Baaghi TV

Tag: ایٹمی جنگ

  • دنیا ایٹمی عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے:عالمی برادری آگے بڑھ کرجنگ روکے:چین

    دنیا ایٹمی عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے:عالمی برادری آگے بڑھ کرجنگ روکے:چین

    بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ایٹمی جنگیں نہیں لڑنی چاہیئے اور عالمی قوتیں یورپ و ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو روکیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے جرمنی کے چانسلر اولاف شولز سے ملاقات کے دوران روس اور یوکرین جنگ کی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی قوتیں جوہری جنگ کی دھمکیوں کی مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے یورپ اور ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو مشترکہ طور پر روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہی مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو نے یورپ میں جوہری مشقوں کا ایک دور شروع کیا جس میں “ٹیکٹیکل” B61 جوہری بم استعمال کیئے گئے۔

    نیٹو کا کہنا تھا کہ یہ مشقیں روسی فوجی مشقوں کے متوازی کے طور پر ہوئیں جب کہ دونوں اطراف نے ان مشقوں کو معمول کے مطابق قرار دیا تھا تاہم حالیہ ہفتوں میں کئی عالمی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 8 ماہ سے جاری روس اور یوکرین جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہوسکتے ہیں۔

    ادھر گروپ آف سیون (جی 7) صنعتی ممالک نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کے ساتھ اپنی جنگ میں کیمیائی، حیاتیاتی یا جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یاد رہے کہ روس نے بھی گزشتہ ماہ الزام عائد کیا تھا کہ یوکرینی افواج ایک “ڈرٹی بم” کا دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں تاکہ عالمی رائے عامہ کو روس کے خلاف بھڑکایا جاسکے تاہم یوکرین نے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

    دریں اثناء اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے روسی الزام کی تحقیقات کے لیے یوکرین میں تین مشتبہ مقامات کا معائنہ کیا تاہم انھیں کوئی غیراعلانیہ جوہری سرگرمیوں کا نشان نہیں ملا۔ یہ معائنہ یوکرین کی درخواست پر ہی کیا گیا تھا۔

    صدر پیوٹن نے ستمبر میں کہا تھا کہ اگر روسی علاقوں بشمول یوکرین کے غیر قانونی طور پر الحاق کیے گئے علاقوں کو نیٹو افواج کی طرف سے خطرہ لاحق ہو تو وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

    روسی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ نیٹو ممالک “جوہری بلیک میلنگ” اور روس کو “تباہ” کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم نیٹو نے ان الزامات کی سخت الفاظ میں تردید کی تھی۔

    روسی صدر کے بیان پر عالمی قوتوں نے کڑی تنقید کی تھی اور امریکی ہم منصب جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا اگر روس یوکرین میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو دنیا کو “آرماگیڈون” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    عالمی رہنماؤں کے سخت بیانات اور دباؤ پر روسی صدر پوٹن نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور نیٹو کے ساتھ کوئی بھی تصادم ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔

    صدر پوٹن نے یہ بھی کہا کہ روس کا یوکرین کی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں، نہ سیاسی اور نہ ہی فوجی۔

    جس پر امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک انٹرویو میں جواب دیا کہ اگر صدر پوٹن اس طرح کے ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، تو پھر “وہ اس کے بارے میں بات کیوں کرتے رہتے ہیں؟”

  • امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    واشنگٹن :امریکا کے صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ 1962 کے کیوبن میزائل کرائسز کے بعد پہلی بار جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ انتہا پر پہنچ چکا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر کا ڈیموکریٹس اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یوکرین میں بڑے سیٹ بیک کے بعد روس کے صدر ولادمیر جب ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں، بائیولوجیکل ہتھیاروں اور کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ مذاق نہیں کر رہے ہوتے، امریکا روسی صدر کے جوہری جنگ کے طریقے کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ 1962 کے کیوبن میزائل کرائسز کے بعد پہلی مرتبہ ہمیں براہ راست جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی گئی ہے، اگر چیزیں اسی طرح چلتی رہیں تو یہ استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

    اس سے قبل امریکا اور یورپی یونین نے کہا کہ تھا کہ روس کے صدر ولادمیر پیوٹن کی نیوکلیئر دھمکیوں کو سنجیدہ لینا چاہیے۔تاہم امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلاوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا روس کی جانب سے جوہری حملوں کی دھمکیوں کے باوجود امریکا کو فوری طور پر اس قسم کے حملوں کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ روس جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یوکرین روس کی جانب سے 24 فروری کے بعد تسلط میں لیے گئے علاقے واپس لے رہا ہے جس میں ان ریجنز کے علاقے بھی شامل ہیں جنہیں روس نے ریفرنڈم کے ذریعے حال ہی میں اپنے ساتھ ملایا ہے۔

  • یوکرین روس تنازعہ:دنیا ایٹمی جنگ کے دھانے پر:کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے

    یوکرین روس تنازعہ:دنیا ایٹمی جنگ کے دھانے پر:کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے

    لاہور:یوکرین روس تنازعہ:دنیا ایٹمی جنگ کے دھانے پر:کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے،اطلاعات ہیں کہ زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ جو کہ یورپ کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے ۔ یوکرین کا یہ جوہری بجلی گھر روسی افواج کے کنٹرول میں ہے۔اور یہ بات امریکہ اوریورپ کو کسی بھی صورت گوارا نہیں ہے ،

    ایٹمی بجلی گھر پر یوکرین کی گولہ باری کا نتیجہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے: روس

    اس سلسلے میں عالمی ذرائع ابلاغ نے پیر کی رات یوکرینی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر کے نزدیک متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ۔ زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر کے اطراف کے علاقوں پر گزشتہ دنوں کئی بار گولہ باری ہوئی ہے۔

    ماسکو اور کیف میں سے کسی نے بھی ان گولہ باریوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔شہر انرگودار کے میئر نے جہاں یورپ کا یہ سب سے بڑا جوہری بجلی گھر واقع ہے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ اس جوہری بجلی گھر میں المیہ رونما ہونے کا امکان روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔

    روس نےایرانی سیٹلائٹ "خیام” خلا میں بھیج دیا

    یوکرین کے زاپوریژیا جوہری بجلی گھر میں المیہ رونما ہونے کی تشویش کے دوران، پیر کو روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ماہرین یوکرین کے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر کا جلد سےجلد معائنہ کریں اور ماسکو اس سلسلے میں ہر ضروری تعاون کے لئے تیار ہے ۔

    روسی وزارت خارجہ کے اس بیان کے بعد ، اقوام متحدہ نے یوکرین کے اس جوہری بجلی گھر کے تعلق سے آئی اے ای اے کی سنگین ذمہ داریوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔اسی کے ساتھ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش نے مذکورہ جوہری بجلی گھر کی سلامتی کے بارے میں روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگوف کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا ۔

    روس، یوکرین اوراس کے حامی مغربی ملکوں پر یہ الزام لگاچکا ہے کہ وہ اس کوشش میں ہیں کہ زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر میں بھی چرنوبیل جیسا المیہ رونما ہوجائے۔

    یاد رہے کہ روس نے یوکرین سے علیحدگی اور خود مختاری کا اعلان کرنے والے، علاقوں دونیسک اور لوہانسک کی حمایت میں چوبیس فروری سے فوجی آپریشن شروع کررکھا ہے ۔ روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے خلاف اس کا فوجی آپریشن آغاز جنگ کے مترادف نہیں ہے بلکہ عالمی سطح کی جنگ روکنے کا ایک اقدام ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن کا مقصد ، نیونازی انتہا پسندوں کا خاتمہ اور روسی زبان بولنے والے شہریوں کو نسل کشی سے بچانا بتایا ہے۔یوکرین جنگ شروع ہونے سے قبل روس نے مغربی ملکوں کو بارہا خبردار کیا تھا کہ کیف کو مسلح کرنے، مشرقی یوکرین میں آباد روسی زبان شہریوں پر یوکرینی فوج کے حملوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

    قابل ذکرہے کہ مشرقی یوکرین کے دو علاقوں ، دونیسک اور لوہانسک نے، دو ہزار چودہ میں اس وقت کی حکومت کے خلاف مغرب نوازوں کی بغاوت اور حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد، یوکرین سے علیحدگی اور خود مختاری کا اعلان کیا تھا۔

    ایران، روس کو ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دے رہا ہے،امریکا

    2014 میں بلوے اور بغاوت کے ذریعے وکٹر یانوکویچ کی حکومت کا تختہ الٹ کر یوکرین میں برسراقتدار آنے والی مغرب نواز حکومت نے روس کی تشویش اور انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے، یورپ اور امریکا سے قریب تر ہونے اور یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت کے لئے کوششیں جاری رکھیں اور اسی کے ساتھ یورپ اور امریکا نے بھی روس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی غرض سے یوکرین کے لئے اسلحہ جاتی اور فوجی امداد کا سلسلہ تیز کردیا۔

    دوسری طرف نیٹو نے بھی یوکرینی فوجیوں کو ٹریننگ دینے اور یوکرین کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں انجام دینے جیسے اشتعال انگیز اقدامات انجام دیئے جو یوکرین اور روس کے درمیان موجودہ جنگ پر منتج ہوئے ۔ ساڑھے پانچ مہینے سے یہ جنگ جاری ہے اور اب اس جنگ کے نتیجے میں جوہری جنگ کے خطرات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔

  • عالمی جنگ کی تیاری:ایٹمی ملک تیزی سےجدید جوہری ہتھیاربنانےلگے

    عالمی جنگ کی تیاری:ایٹمی ملک تیزی سےجدید جوہری ہتھیاربنانےلگے

    لاہور:عالمی جنگ کی تیاری:ایٹمی ملک تیزی سے جدید جوہری ہتھیاربنانےلگے،تفصیلات کے مطابق ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق، سرد جنگ کے بعد پہلی بار اگلی دہائی میں عالمی جوہری ہتھیاروں میں اضافہ متوقع ہے۔اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایٹمی ملک بڑی تیزی سے جوہری ہتھیاربنانے میں بڑی چُستی کا مظاہرہ کررہی ہیں

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) نے اپنی نئی جاری کردہ سالانہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کی اہے کہ دنیا کی نو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستیں – امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، ہندوستان، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کو اس رفتار سے جدید اور توسیع دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا امکان اگلی دہائی میں بڑھ جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ ہرمُلک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش میں بھی ہے

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) نےاپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ۔”اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے عالمی جوہری ہتھیاروں کی کمی کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع ہوگئی تھیں مگرپچھلے چارپانچ سال سے دنیا میں پیدا ہونے والے نئے تنازعات نے ایک بارپھران ملُکوں کو محتاط رہنے پر مجبور کردیا ہے

    ولفریڈ وان جوSIPRI کےبڑے پیمانےپرتباہی کےہتھیاروں کےپروگرام کےڈائریکٹرہیں نےخطرے کی نشاندہی کرتےہوئےکہا ہےکہ تمام جوہری ہتھیاروں سےلیس ریاستیں اپنےہتھیاروں اوراپنی فوجی حکمت عملیوں میں اپنےکردارکوبڑھا رہی ہیں یااپ گریڈکررہی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف اسلحہ سازی میں ایک دوسرے سےسبقت لےجانےکی خواہش ہےبلکہ اب اعلانیہ طوریہ ملک اس قسم کی گفتگو کررہےہیں جوکہ "یہ ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI)کےماہرین کا کہنا ہےکہ روس اورامریکہ کےپاس مجموعی طورپر90 فیصد سےزیادہ جوہری ہتھیارہیں،جب کہ دیگر سات ممالک یا تونئےہتھیاروں کےنظام کو تیارکررہے ہیں یا تعینات کررہےہیں۔

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI)کےدفاعی ماہرین نےزوردے کرکہا کہ چین خاص طورپر اپنے جوہری ہتھیاروں میں کافی حد تک توسیع کررہا ہے،سیٹلائٹ کی تصاویرسے300 سےزیادہ نئےمیزائل سائٹس کی تعمیرکا اشارہ ملتا ہے۔

    اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کےدفاعی تجزیہ نگاروں نےمزید کہا، خیال کیا جاتا ہےکہ نئے موبائل لانچرزاورایک آبدوزکی فراہمی کے بعد گزشتہ سال چینی فوج کی آپریشنل فورسزکوکئی اضافی جوہری وار ہیڈزتفویض کیےگئےتھے۔

  • ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے توجوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی

    ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے توجوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو:ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے تو ہی جوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق روس نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع میں ملکی بقا کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ہی وہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرے گا۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ہم ملکی سلامتی کا تصور رکھتے ہیں اور یہ عوامی سطح پر سب کے سامنے ہے، آپ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تمام وجوہات جان سکتے ہیں لہٰذا اگر ہمارے ملک کے لیے وجود کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اسے ہمارے تصور کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب انٹرویو لینے والے کرسٹیئن امان پور نے ان سے سوال کیا کہ کیا انہیں ’یقین یا اعتماد‘ ہے کہ صدر ولادمیر پیوٹن یوکرین کے تناظر میں جوہری آپشن کا استعمال نہیں کریں گے۔

    روسی فوجیوں کے یوکرین پر حملہ کرنے کے چند دن بعد پیوٹن نے 28 فروری کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ملک کی اسٹریٹیجک نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے جس سے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے ماسکو کی بیان بازی کو خطرناک قرار دیا ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک ذمہ دار جوہری طاقت کو اس طرح کام نہیں کرنا چاہیے۔

    جان کربی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون کے حکام نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس سے ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ ہمیں اپنے اسٹریٹجک مزاحمتی پوزیشن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر روز اس کی بہترین نگرانی کرتے ہیں۔

    روس جوہری ہتھیاروں کا دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتا ہے اور اپنے سابق سوویت پڑوسی ملک پر حملے کے حوالے سے اسے چین کے سوا دنیا بھر کی عالمی طاقتوں کی تنقید اور دباؤ کا سامنا ہے۔

    مغربی دفاعی حکام نے پیوٹن کے فروری کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ انہوں نے روس کی جوہری قوتوں، اسٹریٹیجک بمباروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے متحرک ہونے کی کوئی خاص علامت نہیں دیکھی۔

    البتہ روس نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے یوکرین کو لڑاکا طیارے فراہم کیے تو یہ جنگ وسیع تر ہو سکتی ہے اور اس سے ممکنہ طور پر روس کو مغرب میں جوہری ہتھیاروں سے لیس حریفوں کے ساتھ براہ راست تصادم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رواں ماہ کے اوائل میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم کی سربراہی کرنے والی بیٹریس فیہن نے خبردار کیا تھا کہ پیوٹن جوہری ہتھیاروں کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں تاکہ بین الاقوامی برادری کو یوکرین پر حملے میں مداخلت سے روکا جا سکے۔

    یوکرین میں روس کے حملے کے بارے میں مزید سوال کرنے پر پیسکوف نے کہا کہ ان کا اپنے پڑوسی ملک پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ان کا ملک شہریوں پر حملے بھی نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بنیادی اہداف یوکرین کی فوجی صلاحیت سے چھٹکارے کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج یوکرین کی سرزمین پر شہری نہیں بلکہ صرف فوجی اہداف اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    البتہ روسی دعووں کے برعکس وسیع پیمانے پر دستیاب تصاویر اور ویڈیو ثبوت انسانی حقوق گروپوں کے ان الزامات کی تصدیق کرتے ہیں کہ روس نے شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  • پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ پوٹن کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدرجوبائیڈن نے کہا کہ ان کے روسی ہم منصب ولادیمیرپوٹن بندگلی میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کے لئے کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    امریکی صدرکا مزید کہنا تھا کہ یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے روس کی جانب سے ساحلی شہر ماریوپل میں ہتھیار ڈالنے کے بدلے شہریوں کو نکالنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم ساحلی شہر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

    روس نے یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں اب لوگوں تک اشیائے ضرورت اور دوائیں بھی نہیں پہنچ رہی ہیں۔

    ادھر روس نے خبردارکیا ہے کہ امریکا سے تعلقات تیزی سے ختم ہونے کی طرف جارہے ہیں۔

    ماسکو میں امریکی سفیرکودفترخارجہ طلب کرکے صدرپوٹن سے متعلق امریکی ہم منصب کے بیان کوناقابل قبول قراردیا گیا۔امریکی سفیرکواحتجاجی مراسلہ بھی دیا گیاہ۔

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی سفیرکودئیے گئے احتجاجی مراسلے میں روس کا کہنا تھا کہ امریکی صدرجوبائیڈن کے روسی ہم منصب سے متعلق بیان نے دونوں ممالک کے تعلقات کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔اس طرح کے بیانات امریکی صدرکے عہدے کے شایان شان نہیں۔اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین پرحملے کے حوالےسے روسی صدرولادی میرپوٹن کوجنگی مجرم قراردیا تھا۔

  • روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    واشنگٹن : روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے یہ کہہ کرخطرے کی گھنٹیاں بجادیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کی اعانت کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین، یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ’روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔‘ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے اس دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب جب کہ روس نے یہ جھوٹے دعوے کیے ہیں، ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کرے، یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرے گا۔‘ چھ مارچ کو ماسکو کی وزارت خارجہ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج کو شواہد ملے ہیں کہ یوکرین کی حکومت فوج کی جانب سے چلائے گئے حیاتیاتی پروگرام کے نشانات کو مٹا رہے ہیں جس کی مالی اعانت مبینہ طور پر امریکہ نے فراہم کی تھی۔ نیڈ پرائس نے کہا کہ ’یہ روسی غلط معلومات سراسر احمقانہ ہیں۔‘

    ادھر غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہےدوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی کہا ہے کہ ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے-

    دریں اثناء امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب دنیا کی توجہ جمعرات کو ترکی کے جنوبی قصبے انطالیہ میں ہونے والی ایک میٹنگ پر مرکوز ہے جس میں ترکی، یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ مشرقی یورپ میں جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کریں گے اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ روس اور یوکرین کے ساتھ سمندری سرحد کا اشتراک کرتے ہوئے ترکی نے طویل عرصے سے نیٹو کے لیے اپنی اہمیت کو بڑھا کر اور ساتھ ہی روس کی مخالفت نہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار اور متوازن ثالث کے طور پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ استنبول ثالثی کانفرنس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے یوکرینی ہم منصب دمتری کولیبا کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات 24 فروری کو یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی

  • یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے

    یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے

    کیف : یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نویں روز بھی جاری ہے۔حالات بد سے بد تر ہوگئے ہیں اور روسی فوج کی پیشقدمی نہیں رک سکی ہے جس کے سبب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں ایک بنکر سے فرار ہو کر پولینڈ چلے گئے ہیں۔

    یہ دعویٰ روسی میڈیا نے کیا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ صرف دو روز قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے عوامی طور پر کہا تھا کہ زیلنسکی کو جب چاہیں یوکرین سے ہوائی جہاز سے اتارا جائے گا۔ تاہم یوکرین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زیلنسکی دارالحکومت کیف میں ہیں۔

    جمعہ کو روسی فوج نے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل یہاں فائرنگ ہوئی تھی جس کی وجہ سے پلانٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ روسی فوجیوں نے پلانٹ کی انتظامیہ اور کنٹرول عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔ روس چرنی ہیو میں فضائی حملے کر رہا ہے۔ ان حملوں میں 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ادھر یوکرین پر روسی حملہ اب نویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران گولہ باری کے سبب یوکرین کے زپوریشیا پلانٹ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے تابکاری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ زپوریشیا پلانٹ یورپ میں جوہری بجلی کا سب سے بڑا پلانٹ ہے۔

    یوکرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام جوہری پلانٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے جہاں روسی گولہ باری کے بعد پلانٹ کے بیرونی حصے میں واقع ایک تربیتی حصے میں آگ لگ گئی تھی۔

    جوہری امور کے عالمی نگراں ادارے آئی اے ای اے اور وائٹ ہاؤس دونوں کا ہی کہنا ہے کہ وہ یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر حملے کی فعال طریقے سے نگرانی کر رہے ہیں اور تابکاری کی سطح میں ابھی تک کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ”روسی فوج یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر چاروں طرف سے فائرنگ کر رہی ہے۔ آگ تو پہلے ہی بھڑک چکی ہے۔”

    ان کا مزید کہنا تھا، ”اگر اس میں کوئی دھماکہ ہوا تو یہ چرنوبل سے بھی دس گنا زیادہ بڑا ہو گا! روسیوں کو فوری طور پر فائرنگ بند کرنی چاہیے، فائر فائٹرز کو اجازت دینی چاہیے اور ایک سکیورٹی زون قائم کرنا چاہیے”!

    وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے اپنی متعدد ٹویٹ میں بتایا ہے کہ جوہری پلانٹ میں آگ لگنے کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے یوکراینی ہم منصب وولودیمیر زیلنسکی سے فون پر بات چیت بھی کی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن نے امریکی محکمہ توانائی کے انڈر سیکریٹری برائے نیوکلیئر سکیورٹی اور نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر سے بھی بات کی تاکہ پلانٹ کی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کی جا سکے اور صدر کو اس بارے میں بریف کیا جا رہا ہے۔

  • روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا

    روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا

    ماسکو:روس نے ہائیڈروجن بم،ایٹم بم اوراٹیمی میزائل چلانے والی فوج کوتیاررہنے کا حکم دے دیا ،اطلاعات کے مطابق روسی میڈیا کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ڈیٹرنس فورس کو ہائی کرنے کا حکم دیدیا۔ ڈیٹرنس فورس میں نیو کلیئر ہتھیار شامل ہیں۔ ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چار روز سے جاری روس کے ساتھ جاری جنگ کے بعد یوکرین ماسکو کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہو گیا۔

     

    روسی خبر رساں ادارے آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق یوکرین بالآخر روس کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو گیا، یہ بات چیت ہمسایہ ملک بیلاروس میں ہو گی جہاں پر ایک ٹیم بھیجنے پر اتفاق کر لیا گیا۔

    آر ٹی کے مطابق روسی چیف مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی نے بتایا کہ کیف نے گومیل ریجن میں طے شدہ مذاکرات کی تصدیق کی ہے، جو روس اور یوکرین دونوں کی سرحدوں کے قریب ہے۔

    ولادیمیر پیوٹن کے معاون اور سابق وزیر ثقافت میڈنسکی نے مزید کہا کہ فریقین اب یوکرین کے لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سیکورٹی کے ساتھ سربراہی اجلاس کی لاجسٹک اور درست جگہ کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں۔ ضمانت دیتے ہیں سفری راستہ مکمل طور پر محفوظ ہو گا، ہم یوکرائنی وفد کا انتظار کریں گے۔

     

     

    اس سے قبل روسی ٹیم یوکرین کے ساتھ مذاکرات کیلئے متعلقہ جگہ پر پہنچ چکی ہے۔

     

     

    یوکرین کا کہنا تھا کہ غیر جانبدار زمین پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ روسی فوجی بیلاروسی سرزمین کو یوکرین پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم منسک نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کی افواج روسی کارروائی میں حصہ لے رہی ہیں۔

    پیوٹن کا ڈیٹرنس فورس کو ہائی الرٹ پر کرنے کا حکم

    دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ڈیٹرنس فورس کو ہائی کرنے کا حکم دیدیا۔ ڈیٹرنس فورس میں نیو کلیئر ہتھیار شامل ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ڈیٹرنس فورس ہائی الرٹ کرنے کا فیصلہ نیٹو رد عمل پر کیا۔

    اس سے قبل یوکرین نے دا ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کو فوری طور پر رکوائے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں ریاستوں کے درمیان تنازعے کے حوالے سے روس کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔

    صدر زیلنسکی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ یوکرین نے روس کے خلاف الزامات کے ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ ’نسل کشی کے تاثر کی آڑ میں اپنی جارحیت کو جواز فراہم کرنے پر روس کا مواخذہ کیا جانا چاہیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ روس کو فوجی کارروائی فوری روکنے کا حکم دیا جائے۔ ہم روس کی عسکری سرگرمی کو اسی وقت روکنے کا فوری حکم صادر کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں روس کے اس اقدام کا اگلے ہی ہفتے سے ٹرائل شروع کیا جائے۔

