Baaghi TV

Tag: ایٹمی طاقت

  • پاکستان کے  جے ایف 17 طیارے نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی،امریکی دعویٰ

    پاکستان کے جے ایف 17 طیارے نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی،امریکی دعویٰ

    پاکستان کے جے ایف 17 طیارے نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی،

    بھارت نے فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارے شامل کیے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاکستانی فضائیہ بھی اپنے JF-17 ‘تھنڈر’ کو جوہری مشن کے لیے اپ گریڈ کر رہی ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے حوالے سے مسلسل ابہام برقرار رکھا ہے۔JF-17 لڑاکا طیارہ، جسے چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے، طویل عرصے سے یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ اسے جوہری مشن سونپا گیا ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک تصویر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں تیار کیے گئے لڑاکا طیارے درحقیقت ٹیکٹیکل نیوکلیئر میزائلوں سے لیس ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دیرینہ حکومتی رازداری کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا تجزیہ غیر یقینی صورتحال سے بھرا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ معلوم ہے کہ پاکستان کئی دیگر جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے ساتھ اپنی جوہری صلاحیتوں کو جدید بنا رہا ہے اور نئے ہتھیاروں کے نظام کو فیلڈ کر رہا ہے، ان منصوبوں یا اس کے ہتھیاروں کی حیثیت کے بارے میں بہت کم سرکاری معلومات جاری کی گئی ہیں۔ان بہت سے سوالات میں سے ایک جو محققین پاکستان کے جوہری صلاحیت کے حامل ہوائی جہاز اور اس سے منسلک ہوائی جہاز سے چلنے والے کروز میزائل (ALCM) کی جدید کاری سے متعلق پوچھ رہے ہیں۔ یہ طویل عرصے سے فرض کیا جاتا رہا ہے کہ معراج III اور V لڑاکا بمبار دو طیارے ہیں جو پاکستان ایئر فورس (PAF) میں نیوکلیئر ڈیلیوری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ معراج V کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جوہری کشش ثقل بموں کی محدود فراہمی میں ایک سٹرائیک رول ہے، جب کہ میراج III کو پاکستان کے دوہری صلاحیت کے حامل Ra’ad-I (Hatf-8) ALCM کے ٹیسٹ لانچ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    یہ خبر سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی 2024 کی سالانہ کتاب کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پہلی بار بھارت نے ایٹمی وار ہیڈز کے معاملے میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بھارت کے پاس کل 172 جوہری ہتھیار جبکہ پاکستان کے پاس 2024 تک 170 جوہری ہتھیار تھے،

    ایک امریکی تھنک ٹینک، فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس (FAS) نے 2023 میں حاصل کی گئی تصاویر کا تجزیہ کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ RAAD I، پاکستان کا واحد جوہری صلاحیت کے حامل ایئر لانچڈ کروز میزائل (ALCM) کو JF-17 کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ایئر ڈیٹرنس کا کردار اب تک معراج III/Vs نے ادا کیا ہے۔ RAAD ALCM کا پہلا تجربہ 2007 میں کیا گیا تھا اور اسے "روایتی یا جوہری” دونوں کرداروں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان اپنے پرانے معراج III اور V طیاروں کو ریٹائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور JF-17 اپنے فضائی نیوکلیئر ڈیٹرنس رول کو سنبھال لے گا۔ JF-17 کی پہلی تصویر 2023 میں یوم پاکستان پریڈ کی ریہرسل میں سامنے آئی تھی۔ FAS نے یہ معلوم کرنے کے لیے اصل تصویر خریدی کہ آیا JF-17 امیج پر تعینات راڈ واقعی جوہری صلاحیت رکھتا ہے۔

    "ان مشاہدات سے، یہ امکان ہے کہ پاکستان نے اپنے JF-17 طیاروں کو اس صلاحیت سے لیس کرنے کی طرف اہم پیش رفت کی ہے جو آخرکار معراج III/Vs کے جوہری اسٹرائیک کردار کی تکمیل اور ممکنہ طور پر جگہ لے سکتی ہے،

    JF-17 ‘تھنڈر’ نہ صرف پاکستان ایئر فورس (PAF) کا بنیادی مرکز ہے بلکہ ملک کی دفاعی برآمدی مصنوعات بھی ہے۔JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی چینگڈو ایئر کرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔ 2003 میں اس کی پہلی پرواز کے بعد، JF-17 ایئر فریم ابتدائی طور پر صرف چین میں تیار کیے گئے تھے۔ اس وقت پاکستان 58 فیصد طیارے بناتا ہے جبکہ باقی 42 فیصد چین میں تیار کیا جاتا ہے۔

    JF-17 تھنڈر ایک واحد انجن والا، ہلکا پھلکا، ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جس میں چینی ایئر فریم اور ویسٹرن ایونکس روسی انجن سے چلتا ہے۔ پی اے سی کامرہ نے 2009 سے اب تک تقریباً 120 JF-17 بلاک I اور II لڑاکا طیارے پی اے ایف کو فراہم کیے ہیں۔

  • پاکستان اور بھارت کے پاس کتنے کتنے نیوکلیئر بم؟ رپورٹ جاری

    پاکستان اور بھارت کے پاس کتنے کتنے نیوکلیئر بم؟ رپورٹ جاری

    دنیا بھر میں موجود نیو کلیئر بموں کی تعداد سامنے آ گئی،دنیا بھر میں اس وقت 12121 نیو کلیئر بم ہیں، پاکستان کے پاس 170 جبکہ بھارت کے پاس 172 نیو کلیئر بم موجود ہیں

    نیوکلیئر بم پر نظر رکھنے والے ادارہ ’سپری‘ نے اس حوالہ سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کئے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے گزشتہ ایک برس میں مزید آٹھ نئے نیو کلیئر بم بنائے ہیں، دنیا کے تمام نیوکلیئر صلاحیت والے 9 ممالک نے اپنے اسلحوں کی تجدید کاری کی ہے ، چین نے گزشتہ ایک برس میں 90 نئے نیوکلیئر بم بنائے ہیں، چین کے پاس اس وقت 500 نیوکلیئر بم موجود ہیں.

    تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ، چین، پاکستان، بھارت، نارتھ کوریا اور اسرائیل نے گزشتہ برس نیوکلیائی اسلحوں کی تیز رفتاری کے ساتھ تجدیدکاری کی ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت 12121 نیوکلیئر بم ہیں جن میں سے 9585 نیوکلیئر بم فوجی ذخیرے میں رکھے گئے ہیں تاکہ انہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکے، 3904 نیوکلیئر بم جنگی طیاروں اور میزائلوں میں تعینات ہیں۔ 2100 نیوکلیئر بموں کو میزائلوں میں ہائی الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے، سب سے زیادہ روس اور امریکہ نے نیوکلیئر بموں کو الرٹ پر رکھا ہے۔ چین نے بھی 24 نیوکلیئر بموں کو الرٹ موڈ پر رکھا ہوا ہے

    نیو کلیئر بموں کے حوالہ سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے نیوکلیئر بموں کی تعداد میں کمی آئی ہے، کیونکہ پرانے بموں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور نئے بموں کی مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے،نیوکلیائی بموں کو الرٹ موڈ پر رکھے جانے سے متعلق سپری نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آنے والے سالوں میں یہ ٹرینڈ جاری رہ سکتا ہے۔ بھارت، پاکستان اور نارتھ کوریا ایک ہی میزائل پر کئی نیوکلیئر بموں کو تعینات کرنے کی تکنیک پر کام کر رہے ہیں۔ امریکہ، روس، برطانیہ اور چین پہلے ہی ایسا کرتے آئے ہیں۔ ایسے میں جنگی طیاروں اور میزائلوں میں تعینات نیوکلیئر بموں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کے مجموعی نیوکلیئر بموں میں سے 90 فیصد امریکہ اور روس کے پاس ہے.

    مسلح افواج کا نیوکلیئر صلاحیت حاصل کرنے میں کردارادا کرنے والوں کو خراج تحسین

    28 مئی کو پاکستان نے خطے میں توازن کا پیغام دیا

    یوم تکبیر، پاکستان تیس منٹ‌ میں تمام بھارتی شہروں‌ کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے. ڈاکٹر عبدالقدیر خاں

    یوم تکبیر، خواب کو حقیقت بنانے والوں کو سلام، ترجمان پاک فوج

  • ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ملک میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے، درد دل رکھنے والے احباب محکمہ موسمیات کی بروقت پیش گوئی کے باوجود نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ کرنے یا جن علاقوں میں حکومت کو حالات قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہو وہاں سے لوگوں کے بروقت انخلاء نہ کرانے کی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے بروقت مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کا بہت زیادہ جانی یا مالی نقصان ہوا ہے ۔

    آپ نے اکثر بازار میں بھکاری دیکھے ہیں جو ہٹے کٹے بھکاری ہوں انہیں لوگ امداد دینے سے زیادہ غیرت دلاتے ہیں کہ اللہ پاک نے تمھیں صحت کی نعمت سے نوازا ہے تو محنت مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کیوں نہیں کرتے اس کے برعکس جو بھکاری جسمانی طور پر معذور ہو یا اس کی بظاہر حالت قابل رحم ہو وہ اگر دست سوال دراز نہ بھی کرے تو لوگ اسے روک کر خود امداد دیتے ہیں، اسی لئے اگر کوئی جسمانی طور پر صحت مند بھکاری ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی معذور بچے یا فرد کو اپنے ساتھ نتھی کر کے اس کی قابل رحم حالت کی بنیاد پر بھیک مانگے اور لوگ بھی بغیر کوئی سوال جواب کرے ایسے شخص کو امداد دے دیتے ہیں ۔

    ہم ملک پاکستان کے شہری اللہ کے فضل سے ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہمارا پاس اسلامی بم ہے ہم امت مسلمہ کے خودساختہ ٹھیکیدار اور محافظ ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ اگر ہمیں امداد نہ ملے تو ہمارے پاس ایک یا دو مہینے کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جن کے ہم خودساختہ محافظ اور ٹھیکیدار ہیں وہ بھی ہمیں آنکھیں دکھانے لگ گئے ہیں اور ہمیں امداد یا بھیک انتہائی ذلیل کر کے اپنی من پسند شرائط پر دیتے ہیں اور ساتھ طعنہ دیتے ہیں کہ ایٹمی طاقت تو بن گئے ہو اور معاملات میں کیوں نہیں خود کفیل ہوتے ہو۔

    ہٹے کٹے بھکاری کی طرح ہمیں بھی ہماری ظاہری حالت کی وجہ سے امداد نہیں ملتی جبکہ ہڈحرامی کی وجہ سے ہم خود محنت مزدوری کر نہیں سکتے اس لئے ہم بھی صحت مند بھکاری کی طرح کوئی معذور، جسمانی طور پر لاغر اور قابل رحم جسمانی حالت والا بچہ دھونڈتے ہیں اور ہمارا وہ بچہ یا ساتھی قدرتی آفات ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی قدرتی آفت آنے کا ہمیں بروقت معلوم ہو بھی جائے تو ہم وہ وقت اس آفت کا سدباب کرنے کے بجائے اس آفت کی بنیاد پر اقوام عالم سے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنے اور اس امداد سے اپنے اکاؤنٹ بھرنے میں صرف کرتے ہیں ۔

    اسی لئے سیلاب آنے کی بروقت اطلاعات کے باوجود ہم نے اس کے تدارک کے لئے رسمی انتظامات کئے اور ملک میں سیلاب آیا ہوا تھا جبکہ ہم اپنی سیاست بچا رہے تھے سیلاب میں گھرے متاثرین سے زیادہ اہمیت ایک اکیلے شہباز گل کو دی جا رہی تھی کیوں کہ اس نے رہا ہو کر ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانا اور معاشی طور پر خودمختار کرنا تھا اس سارے عمل کے دوران لوگوں کی توجہ متاثرین سیلاب سے ہٹا کر متاثرین سیاست کی طرف لگا دی گئی ۔

    اپنی ذمہ داریوں کا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں جبکہ اس دوران بین الاقوامی برادری کو سیلاب متاثرین کی حالت زار سے بھی آگاہ کیا جاتا رہا اور امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر کی امداد سیلاب متاثرین کے لئے دے دی اور شاید بعد میں دس لاکھ ڈالر کی مزید امداد دی یا دس لاکھ ڈالر کی امداد قدرتی آفات سے نبٹنے کے لئے پہلے سے مختص تھی اور اس کے علاوہ ایک لاکھ ڈالر مزید امداد دی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب ہمیں امداد مل گئی ہے اور سیلاب کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔

    تو اس امداد کے ذریعے حکومت اب پورے دل سے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوشش کرے گی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور بچنے والے پیسوں سے اپنے اردگرد موجود مستحق لوگوں کی امداد کرے گی جو ہر اچھے وقت میں ان کے ساتھی ہیں اس اب کے باوجود ہم ایٹمی قوت ہیں بھکاری نہیں لیکن اگر قدرت کسی کے دل میں رحم ڈال اور وہ ہمیں ہدیہ دے تو ہم ہدیہ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ہدیہ قبول نہ کرنا کفران نعمت ہے ۔

  • پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل،وزیراعظم کا یوم تکبیر پرخصوصی پیغام

    پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل،وزیراعظم کا یوم تکبیر پرخصوصی پیغام

    لاہور: پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل ہو گئے لہٰذا پورے ملک میں آج یوم تکبیر جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم نے یوم تکبیر پرخصوصی پیغام میں قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دن 1998 میں وزیراعظم نواز شریف نے قیادت کے دلیرانہ شو میں دباؤ اور ترغیبات کو مسترد کر کے پاکستان کو دنیا کی ایٹمی طاقت بنا یا-


    وزیر اعظم نے کہا کہ اب ہم اسے معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔ میں ان تمام لوگوں کا مشکور ہوں جنہوں نے ہمارے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں مدد کی۔

    پیٹرول سے متعلق ہم نے دل پر پتھر رکھ کرفیصلہ کیا ، شہباز شریف

    پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24برس مکمل ہو گئے تاہم اسی مناسبت سے آج پورے ملک میں یوم تکبیر قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے اورملک بھر میں خصوصی تقریبات ہوں گی۔


    واضح رہے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں پاکستان نے 28مئی 1998ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں 5 کامیاب ایٹمی دھماکے کیے، جس کے بعد اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔


    وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے یوم تکبیر پرخصوصی پیغام میں کہا گیا کہ یوم تکبیر پر پوری پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں24 سال قبل آج کے دن ہم نے ثابت کیا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے-

    نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جوہری دھماکوں کے 24 سال مکمل ہونے پر 10 روزہ تقریبات منانے کا فیصلہ قیام پاکستان کے 75 سال مکمل ہونے کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کی طرز پر یوم تکبیر ملک بھر میں قومی جذبے سے منانے کی ہدایت کی تھی –

    وزیراعظم نےوفاق، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر تقریبات کے انعقاد کی ہدایت کی تھی یوم تکبیر پر قومی تقریبات منانے کا آغاز 19 مئی سے ہوگا-

    وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر یوم تکبیر کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، تعلیمی اداروں، طالب علموں اور نوجوانوں کو خاص طور پر ان تقریبات کا حصہ بنایا جائے گا، وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں، وکلاء ، ڈاکٹر، میڈیا، محنت کش، سول سوسائٹی تنظیموں سمیت معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی تھی کہ وہ اس قومی دن کو قومی جذبے کے ساتھ منائیں-

    جوہری دھماکوں کے 24 سال مکمل،حکومت کا 10 روزہ تقریبات منانے کا فیصلہ

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا