Baaghi TV

Tag: اے آر وائی

  • عمران خان کو لائیو کیوں دکھایا؟پیمرا کا اے آروائی اوربول ٹی وی کو شوکازنوٹسز

    عمران خان کو لائیو کیوں دکھایا؟پیمرا کا اے آروائی اوربول ٹی وی کو شوکازنوٹسز

    اسلام آباد:عمران خان کو لائیو کیوں دکھایا؟پیمرا کا اے آروائی اوربول کو شوکازنوٹسز،اطلاعات کے مطابق پیمرا نے ایک بار پھرعمران خان کو لائیو دکھانے پراے آروائی اور بول ٹی وی کو شوکاز نوٹسز روانہ کردیئے ہیں، پیمرا کی طرف سے شوکازنوٹسز جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان کو قوم کے سامنے لائیو دکھانے پرپابندی کےباوجود دکھایا گیا جو کہ پیمرا کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے

     

    پمرا کی طرف سے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے پیمرا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ M/s کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (C.E.O.) اے آر وائی کمیونیکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ (اے آر وائی نیوز) اور بول نیوز کو تین (05) دنوں کے اندر تحریری طور پر وجہ ظاہر کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے، کیوں کہ مذکورہ بالا خلاف ورزیوں کے لیے چینل کے خلاف مناسب قانونی کارروائی جا سکتی ہے، بشمول جرمانہ، معطلی وغیرہ۔ اور سیکشن 29، 30 کے تحت لائسنس کی منسوخی اور پیمرا آرڈیننس 2002 کے ترمیم شدہ پیمرا (ترمیمی) ایکٹ کے کچھ بھی کارروائی کی جاسکتی ہے

    پیمرا کی طرف سے جاری شوکاز نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ ان اداروں کے نمائندے مورخہ پندرہ ستمبر کو پیمرا کو جواب جمع کروائیں اور اگراے آر وائی اور بول نیوز نے پیمرا کے شوکاز نوٹسز کا کوئی معقول جواب نہ دیا تو پھر ان ٹی وی چینلز کو جرمانہ بھی ہوسکتا ہے اور نشریات پربھی پابندی لگ سکتی ہے، اس لیے ضروری ہےکہ پیمرا کی طرف سے مقرر کردہ وقت اور دن کو پیمرا ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر جواب دیا جائے

  • اے آروائی نے سینئراینکرارشد شریف سے راہیں جدا کرلیں

    اے آروائی نے سینئراینکرارشد شریف سے راہیں جدا کرلیں

    کراچی:اے آروائی نے سینئراینکرارشد شریف سے راہیں جدا کرلیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ایک میڈیا گروپ جسے دنیا اے آر وائی کے نام سے جانتی ہے اوراے آروائی میں ارشد شریف بھی ایک بڑا نام تھے ، جنہیں آج اے آروائی انتظامیہ نے خدا حافظ کہہ دیا ہے

    اے آر وائی کی جانب سے اس سلسلے میں ایک اعلان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ اے آر وائی کے ملازمین سوشل میڈیا پیجز پر ادارے کی پالیسی کے پابند ہیں ، کوئی بھی ملازم ادارے کی پالیسی کے‌خلاف پوسٹ نہیں کرسکتا،انہیں قواعد کی بنیاد پر ادارے نے کچھ اہم فیصلے کیے ہیں‌جن کے مطابق اے آر وائی کے سینیئر صحافی تجزیہ نگار ارشد شریف سے قطع تعلقی کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ ادارہ ان کے کسی بھی عمل کا ذمہ دارنہیں‌ہوگا

     

     

    یاد رہے کہ ارشد شریف اے آر وائی کے سنیئر صحافی ہیں جوعرصہ آٹھ سال سے خدمات سرانجام دے رہے تھے ، وہ ہمیشہ ملک کے قومی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونے کا دعویٰ کرتے رہے لیکن جب عمران خان کی حکومت ختم کی گئی تو اس وقت سے انہوں نے قومی اداروں کے خلاف ایک محاذ کھول لیا تھا ، ان کے اس عمل کی وجہ سے ارآروائی جیسے بڑے میڈیا گروپ کو بھی سخت مشکلات کا سامنا تھا

