Baaghi TV

Tag: ایچ آئی وی

  • ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    فاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے-

    ایچ آئی وی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے 2024 سے 2026 کے لیے فنڈ 65 ملین ڈالر مختص تھا، جس کی مدت جون 2026 میں ختم ہو جائے گی،65 ملین ڈالر میں سے حکومت پاکستان کو 3.9 ملین ڈالر دیے گئے، جبکہ باقی رقم نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو فراہم کی گئی۔

    مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار مریضوں کا علاج جاری ہے جبکہ 24 ہزار مریض لاپتا ہیں 2025 میں ملک میں اے آر ٹی سینٹرز کی تعداد 97 ہو گئی، جبکہ 2020 تک پورے ملک میں صرف 49 اے آر ٹی سینٹرز تھے تونسہ میں ایچ آئی وی کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جو واقعہ رپورٹ ہوا وہ 2024 کا ہے اسلام آباد میں اس وقت ایچ آئی وی کے کل 618 رجسٹرڈ کیسز ہیں، جن میں سے 210 کیسز اسلام آباد کے ہیں، جبکہ باقی 408 کیسز راولپنڈی اور دیگر علاقوں کے رجسٹرڈ ہیں،ایچ آئی وی کی کوئی دوا مارکیٹ میں دستیاب نہیں، یہ ادویات صرف سرکاری اداروں سے فراہم کی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معرکۂ حق میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے، 100 سال کی سفارتکاری میں بھی ایسی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تھی،پاکستان نے تیسری جنگ عظیم رکوانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ ملک کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں-

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-

  • دنیا میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی

    دنیا میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں ہومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی) کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ خطے بن کر سامنے آئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 4 کروڑ 80 لاکھ مریضوں میں سے 6 لاکھ 10 ہزار افراد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہتے ہیں، جہاں نئے انفیکشنز کی سالانہ شرح گزشتہ دس برس کے دوران تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ 2016 میں 37 ہزار افراد اس وائرس کا شکار تھے جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 72 ہزار تک پہنچ گئی۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ مذکورہ خطے میں کم از کم ہر 10 میں سے 4 افراد کو اپنی ایچ آئی وی اسٹیٹس کا علم ہے، جبکہ علاج حاصل کرنے والوں کی تعداد اس کے مقابلے میں کافی کم ہے اور صرف ہر تین میں سے ایک شخص علاج تک رسائی رکھتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایڈز کے خلاف عالمی رسپانس ایک "اہم موڑ” پر ہے کیونکہ ایچ آئی وی کے لیے وقف فنڈنگ میں کمی کئی دہائیوں کی پیش رفت کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ فنڈنگ کم ہونے سے نئے انفیکشنز اور اموات میں اضافہ ہوگا، صحت کے نظام پر دباؤ بڑھے گا اور 2030 تک ایڈز کے خاتمے کا عالمی ہدف پورا نہیں ہو پائے گا۔

    عالمی ادارہ صحت نے ایچ آئی وی کی جلد تشخیص اور علاج کو بہتر بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے استعمال پر زور بھی دیا ہے

    روس کی چینی شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری کی منظوری

    آسٹریلیا ،انگلش کھلاڑیوں پر بغیر ہیلمٹ اسکوٹر چلانے پر قانونی کارروائی کا امکان

    پنجاب، ٹریفک خلاف ورزی پر ایک دن میں 63 ہزار سے زائد چالان

    وزیراعظم 6 روزہ غیر ملکی دورے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

  • پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024 کے پہلے نو ماہ میں ایچ آئی وی کے 9 ہزار 713 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ماہانہ اوسطاً 1 ہزار 79 افراد ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔

    وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2024 کے اختتام تک ایچ آئی وی کے 12 ہزار 950 کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال یعنی 2023 میں ایچ آئی وی کے 12 ہزار 731 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے صحت کے نظام میں مزید احتیاطی تدابیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کے ایچ آئی وی کیسز میں مردوں کی تعداد 69.4 فیصد، خواتین کی 20.5 فیصد، خواجہ سرا 4.1 فیصد اور بچوں کی تعداد 6 فیصد ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کا سب سے زیادہ اثر مردوں پر پڑ رہا ہے، تاہم خواتین، خواجہ سرا اور بچے بھی اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    اگر صوبوں کی بات کی جائے تو اس سال پنجاب میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں 5 ہزار 691 افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔ سندھ میں 2 ہزار 383، خیبرپختونخوا میں 926 اور بلوچستان میں 329 ایچ آئی وی کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں 9 ماہ میں 378 اور آزاد کشمیر میں 10 ایچ آئی وی کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ماہرین اور حکام نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی رسک گروپز جیسے کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرنے والے افراد اور منشیات کے استعمال کرنے والے افراد سے ایچ آئی وی عام آبادی میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آگہی کی کمی، حفاظتی تدابیر کا فقدان اور صحت کی سہولیات میں حفاظتی اقدامات کی کمی بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی آگہی میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ جنسی تعلقات سے بچاؤ، منشیات کے استعمال سے اجتناب اور صحت کے مراکز پر حفاظتی اقدامات کی فراہمی بھی انتہائی اہم ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں اور وقتاً فوقتاً ٹیسٹ کرواتے رہیں تاکہ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 2024 کے اختتام تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکام اور ماہرین کی جانب سے عوام کو آگاہی دینے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی تاکید کی جا رہی ہے تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

    ایڈز سے بچاؤ کیلئے سیمینار ،شرکا کی واک،آگاہی مہم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل

  • لڑکوں کے مقابلے میں نوجوان لڑکیاں ایڈز کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،رپورٹ

    لڑکوں کے مقابلے میں نوجوان لڑکیاں ایڈز کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،رپورٹ

    سان فرانسسکو: نوجوان لڑکوں کے مقابلے میں نوجوان لڑکیاں ایڈز کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ انکشاف یونیسیف کی رپورٹ میں ہوا ہے، یونیسیف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً 98,000 نوعمر خواتین میں ایچ آئی وی وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیاجبکہ دنیا بھر میں ہر روز 10 سے 19 سال کی عمر کے درمیان 384 خواتین ایچ آئی وی سے متاثر ہوتی ہیں۔

    میڈیسن کی ایک پروفیسر اور سان فرانسسکو میں یو سی ایس ایف جنرل ہسپتال میں ایچ آئی وی، متعدی امراض اور گلوبل میڈیسن ڈویژن کی ایسوسی ایٹ چیف، ڈاکٹر مونیکا گاندھی نےاس حوالے سے بتایا کہ ثقافتی اور اقتصادی عوامل کا امتزاج خواتین کے ایچ آئی وی کیسز کی بڑھتی تعداد کی بنیادی وجہ ہے جو لڑکیوں کو زبردستی جنسی تعلقات کے لیے انتہائی غیر محفوظ بنادیتا ہےاس میں معاشی حالات بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے نوجوان لڑکیاں پیسے یا خوراک حاصل کرنے کے لیےجنسی تعلق قائم کرتی ہیں۔

    نان فائلرز کی رجسٹریشن کیلئےکاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع

    دوسری جانب ٹینییسی میں وینڈربلٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں محکمہ صحت پالیسی کے پروفیسر اور متعدی امراض کے شعبہ میں طب کے پروفیسر ڈاکٹر ولیم شیفنر نے کہا کہ ایڈز سے متاثر خواتین کی بڑھتی سطح کیلئے پدرانہ سماج بھی قصور وار ہے دنیا بھر میں خواتین کی قدر مردوں کے مقابلے میں کم سمجھی جاتی ہے اس لیے جانچ اور علاج ان کے لیے اتنا دستیاب نہیں جتنا مردوں کے لیے ہے دوسری بات یہ ہے کہ مرد اکثر خواتین سے فائدہ اٹھاتے ہیں وائرس سے متاثرہ مرد اپنا انفیکشن ان خواتین تک پہنچاتے ہیں اور پھر ان خواتین کو اپنا ٹیسٹ کرانے کا موقع بھی نہیں ملتا جس بنا پر ان کا اتنا جامع علاج نہیں کیا جاتا جتنا کہ مردوں کا ہوتا ہے۔

    نگران وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا …

  • پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے مریض، ماہرین تشویش میں مبتلا

    پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے مریض، ماہرین تشویش میں مبتلا

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز سے بچاؤ کا آج عالمی دن منایا جا رہا ہے،

    ایڈز کو انسانی تاریخ کا مہلک ترین مرض کہا جاتا ہے، اس لیے یہ دن منانے کا مقصد ایڈز سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی اور لوگوں کو معلومات فراہم کرنا ہے،ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی امیونو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جس کو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا کوئی باقاعدہ علاج نہیں ہے۔ ایڈز سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ضروری ہیں۔

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، رواں برس اب تک ایڈز کے 9 ہزار 284 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں ،وفاقی وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں ہر ماہ ایچ آئی وی کے تقریباً 900 سے ایک ہزار کے درمیان نئے مریض سامنے آ رہے ہیںَ، ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ کیسز پنجاب اور سندھ سے سامنے آرہے ہیں،اسلام آباد اور گردونواح بشمول کشمیر سے بھی ہر ماہ تقریباً 40 سے 50 نئے کیسز سامنے آرہے ہیں،

    دوسری جانب پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار تین سو سے بڑھ چکی ہیں، ایڈز کے مریضوں میں خواتین، بچے،مرد، خواجہ سرا بھی شامل ہیں،سندھ میں ایڈز پر قابو پانے کے لئے بیس سے زائد سنٹر بنائے گئے ہیں،ایڈز کے رجسٹر مریضوں میں 13 ہزار سے زائد مرد، 3 ہزار 764 خواتین،1 ہزار 453 بچے،918 بچیاں اور 710 خواجہ سرا شامل ہیں،حکومت سندھ ایڈز کے مریضوں کا مفت علاج کر رہی ہے،

    پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے مریضوں کو لے کر ماہرین اور حکومتی ادارے انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں،ایڈز کی روک تھام کے لئے پاکستان میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ایچ آئی وی کے شکار افراد کو اپنی بیماری پر لب کشائی کرنے پر انہیں کسی قسم کی پریشانی یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، ایڈز کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی وجہ سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے معاشرے کے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اس کے علاوہ جو غیر سرکاری تنظیمیں ایڈز کے حوالے سے کام کررہی ہے وہ ان مریضوں کا بھی کھوج لگائے جن کی سکریننگ ہوئی اور ان میں ایچ آئی وی پایا گیا تاکہ ا نہیں علاج کے لئے رجسٹرڈ کرکے نیٹ ورک میں لایا جائے،ایڈز کا علاج بہت مہنگا اور ادویات بھی ناپید رہتی ہے تاہم حکومت اپنے دستیاب وسائل کے توسط سے اقدامات اٹھارہی ہے اور گلوبل فنڈز سے ملنے والے فنڈز اور ادویا ت کے ذریعے لوگوں کو علاج کی سہولت دے رہے ہیں،

    ایڈز کے خلاف پروگرامز کی فنڈنگ کے لیے سالانہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت
    دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال میں ایڈز سے اموات میں بڑی کمی آ چکی ہے تاہم اب بھی ایڈز سے ہر ایک منٹ میں ایک موت ہوتی ہے،ہ 2004 میں اپنے عروج کے بعد سے ایڈز سے متعلق اموات میں تقریباً 70 فی صد کمی آئی ، ایچ آئی وی کے نئے انفیکشن 1980 کی دہائی کے بعد سب سے کم ترین سطح پر ہیں تاہم ایڈز اب بھی ہر منٹ میں ایک جان لیتا ہے، ہم 2030 تک صحت عامہ کو لاحق اس خطرے کو ختم کر سکتے ہیں اور یہ ضروری بھی ہے تاہم ایڈز کے خاتمے کا راستہ کمیونٹیز سے ہو کر گزرتا ہے، یعنی سماج میں بالکل نچلی سطح پر اس کے حوالے سے سرگرمیاں انجام دینے کی ضرورت ہے،ایڈز کے خلاف پروگرامز کی فنڈنگ کے لیے سالانہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے، ایڈز قابل شکست ہے

    ایڈز دنیا کے مہلک امراض میں سے ایک خطرناک مرض ہے،راجہ پرویز اشرف
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایڈز کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ ایڈز کے خاتمے کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ایڈز کے خاتمے کو کمیونٹیز میں اجاگر کرنا ہے۔ایڈز دنیا کے مہلک امراض میں سے ایک خطرناک مرض ہے۔پاکستان میں ایڈز سے 2لاکھ انسان متاثر ہو چکے ہیں۔ ایڈزکے مہلک مرض سے دنیا بھرمیں کم از کم ڈھائی کروڑ افرادہلاک ہوچکے ہیں۔ اس بیماری سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کا علاج بھی ممکن ہے۔پاکستان کو ایچ آئی وی سے پاک کر کے ہم اپنی نسلوں کےمستقبل کو تابناک بنا سکتے ہیں۔ایچ آئی وی کی روک تھام، تشخیص اور علاج تک رسائی یقینی بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔

    خیبر پختونخوا میں ایچ ائی وی ایڈز بے قابو

    ایڈز کے خواجہ سرا مریض، ہسپتال کو فوری علاج کا حکم

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    چنیوٹ :ایڈز بےقابو ہونے لگا، 2 ماہ میں 40 نئے کیسزرپورٹ

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

  • سندھ ہائیکورٹ کے احکامات،خواجہ سراوں کا علاج معالجہ شروع

    سندھ ہائیکورٹ کے احکامات،خواجہ سراوں کا علاج معالجہ شروع

    سندھ ہائی کورٹ ،ایچ آئی وی ایڈز کے شکار خواجہ سراؤں کا سول اسپتال میں علاج نہ کرنے کا معاملہ ،خواجہ سرا ایکٹیویٹس کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی ،

    سول اسپتال انتظامیہ نے جواب عدالت میں جمع کرا دیا ،عدالتی احکامات کے مطابق خواجہ سراوں کا علاج معالجہ شروع کردیا گیا ،دوران سماعت درخواست گزار نے علاج معالجے سے متعلق اظہار اطمینان کیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت سے قانون سازی اور ایس او پیز سے متعلق جواب طلب کیا تھا، سرکاری وکیل نے سندھ حکومت کی جانب سے جواب کے لیے مہلت طلب کی،عدالت نے سندھ حکومت سے تین ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کے خلاف کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہ کرتا جائے، شہزادی رائے، حنا بلوچ نے سارہ ملکانی ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا تھا کہ تین خواجہ سرا ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہیں،مونیکا، نکویری، مائی جان کو علاج کی فوری ضرورت ہے، سول اسپتال انتظامیہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کا علاج نہیں کر رہی، خواجہ سرا سمیت سبھی مریضوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے،

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    دنیا بھر میں 38.4 ملین لوگ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔2021 میں ایچ آئی وی سے متعلق 650000 اموات ہوئیں، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے، جہاں ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز تشویشناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان ایچ آئی وی کی ایک مرتکز وبا کا سامنا کر رہا ہے،وہ افراد جو منشیات کا انجیکشن لگاتے ہیں، سیکس ورکرز،ہم جنس پرست اور ٹرانس جینڈر آبادی سمیت دیگر میں ایچ آئی وی 5 فیصد سے زیادہ ہے،تقریباً 53 فیصد متاثرہ کا تعلق کلیدی آبادی سے ہے عام آبادی میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اب بھی 0.2 فیصد کم ہے لیکن لاڑکانہ، رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کی حالیہ وبا نے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ پاکستان میں ایچ آئی وی کی نئے کیسز کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا رہا ہے،2010 سے 2019 کے درمیان ملک میں ایچ آئی وی کیسز کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا،جبکہ 2010 سے 2020 کے درمیان ایچ آئی وی کے کیسز میں 85 فیصد اضافہ دیکھا گیا، گزشتہ 20 سالوں میں ایڈز کی وجہ سے پاکستان میں اموات کی تعداد 100 سے بڑھ کر 9600 تک جاپہنچی،ہندوستان میں 2010 اور 2019 کے درمیان ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں 37 فیصد کمی واقع ہوئی

  • ایڈز کے خواجہ سرا مریض، ہسپتال کو فوری علاج کا حکم

    ایڈز کے خواجہ سرا مریض، ہسپتال کو فوری علاج کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایڈز کے خواجہ سرا مریضوں کے علاج کے لئے عدالت نے حکم دیا ہے کہ آج سے ہی علاج شروع کیا جائے

    ایڈز کے خواجہ سرا مریضوں کے علاج کے حوالہ سے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ خواجہ سرا ایڈز کا شکار ہو چکے ہیں، سرکاری ہسپتال علاج کے لئے گئے لیکن ہسپتال انکا علاج نہیں کر رہا بلکہ ایڈز کے خواجہ سرا مریضوں کو واپس بھیجا رہا ہے، سندھ ہائیکورٹ میں شہزادی رائے اور حنا بلوچ نے درخواست دائر کی تھی،

    عدالت میں آج درخواست پر سماعت ہوئی تو عدالت نے سول ہسپتال کو ایڈز کے خواجہ سرا مریضوں کا آج سے ہی علاج شروع کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ طے شدہ پروٹوکولز کے مطابق خواجہ سرا مریضوں کا علاج یقینی بنایا جائے ، عدالت نے اس حوالہ سے سیکرٹری صحت سے عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کرلی

    عدالت میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال ڈاکٹر ہریش کمارنے کہا کہ ہم نے فوکل پرسن مقررکررکھا ہےخواجہ سرا آج ہی سول ہسپتال جائیں ، ہم علاج کریں گے، خواجہ سراؤں کو کچھ غلط فہمی ہو سکتی ہے کبھی امتیازی سلوک کا نہیں سوچا ایچ آئی وی ایڈز کے مریض کے علاج سے پہلے اسکریننگ کا مرحلہ آتا ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سرا مریض آج ہی فوکل پرسن سے رابطہ کریں فوکل پرسن علاج شروع ہونے کے عمل کو یقینی بنائے خواجہ سراؤں کے خلاف کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہ کیا جائے

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    دنیا بھر میں 38.4 ملین لوگ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔2021 میں ایچ آئی وی سے متعلق 650000 اموات ہوئیں، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے، جہاں ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز تشویشناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان ایچ آئی وی کی ایک مرتکز وبا کا سامنا کر رہا ہے،وہ افراد جو منشیات کا انجیکشن لگاتے ہیں، سیکس ورکرز،ہم جنس پرست اور ٹرانس جینڈر آبادی سمیت دیگر میں ایچ آئی وی 5 فیصد سے زیادہ ہے،تقریباً 53 فیصد متاثرہ کا تعلق کلیدی آبادی سے ہے عام آبادی میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اب بھی 0.2 فیصد کم ہے لیکن لاڑکانہ، رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کی حالیہ وبا نے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ پاکستان میں ایچ آئی وی کی نئے کیسز کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا رہا ہے،2010 سے 2019 کے درمیان ملک میں ایچ آئی وی کیسز کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا،جبکہ 2010 سے 2020 کے درمیان ایچ آئی وی کے کیسز میں 85 فیصد اضافہ دیکھا گیا، گزشتہ 20 سالوں میں ایڈز کی وجہ سے پاکستان میں اموات کی تعداد 100 سے بڑھ کر 9600 تک جاپہنچی،ہندوستان میں 2010 اور 2019 کے درمیان ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں 37 فیصد کمی واقع ہوئی

  • سندھ میں ایچ آئی وی سے 300 سے زائد بچے جاں بحق ہوئے،محکمہ صحت سندھ

    سندھ میں ایچ آئی وی سے 300 سے زائد بچے جاں بحق ہوئے،محکمہ صحت سندھ

    سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 324 بچوں کے جاں بحق ہونےکا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 324 بچے چار سال میں جاں بحق ہوئے ہیں، ایک سال کے دوران ایچ آئی وی سے متاثرہ 164 بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

    پشاور پولیس لائن مسجد دھماکہ کے دو سہولت کار گرفتار

    محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہےکہ سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 2 ہزار 865 ہو چکی ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران ایچ آئی وی سے17 مز ید بچے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایچ آئی وی سے متاثرہ جاں بحق بچوں میں لڑکوں کی تعداد 207 ہے، چارسال میں جاںبحق ہونے والے بچوں میں لڑکیوں کی تعداد 117 ہے۔

    چین میں 49 فٹ سے زائد لمبی گردن والا ڈائنوسار دریافت

    بچوں کے متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر فاطمہ میرکا کہنا ہےکہ سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے مرنےکی بڑی وجہ ٹی بی تھی، ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں میں خون کی کمی اور ویکسینیشن نہ ہوناعام ہے، ایچ آئی وی سےمتاثرہ بچوں میں ہیپاٹائٹس بی اور سی بھی عام ہے۔

    تحریک انصاف اتوار کو مینار پاکستان جلسہ نہیں کرے گی،لاہور ہائیکورٹ کا حکم

  • ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے ترقیاتی امور (UNDP) کی نمائندہ ایلیونا نیکولیٹا نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق کے ہمراہ میو ہسپتال میں قائم ایچ آئی وی، ایڈز سپیشل کلینک کا دورہ کیا۔

    وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر اختر ملک اور سیکریٹری صحت نے ڈاکٹر محمد ارشاد کی پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی عالمی اداروں سے بہتر شراکت داری کی ہدایات دے دی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول کی تکنیکی ٹیم اور میو ہسپتال کے ماہرین نے شرکت کی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق احمد نے پروگرام کے مختلف امور اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میو ہسپتال کا ایچ آئی وی ایڈز کلینک سولہ سال سے اس بیماری میں مبتلا افراد کو مفت تشخیص اور علاج کے ساتھ ساتھ مفت ادویات فراہم کر رہا ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام اس وقت صوبہ کے تمام اضلاع میں قائم 45 کلینکس کے ذریعے اس مرض میں مبتلا افراد کو مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    ڈاکٹر فاروق کا کہنا کہ انجکشن کا غیر محتاط استعمال ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس موقع پر عالمی ادارہ کے نمائندہ نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کی تعریف اور عالمی ادارہ برائے ترقیاتی امور مریضوں کی فلاح اور علاج میں بہتری کے لئے شراکتی اقدامات میں اضافہ کرے گا۔ایلیون نیکولیٹا نے کہا کہ ایچ آئی وی, ایڈز کے مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