Baaghi TV

Tag: ای سی ایل

  • شہزاد اکبر کا ای سی ایل پر نام ڈالنے پر جواب

    شہزاد اکبر کا ای سی ایل پر نام ڈالنے پر جواب

    سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے گھوڑے کے آگے گاڑی ڈال دی، ابھی تک کوئی کیس نہیں مگر نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا.
    وفاقی کابینہ اجلاس، 10 نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری

    اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ این سی اے سیٹلمنٹ نیب انکوائری پر نیب کو دو بار مراسلہ لکھا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے نیب کو لکھا کہ میرا بیان ویڈیو لنک پر یا لندن ہائی کمیشن میں لے لیا جائے، لگتا ہے نیب آزادانہ انکوائری میں دلچسپی نہیں رکھتا اس لیے اپنے خطوط پبلک کیے۔

    پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل متفقہ طورپر منظور

     

    شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ تمام خطوط اور واٹس ایپ میسیجز موصول کیے گئے ہیں، نیب نے گھوڑے کے آگے گاڑی ڈال دی، ابھی تک کوئی کیس نہیں مگر نام ای سی ایل میں۔ سابق وزیراعظم کے مشیر احتساب نے سوال اٹھایا کہ یاد دلاؤں یہ این سی اے سے تصفیہ ہے تو کیا این سی اے عہدیداروں کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالیں گے؟شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نیب کے آئی بی میں تبدیل ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا، منی لانڈررز انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    وفاقی کابینہ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق مشیر داخلہ شہزاد اکبر سمیت 10 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل ) میں ڈالنے کی منظوری دیدی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر سمیت دس افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے۔

    وفاقی کابینہ نے 10افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی اور 22لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے وزارتِ داخلہ کی سفارش پر 22 لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے جبکہ 3 لوگوں کوایک مرتبہ باہر جانے کی اجازت کی منظوری بھی دی۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، 10 نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، 10 نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا
    وزیراعظم اور کابینہ اراکین نے وفاقی وزیر صنعت و تجارت مخدوم مرتضیٰ محمود، سیکرٹری کیبنٹ احمد نواز سکھیرا، سیکرٹری صنعت وتجارت چوہدری امداد اللہ بوسال کو سول ایوارڈز ملنے پر مبارکباد دی اور ان کی خدمات کو سراہا۔

    کابینہ اجلاس میں وزراتِ موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ،بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلوبل وارمنگ گیسوں کے فضا میں اخراج میں ہمارا حصہ دنیا کا صرف 1 فیصد بنتا ہے، کابینہ میں جنگی بنیادوں پر رین ہاروسٹنگ کی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا،اسلام آباد میں اس منصوبے کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اجراء کرنے کی تجویز زیرِ غور آئی،متفقہ طور پر شیری رحمان کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی، کمیٹی میں متعلقہ وزارتوں کے وزراء بھی شامل ہوں گے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی اور خوراک کا تحفظ تینوں ایک دوسرے سے منسلک چیلنجز ہیں،ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو ان کے اثرات سے بچانے کیلیے اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے متوقع مسائل کا بخوبی ادراک ہے،اس مسئلہ کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے

    دِیت کی کم از کم حد 30 ہزار 630 گرام چاندی کے برابر مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی،دِیت کی کم از کم حد43لاکھ روپے کے برابرمقرر کرنے کی منظوری دی گئی، وفاقی کابینہ نے 35 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری متفقہ طور پر مسترد کر دی اور کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں وفاقی کابینہ کی منظور ی کے بغیر کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا،وفاقی کابینہ نے 10 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی وفاقی کابینہ نے 22 لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دیدی

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • وفاقی کابینہ نےعمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی

    وفاقی کابینہ نےعمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی

    وفاقی کابینہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دیدی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے جس میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کےفیصلے کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں عمران خان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی کابینہ نے تحریک انصاف کے پی ٹی آئی چیئر مین کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم کی ہدایت پر سیکرٹری قانون اور سیکرٹری داخلہ کے علاوہ تمام بیوروکریٹس کو اجلاس سے باہر بھیج دیا گیا۔

    کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں افواج پاکستان کے افسران و اہلکار شہید ہوئے،حکومت نے این ڈی ایم اے او رپی ڈی ایم اے کی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا،شہدا بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دے رہے تھے،کابینہ اجلاس میں این ڈی ایم اے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،وزیراعظم نے آج بھی سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کی ہدایت کی ہے،کابینہ اجلاس میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی کارروائیوں کو سراہا گیا،وزیراعظم سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کررہے ہیں.

    مریم اورنگزیب کا کابینہ کے اجلاس کے بعد میدیا بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے سروے کیلئے مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی.75ویں یوم آزادی پر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کیلئے وزارت داخلہ سے سمری منگوائی گئی ،دو تہائی سزا مکمل کر لینے والے عورتوں، بچوں اور بزرگوں کی سزاؤں میں کمی کی تجاویز مانگی گئیں،کابینہ کے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تفصیلی بات ہوئی،الیکشن کمیشن کا فیصلہ پی پی او 2002 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق آیا،8سال کے دوران پی ٹی آئی نے کوئی جواب نہیں دیا، اسٹیٹ بینک نے تمام ریکارڈ فراہم کیا،وزیر قانون نے آئینی و قانونی پہلوؤں پر کابینہ کو مفصل بریفنگ دی،تحریک انصاف کے خلاف ڈکلیئریشن سپریم کورٹ بھیجنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے،تحریک انصاف فارن فنڈڈ پارٹی ڈکلیئر ہو چکی ہے،کابینہ کے آئندہ اجلاس میں وزارتِ قانون ڈکلیریشن پیش کرے گی،پی ٹی آئی نے 16 اکاؤنٹس ڈکلیئر نہیں کئے.

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کیخلاف پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002اور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2017کے تحت کارروائی کرنے کی پابندہے،یہ اکاؤنٹس عمران خان سمیت سینئر قیادت کے نام پر کھلے،سیکریٹریٹ ملازمین کے ناموں پر پیسے ان اکاؤنٹس میں آتے رہے، 8سالوں میں تحریک انصاف نے 51 بار التوامانگا،ایف آئی اے کو فوری طور پر انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کر دی گئی،اسٹیٹ بینک، ایف بی آر سمیت تمام ادارے فیصلے کی روشنی میں انکوائری کریں گے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی جماعت کو فارن فنڈڈ پارٹی ڈکلیئر کیا گیا ہے،

  • مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے کون کہتا ہے، کبھی کسی سے پوچھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ خط آتا ہے کہ متعلقہ شخص سے تفتیش جاری ہے نام ای سی میں ڈال دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش ہورہی ہے تو نیب یا اداروں سے پوچھنا چاہیے ، نام نکال رہے ہیں اعتراض تو نہیں نام نکال رہے ہیں اس بارےمیں ہم نہیں پوچھ رہے ہیں، کیا پی پی سی اور نیب کے قانون میں کوئی فرق ہے ؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پی پی سی اور نیب کے قانون میں فرق ہے، نیب کے پاس اختیار ہے کہ ای سی ایل میں نام رکھنے کے لیے توسیع کا خط لکھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا نام ای سی ایل سے نکال رہے ہیں تو کسی کو نوٹس تو دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا جلدی تھی کہ ای سی ایل سے 400 سے زائد نام نکالے گئے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جب ذاتی مفاد ہو تو اس کو سامنے رکھنا چاہیے ایک شخص جس کا نام ای سی ایل میں ہے اور وزیر بن جاتا ہے کیا تو کیا ہوگا؟آپ ہمیں بتا رہے ہیں کہ معاملہ آزادانہ نقل و حرکت کا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ 22اپریل کو سب کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں رولز میں ترمیم کی گئی، جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس کے بعد کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی ہے ؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایگزیکٹو کے فنکشنز میں مداخلت نہیں کررہے،ایک وزیر فنانشل معاملات پر کام کررہا ہے، ہم آپ کو 2ہفتے کا وقت دیتے ہیں ، قانون کے مطابق عمل کریں، ہم چاہتے ہیں قانون پر عملدرآمد کر کے سب سے یکساں انصاف ہو،ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیوں کیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی سے ترمیم کے اطلاق کا مقصد مخصوص افراد کیلئے نہیں تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ترمیم کرنے والوں کےرشتہ دار یا دوستوں کو فائدہ ہورہا تو کیا ایسی ترمیم ہونی چاہیے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ملک سے باہر جانا ایک بنیادی حق ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ آزادانہ نقل و حرکت ایک شہری کا بنیادی حق ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ مطابق تبدیلیاں کی گئی ہیں،ایف آئی اے ہائی کلاسیفائیڈ کیسز کیسے کرتے ہیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہائی کلاسیفائیڈ کیسز مقرر کرنے کا ایک ایس او پی ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی کیا جلدی تھی؟ ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق گزشتہ تاریخوں سے ہونے کا ذکر نہیں، ای سی ایل میں شامل وزرا نام نکالنے کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا نام عدالت نے شامل کرایا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سعد رفیق کابینہ اجلاس میں موجود نہیں تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق سعد رفیق نے ای سی ایل رولز کی منظوری دی ہے،کیا وزرا کو خود معاملے سے الگ نہیں ہونا چاہیے تھا؟ ذاتی مفاد کیلئے کوئی کیسے سرکاری فیصلے کر سکتا ہے؟ کیا وزرا کیلئے ذاتی کیس سے متعلق کوئی ضابطہ اخلاق ہے ؟ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کا نام ای سی ایل میں ہو تو کیا کابینہ فیصلہ ہی نہیں کرے گی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو، کسی کو سزا دینے کیلئے کارروائی نہیں کر رہے،عدالت صرف چاہتی ہے کہ قانون پر عملدرآمد کیا جائے،

    سپریم کورٹ نے حکومت کو ای سی ایل ترمیم کو قانونی دائرہ میں لانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہیں ورنہ حکم جاری کریں گے ممکن ہے عدالتی حکم مشکلات پیدا کرے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں مناسب اقدامات کرلیں،ایگزیکٹو اختیارات میں فی الحال مداخلت نہیں کرنا چاہتے،نام نہیں لیتے ایک وزیر کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا وہ اہم معاشی امور سرانجام دے رہا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیرون ملک جانا بنیادی حق ہے تو پھر ای سی ایل کا کیا جواز رہ گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری رائے میں تو ای سی ایل ہونی ہی نہیں چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں ذاتی رائے پر نہیں جائیں گے، اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمانداری،انصاف اور شفافیت کو مد نظر رکھا جائے،عدالت نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے انکو دور کیا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی زبردستی کیس بنوانے کی بات کرے تو عدالت کو آگاہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ آپ سول سرونٹ ہیں کسی کی مداخلت تسلیم نہ کریں،کوئی دباو ڈالتا ہے تو عدالت کو بتائیں تحفظ فراہم کیا جائے گا،سپریم کورٹ نے ایف آئی اے اور نیب کے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا اور کہا کہ تمام شواہد اور ریکارڈ کی سافٹ کاپی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے،اگر ریکارڈ گم ہوا تو سپریم کورٹ سے آپکو مل جائے گا، ایف آئی اے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے علاوہ دیگر کو تبدیل کر سکتا ہے، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نیب کو مقدمات کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، چیئرمین نیب کی تعیناتی کے بعد ہی احکامات پر عمل ممکن ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب پر اگر کوئی دباو ڈالے تو عدالت کو آگاہ کریں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین نیب کا چارج کسی افسر کو دیا گیا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے حکومت سوچ سمجھ کر چیئرمین نیب کی تعیناتی کرے گی،معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں حکومت سے اچھی توقع ہے،توقع ہے صاف، ایماندار، قابل اور نیک نام شخص کو چیئرمین نیب لگایا جائے گا سسٹم کے باہر سے کوئی دباو قبول کیا جائے نہ ہی تعیناتی کی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے جو کہنا چاہ رہا ہوں آپ سمجھ گئے ہونگے، نیب بھی یقینی بنائے کہ اس کا ادارہ کسی کیخلاف انتقام کیلئے استعمال نہ ہو،

    دو سابق وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر اعتراض عائد

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹس کو سے متعلق جو آرڈرہم نے کیے وہ قائم رہیں گے ،آپ ای سی ایل کی لسٹ سے متعلق رپورٹ پیش کریں،ہم چاہتےہیں کہ قانون کی عمل داری ہو،ہم ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرینگے،ہم ابھی کوئی آرڈر پاس نہیں کررہے، ایسا کوئی شخص جس کے خلاف مقدمہ ہو وہ ملک سے باہر نہیں جائیگا،ہمیں ایف آئی اے کی رپورٹ کے بارے میں بتایا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ای سی ایل رولز کی سیکشن دو میں کیسے ترمیم کی گئی؟ کیا ترمیم کرتے وقت متعلقہ اداروں سے مشاورت کی گئی؟کرپشن سمیت دیگر چیزوں کو نکال کر رولز تبدیل کر دیئے گئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ وہ لوگ کیسے ای سی ایل رولز بدل سکتے جو خود مستفید ہوں ، جن کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟

    سپریم کورٹ نے ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں پر تشویش کا اظہار کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22اپریل کو ای سی ایل رولز میں تبدیلی کی گئی ہم ایگزیکٹوز کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرینگے،وہ نام نکالے گئے جن پرکرپشن اورٹیکس چوری کے مقدمات تھے،ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے رولز تبدیلی کا اطلاق ماضی سے کیسے ہوسکتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رولز تبدیلی پر کابینہ سے منظوری کے نوٹیفکیشن میں یہ لکھا گیا اطلاق ماضی سے ہوگا؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال کیا کہ رولز تبدیلی سے کس کس کو فائدہ ہوا؟ مقدمات کا سامنا کرنے والے وزراکی جانب سے رولز تبدیلی کی منظوری مفادات کا ٹکراؤ ہے، تفصیلات فراہم کریں کہ کابینہ میں شامل کن اراکین کو فائدہ پہنچا؟الزام کا سامنا کرنے والے کابینہ میں شامل وزیر خود کو الگ کر سکتا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کا کہنا ہے 174 نکالے گئے ناموں سے قبل ہم سے مشاورت نہیں کی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ای سی ایل رول 2010 کا سیکشن دو پڑھیں، رولز کے مطابق کرپشن، دہشتگردی، ٹیکس نادہندہ اور لون ڈیفالٹر باہر نہیں جا سکتے، کابینہ نے کس کے کہنے پر کرپشن اور ٹیکس نادہندگان والے رول میں ترمیم کی؟کیا وفاقی کابینہ نے رولز کی منظوری دی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے منٹس پیش کردوں گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا 120 دن بعد ازخود نام ای سی ایل سے نکل جائے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 120دن کا اطلاق نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے روز سے ہوگا،عدالت نے کہا کہ کابینہ کے ارکان خود اس ترمیم سے مستفید ہوئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کابینہ ارکان اپنے ذاتی فائدے کیلئے ترمیم کیسے کر سکتے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ معلوم ہے کہ وفاقی وزرا پر ابھی صرف الزامات ہیں،کیا کوئی ضابطہ اخلاق ہے کہ وزیر ملزم ہو تو متعلقہ فائل اس کے پاس نہ جائے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپنے فائدے کیلئے ملزم کیسے رولز میں ترمیم کر سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزم وزرا کو تو خود ہی ایسے اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہیے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیاسرکولیشن سمری کے ذریعے ایسی منظوری لی جا سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے مطابق ان سے پوچھے بغیر ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی انفرادیت کے مطابق تفصیلات نہیں چاہتے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد ریویو کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا،ممبران کا نام ای سی ایل میں ہونا اور رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہے، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے، ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی، عرفان قادر نے کہا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں مجھے سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر ہمیں دلائل دیں ایسے نہیں سن سکتے،عرفان قادر نے کہا کہ اہم کیس ہے،دو جماعتوں میں کشیدگی ہے عدالت بھی بیچ میں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،

    وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ایف آئی اے افسران کے تبادلے کی رپورٹ پر بحث کی گئی ،عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ سے تاثر ملا کہ معاملات کو غیر سنجیدہ اقدامات سےکور کیا گیا ،وزارت قانون نے 13 مئی کو سکندر ذوالقرنین سمیت ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کومعطل کیا بظاہر ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کو کیس کی دو سماعتوں میں پیش نہ ہونے کی بنیاد پر معطل کیا گیا ،جن سماعتوں کی عدم پیشی پر پراسیکیوٹرز معطل ہوئے وہ نئی حکومت کے قیام کے بعد کی تھیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پراسیکیوٹرز کو یہ کہا کہ آپ پیش ہو نا ہوں آپ فارغ ہیں؟ پراسیکیوٹرز کو تبدیل کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، انویسٹی گیشن افسر کو بھی بیماری کی وجہ سے تبدیل کیا گیا،انویسٹی گیشن افسر تبدیل ہونے کے مہینہ بعد بیمار ہوا،

    سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،عدالت نے ڈائریکٹر لا آپریشنز ایف آئی اے عثمان گوندل بھی ریکارڈ سمیت طلب کر لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوشن ٹیم بظاہر مقدمہ کی کارروائی رکوانے کیلئے تبدیل کی گئی،آرٹیکل 248 وزراء کو فوجداری کارروائی سے استثنٰی نہیں دیتا،چاہتے ہیں نظام قابل اعتماد انداز میں چلے، اعلیٰ حکام کیخلاف مقدمات میں مختلف سلوک زیادہ نوٹس میں آتا ہے،

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے مقدمات میں کیا پیشرفت ہوئی؟ کیا وزیراعظم پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی،وزیراعظم سمیت کسی نے کوئی استثنیٰ نہیں مانگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقص کسی مقدمے کو تیزی سے چلانا نہیں ہے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

  • ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    حکومتی عہدیداروں کی مداخلت سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی سماعت،تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ5صفحات پر مشتمل ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی تھی تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران تحریری طور پر اپنے جواب عدالت میں جمع کرائیں، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے ، چیئرمین اور ریجنل ڈائریکٹرز نیب کو نوٹس جاری کئے گئے،چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز اور پراسکیوٹر جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کئے گئے،نیب اور ایف آئی اے کے پراسیکیوشن سربراہوں کو بھی نوٹس جاری کئے گئے نیب اور ایف آئی اے میں ہائی پروفائل مقدمات میں گزشتہ6ہفتوں میں تبادلوں کی تفصیل جمع کرانے کا حکم دیا گیا تقرریوں اور افسران کے ہٹائے جانے سے متعلق بھی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا گیا عدالت نے گزشتہ 6ہفتوں میں ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں کی تفصیلات طلب کرلی ای سی ایل پر اسٹیسٹس کو آئندہ سماعت تک برقرار رہے گا نیب عدالتوں، اسپیشل کورٹس میں استغاثہ اور تحقیقات کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا طریقہ کار طلب کر لیا گیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے ازخودنوٹس کی سماعت کی سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل اشترواوصاف پیش ہوئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پیپر بک پڑھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی میں نے پیپر بک پڑھا ہے پیپر بک جج کی جانب سے مداخلت کے بارے میں ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ نوٹس لینے کی جو وجوہات ہیں، وہ صفحہ نمبر 2 پر موجود ہیں،

    پیپر بک نمبر 2 میں ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی اور ڈاکٹر رضوان کی موت کا ذکر موجود ہے ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل تھے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک کیس کے دوران ایف آئی اے کے استغاثہ کو پیش نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہم آپ سے گارنٹی چاہتے ہیں کہ استغاثہ کا ادارہ مکمل آزاد ہونا چاہیے، ایسا کیوں ہوا، ڈی جی ایف آئی اے جوخیبرپختونخوا کے آئی جی تھے کاتبادلہ کیوں کیا گیا؟ ڈاکٹر رضوان قابل افسر تھے،ان کو کیوں ہٹایا گیا ،یہ سب پیش رفت بظاہر کریمنل جسٹس سسٹم میں مداخلت کے مترادف ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں،ای سی ایل سے 4 ہزار سے زائد افراد کے نام نکالے گئے، ای سی ایل سے نام نکالنے کا طریقہ کار کیا تھا؟ہمارے ملک میں جوکرمنل جسٹس سسٹم ہے اس کے بارے میں خبریں آئیں، اس وقت ہم کوئی رائے نہیں دے رہے ہم نے لوگوں سے رول آف لا کا وعدہ کیا ہے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، میں امید کرتا ہوں کی وفاقی حکومت پولیس کے ساتھ تعاون کریگی،ان تمام کرمنل کیسز کو سنبھالنے رکھنا استغاثہ کی ذمے داری ہے،اس سماعت کا مقصد کسی کو خفا کرنا نہیں، عدالت نوٹس جاری کرتی ہے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیپر بک نمبر دو میں ڈاکٹر رضوان کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت کا ذکر ہے،ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل ہیں، رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کرنے والے افسران تبدیل کیے گئے، ڈی جی ایف آئی اے جیسے قابل افسر کو ہٹا یا گیا بتایا جائے ہائی پروفائل کیسز میں افسران کے تقرر تبادلے کیوں کیے گئے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ تقرریاں اور تبادلے جان بوجھ کر کیے گئے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ ای سی ایل سے نام براہ راست نہیں نکال سکتے،ہم نے دیکھا ہے کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے ایک طریقہ کار ہوتا ہے تو نکالنے کا بھی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ازخود نوٹس لینے کا ہمارا مقصد کرمنل جسٹس سسٹم کی مضبوطی ہے،ہم یہاں پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے،ہم کسی کی تنقید سے گھبرانے والے نہیں ہیں،عدالت فیصلہ کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبرائی،آج کئی سیاسی پارٹیوں کےمضبوط سوشل میڈیا سیکشنز ہیں، ہم سوشل میڈیا کی تمام چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں اور آپس میں بات کرتے ہیں چاہتے ہیں آرٹیکل 10فوراے اور 25 پر عمل کیا جائےہم متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کررہے ہیں، یہ کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا کسی کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہے یہ کارروائی فوجداری نظام اور قانون کی حکمرانی کو بچانے کے لیے ہے

    عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب ، سیکریٹری داخلہ کو نوٹسزجاری کردیئے عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ بتائیں کہ کیوں استغاثہ کے کام میں مداخلت کرتے ہیں؟ وضاحت کریں مقدمات میں مداخلت کیوں ہورہی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مداخلت پر بیان دیا ،کراچی اور لاہور میں عدالتوں میں ججز موجود نہیں کیا آپ کواس بارے میں معلوم ہے ، ججز کو بھی جوڈیشل نظام میں محتاط رہنا ہوگا ، اس کا ہم قریب سے جائزہ لیتے ہیں،وہ نام جمع کرائے جائیں جن کے نام ای سی ایل سے اس دوران نکالے گئے،

    عدالت نے حکم دیا کہ ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے چھ ماہ میں استغاثہ اور تفتیشی اداروں میں تقرریوں کے بارے میں تفصیل جمع کرائی جائیں، حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خودنوٹس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

  • قابل اعتراض مواد شئیر کرنے پر نام ای سی ایل میں ڈال سکتے ہیں،ایف آئی اے

    قابل اعتراض مواد شئیر کرنے پر نام ای سی ایل میں ڈال سکتے ہیں،ایف آئی اے

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے خبردار کیا ہےکہ قوانین کے خلاف پوسٹ یا قابل اعتراض مواد شئیر کرنے پر نام ای سی ایل میں ڈال سکتے ہیں –

    باغی ٹی وی : ایف آئی اےکی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ تارکین وطن پیکا 2016 ایکٹ کا مطالعہ کریں، سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ قابل اعتراض اور باغیانہ نہیں ہونی چاہیے، تارکین وطن قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کےنام ای سی ایل پر رکھے جاسکتے ہیں-

    وقت آنے پر عامر لیاقت کے خلاف سارے ثبوت سامنے لاؤں گی ،دانیہ شاہ

    اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان یا دوسرے ملک میں رہنے والے پاکستانیوں کو جعلی خبروں کی بنیاد پر بدنام نہیں کیا جاسکتا، جعلی خبروں کی بنیاد پربدنام کرنےکی کوششیں پاکستانی قوانین کے مطابق جرم ہیں قانون کے پابند شہریوں کو پریشان ہونےکی ضرورت نہیں، یہ ہدایت صرف قانون توڑنے والوں کے لیے ہے۔

    ایف آئی اےکی جانب سےجاری اعلامیےمیں کہا گیا ہےکہ سوشل میڈیا پرمبینہ طورپرریاست مخالف بیانات پرایک یوٹیوبرکےخلاف انکوائری شروع کردی ہے یوٹیوبرریاست مخالف جھوٹی خبریں پھیلانےمیں ملوث ہے، اس نے بیرون ملک رہتے ہوئے پاکستان میں ہیجان پیداکرنےکی کوشش کی، یوٹیوبرکو انٹرپول کے ذریعےریڈ نوٹس جاری کیا جائےگا۔

    عمران اسماعیل کا وفاقی وزیر آبپاشی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    قبل ازیں لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ لوگوں کی نجی زندگی میں ایشوپیداکرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کریں گےسائبر کرائم ونگ کی کیپیسٹی کےمسائل ہیں،اس پرکام کر رہےہیں قانون کے دائرے میں پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے، قانون کےدائرے سے باہر جائیں گے تو قانون اپناراستہ بنائےگا۔

    وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان جلسےکررہےہیں ہم ان کو سہولت دے رہے ہیں، عمران خان کو اس وقت وزیراعظم والی سکیورٹی مل رہی ہے، شیخ رشید صرف ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں-

    شان شاہد کا انٹرویو بہت گندا تھا،عمران خان

  • پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا،مریم اورنگزیب

    پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی پریس کانفرنس پرردعمل میں کی گئی پریس کانفرنس میں مریم اور نگز یب ے کہا کہ عمران خان مسلسل جھوٹ بول رہے اور سازش کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، انہوں نے 4 سال تک عوام کو لوٹا اور معیشت کو تباہ کیا، اتحادیوں کے چھوڑجانے کے بعد عمران خان کو بیرونی سازش نظر آنے لگی عمران خان نے کئی دن تک مراسلے کو کیوں چھپائے رکھا اور وہ سازش کرنے والے ملک کے نمائندوں سے کیوں ملتے رہے؟ اتحادیوں نے عمران خان کی کرپشن، نااہلی پر ساتھ چھوڑا جبکہ اپنی جماعت کے اراکین رویے کی وجہ سے علیحدہ ہوئے عمران خان عوام کو بے وقوف بنانا بند کریں، قومی سلامتی کمیٹی میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ کوئی سازش نہیں ہوئی، عمران خان نے کشمیر کا سودا کیا۔

    آج پھر کہتا ہوں کہ مراسلے سے متعلق جو بھی کہا تھا وہ سچ ہے،عمران خان

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے والا ہے، عمران خان نے الیکشن کمیشن سے اپنے اکاؤنٹس چھپائے، عمران خان شوکت خانم کے نام پارٹی کے لیے فنڈ اکٹھا کرتے رہے ہیں، جس کا پردہ جلد چاک ہوجائے گا انتخابی اصلاحات کا نہ ہونا عمران خان کی نالائقی ہے، اتحادیوں کے چلے جانے کے بعد عمران خان کو نئے انتخابات کی یادآنے لگی، بجلی،آٹا، چینی چور ہمیں لیکچر نہ دیں عمران خان جھوٹا،چور اور منافق شخص ہے، جس نے توشہ خانہ کے تحائف کو ذاتی کاروبار کے لیے استعمال کیا، عوام عمران خان کی اصلیت جان چکے ہیں، انہوں نے کبھی عوام کی بہتری کا نہیں سوچا، ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھرو ں کا جھوٹ بولا، عوام کی ادویات اور کورونا فنڈ پر ڈاکا ڈالا، عمران خان کا سازش کا بیانیہ دفن ہوچکا ہے، عمران خان کو فارن فنڈنگ کا حساب دینا پڑے گا۔

    مریم اونگزیب نے مزید کہا کہ پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا، عمران خان اپنی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں، عمران خان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، تحریک انصاف کے جلسوں ،ر یلیوں کو سکیورٹی فراہم کریں گے صدر مملکت کا کابینہ اراکین سے حلف لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت آئینی طریقے سے بنی ہے۔

    جب تک بلوچستان ترقی میں باقی صوبوں تک نہیں پہنچ جاتا، چین سے نہیں بیٹھوں گا،وزیر اعظم

    واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا تھا کہ کل نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں واضح ہوگیا کہ ہمیں مراسلہ موصول ہوا، کہا تھا کہ مراسلے میں پاکستان کو دھمکی دی گئی جب مراسلے سے متعلق بتایا تو کہاگیا یہ سب جھوٹ ہے،آج پھر کہتا ہوں کہ مراسلے سے متعلق جو بھی کہا تھا وہ سچ ہے،کہا گیا عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے نہیں ہٹایا گیا توپاکستان کیلئے مشکلات ہوں گی کہا گیا اگر عمران خان کو ہٹادیا گیا تو پاکستان کو معاف کردیں گے، ملک کے وزیراعظم کے خلاف سازش کی گئی،سازش کرنے والوں کو پتہ تھا کہ عمران خان کے بعد کون آئے گا جیسے ہی ہمارے سفیر سے امریکی آفیشل کی میٹنگ ہوئی اگلے ہی دن عدم اعتماد آگئی،عدم اعتماد پیش ہونےکے بعد ہمارے اتحادی اور پارٹی ارکان ہمارے خلاف ہوگئے،سب کو بلایا دیکھیں مراسلہ یہ نہیں آئے ! مراسلہ حقیقت تھا، جو زبان استعمال ہوئی اس میں تکبر تھا، قومی سلامتی کمیٹی نے میری بات کی تصدیق کر دی،

    چند ماہ بعد عمران خان خود کہیں گے کہ مراسلے والی بات غلط تھی،مبشر لقمان

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ایکسپورٹ ہوئی،بیرون ملک پاکستانیوں نے سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجا،لندن میں بیٹھ کر نوازشریف نے سازشیں کیں، نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تسلیم کرلیا جو ہم نے کہا وہ درست تھا،لندن میں بیٹھ کر نوازشریف نے سازش کی اور چھوٹا بھائی پاکستان میں اس کا حصہ تھا،سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک میر جعفر اور میر صادق ملوث نہ ہوں،سپریم کورٹ سے سارے معاملے پر کھلی سماعت مانگتے ہیں،سپریم کورٹ کو یہ کام اسپیکر کے استعفے کے وقت کرنا چاہیے تھا،مشرف نے دھمکی پر ہاتھ کھڑے کردیئے اور این ار او دے دیا سپریم کورٹ کو اس معاملے کی تحقیقات کرانی چاہیےتھی،جب جنوری سے یہ سارا معاملہ شروع ہوا تھا مجھے بھی خبریں آرہی تھیں، سفارتخانوں نے ان لوگوں کو پہلا بلایا جو لوٹے تھے،ہمیں جنوری سے پتہ چلا کہ کیا سازش ہونے والی ہے، چاہتے ہیں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ ووٹ بیچنےوالوں کیخلاف سماعت کرے،پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے،اگر کوئی ایکشن نہیں ہوا تو پیسے لینے والے بچ جائیں گے،آج پورے قوم کو کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے الیکشن کمیشن کو مستعفی ہوجانا چاہے، الیکشن کمیشنر جانبدار آدمی ہے، ہمیں اس پر اعتماد نہیں ہے، اگر ہمارے ادارے آج ہماری خودداری اور آزادی کے ساتھ نہ کھڑے ہوئے تو یہ نا صرف ہماری بلکہ ہمارے بچوں کی آزادی کیلئے بھی بہت بڑا خطرہ ہے-

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف نے ایک اور درخواست دائر کر دی

  • عمران خان و دیگر وزرا پر غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست خارج کرنے کیخلاف اپیل مسترد

    عمران خان و دیگر وزرا پر غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست خارج کرنے کیخلاف اپیل مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور وزرا پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کے خلاف اپیل بھی مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : اسلام ہائی کورٹ کےجسٹس عامرفاروق اور جسٹس سردار اعجازا سحاق خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

    جسٹس عامرفاروق اور جسٹس سردار اعجازا سحاق خان پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے سنگل بنچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے غیرملکی خط کی تحقیقات کرانے سے متعلق درخواست پر سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل مسترد کردی۔

    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی

    عدالت نے انٹراکورٹ اپیل کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کیا عدالت نے نہ صرف عمران خان و دیگر کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا، بلکہ درخواست گزار مولوی اقبال حیدر پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی برقرار رکھا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیل کنندہ مولوی اقبال حیدر کے دلائل سننےکے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی 34 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    اس سےقبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست ایک لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ خارج کی تھیعدالت نے مبینہ خط کی تحقیقات کرنے کی درخواست بھی خارج کردی جبکہ عمران خان اورسابق وزرا کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھی مسترد کردی تھی –

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ درخواست میں منتخب سابق وزیر اعظم پر فرسودہ الزامات لگائے گئے۔ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ نیشنل سکیورٹی کو نہ سیاسی بنایا جائے نہ سنسنی خیز۔سفارتکاروں اوران کی کلاسیفائیڈ رپورٹس کو سیاسی تنازعوں میں گھسیٹنا قومی مفاد کو کمزور کر سکتا ہے۔

    حلف برداری کی تقریب منعقد نہ ہونے پر نو منتخب وزیراعلیٰ نے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

  • دو سابق وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر اعتراض عائد

    دو سابق وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر اعتراض عائد

    دو سابق وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر اعتراض عائد
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف حکومت کے دو وزرا کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    ہائیکورٹ آفس نے خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگا دیا سابق وفاقی وزیر خسرو بختیار اوران کے بھائی سابق صوبائی وزیر ہاشم جواں بخت کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے لیے مقامی وکیل نے لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر کی،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کا نام پینڈورا پیپرز میں بھی آیا دونوں سابق وزرا بھائیوں کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے،

    لاہور ہائیکورٹ آفس نے درخواست پراعتراض لگاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے اس لیے درخواست قابل سماعت نہیں

    دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کر دیا سعید غنی کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے امریکی یونیورسٹی سے ملنے والی تنخواہ کو چھپایا اور کابینہ ڈویژن کو بتائے گئے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا شہباز گل کے اثاثوں کی تحقیقات کی جانی چاہیے

    عثمان بزدار ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

    جب تک صدر پاکستان عہدے سے نہیں ہٹاتے میں گورنر پنجاب ہوں، عمرسرفراز چیمہ

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    https://login.baaghitv.com/mzd-assamlby-ka-ajlas-pm-kumedwar-assamlby-ponchgyaee/