ صورتحال پر مزید سفارت کاری کی حمایت کا اشارہ ملا ہے۔

    کریملن میں خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوتن مجموعی طور پر اس بات چیت سے ’خوش‘ تھے جب کہ واشنگٹن میں ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گفتگو میں رہنماؤں کا لہجہ ’سنجیدہ اور ٹھوس‘ تھا۔

    لیکن گفتگو میں 10 جنوری کو اعلیٰ سطحی روسی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پہلے اختلاف کی گہرائی یا مشرقی یورپ میں کھیلے جانے والے اونچے داؤ کو چھپانے کی کوئی بات نہیں تھی۔

    امریکی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار ماسکو کو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ادھر اوشاکوف نے یوکرین پر حملے کے ردعمل کے طور پر اقتصادی پابندیوں کی واشنگٹن کی بار بار دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    اوشاکوف نے یہ بھی کہا کہ روس جنیوا میں جنوری میں ہونے والی بات چیت کے ٹھوس ’نتیجے‘ کے لیے پر امید ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ بھی چاہتا ہے کہ ماسکو یوکرین کی سرحد پر روس کی بڑی فوجی موجودگی سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کے لیے کارروائی کرے۔

    ساکی نے کہاکہ’صدر بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ بات چیت کشیدگی کی بجائے پرامن ماحول میں ہو۔

    ٹیلی فون کال کے بعد ایک ریڈ آؤٹ میں کریملن نے زور دیا کہ بائیڈن نے پوتن کو بتایا کہ یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بائیڈن نے محض موجودہ پالیسی کی توثیق کی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایاکہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ امریکہ یوکرین کو دفاعی سکیورٹی کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے اور جارحانہ حملہ کرنے والے ہتھیار نہیں دے رہا۔ یہ کوئی نیا عہد نہیں تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں فریق بامعنی طور پر پیش رفت کر سکتے ہیں لیکن ایسے اختلافات بھی موجود ہیں جنہیں حل کرنا ممکن نہیں۔

    مثال کے طور پر روس نے واضح کیا کہ وہ ایک تحریری عہد چاہتا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہاں اتحادی ممالک اپنے ہتھیار نصب کریں گے، یہ مطالبہ بائیڈن انتظامیہ نے مسترد کر دیا۔

    جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے دوران روس کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں کہ بحران کو کم کرنے کے بدلے میں بائیڈن پوتن کو کیا پیشکش کرنے کو تیار ہوں گے۔

    دریں اثنا نیٹو کے اہم ارکان نے واضح کیا کہ مستقبل قریب میں اتحاد کو وسعت دینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں یہ روس کو سابق سویت ریاست پر حملہ کرنے کا بہانہ فراہم کرے گا۔