     

    یوکرین کی علاقائی انتظامیہ کے سربراہ اولے سائنی گوبوف نے کہا ہے کہ یوکرینی فورسز نے روسی افواج کے ساتھ سخت لڑائی کے بعد دوسرے بڑے شہر خارکیف کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ خارکیف مکمل کنٹرول میں ہے۔ کلین اپ آپریشن کے دوران روسی فورسز کو نکال رہے ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جمعرات کو روس کے یوکرین پرحملے کے بعد تین لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد یوکرین سے فرار ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین(یو این ایچ سی آر) نے ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت یوکرین سے فرار ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ 68 ہزار ہے لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اعداد شمار جاری کیے جائیں گے۔

    یوکرین سے نکلنے والوں کی بہت بڑی تعداد پولینڈ پہنچی ہے۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 56 ہزار افراد پولینڈ پہنچے ہیں جن میں سے 77 ہزار تین سو افراد صرف ہفتے کے روز یوکرین سے آئے ہیں۔

    یہ پناہ گزین اپنی کاروں اور کھچا کھچ بھری ہوئی ریل گاڑیوں کے علاوہ پیدل ان پڑوسی ممالک میں پہنچے ہیں۔ بہت سارے پناہ گزین مولڈیویا، ہنگری، سلواکیہ اور رومانیہ کی جانب بھی گئے ہیں۔

    ادھر دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ، نیٹو اوردیگراتحادی روس کی طرف سے ممکنہ سخت ردعمل سے آگاہ ہیں اور ان کی کوشش ہےکہ ایٹمی جنگ نہ ہی چھڑے تو بہتر ہے، اور اگر یوکرین کا معاملہ حل نہیں ہوتا یا مغربی قوتیں یوکرین اور روس کے درمیان معاملات کو حل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں تو اس صورت میں روس ایٹمی حملہ کرنے سے بالکل بھی نہیں ہچکچائے گا اور پھردنیا تیسری ایٹمی عالمی جنگ میں داخل ہوجائے گی

  • امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو : امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کرے اور اپنی فوجی صلاحیت کو روسی سرحدوں سے ہٹائے۔

    انہوں نے واضح الفاظ میں امریکہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ گئے تو بصورت دیگر نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے اور نیٹو کی افواج روس کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہیں۔

    ایلچی نے مزید کہا کہ امریکا روس کے خلاف نہ صرف زمینی بلکہ سمندر اور فضا میں بھی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم روس اپنے دفاع سے بالکل بھی غافل نہیں ہے۔
    .
    انتونوف نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ روس کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک خصوصی ذمہ داری رکھتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کیا گیا ہے۔

    روسی سفارت کار نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ غیرملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کر دیا جائے اور اس بارے میں سوچیں کہ آنے والی نسلیں کیسے ایک ساتھ رہیں گی۔

    ادھرچین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جوہری جنگ پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی اور ایسی ہلاکت خیز جنگ کبھی شروع بھی نہیں ہونی چاہیے۔

    دنیا کی پانچ جوہری طاقتوں نے تین دسمبر پیر کے روز جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری جنگ ہرگز کوئی متبادل نہیں ہے۔

    چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے مشترکہ طور پر جاری کردہ اپنے ایک غیر معمولی بیان میں کہا، ”ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکنا بہت ضروری ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا، ”جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور کبھی لڑی بھی نہیں جانی چاہیے۔” پانچوں عالمی طاقتوں نے بیان میں اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ جب تک، ”جوہری ہتھیار موجود رہیں گے اس وقت تک وہ بس، دفاعی مقاصد کو پورا کرنے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کے لیے ہی ہوں گے۔”

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان (پی فائیو) نے، ”جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جلد از جلد ختم کرنے اور جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق موثر اقدامات پر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔” سبھی نے سخت اور موثر بین الاقوامی کنٹرول کے تحت عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔”