Baaghi TV

Tag: ایڈز

  • نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایڈز نے ڈیرے ڈال لئے، ایڈز کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،

    وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رواں برس ماہ جنوری سے لے کر ماہ اکتوبر تک ایڈز کے 519 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں، محکمہ صحت کے حکام کے مطابق جن افراد میں ایڈز کے کیسز سامنے آئے ان میں زیادہ تر نوجوان مرد ہم جنس پرست اور خواجہ سرا ہیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کچھ برسوں سے نوجوان ہم جنس مردوں میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلا ہے بڑھتے مریضوں کے سبب پولی کلینک اسلام آباد میں نیا ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹر بنایا جا رہا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پمز ایچ آئی وی ٹریٹمینٹ سینٹر کی انچارج ڈاکٹر نائلہ بشیر کا کہنا ہے کہ پمز میں ایڈز کے 4500 سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں ،کرونا کے ایام سے ہم جنس پرست مردوں کے ایڈز کے کیسز زیادہ سامنے آ رہے ہیں، مرد ہم جنس پرستوں میں منشیات کی وجہ سے ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے

    نیشنل ایڈزکنٹرول پروگرام کے مطابق رواں برس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایچ آئی وی کے 496 نئے کیس رجسٹر ہوئے ہیں نوجوان افراد ٹیسٹ خود کرا رہے ہیں جس کے نتیجے میں شرح بڑھتی نظرآ رہی ہے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    دوسری جانب وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ٹیسٹنگ اورعلاج نہ ہونا ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات میں بغیر معائنہ کیا ہوا یعنی اَن اسکرینڈ خون کی تھیلیوں کی دستیابی بھی شامل ہے جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں 11 خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے اور ملک میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں

  • خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ،207 بچے بھی موذی مرض کا شکار

    خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ،207 بچے بھی موذی مرض کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    ایڈز کنٹرول پروگرام کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز مریضوں میں 2 ماہ 488 افراد کا اضافہ ہوا،اگست 2022 میں تعداد 5ہزار 202 تھی، ستمبر میٰں 5ہزار 690 ہوگئی، دو ماہ میں مزید 4ہزار 4 مرد اور 1301 خواتین موذی مرض میں مبتلا ہوئی ہیں، پشاور کے 50 خؤاجہ سراوں میں ایڈز وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 207 بچوں،128 بچیوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں، پشاور میں3593،کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان میں 1270مریض زیرعلاج ہیں بٹ خیلہ میں 251 مریضوں کا علاج جاری ہے

    ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق صوبے کے 6 ہسپتالوں میں ایڈز علاج سنٹر قائم کئے گئے ہیں،مریضوں کو مفت ادویات ٹیسٹوں کی سہولت دی جارہی ہے،

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    دوسری جانب وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ٹیسٹنگ اورعلاج نہ ہونا ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات میں بغیر معائنہ کیا ہوا یعنی اَن اسکرینڈ خون کی تھیلیوں کی دستیابی بھی شامل ہے جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں 11 خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے اور ملک میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں

  • پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ
    پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد اور ایڈز کنٹرول پروگرام کا دائرہ کار بارے تفصیلات اسمبلی میں جمع کرا دی گئیں

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے تفصیلات پنجاب اسمبلی میں پیش کیں ،پروگرام کے تحت 30 ہزار 5 سو 54 فی میل سیکس ورکرز کے ٹیسٹ کئے گئے، پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے 52 ہزار 1 سو 97 مرد سیکس ورکرز کے ٹیسٹ کئے ٹرانس چینڈرز کے 1 لاکھ 24 ہزار 4 سو 12جبکہ 48 ہزار 3 سو 94 جیل کے قیدیوں کے ٹیسٹ کئے نشہ کرنے والے 53 ہزار 5 سو 16 اور بس ،ٹرک ڈرائیور میں سے 4 لاکھ 64 ہزار 2 سو 6 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت ٹی بی کے 10 لاکھ 77 ہزار سے زائد کے ٹیسٹ کئے گئے، دنیا بھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے

    پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویز کے مطابق صوبے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سال2019 سے 2022 تک ہر سال مریضوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ سال 2019 میں ماہ اکتوبر میں پنجاب بھر میں ایڈز کے642 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ اکتوبر کے دوران لاہور میں50 کیسز سامنے آئے۔سال 2019 جنوری سے ستمبرتک صوبے بھر میں ایڈز کے 2646 کیس رپورٹ ہوئے۔ اکتوبر2019 سے دسمبر 2019 تک ایڈز کے 1241 کیسز سامنے آئے۔سال 2020 میں صوبے بھر میں ایڈز کے 4872 کیسز رپورٹ ہوئے۔سال 2021 میں صوبے بھر میں ایڈز کے کُل 5096 کیسز رپورٹ ہوئے۔جنوری 2022 سے جون 2022 تک صوبے بھر میں ایڈز کے 3241 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    دوسری جانب وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ٹیسٹنگ اورعلاج نہ ہونا ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات میں بغیر معائنہ کیا ہوا یعنی اَن اسکرینڈ خون کی تھیلیوں کی دستیابی بھی شامل ہے جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں 11 خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے اور ملک میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں

  • ایک ہی وقت میں منکی پاکس، کورونا اور ایچ آئی وی میں مبتلا

    ایک ہی وقت میں منکی پاکس، کورونا اور ایچ آئی وی میں مبتلا

    اٹلی :ایک ہی وقت میں منکی پاکس، کورونا اور ایچ آئی وی میں مبتلا ،اطلاعات کے مطابق اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک شص کو انتہائی بد قسمت تصور کیا جارہا کیونکہ وہ منکی پاکس، کورونا اور ایچ آئی وی جیسی خطرناک بیماریوں میں ایک ہی وقت میں مبتلا ہوگیا۔

    ماہرین صحت کے مطابق 36 سالہ شخص میں ان بیماریوں کی تشخیص گزشتہ ماہ جولائی میں ہوئی تھی جب وہ چھٹیاں گزار کر اسپین سے واپس آیا تو بخار میں مبتلا ہوگیا جس پر وہ اپنا معائنہ کرانے اسپتال پہنچ گیا۔

    ڈاکٹروں نے اسکا کورونا کا ٹیسٹ کیا تو 2 جولائی کو اسکی رپورٹ مثبت آگئی، بعد میں ایک ڈاکٹر نے اسکا معائنہ کیا اور بتایا کہ اس میں منکی پاکس کی علامات بھی ہیں، ہسپتال میں اسکے مختلف ٹیسٹ ہوئے جس کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ HIV-1 کا شکار بھی ہوچکا ہے۔

    منکی پاکس کا پھیلاؤ:کیلیفورنیا میں ایمرجنسی نافذ

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص حال ہی میں ہی ان تینوں بیماریوں کا شکار ہوا ہے اور 11 جولائی تک اسے ہسپتال میں رکھا گیا تھا جہاں وہ کورونا اور مونکی پوکس سے صحت یاب ہونے کا منتظر تھا۔

    جب وہ ہسپتال پہنچا تو اس شخص کے جسم پر ایسے زخم تھے جو ترقی کے مختلف مراحل میں بندر کی طرح نظر آتے تھے۔ اس کے ہاتھ کی ہتھیلی اور اس کے پاؤں کے اطراف میں پستولیں پیپ کے ساتھ ابھری ہوئی تھیں اور سرخ رنگ میں لپٹی ہوئی تھیں۔ دوسرے زخم افسردہ مراکز کے ساتھ خارش میں تبدیل ہو گئے تھے –

    امریکا میں منکی پاکس وائرس بے قابو ،حکومت کا ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ

    ماہرین کو مونکی پوکس کی جنسی منتقلی کے امکان پر شبہ ہے کیونکہ اس وباء نے بنیادی طور پر ان مردوں کو متاثر کیا ہے جو اپنے قریبی علاقوں میں مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    چونکہ مریض نے انکشاف کیا کہ اس نے اسپین میں چھٹیوں پر دوسرے مردوں کے ساتھ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کیے تھے، اس لیے ڈاکٹروں نے اس کا مانکی پوکس کا ٹیسٹ کیا اور ہسپتال میں داخل ہونے پر مکمل STI پینل کا حکم دیا۔ اس کی طبی تاریخ کے مطابق، اس شخص کو 2019 میں بھی آتشک ہوا تھا اور ستمبر 2021 میں اس کے آخری ٹیسٹ میں ایچ آئی وی منفی تھا۔

  • سندھ کے بعد اب پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے

    سندھ کے بعد اب پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے

    لاہور:پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے ،اطلاعات کے مطابق سندھ کے بعد اب صوبہ پنجاب میں بھی ایڈز کے کیسز بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی سابقہ حکومت نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی یہ معاملہ پھچلی کئی دہائیوں سے تشویش کا باعث تھا مگرسب نے توجہ نہ دی

    اس حوالے سے جوحقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویز کےمطابق صوبے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    سال2019 سے 2022 تک ہر سال مریضوں کی تعداد بڑھتی رہی۔سال 2019 میں ماہ اکتوبر میں پنجاب بھر میں ایڈز کے642 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ اکتوبر کے دوران لاہور میں50 کیسز سامنے آئے۔

    سال 2019 جنوری سے ستمبرتک صوبے بھر میں ایڈز کے 2646 کیس رپورٹ ہوئے۔اکتوبر2019 سے دسمبر 2019 تک ایڈز کے 1241 کیسز سامنے آئے۔سال 2020 میں صوبے بھر میں ایڈز کے 4872 کیسز رپورٹ ہوئے۔سال 2021 میں صوبے بھر میں ایڈز کے کُل 5096 کیسز رپورٹ ہوئے۔جنوری 2022 سے جون 2022 تک صوبے بھر میں ایڈز کے 3241 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    یاد رہے کہ سندھ میں معاملات بہت ہی زیادہ خراب ہیں اور سندھی عوام بے بسی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں‌ ، ایچ آئی وی یا ایڈز کنٹرول پروگرام سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی یا ایڈزسے متاثرہ غیر رجسٹرڈ افرادکی تعداد78ہزار ہے جن میں سے صرف 16ہزار ریکارڈ میں موجود ہیں، سندھ بھر میں قائم 16ایچ آئی وی اورایڈز پروگرام میڈیکل سینٹرز میں مفت علاج کی سہولت موجودہے،

    معاشرے میں عام طور پر ایچ آئی وی اورایڈز کے حوالے سے غلط فہمی اورمناسب معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ ٹیسٹ کروانے سے گریز کیاجاتا ہے، تاہم ایچ آئی وی پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ انجکشن کے زریعے منشیات کا استعمال ہے نہ کہ غیر اخلاقی سرگرمیاں، یو این ایڈ ز، کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول ڈائریکٹریٹ آف سندھ اوریونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے لئے منعقدہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایڈز کنٹرول پروگرام سندھ ڈاکٹر ارشاد کاظمی کاکہنا ہے کہ ایچ آ ئی وی یاایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت سندھ بھر میں 16علاج معالجے کے لئے میڈیکل سینٹر ز قائم ہیں جہاں متاثر افرادکا مفت علاج کیاجاتا ہے ۔

  • ہیپاٹائٹس،ٹی بی اور ایڈزکامفت علاج کر رہے ہیں، سلمان رفیق

    ہیپاٹائٹس،ٹی بی اور ایڈزکامفت علاج کر رہے ہیں، سلمان رفیق

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پنجاب بھرمیں ڈینگی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیاہے۔ پاکستان میں منکی پاکس کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہواہے۔ محکمہ صحت پنجاب پولیوکے خاتمہ کیلئے تمام تروسائل بروئے کارلارہاہے۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ آئی آرایم این سی ایچ پروگرام پیدائش سے دوسال عمرکے بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے حفاظتی اقدامات اٹھارہاہے،
    پنجاب میں ہیپاٹائٹس،ٹی بی اور ایڈزکے رجسٹرڈ مریضوں کو تشخیص اورعلاج کی مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔صوبہ بھرمیں ہیپاٹائٹس،ٹی بی اور ایڈزکے مراکزمیں اضافہ کیاجائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ صحت کے مختلف پروگرامزمیں خالی اسامیوں پر جلدبھرتی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پنجاب کی عوام کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کے ویژن کے مطابق صوبہ کی عوام کو صحت کے شعبہ میں ریلیف دیاجائے گا۔

    خواجہ سلمان رفیق۔ کا کہنا تھا کہ پنجاب کے دوردرازکے علاقہ جات میں عوام کے پاس جاکرصحت کی بہترسہولیات کویقینی بنایاجائے گا۔ پنجاب کی عوام کو صحت کی بہترسہولیا ت فراہم کرنے کی جانب تمام ترتوجہ مرکوزکردی گئی ہے۔

    صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق کی زیرصدارت محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں اہم اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرعاصم الطاف،ڈی جی ہیلتھ سروسزپنجاب ڈاکٹرہارون جہانگیر،ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹرمختاراعوان،ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹرشاہدحسین مگسی،ڈپٹی مینیجر پنجاب ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ڈاکٹریداللہ ودیگرافسران نے شرکت کی۔

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے دوران مختلف بیماریوں سے لڑنے کیلئے محکمہ صحت کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرعاصم الطاف،ڈی جی ہیلتھ سروسزڈاکٹرہارون جہانگیراور دیگرپروگرام مینیجرزنے صوبائی وزیر کوصحت کے اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

    اجلاس کے دوران صوبہ بھرمیں کورونا،پولیو،ڈینگی،منکی پاکس،ہیٹ سٹروک،ملیریا،خسرہ،نمونیا،موسماتی انفلنزا،سموگ،ایڈز،کینسر،ٹی بی،ہیپاٹائٹس ودیگربیماریوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔

  • وزارت صحت کا پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافے کا انکشاف

    وزارت صحت کا پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافے کا انکشاف

    اسلام آباد: پاکستان میں دیگر ایشیائی ممالک کی بہ نسبت ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا آفریدی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا جس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے-

    ہالینڈ: ایڈز کی نئی اور تیزی سے پھیلنے والی تغیرشدہ قسم دریافت

    جواب میں بتایا گیا کہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ٹیسٹنگ اور علاج نہ ہونا ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات میں بغیر معائنہ کیا ہوا یعنی اَن اسکرینڈ خون کی تھیلیوں کی دستیابی بھی شامل ہے۔

    جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں 11 خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے اور ملک میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    واضح رہےکہ حال ہی میں ماہرین نےہالینڈ میں دریافت ہونےوالا ہیومن امیونیوڈیفی شنسی وائرس (ایچ آئی وی) کی نئی تغیرشدہ قسم کی تصدیق کی ہےسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایڈز کی وجہ بننے والے بدنامِ زمانہ ایچ آئی وی کی ایک نئی تبدیل شدہ قسم ہالینڈ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک میں عشروں سے موجود ہوسکتی ہے۔ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کا پھیلاؤ شدید ہے، وائرس مرض کو تیزتر کرتا ہے لیکن ایڈز کی روایتی ادویہ سے اس کا علاج ممکن ہے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    اس نئے تبدیل شدہ ویریئنٹ کو وی بی کا نام دیا گیا ہے وی بی کا نشانہ بننے والے لگ بھگ 100افراد پر تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ بالخصوص عمررسیدہ افراد پر زیادہ حملہ آور ہوتا ہے دوسری اہم بات یہ کہ عام وائرس کے مقابلے میں یہ سی ڈی فور خلیات کو قدرے تیزی سے ختم کرتا ہے جبکہ روایتی ایچ آئی وائرس سی ڈی فور ٹی سیل کو تباہ کرتا ہے جو بہت اہم امنیاتی خلیات ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق عام حالات میں اگر ایچ آئی وی بدن میں آگھسے تو وہ چھ سے سات سال میں ایڈز کا مریض بنادیتا ہے بشرطیکہ کہ علاج نہ کروایا جائے۔ لیکن وی بھی صرف دو سے تین برس میں مریض بناسکتا ہے-

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

  • ہالینڈ: ایڈز کی نئی اور تیزی سے پھیلنے والی تغیرشدہ قسم دریافت

    ہالینڈ: ایڈز کی نئی اور تیزی سے پھیلنے والی تغیرشدہ قسم دریافت

    ایمسٹر ڈیم: ماہرین نے ہالینڈ میں دریافت ہونے والا ہیومن امیونیوڈیفی شنسی وائرس (ایچ آئی وی) کی نئی تغیرشدہ قسم کی تصدیق کر دی-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کے مطابق ایڈز کی وجہ بننے والے بدنامِ زمانہ ایچ آئی وی کی ایک نئی تبدیل شدہ قسم ہالینڈ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک میں عشروں سے موجود ہوسکتی ہے۔ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کا پھیلاؤ شدید ہے، وائرس مرض کو تیزتر کرتا ہے لیکن ایڈز کی روایتی ادویہ سے اس کا علاج ممکن ہے۔

    اس نئے تبدیل شدہ ویریئنٹ کو وی بی کا نام دیا گیا ہے وی بی کا نشانہ بننے والے لگ بھگ 100افراد پر تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ بالخصوص عمررسیدہ افراد پر زیادہ حملہ آور ہوتا ہے دوسری اہم بات یہ کہ عام وائرس کے مقابلے میں یہ سی ڈی فور خلیات کو قدرے تیزی سے ختم کرتا ہے جبکہ روایتی ایچ آئی وائرس سی ڈی فور ٹی سیل کو تباہ کرتا ہے جو بہت اہم امنیاتی خلیات ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق عام حالات میں اگر ایچ آئی وی بدن میں آگھسے تو وہ چھ سے سات سال میں ایڈز کا مریض بنادیتا ہے بشرطیکہ کہ علاج نہ کروایا جائے۔ لیکن وی بھی صرف دو سے تین برس میں مریض بناسکتا ہے-

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    ہیومن امیونیوڈیفی شنسی وائرس (ایچ آئی وی) انسانی بدن میں داخل ہونے کے بعد ’اکوائرڈ امیونٹی ڈیفی شنسی سنڈروم‘ (ایڈز) کی وجہ بنتا ہے۔ اس میں جسم کا دفاعی امنیاتی نظام بہت کمزور ہوجاتا ہے اور ہر قسم کے امراض کی راہ کھل جاتی ہے لیکن ایڈز کی اپنی علامات اور عارضوں کی فہرست طویل ہوتی ہے ۔ اگرعلاج نہ کرایا جائے تو مریض موت کے منہ میں چلاجاتا ہے۔

    روزانہ چائے اور کافی کا استعمال فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے ماہرین

    ایڈز کی بیماری ایچ آئی وی وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں غیر محفوظ جنسی تعلقات کے ذریعے اور سوئی یا بلیڈ کے آپس کے استعمال یا انفیفکشن والے خون سے منتقل ہوتا ہے انسانی جسم کے دفعہ کو اتنا کمزور کر دیتی ہے کہ معمولی بیماریاں بھی خطرناک ثابت ہوتی ہیں ایڈز کی علامات جراثیم پکڑنے کے کافی عرصے بعد واضح ہوتی ہیں اور ان کا دوسری بیماریوں کے الامات سے فرق کرنا مشکل ہے۔ خون کے ٹیسٹ کے ذریے ایچ آئی وی ایڈز کی یقینی پہچان کی جاتی ہے۔

    ایڈز کا علم صرف ٹیسٹ یا معائنہ کرانے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ جدید دوائیں ایڈز کے حملے اور اس کی علامات پر قابو پانے میں مددگار ہوتی ہیں البتہ اس مرض کا کوئی مکمل علاج نہیں ہے۔ دوائیں جس قدر جلد استعمال کی جائیں اتنی ہی مؤثر ثابت ہوتی ہیں لیکن ایک مرتبہ دوائیں استعمال کرنے کے بعد تاحیات لینی پڑتی ہیں۔ صحت مند طرزِ زندگی سے بھی خاصی حد تک ایڈز کی انفیکشن پر قابو پایا جا سکتا ہے مثلاً اچھی غذا، مکمل نیند، سگریٹ نوشی سے پرہیز اور دیگر اقسام کی انفیکشن سے بچاؤ کی کوششیں۔

    فضائی آلودگی بچوں کے لیے بہت خطرناک، انہیں کیسے محفوظ رکھا جائے؟

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایڈز کی دواؤں کی فراہمی نہایت مشکل ہے اور بیشتر ڈاکٹر اس کے طریق علاج سے بھی بےبہرہ ہیں، ایسے ملک میں مناسب طرز زندگی ہی ایڈز کے علاج کا ایک طریقہ ہے۔ 1981 میں امریکہ میں ایڈز کے پہلے مریض کی تشخیص کی گئی تھی۔ ممکن ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں ایڈز کے مریض موجود ہوں گے لیکن ان کی تشخیص نہیں ہو پائی تھی۔ ایڈز کی وبا پھیلنے کے بعد سے اب تک دنیا میں چھ کروڑ بیس لاکھ افراد کو ایچ آئی وی انفیکشن اور چار کروڑ بیس لاکھ افراد کو ایڈز لاحق ہو چکا ہے۔

    کئی مریضوں کو بخار، سوجن، پیچش وغیرہ کی تکالیف ہو سکتی ہے جبکہ کئی مریضوں کو ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے ان میں صرف خون ٹیسٹ سے ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ انفیکشن ہے یا نہیں۔ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ہر ایچ آئی وی کے ہر مریض کو ایڈز نہیں ہو جاتی، ایڈز ایچ آئی وی وائرس کے خطرناک اور جان لیوا مرحلے کا نام ہے ایچ آئی وی پاسیٹیو افراد کی صحت اکثر بہت سالوں تک بالکل ٹھیک رہتی ہے-

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج