Baaghi TV

Tag: اے آئی

  • اگلے سال اے آئی ’’سپرہیومن‘‘بن کر انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جائے گی،ایلون مسک

    اگلے سال اے آئی ’’سپرہیومن‘‘بن کر انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جائے گی،ایلون مسک

    ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ اے آئی اگلے سال کے اختتام تک ڈیجیٹل دنیا کے تقریباً ہر کام کو انسانوں سے بہتر انداز میں انجام دینے کے قابل ہو سکتی ہے۔

    ایلون مسک نے یسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک گفتگو کے دوران کہا کہ 2027 کے اختتام تک اے آئی ’’ڈیجیٹل دنیا میں ہر کام سپرہیومن سطح‘‘ پر کرنے کے قابل ہو سکتی ہے، ان کا یہ تبصرہ ویراسل کے چیف ایگزیکٹو گیلرمو راخ کی ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا۔

    اے آئی ماڈلز گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے ترقی کر رہے ہیں آج کے جدید ماڈلز نہ صرف سوالات کے جواب دے سکتے ہیں بلکہ کمپیوٹر کوڈ لکھنے، فائلوں کا جائزہ لینے، پریزنٹیشنز تیار کرنے اور مختلف ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں مسک کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے عرصے میں یہ نظام ان کاموں میں انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔

    انہوں نے اپنی پیش گوئی میں ایک اہم وضاحت بھی کی ان کے مطابق اے آئی کا ممکنہ ’’سپرہیومن‘‘ مرحلہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوگا یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی فوری طور پر حقیقی دنیا میں ہر جسمانی کام انسان سے بہتر کرنے لگے گی۔

    یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی ایجنٹس کی سائبر سکیورٹی صلاحیتوں کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے گیلرمو راخ نے ایک معروف سافٹ ویئر سروس ’آرٹیفیکٹری‘ میں سامنے آنے والی ایک سنگین سکیورٹی خامی کو حالیہ دعوؤں سے جوڑا تھا، جن میں بتایا گیا کہ اے آئی ایجنٹس نے سافٹ ویئر میں ایسی کمزوریاں تلاش کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے جنہیں سائبر حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    راخ نے اس امکان پر بھی توجہ دلائی کہ مستقبل میں اے آئی ایجنٹس خودکار طور پر کمزور کمپیوٹر سسٹمز تلاش کرکے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ان کے مطابق انٹرنیٹ کے نئے دور میں وہ نظام جو قابلِ ہیک ہوں، ان کے خودکار طور پر نشانہ بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آرٹیفیکٹر ی کی مذکورہ خامی خود کسی اے آئی ایجنٹ نے دریافت یا استعمال کی تھی۔

    مسک نے اسی بحث کے دوران گوگل کے شریک بانی لیری پیج کے ساتھ اپنی ایک پرانی گفتگو کا حوالہ بھی دیا مسک کے مطابق پیج تقریباً ایک دہائی قبل بار بار یہ پیش گوئی کرتے تھے کہ اے آئی ہیکنگ کے معاملے میں انسانوں سے آگے نکل جائے گی۔

    اے آئی کے خودمختار رویے سے متعلق خدشات صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہے حالیہ مہینوں میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے اے آئی ماڈلز کی جانچ کے دوران ایسے واقعات کی اطلاع دی ہے جن میں ماڈلز نے متوقع حدود سے ہٹ کر کام کرنے کی کوشش کی۔

    اوپن اے آئی نے حال ہی میں ایک سکیورٹی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کی داخلی جانچ کے دوران تقریباً 1200 اے آئی ایجنٹس نے آرٹیفیکٹری نامی اندرونی سروس کو ایک دوسرے سے رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا۔

    رپورٹ کے مطابق ان ایجنٹس نے 70 ہزار سے زیادہ پیغامات اور فائلوں کا تبادلہ کیا، جبکہ تقریباً 700 ایجنٹس نے بعد میں ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹمز کو ہدف بنایا اسی طرح اینتھروپک اور میٹا نے بھی حالیہ عرصے میں اپنے اے آئی سسٹمز کی جانچ کے دوران ایسے رویوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جنہیں کمپنیوں نے توقع سے ہٹ کر یا ’’روگ‘‘ رویہ قرار دیا۔

    ان واقعات کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اے آئی اگلے سال واقعی ہر ڈیجیٹل کام میں انسانوں سے آگے نکل جائے گی۔ مسک کی بات ایک پیش گوئی ہے، حتمی سائنسی نتیجہ نہیں۔

  • پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں اے آئی کو لازمی مضمون بنانے کا اصولی فیصلہ

    پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں اے آئی کو لازمی مضمون بنانے کا اصولی فیصلہ

    پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا۔

    حکام کے مطابق سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مضمون شامل کرنے کا مقصد طلبا کو جدید ٹیکنالوجی، مستقبل کی ملازمتوں اور تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے اے آئی کی تعلیم سے طلبا کو جدید ٹیکنالوجی کے بنیادی تصورات اور اس کے عملی استعمال سے آگاہی حا صل ہو گی، جبکہ تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں بھی بہتر ہوں گی۔

    حکام کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت سرکاری اسکولوں کی کمپیوٹر لیبز کو جدید بنانے اور ضروری سہولیات کی فراہمی پر بھی توجہ دی جائے گی اس کے علاوہ اساتذہ کی تربیت کا انتظام کر کے انہیں مصنوعی ذہانت کی تعلیم دینے کے قابل بنایا جائے گا، تعلیمی نظام میں اے آئی کو شامل کرنے سے صوبے میں جدید اور ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ ملے گا اور نئی نسل مستقبل کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت اور چیلنجز کے لیے بہتر طور پر تیار ہوسکے گی۔

  • پاکستان باضابطہ طور پر مصنوعی ذہانت کی بین الاقوامی تنظیم کا بانی رکن بن گیا

    پاکستان باضابطہ طور پر مصنوعی ذہانت کی بین الاقوامی تنظیم کا بانی رکن بن گیا

    پاکستان نے باضابطہ طور پر ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈبلیو اے آئی سی او) کے قیام کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے اس کی رکنیت اختیار کر لی۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے چین کے شہر شنگھائی کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کر لیا، جس کے دوران پاکستان نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈبلیو اے آئی سی او) کے قیام کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے تنظیم کی باضابطہ رکنیت حاصل کر لی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے تنظیم کے بانی معاہدے پر دستخط کیے اور ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن کی افتتاحی تقر یب میں بھی شرکت کی دورے کے موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے متعدد اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ملاقات نمایاں رہی –

    دفتر خارجہ کےمطابق شنگھائی سےروانگی کے موقع پر شنگھائی میونسپل حکومت کےمحکمہ خارجہ کی سینیئر پارٹی رکن سو لِن، پاکستان کےسفارت خانے بیجنگ اور شنگھائی میں پاکستانی قونصل خانے کے حکام نے اسحاق ڈار کو ایئرپورٹ پر الوداع کیا،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اپنا دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گئے، جہاں وہ آئندہ ہفتے اہم سفارتی سرگرمیوں اور سرکاری مصروفیات میں شرکت کریں گے۔

  • 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دی جائے گی،شزا فاطمہ

    10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دی جائے گی،شزا فاطمہ

    وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ٹی ) شزا فاطمہ خواجہ نے10 لاکھ نوجوانوں کو ’اے آئی‘ کی ٹریننگ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) سے آنے والے عالمی انقلاب کے باعث زندگی کے تمام شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور پاکستان کو اس ریس میں پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا حکومت نے اگلے 3 سال کے دوران 10 لاکھ نوجوانوں کو مصنو عی ذہانت (اے آئی) کی جدید ترین تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے یہ تمام ٹریننگز بالکل ‘مفت’ فراہم کی جائیں گی تاکہ مالی وسائل کسی بھی طالب علم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ ’اے آئی پالیسی‘ منظور کر لی ہے انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ’پاکستانی نکتہ نظر‘، ہماری ثقافت، زبان اور مقامی ضروریات کے مطابق ٹرینڈ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملکی مسائل کا مقامی سطح پر حل نکالا جا سکے۔

    ماضی میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور رابطے کے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں موزوں سپیکٹرم دستیاب نہ ہونا ایک بڑا چیلنج تھا تاہم اب حکومت نے اس کا مستقل حل نکال لیا ہےپاکستان کے بڑے شہروں میں 5Gسروسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت نے انقلابی اقدامات کرتے ہوئے سپیکٹرم کی دستیابی کو 270 میگا ہرٹز سے براہ راست بڑھا کر 750 میگا ہرٹز کر دیا ہے، جبکہ حال ہی میں 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم کامیابی سے نیلام کیا گیا ہے مزید برآں، ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے نئی سب میرین کیبلز بھی بچھائی جا رہی ہیں۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی کمپنی ‘گوگل’ کے ساتھ پاکستان میں براہ راست کام کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے حوالے سے مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں اب گوگل کروم بکس کی پاکستان میں مقامی سطح پر تیاری شروع ہو چکی ہے، جو کہ ’میڈ ان پاکستان‘ ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک سنگ میل ہے، ان تمام اقدامات کا مقصد پاکستان کو خطے کا ڈیجیٹل ہب بنانا اور نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کے قابل بنانا ہے۔

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    ٹرمپ انتظامیہ نے سرکردہ AI ڈویلپرز سے کہا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری سائبرسیکیوریٹی ٹیسٹوں کے لیے اپنے انتہائی قابل ماڈلز کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلےوفاقی حکومت کو پیش کریں، ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کیونکہ واشنگٹن میں طاقتور نئے AI سسٹمز جیسے کہ Anthropic’s Mythos پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سےپہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا،اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

    اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

    یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے جبکہ اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو سکتی ہے اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہےسرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والےتھےیہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

    کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

    ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا، اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

  • دبئی میں کھولا جانے والا دنیا کا پہلا اے آئی اسمارٹ بس اسٹیشن

    دبئی میں کھولا جانے والا دنیا کا پہلا اے آئی اسمارٹ بس اسٹیشن

    دبئی میں دنیا کے پہلے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اسمارٹ بس اسٹیشن کا افتتاح کردیا گیا-

    دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کی جانب سے ’مال آف دی ایمریٹس‘ کے مقام پر قائم کیا گیا یہ جدید اسٹیشن جدید ڈیجیٹل سہولیات، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور 24 گھنٹے فعال اسمارٹ سروسز سے لیس ہے،یہ اسمارٹ بس اسٹیشن براہِ راست مال آف دی ایمریٹس میٹرو اسٹیشن سے منسلک ہے اور دبئی کے رہائشی، تجارتی اور سیاحتی علاقوں کو ملانے والی 11 بس روٹس کو سہولت فراہم کرے گا۔

    حکام کے مطابق منصوبے کا مقصد عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ تیز، محفوظ اور آسان بنانا ہے تاکہ شہری نجی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کو ترجیح دیں،اسٹیشن میں جدید اے آئی کیمروں کے ذریعے ہجوم کی نگرانی، بسوں میں مسافروں کی تعداد کا حقیقی وقت میں اندازہ، ڈیجیٹل معلوماتی اسکرینیں اور اسمارٹ کیوسک نصب کیے گئے ہیں، مسافر ان اسکرینوں پر بس اور میٹرو کی آمد کے اوقات، ٹیکسیوں کی دستیابی، اسٹیشن کا نقشہ اور قریبی مقامات کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

    آر ٹی اے کے مطابق اسمارٹ کیوسک میں موجود ورچوئل اسسٹنٹ سفر کی منصوبہ بندی، سوالات کے جواب اور ’لاسٹ اینڈ فاؤنڈ‘ خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔ مسافر ڈیجیٹل طریقے سے ٹکٹ خریدنے اور ’نول کارڈ‘ ری چارج کرنے کی سہولت بھی استعمال کرسکتے ہیں اسٹیشن میں نصب سولر پینلز بجلی پیدا کرتے ہیں جبکہ ہوا کے معیار پر نظر رکھنے کے لیے اسمارٹ سینسر بھی نصب کیے گئے ہیں یہ منصوبہ دبئی کو دنیا کے جدید ترین اور ماحول دوست شہروں میں شامل کرنے کے وژن کا حصہ ہے۔

  • اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔

    تفصیلات کے مطابق اس وائرس کو Evo–Φ2147 کا نام دیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نئے سرے سے تخلیق کیا گیا ہے صرف 11 جینز پر مشتمل یہ وائرس زندگی کی انتہائی سادہ شکلوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ انسانی جینوم میں تقریباً 200,000 جینز پائے جاتے ہیں، یہ وائرس خاص طور پر ای کولی (E. Coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    تحقیق کے دوران اے آئی ٹول Evo2 کی مدد سے 285 نئے وائرس بنائے گئے، جن میں سے 16 وائرس مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ سب سے کامیاب وائرس قدرتی اقسام کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تیز تھےتاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے ایسے وائرس مستقبل میں ممکنہ خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

    یہ تحقیق برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ایڈریان وولفسن کی قیادت میں اسٹارٹ اپ جینیرو نے کی ہے ڈاکٹر وولفسن کے مطابق اب قدرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جینوم ڈیزائن بھی زندگی کے ارتقائی عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا نیا ہیڈ کوچ کون؟

  • مصنوعی ذہانت اگلے 5 سال میں پوری انسانیت سے  زیادہ ہو سکتی ہے،ایلون مسک

    مصنوعی ذہانت اگلے 5 سال میں پوری انسانیت سے زیادہ ہو سکتی ہے،ایلون مسک

    ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نےخبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اگلے 5 سال میں نہ صرف اپنی موجودہ صلاحیتوں سے آگے بڑھ سکتی ہے بلکہ پوری انسانیت سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے-

    عالمی اقتصادی فورم میں ایلون مسک نے بلیک راک کے سی ای او لیری فنک کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ کمپیوٹر سسٹمز اور مختلف صنعتوں میں تیار شدہ ذہین سافٹ وئیر کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اگلے سال یا اس سال کے دوسرے نصف میں AI ممکنہ طور پر انسانی قابلیت سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ AI کی ترقی مرحلہ وار ہوگی اور اگلے 10 سال میں واضح مراحل میں بڑھتی رہے گی، جس کی رفتار زیادہ تر لوگ سمجھ نہیں پاتے، تاہم عالمی معیشت میں اس کے اثرات بہت جلد نظر آئیں گے،انہوں نے روبوٹکس میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسلا کے ہیومینوڈ روبوٹز، جنہیں ’آپٹیمس‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی فیکٹریوں میں معمول کے کام انجام دے رہے ہیں اور سال کے آخر تک یہ زیادہ پیچیدہ کام بھی کر سکیں گے، وقت کے ساتھ صارفین روبوٹز سے تقریباً ہر قسم کا کام کروانے کی توقع رکھ سکتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیسلا کی گاڑیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔

  • اے آئی  کے ممکنہ اثرات سے متعلق بل گیٹس نے دنیا کو خبردار کردیا

    اے آئی کے ممکنہ اثرات سے متعلق بل گیٹس نے دنیا کو خبردار کردیا

    مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کہا کہ اس وقت اے آئی کے اثرات محدود نظر آتے ہیں، مگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہے گی۔

    ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ آئندہ چار سے پانچ برسوں میں وائٹ کالر ملازمتیں شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں، اس دوران حکومتوں کو مساوات اور معاشی انصاف جیسے اہم مسائل پر فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اے آئی اگرچہ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں بہتری کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اگر اس انقلاب کو مؤثر انداز میں منظم نہ کیا گیا تو افرادی قوت، بھرتی کے نظام اور مجموعی معاشی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومتیں لوگوں کو نئی مہارتیں سکھانے کے لیے دوبارہ تربیت دیں گی یا ٹیکس کے نظام میں تبدیلی کریں گی،اس وقت اے آئی کے اثرات محدود نظر آتے ہیں، مگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہے گی۔

    یہ خدشات بل گیٹس کے حالیہ سالانہ خط ’’دی ایئر اہیڈ‘‘ میں بھی نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ماضی کی تمام ٹیکنالوجیکل انقلابات سے کہیں زیادہ تیز اور گہرے اثرات کی حامل ہے، جو معاشرے کے تقریباً ہر شعبے کو غیر معمولی رفتار سے بدل رہی ہے۔

    بل گیٹس نے نشاندہی کی کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں اے آئی پہلے ہی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ لاجسٹکس اور کال سینٹرز جیسے شعبوں میں کم مہارت والی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں، اگر اس رجحان کو قابو میں نہ لایا گیا تو دولت اور مواقع چند افراد تک محدود ہو سکتے ہیں، جس سے عدم مساوا ت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

    ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

  • بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو مزید بہتر بنانے اور سیکیورٹی فیصلوں کو ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سیل قائم کر دیا۔

    حکومت بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہے جو بلوچستان انٹیگریٹڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر (بی آئی ایس اے) سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے جرائم، سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سیل کا بنیادی مقصد جرائم کے رجحانات کی نشان دہی، خطرناک علاقوں میں ممکنہ خطرات کی قبل از اطلاع اور سیکیورٹی رجحانات کا تجزیہ کرنا ہے، اس سے حکومت کو کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے قبل حفاظتی اقدامات کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی،سیل حساس سکیورٹی ڈیٹا کی مکمل رازداری یقینی بناتے ہوئے ثبوت پر مبنی اور ڈیٹا ڈریون فیصلہ سازی میں معاو نت فراہم کرے گا۔

    سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، ضیا الحسن لنجار

    محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اے آئی سیل باقاعدہ تجزیاتی رپورٹس تیار کر کے پالیسی سازی اور آپریشنل پلاننگ میں مدد دے گا، اس کے علاوہ، ریسرچ اور تیکنیکی ترقی کے لیے کوئٹہ میں قائم یونیورسٹیوں اور اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

    بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، یہ سیل نہ صرف موجودہ سیکیورٹی انفرا اسٹرکچر کو مضبوط بنائے گا بلکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کی پیشگوئی کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گاماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ ڈیٹا پر مبنی فیصلے سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے-

    ایف آئی اےنے ائیرپورٹس کو آئی سی 4نظام سےمنسلک کردیا

    حکومت بلوچستان نے اس اقدام کو ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس کی طرف ایک سنگ میل قرار دیا ہے اور اے آئی سیل کا قیام ان کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک نئی پیش رفت ہے۔