Baaghi TV

Tag: ایڈز

  • سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے سندھ اسمبلی میں معاملہ اٹھایا ہے کہ ایچ آئی وی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے گزشتہ چند سالوں میں پانچ ہزار مریض جان سے جا چکے ہیں پچیس ہزار افراد اب بھی متاثر ہیں جن میں سے تئیس ہزار مریض کراچی سمیت سندھ کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ماہرین صحت کے مطابق ایڈز ایک ہیمو فیلیکس وائرس (HIV) کی وجہ سے ہوتا ہے ایڈز ایک ایسا مرض ہے جو انسان کے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے ایچ آئی وی وائرس انسان کے جسم میں داخل ہو کر خون کے سفید خلیوں، جنہیں سی ڈی 4 (CD4) خلیے کہتے ہیں کو تباہ کرتا ہے۔ یہ خلیے جسم کی مدافعتی صلاحیت کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ماہرین نے بتایاکہ جب ایچ آئی وی وائرس کا حملہ زیادہ شدت اختیار کرتا ہے، تو مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے ایڈز کی بیماری کا آغاز ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایڈز کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں اور اس کا پتہ کئی سال بعد چل سکتا ہے جب تک کہ وائرس مدافعتی نظام کو بہت زیادہ نقصان نہ پہنچا دے۔ ایڈز کے مریضوں میں انفیکشنز اور سرطان جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ جسم ان بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی مدافعتی طاقت کھو چکا ہوتا ہے

    ۔ماہرین نے بتایاکہ ایڈز کا علاج نہیں ہے لیکن اینٹی ریٹرووائرل (ART) ادویات کے ذریعے ایچ آئی وی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور مریض کی زندگی کو لمبا کیا جا سکتا ہے ایچ آئی وی کا پھیلا غیر محفوظ جنسی تعلقات، مشترکہ سرنجوں کے استعمال اور متاثرہ خون کی منتقلی کے ذریعے ہوتا ہیاس لیے اس کے پھیلا کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔

    سوشل میڈیاکا غلط استعمال، دوست ممالک میں 210 پاکستانی گرفتار

    رائٹ سائزنگ پالیسی،ریلوے سے 17 ہزار پوسٹیں ختم

    کیٹی بندر پورٹ،سندھ حکومت کی وفاق سے این او سی کی درخواست

    مریم سندھ کو دے دیں، تاجر عتیق میر اپنے بیان سے مکرگئے

    کراچی : 26 دنوں میں چار افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بنے

  • پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ

    پاکستان میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024 کے پہلے نو ماہ میں ایچ آئی وی کے 9 ہزار 713 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ماہانہ اوسطاً 1 ہزار 79 افراد ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔

    وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2024 کے اختتام تک ایچ آئی وی کے 12 ہزار 950 کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال یعنی 2023 میں ایچ آئی وی کے 12 ہزار 731 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے صحت کے نظام میں مزید احتیاطی تدابیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کے ایچ آئی وی کیسز میں مردوں کی تعداد 69.4 فیصد، خواتین کی 20.5 فیصد، خواجہ سرا 4.1 فیصد اور بچوں کی تعداد 6 فیصد ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کا سب سے زیادہ اثر مردوں پر پڑ رہا ہے، تاہم خواتین، خواجہ سرا اور بچے بھی اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    اگر صوبوں کی بات کی جائے تو اس سال پنجاب میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں 5 ہزار 691 افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔ سندھ میں 2 ہزار 383، خیبرپختونخوا میں 926 اور بلوچستان میں 329 ایچ آئی وی کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں 9 ماہ میں 378 اور آزاد کشمیر میں 10 ایچ آئی وی کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ماہرین اور حکام نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی رسک گروپز جیسے کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرنے والے افراد اور منشیات کے استعمال کرنے والے افراد سے ایچ آئی وی عام آبادی میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آگہی کی کمی، حفاظتی تدابیر کا فقدان اور صحت کی سہولیات میں حفاظتی اقدامات کی کمی بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی آگہی میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ جنسی تعلقات سے بچاؤ، منشیات کے استعمال سے اجتناب اور صحت کے مراکز پر حفاظتی اقدامات کی فراہمی بھی انتہائی اہم ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں اور وقتاً فوقتاً ٹیسٹ کرواتے رہیں تاکہ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 2024 کے اختتام تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکام اور ماہرین کی جانب سے عوام کو آگاہی دینے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی تاکید کی جا رہی ہے تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

    ایڈز سے بچاؤ کیلئے سیمینار ،شرکا کی واک،آگاہی مہم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل

  • ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے  حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ایڈز کا دن منایا جا رہا ہے،دنیا بھر میں ہر سال یکم دسمبر کو ایڈز سے بچاؤ کا دن منایا جاتا ہے،ایڈز کا عالمی دن دنیا میں پہلی بار 1987ء میں منایا گیا،اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بھی پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکمت عملی کو مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہیں، یقینی بنا رہے ہیں کہ ایڈز کے خلاف مہم میں کوئی پیچھے رہ نہ جائے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ کی پاسداری اور تمام برادریوں کی شمولیت کو فروغ دینا ایڈز کو صحت عامہ کے خطرے کے طور پر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے، ایسے افراد جو ایڈز کے خطرے سے دو چار ہیں ان کے لیے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے، صحت کے نظام کو مضبوط بناتے رہیں گے-

    شہباز شریف نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز نہ صرف صحت کا ایک چیلنج بلکہ ایک اہم سماجی و اقتصادی مسئلہ ہے جو کہ معاشی نظام کے لیے بھی ایک خطرہ ہے، ایڈز کی جانچ اور علاج کی کوریج میں ایک خلا ہے جس کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ہماری اجتماعی کوششوں کے باوجود پاکستان میں ایچ آئی وی کی وبا بڑھ رہی ہے جس کے لیے اختراعی اور پائیدار کوششوں کی ضرورت ہے-

    وزیراعظم نے کہا کہ مساوات اور شمولیت پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ہی ہم ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، مضبوط سیاسی ارادہ اور مؤثر قیادت قومی ایچ آئی وی حکمت عملی کو نافذ کرنے کے لیے ضروری ہیں، آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ایڈز سے پاک ملک کے لیے متحد ہو جائیں، ایڈز سےپاک مستقبل صرف اجتماعی کوششوں کےذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جو انسانی وقار، مساوات اور شمولیت کو فروغ دے۔

  • نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل

    نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نشتر اسپتال ملتان کے ڈائیلسز یونٹ سے 25 مریضوں میں ایڈز کی منتقلی کے معاملے پر ایکشن لے لیا ہے

    نشتر اسپتال کے دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو نیفرولوجی وارڈ سے ایڈز کی 25 مریضوں میں منتقلی کے معاملے پر مکمل بریفنگ دی گئی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے غفلت برتنے پر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایم ایس نشتر اسپتال ڈاکٹر کاظم اور وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر مہناز خاکوانی سمیت 5 سینیئر ڈاکٹرز کو معطل کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں افسران کو معطل کیا گیا،معطل ہونے والوں میں ہیڈ آف نیفرولوجی وارڈ ڈاکٹر غلام، ڈاکٹر جہانگیر، ڈاکٹر پونم، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر عالمگیر اور ہیڈ نرس ناہید بھی شامل ہیں، تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں تمام ڈاکٹرز کے لائسنس بھی منسوخ کردیے گئے۔

    واضح رہے کہ نشتر اسپتال ملتان کے ڈائیلسز یونٹ میں 25 مریضوں میں ایڈز وائرس کی منتقلی کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال سے رجسٹرڈ مریضوں کے ایڈز ٹیسٹ نہیں کیے گئے، جو کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قواعد کے مطابق ڈائیلسز مریضوں کا ہر 6 ماہ بعد ایڈز ٹیسٹ اور 3 ماہ بعد ہیپاٹائٹس کا ٹیسٹ ضروری ہے، لیکن ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔ 11 اکتوبر کو ڈائیلسز یونٹ میں ایک مریض میں ایڈز وائرس رپورٹ ہوا۔ اسپتال انتظامیہ نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی اور ایڈز کنٹرول پروگرام کے کسی ماہر ڈاکٹر سے رابطہ نہیں کیا،ایک ماہ گزرنے کے باوجود 25 مریضوں کے اہل خانہ کے اسکریننگ ٹیسٹ نہیں کرائے گئے، جس سے ان کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔تحقیقات میں اسپتال کے ایم ایس (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ)، ہیڈ آف نیفرالوجی اور سینئر رجسٹرار کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے ڈائیلسز یونٹ کا مکمل ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے

  • دہلی کی تہاڑ جیل میں 125 قیدی ایڈز کا شکار نکلے

    دہلی کی تہاڑ جیل میں 125 قیدی ایڈز کا شکار نکلے

    دہلی کی تہاڑ جیل میں 125 قیدی ایڈز کا شکار نکلے

    دہلی کی تہاڑ جیل میں قید قیدیوں‌کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 125 قیدیوں کا ایچ آئی وی مثبت آیا، دہلی کی تہاڑ جیل میں 14 ہزار کے قریب قیدیوں‌کو رکھا گیا ہے،قیدیوں کا کچھ ماہ بعد میڈیکل ٹیسٹ کروایا جاتا ہے، اس بار دس ہزار سے زائد قیدیوں کا ٹیسٹ کیا گیا جس میں سے 125 میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے

    میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں تہاڑ جیل کے نئے ڈائریکٹر جنرل ستیش گولچا نے اپنے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد قیدیوں کے ٹیسٹ کروائے تھے،کچھ قیدیوں کاپہلے بھی ایچ آئی وی مثبت آیا تھا تاہم اب ایڈز کے مریض قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے.تہاڑ جیل میں قید قیدیوں‌میں سے کسی کو بھی ٹی بی کی بیمار نہیں ہے،ایک خاتون کا کینسر کا ٹیسٹ بھی کروایاگیا ہے تا ہم ابھی تک اسکی رپورٹ سامنے نہیں آئی.قیدیوں میں ایڈز کی تشخیص کے بعد انہیں الگ بلاک میں منتقل کر دیا گیا ہے اور علاج شروع کر دیا گیا ہے.

    نور ولی محسود کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

    بنوں واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان

  • پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے مریض، ماہرین تشویش میں مبتلا

    پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے مریض، ماہرین تشویش میں مبتلا

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز سے بچاؤ کا آج عالمی دن منایا جا رہا ہے،

    ایڈز کو انسانی تاریخ کا مہلک ترین مرض کہا جاتا ہے، اس لیے یہ دن منانے کا مقصد ایڈز سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی اور لوگوں کو معلومات فراہم کرنا ہے،ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی امیونو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جس کو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا کوئی باقاعدہ علاج نہیں ہے۔ ایڈز سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ضروری ہیں۔

    پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، رواں برس اب تک ایڈز کے 9 ہزار 284 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں ،وفاقی وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں ہر ماہ ایچ آئی وی کے تقریباً 900 سے ایک ہزار کے درمیان نئے مریض سامنے آ رہے ہیںَ، ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ کیسز پنجاب اور سندھ سے سامنے آرہے ہیں،اسلام آباد اور گردونواح بشمول کشمیر سے بھی ہر ماہ تقریباً 40 سے 50 نئے کیسز سامنے آرہے ہیں،

    دوسری جانب پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار تین سو سے بڑھ چکی ہیں، ایڈز کے مریضوں میں خواتین، بچے،مرد، خواجہ سرا بھی شامل ہیں،سندھ میں ایڈز پر قابو پانے کے لئے بیس سے زائد سنٹر بنائے گئے ہیں،ایڈز کے رجسٹر مریضوں میں 13 ہزار سے زائد مرد، 3 ہزار 764 خواتین،1 ہزار 453 بچے،918 بچیاں اور 710 خواجہ سرا شامل ہیں،حکومت سندھ ایڈز کے مریضوں کا مفت علاج کر رہی ہے،

    پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے مریضوں کو لے کر ماہرین اور حکومتی ادارے انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں،ایڈز کی روک تھام کے لئے پاکستان میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ایچ آئی وی کے شکار افراد کو اپنی بیماری پر لب کشائی کرنے پر انہیں کسی قسم کی پریشانی یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، ایڈز کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی وجہ سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے معاشرے کے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اس کے علاوہ جو غیر سرکاری تنظیمیں ایڈز کے حوالے سے کام کررہی ہے وہ ان مریضوں کا بھی کھوج لگائے جن کی سکریننگ ہوئی اور ان میں ایچ آئی وی پایا گیا تاکہ ا نہیں علاج کے لئے رجسٹرڈ کرکے نیٹ ورک میں لایا جائے،ایڈز کا علاج بہت مہنگا اور ادویات بھی ناپید رہتی ہے تاہم حکومت اپنے دستیاب وسائل کے توسط سے اقدامات اٹھارہی ہے اور گلوبل فنڈز سے ملنے والے فنڈز اور ادویا ت کے ذریعے لوگوں کو علاج کی سہولت دے رہے ہیں،

    ایڈز کے خلاف پروگرامز کی فنڈنگ کے لیے سالانہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت
    دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال میں ایڈز سے اموات میں بڑی کمی آ چکی ہے تاہم اب بھی ایڈز سے ہر ایک منٹ میں ایک موت ہوتی ہے،ہ 2004 میں اپنے عروج کے بعد سے ایڈز سے متعلق اموات میں تقریباً 70 فی صد کمی آئی ، ایچ آئی وی کے نئے انفیکشن 1980 کی دہائی کے بعد سب سے کم ترین سطح پر ہیں تاہم ایڈز اب بھی ہر منٹ میں ایک جان لیتا ہے، ہم 2030 تک صحت عامہ کو لاحق اس خطرے کو ختم کر سکتے ہیں اور یہ ضروری بھی ہے تاہم ایڈز کے خاتمے کا راستہ کمیونٹیز سے ہو کر گزرتا ہے، یعنی سماج میں بالکل نچلی سطح پر اس کے حوالے سے سرگرمیاں انجام دینے کی ضرورت ہے،ایڈز کے خلاف پروگرامز کی فنڈنگ کے لیے سالانہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے، ایڈز قابل شکست ہے

    ایڈز دنیا کے مہلک امراض میں سے ایک خطرناک مرض ہے،راجہ پرویز اشرف
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایڈز کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ ایڈز کے خاتمے کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ایڈز کے خاتمے کو کمیونٹیز میں اجاگر کرنا ہے۔ایڈز دنیا کے مہلک امراض میں سے ایک خطرناک مرض ہے۔پاکستان میں ایڈز سے 2لاکھ انسان متاثر ہو چکے ہیں۔ ایڈزکے مہلک مرض سے دنیا بھرمیں کم از کم ڈھائی کروڑ افرادہلاک ہوچکے ہیں۔ اس بیماری سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کا علاج بھی ممکن ہے۔پاکستان کو ایچ آئی وی سے پاک کر کے ہم اپنی نسلوں کےمستقبل کو تابناک بنا سکتے ہیں۔ایچ آئی وی کی روک تھام، تشخیص اور علاج تک رسائی یقینی بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔

    خیبر پختونخوا میں ایچ ائی وی ایڈز بے قابو

    ایڈز کے خواجہ سرا مریض، ہسپتال کو فوری علاج کا حکم

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    چنیوٹ :ایڈز بےقابو ہونے لگا، 2 ماہ میں 40 نئے کیسزرپورٹ

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

  • سندھ ہائیکورٹ کے احکامات،خواجہ سراوں کا علاج معالجہ شروع

    سندھ ہائیکورٹ کے احکامات،خواجہ سراوں کا علاج معالجہ شروع

    سندھ ہائی کورٹ ،ایچ آئی وی ایڈز کے شکار خواجہ سراؤں کا سول اسپتال میں علاج نہ کرنے کا معاملہ ،خواجہ سرا ایکٹیویٹس کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی ،

    سول اسپتال انتظامیہ نے جواب عدالت میں جمع کرا دیا ،عدالتی احکامات کے مطابق خواجہ سراوں کا علاج معالجہ شروع کردیا گیا ،دوران سماعت درخواست گزار نے علاج معالجے سے متعلق اظہار اطمینان کیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت سے قانون سازی اور ایس او پیز سے متعلق جواب طلب کیا تھا، سرکاری وکیل نے سندھ حکومت کی جانب سے جواب کے لیے مہلت طلب کی،عدالت نے سندھ حکومت سے تین ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کے خلاف کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہ کرتا جائے، شہزادی رائے، حنا بلوچ نے سارہ ملکانی ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا تھا کہ تین خواجہ سرا ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہیں،مونیکا، نکویری، مائی جان کو علاج کی فوری ضرورت ہے، سول اسپتال انتظامیہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کا علاج نہیں کر رہی، خواجہ سرا سمیت سبھی مریضوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے،

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    دنیا بھر میں 38.4 ملین لوگ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔2021 میں ایچ آئی وی سے متعلق 650000 اموات ہوئیں، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے، جہاں ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز تشویشناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان ایچ آئی وی کی ایک مرتکز وبا کا سامنا کر رہا ہے،وہ افراد جو منشیات کا انجیکشن لگاتے ہیں، سیکس ورکرز،ہم جنس پرست اور ٹرانس جینڈر آبادی سمیت دیگر میں ایچ آئی وی 5 فیصد سے زیادہ ہے،تقریباً 53 فیصد متاثرہ کا تعلق کلیدی آبادی سے ہے عام آبادی میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اب بھی 0.2 فیصد کم ہے لیکن لاڑکانہ، رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کی حالیہ وبا نے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ پاکستان میں ایچ آئی وی کی نئے کیسز کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا رہا ہے،2010 سے 2019 کے درمیان ملک میں ایچ آئی وی کیسز کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا،جبکہ 2010 سے 2020 کے درمیان ایچ آئی وی کے کیسز میں 85 فیصد اضافہ دیکھا گیا، گزشتہ 20 سالوں میں ایڈز کی وجہ سے پاکستان میں اموات کی تعداد 100 سے بڑھ کر 9600 تک جاپہنچی،ہندوستان میں 2010 اور 2019 کے درمیان ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں 37 فیصد کمی واقع ہوئی

  • خیبر پختونخوا میں ایچ ائی وی ایڈز بے قابو

    خیبر پختونخوا میں ایچ ائی وی ایڈز بے قابو

    خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی ایڈز کی بڑھتی ہوئی شرح کے تناظر میں آپریشنز سے قبل مریضوں کا ایچ آئی وی ایڈز کی سکریننگ کو لازمی قرار دے دیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام ہسپتالوں کو ایچ آئی وی ایڈز کی سکریننگ کو لازمی قرار دینے کے حوالے سے مراسلہ بھجوا دیا۔
    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام ہسپتالوں میں ہر قسم سرجری سے قبل ایچ آئی وی ایڈز کی سکریننگ لازمی قرار دیا جائے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ خیبر پختونخوا ڈاکٹر شوکت کے مطابق صوبے میں ایچ آئی وی ایڈز کے بڑھتی ہوئی شرح کے تناظر میں یہ احکامات جاری کئے جا رہے ہیں۔

    ڈاکٹر شوکت کے مطابق یہ فیصلہ عوام کے بہترین مفاد میں کیا گیا ہے جس کا مقصد ایڈز کے پھیلاو کو روکنا اور آلات جراحی کے استعمال کو محفوظ بنانا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سکریننگ کے زریعے ڈاکٹرز کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر کسی کو ایچ آئی وی ایڈز یا کالا یرقان ہے تو اس کیلئے علیحدہ آلات جراحی کا استعمال کیا جائے۔ان کا مزید کہنا ہے ایچ آئی وی ایڈز کے متاثرہ افراد کیلئے علیحدہ یا خصوصی آپریشن تھیٹرز کے انتظام سے ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کا بہتر علاج ممکن ہو سکے گا۔واضح رہے کہ صوبہ بھر میں اس وقت ایچ آئی وی ایڈز رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 6300 ہے جبکہ محکمہ صحت کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا مریضوں کے علاج پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

  • ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے ترقیاتی امور (UNDP) کی نمائندہ ایلیونا نیکولیٹا نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق کے ہمراہ میو ہسپتال میں قائم ایچ آئی وی، ایڈز سپیشل کلینک کا دورہ کیا۔

    وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر اختر ملک اور سیکریٹری صحت نے ڈاکٹر محمد ارشاد کی پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی عالمی اداروں سے بہتر شراکت داری کی ہدایات دے دی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول کی تکنیکی ٹیم اور میو ہسپتال کے ماہرین نے شرکت کی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق احمد نے پروگرام کے مختلف امور اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میو ہسپتال کا ایچ آئی وی ایڈز کلینک سولہ سال سے اس بیماری میں مبتلا افراد کو مفت تشخیص اور علاج کے ساتھ ساتھ مفت ادویات فراہم کر رہا ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام اس وقت صوبہ کے تمام اضلاع میں قائم 45 کلینکس کے ذریعے اس مرض میں مبتلا افراد کو مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    ڈاکٹر فاروق کا کہنا کہ انجکشن کا غیر محتاط استعمال ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس موقع پر عالمی ادارہ کے نمائندہ نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کی تعریف اور عالمی ادارہ برائے ترقیاتی امور مریضوں کی فلاح اور علاج میں بہتری کے لئے شراکتی اقدامات میں اضافہ کرے گا۔ایلیون نیکولیٹا نے کہا کہ ایچ آئی وی, ایڈز کے مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔

  • پنجاب،23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ،37 ہزار افراد میں تصدیق

    پنجاب،23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ،37 ہزار افراد میں تصدیق

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر، پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام، یواین ڈی پی، یواین ایڈز اور یونیسف کے مشترکہ تعاون سے ایچ آئی وی /ایڈز سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ متوازن زندگی اور احتیاطی تدابیر کے اصولوں کو اپنا کر ہی ایڈز سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

    ایڈز سے نفرت، مریض سے نفرت نہیں بلکہ ان سے بہترین برتاؤ عالمی دن کے موقع پر ہمارا پیغام ہے۔ڈاکٹر اختر ملک آج مقامی ہوٹل میں ایڈز پر منعقدہ سیمینار سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کررہے تھے۔ سیمینار میں ایڈیشنل سیکریٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا، ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل، ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ڈاکٹر شاہد مگسی سمیت پروگرام ڈائرکٹرز شریک ہوئے جبکہ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، یو این ایڈز اور یو این ڈی پی کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ایچ آئی وی/ایڈز پر کام کرنے والی فلاح تنظیموں، خواجہ سرا تنظیموں اور کمیونٹی تنظیموں سے پانچ سو زائد لوگوں نے بھر پور شرکت کی۔سیمینار میں بیماری کے بارے میں غلط تصورات کے موضوع پر خصوصی سٹیج ڈرامہ کا انعقاد کیا گیا۔

    ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کی رازداری کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہیاور مخصوص گروہوں جن میں سرنج سے نشہ کرنے والے افراد زیادہ اس مرض کا شکار ہیں ان میں زیادہ ایڈز پھیلنے کی شرح زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مرض غیر ٹیسٹ شدہ خون کے انتقال اور سرنج کے غیر محتاط استعمال سے پھیل سکتا ہے اور یہ مرض غیر محتاط جنسی تعلق اور متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا کہ ساتھ کھانا کھانے اور ہاتھ ملانے سے یہ مرض نہیں پھیلتا۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب میں مفت تشخیص، علاج اور مشاورت کی سہولت تمام اضلاع میں موجود ہے۔ ٹرک، بس ڈرائیور اور جیل کے قیدیوں کی مفت ایچ آئی وی سکریننگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ میں اب تک 23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ کی گئی ہے اور پروگرام کے آغاز سے آج تک مجموعی طور پر 37 ہزار افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تصدیق ہوئی۔اس وقت صوبہ بھر میں سترہ ہزار سے زائد لوگوں کو تشخیص، علاج، مشاورت اور ادویات کی سہولت مکمل طور پر مفت فراہم کی جارہی ہے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام صوبہ بھر میں 45 مراکز پر ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کررہا ہے اور ایڈوانس بائیو سیفٹی لیول-3 لیبارٹری کے ذریعے ایچ آئی وی مریضوں کو مفت پی سی آر اور CD4 ٹیسٹ کی سہولیات میسر ہیں۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ایڈز سے بچاؤ اور آگہی میں یواین ایڈز، یونیسف کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ان کے تعاون پر ان کے مشکور ہیں۔ حکومت، میڈیا اور شہری تنظیمیں اس مرض کی آگہی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ایڈز کا مریض مخصوص ادویات کے استعمال سے معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا نے کہا کہ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر تعلیمی اداروں میں آگہی کی بھرپور مہم چلا رہا ہے