    ان مشکلات سے جان چھڑانے کے لیے بالآخرارشد شریف سے اپنی راہیں جدا کرلی ہیں اور ساتھ ہی ان سے اپنی رفاقت ختم کرنا کا تحریری اعلان بھی کیا ہے

    یاد رہے کہ اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف ریاستی اداروں کے خلاف بیان دینے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن ایسے میں سوشل میڈیا پر ایک پرانی ویڈیو وائرل تھی جو کہ ان کے بھائی میجر اشرف شریف کے جنازہ کی تھی ۔

    ارشد شریف کے والد محمد شریف پاکستان نیوی میں کمانڈر تھے انہیں اپنی بہادری اور خدمات کے صلے میں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔ وہ 2011 میں حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کرگئے۔ ارشد کے بھائی میجر اشرف شریف اس وقت بنوں میں تعینات تھے۔ والد کے انتقال کی خبر سن کر وہ بنوں کینٹ سے روانہ ہوئے اور غرق پہنچے تو ان کی گاڑی پرکالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں میجر اشرف شریف شہید ہوگئے۔ ان کی عمر محض 35 برس تھی ۔

     

    لیکن افسوس کہ وہ اتنی بڑی قربانیوں کے باوجود ایک سیاسی شخصیت سے متاثرہوئے پاک فوج کے خلاف کھڑے ہوگئے جس کی وجہ سے اے آر وائی جیسے ادارے کو بھی ان سے معذرت کرنا پڑی ، جس کاآج انہوں نے باقاعدہ اعلان کردیا ہے

  • سابق دورمیں پی ٹی وی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے نتائج آج پی ٹی وی بھگت رہا ہے،مریم اورنگزیب

    سابق دورمیں پی ٹی وی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے نتائج آج پی ٹی وی بھگت رہا ہے،مریم اورنگزیب

    سابق دورمیں پی ٹی وی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے نتائج آج پی ٹی وی بھگت رہا ہے،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پی ٹی وی اسپورٹس ریونیو دیتا ہے

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آج آزاد صحافت ہے، میڈیا کو ہم آئین کا چوتھا ستون کہتےہیں، جب پی ٹی آئی حکومت میں آئی دعوے کیے گئے لیکن عملی شکل سامنے نہ آئی،ماضی میں پی ٹی وی اور ریڈیو کو نیلام کرنے کا اعلان ہوا،حکومت آئی تو پی ٹی وی اسپورٹس نے معاہدہ سائن کیا،پی ٹی وی پرحملہ کرنیوالوں کو عمران خان نےشاباشی دی سابق دورمیں پی ٹی وی پرڈاکہ ڈالاگیا،22اپریل کوہم نےمعاہدے سےمتعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی 16 ستمبر2021 تک کرکٹ رائٹس پی ٹی وی کے پاس تھے پی ٹی وی کےحقوق کسی اورچینل کودینے کا فیصلہ کیا گیا،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے،پی ٹی آئی حکومت میں کہا گیا کہ پی ٹی وی اور ریڈیو کو بی بی سی ماڈل پرا سمارٹ نیشنل براڈ کاسٹر بنایا جائے گا،آسان راستہ تھا کہ پریس ٹاک کر کے الزام لگاتے اور انہیں جیلوں میں ڈال کر بھول جاتے، سابق دور میں پی ٹی وی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے نتائج آج پی ٹی وی بھگت رہا ہے، پی ٹی وی اور ایم گروپ، اے آر وائے کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوئے اس معاہدے کے تحت پی ٹی وی ا سپورٹس کرکٹ رائٹس کو ایکوائر کرتا ہے پی ٹی وی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ اس کام کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں،پی ٹی وی وہ ادارہ ہے جس کا 100 فیصد شیئر حکومت پاکستان اون کرتی ہے،پی ٹی وی اسپورٹس پی ٹی وی بورڈ کے پاس گیا اور کہا کہ ہم تباہ ہوگئے، سابق حکومت پی ٹی وی کو نیلام کرنے جا رہی تھی،اظہار دلچسپی کا اشتہار ایک اخبار میں 10 اگست 2021 کو شائع ہوا،پبلک پرائیویٹ شپ کے حوالے سے چیزیں شامل کی گئیں،منصوبے کے تحت بڈز طلب کی جاتی ہیں پی ٹی وی کا معاشی قتل کیا گیا بولی میں زیادہ نمبر لینے والے ادارے کے برعکس اے آر وائے کےساتھ معاہدہ کیاگیا،کوئی فرق نہیں پڑا، وہ سکرین کیوں ریاست اور اپوزیشن کے خلاف پراپیگنڈہ کر رہی ہے،

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ یہ پورا منصوبہ تیار کیا گیا، اے آر وائی کو خریدا گیا ہے ،پاکستان ٹیلی ویژن کا منہ، آنکھیں کاٹ دیئے گئے ، صادق اور امین گریبانوں میں دیکھیں ، عمران خان اے آر وائے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں من پسند کمپنی نے ایچ ڈی آلات اور کیمرے کرائے پر منگوا کرپی ٹی وی کو دیئے،کہا گیا محکمہ جاتی سزائیں دے دیں، ڈاکے کی ایسی سزائیں نہیں ہوتیں،ایف آئی اے کو کوائف دے دیئے گئے ہیں،یہ غیر قانونی ڈیل ہے،مکمل تفصیل ہم پیر کو جمع کرا دیں گے، بطور چیف ایگزیکٹو غیر قانونی ڈیل کو ختم کرنے کا حق رکھتی ہوں، چوری اور قتل چھپتا نہیں، ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہیں، جعلی ڈیل بھی پوری نہیں کی گئی

  • صابرشاکرنے اے آروائی سے 17 سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کردیا

    صابرشاکرنے اے آروائی سے 17 سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد:صابرشاکرنے اے آروائی سے 17 سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق اے آر وائی کے سینئر صحافی صابر شاکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پراپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہاہےکہ وہ اے آر وائی سے اپنی سترہ سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں

    صابرشاکر نے کہا ہے کہ انہوں نے اے آر وائی کے مالک سلمان کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے اورکہا ہے کہ ان کی دعا ہے کہ اے آر وائی سدا خوش رہے ، سدا آباد رہے ، اے آر وائی کی ٹیم کے لیے دعا گو ہوں کہ وہ ترقی کریں ، ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایمان ہے کہ ہرنفع نقصان کا مالک اللہ ہے اوربادشاہی صرف اللہ کی ہے

     

    صابر شاکر نے اپنے پغام میں پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ میری بہادر افواج کو سلام کہتا ہوں‌ اور یہ دعا کرتا ہوں کہ یہ ملک سدا پھلا پھولا رہے

    یاد رہے کہ چند دن پہلے صابر شاکر کے خلاف سندھ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ صابر شاکر کے خلاف محمود حسن نامی شہری کی مدعیت میں دفعہ 153، 505 اور 131 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سندھ کے ضلع میر پور خاص کے مہران پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صابر شاکر نے اداروں کے خلاف بیان دیے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل اے آر وائی کے اینکر ارشد شریف کے خلاف حیدر آباد میں ملکی اداروں کے خلاف بیان دینے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دریں اثنا پنجاب یونین آف جرنلسٹس (پی یوجے ) کے صدرابراہیم لکی ،جنرل سیکرٹری خاوربیگ و ایگزیکٹوکونسل نے اے آروائی کے ا ینکرپرسن صابرشاکرکیخلاف مقدمہ درج کرنے پرشدید برہمی کا اظہارکیاہے اور اس کوآزادی اظہارکیخلاف سنگین کاروائی قراردیاہے،اورسندھ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ فوری طورپرمقدمہ خارج کیا جائے ۔اپنے جاری کردہ ایک بیان میں ان کاکہناتھاکہ حکومت کے آنے کے فوری بعدمتعدد صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں ،

    اس سے قبل اینکرپرسن ارشدشریف کیخلاف بھی مقدمہ درج کیاگیا جوآزادی اظہاررائے پرپابندی کے مترادف ہے،سابقہ حکومت کے دور میں سینئرصحافی محسن بیگ سمیت کئی صحافیوں کوڈاریادھمکایاگیا اورمقدمے درج کئے گئے جس کوکسی طورپرقبول نہیں کیاجاسکتا ۔ان کامزیدکہناتھاکہ مسلم لیگ ن کا حکومت میں آنے کے بعد میڈیاکی آزادی کیلئے جودعوے تھے وہ ایسی مسلسل کاروائیوں کے بعددھرے کے دھرے رہ گئے،لہذا حکومت فوری طورپرایسے اقداما ت کرے جس سے بلاخوف وخطر آزادانہ ماحول میں اپنی پیشہ وارانہ فراءض انجا م دے سکیں۔۔

  • اداروں کیخلاف تنقید:ارشد شریف پر مقدمہ درج

    اداروں کیخلاف تنقید:ارشد شریف پر مقدمہ درج

    حیدرآباد:ارشد شریف پر مقدمہ درج ،اطلاعات کے مطابق نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ "ریاستی اداروں کے خلاف گفتگو” کرنے کے تحت درج کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ، مقدمہ حیدرآباد کےتھانہ بی سیکشن میں درج کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ ریاستی اداروں کےخلاف گفتگو کرنے کے تحت درج کیاگیا، پولیس نے بتایا کہ طیب حسین نامی نوجوان نے گزشتہ روزمقدمہ درج کرایا ہے۔

     

     

    ارشد شریف کے خلاف مقدمہ پر پی ایف یوجے کے سابق صدر افضل بٹ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ایف آئی اےکےتحت پرچہ درج ہوا تو قانون کی خلاف ورزی ہے، کسی بھی ادارے، شخص کو صحافیوں کی رائے کو دبانےکا اختیارنہیں۔

    صحافتی اداروں اور تنظیموں نے اس مقدے کے اندراج کے خلاف احتجاج کیا ہے، یاد رہے کہ ایف آئی آر کی کاپی میں ارشد شریف کا نام تک صحیح نہیں لکھا۔

    پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج کرتے وقت دیکھنا چاہیے کہ کس نام سے درج کررہے ہیں، اگراپ کوکسی میڈیا ادارے اور صحافی پراعتراض ہے تو شکایت لکھ کردیں۔

    ماہر قانون ابوذر سلمان نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایف آئی آر کے متن میں 3پینل کوڈ کے سیکشن لگائے گئے ہیں، میں نے ایف آئی آر کا متن دیکھاہے، مسئلہ ایف آئی آر سے نہیں اس کےطریقہ کار سے ہے۔

    ابوذر سلمان نے مزید کہا کہ دفعات کی سزا 7 سے 10سال تک ہے، ضروری ہےکہ پہلے معاملے کی انکوائری کی جائے، مدینہ منورہ واقعے میں 15 سے 20 ایف آئی آردرج ہوئی تھی، سندھ پولیس نےایف آئی آرکاٹی ہے، پولیس اور سندھ حکومت کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

    ماہر قانون کا کہنا تھا کہ ارشد شریف نے اپنی طرف سے کوئی چیزبیان نہیں کی، ارشد شریف نے تاریخ بیان کی، ان کیخلاف ایف آئی آرشرمناک حرکت ہے، ایسی ایف آئی آرکاٹی گئیں توکوئی انوسٹی گیٹو جرنلزم نہیں کرے گا۔

  • عمران خان نے اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال کو 40 ارب کا فائدہ دیا،مریم نواز

    عمران خان نے اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال کو 40 ارب کا فائدہ دیا،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نجی ٹی وی اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال کو 40 ارب کا فائدہ دیا، یہ الزام ن لیگی رہنما مریم نواز نے سرگودھا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے لگایا

    سرگودھا میں ن لیگ کے جلسے سے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، مریم نواز و دیگر نے خطاب کیا، مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید کی، اپنے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال کو 10 سے 12 ارب روپے کے رائٹ آف ٹیکس سمیت 16 ارب روپے کا ریلیف بھی دیا عمران خان صرف ایک ٹی وی چینل کے علاوہ باقی سب کو غدار،بکاؤ مال اور ایجنٹ سمجھتے ہیں

    سرگودھا جلسے میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ جی ٹی وی چینل پر پی ٹی آئی رہنما آج الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں ان چینلز نے دن رات خالی کرسیوں کے ساتھ جلسوں کو یکطرفہ کوریج دے کر انہیں عمران خان بنایا

    مریم نواز نے اے آر وائی ٹی وی چینل اور س کے اینکرز کو ریاستی اداروں پر حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپنے قریبی دوست سلمان اقبال کے ساتھ مل کر جسے وہ سونے کا سمگلر کہتے تھے قومی اداروں پر حملہ کر رہے ہیں

    دوسری جانب اے آر وائی کا موقف بھی آیا ہے، اے آر وائی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم مریم نواز کے الزامات اور دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں اے آر وائی نیوز کا کام عوام کے مسائل اجاگر کرنا اور سچ دکھانا ہے اے آر وائی نیوز حق کا فریضہ جاری رکھے گا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایک صارف کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پروپیگینڈا کو ایکسپوز کرنے کے لیے مریم نواز شریف کافی ہیں جس طرح آج اے آر وائے کی حقیقت بیان کی میرا خیال ہے اُن کو بھی کُچھ آرام ملا ہوگا۔مریم نواز شریف کی جارحانہ سیاست ہی وقت کی ضرورت ہے

    واضح رہے کہ مریم نواز اے آر وائی پر تنقید کرتی رہتی ہے، اے آر وائی کی خبروں کو مریم نواز نے چند روز قبل جھوٹا قرار دیا ہے

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

  • اے آروائی مالکان عمران کو پاکستان پرمسلط کرنیکی سازش کے سپانسرزہیں،خواجہ سعد رفیق

    اے آروائی مالکان عمران کو پاکستان پرمسلط کرنیکی سازش کے سپانسرزہیں،خواجہ سعد رفیق

    اے آروائی مالکان عمران کو پاکستان پرمسلط کرنیکی سازش کے سپانسرزہیں،خواجہ سعد رفیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نے گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے حوالہ سے ذرائع سے خبر چلائی جس پر پیمرا نے اے آر وائی کو نوٹس جاری کیا ہے تو وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی اس خبر کو جھوٹا قرار دیا ہے

    اب ن لیگی رہنما ، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ گولڈ فنگر فیم اے آر وائی مالکان عمران کو پاکستان پرمسلط کرنیکی سازش کے سپانسرزہیں سچ اوراے آروائی ایک دوسرے کی ضد ھیں رینکنگ کیلئے سنسنی پھیلانا،خواھش یاافواہ کوخبر بنانا،نفرت جھوٹ اورتعصب کا پرچاراس چینل کے مالکان کی پالیسی ھے چھان بین کرنا ھوگی کہ یہ مافیایہاں کس کےمفادات کیلئے کام کررھا ھے؟

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی #اے_آر_وائی_کوبندکرو ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے ، ٹرینڈ میں صارفین اے آروائی کے حوالہ سے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں

    ڈاکتر ہما سیف لکھتی ہیں کہ اے آر وائی کے جھوٹ اور پروپیگنڈا کی وجہ سے کیس ہارنے اور جرمانہ دینے کی لمبی تاریخ ہے اب پھر پاکستانی سفارتکار سے غلط باتین منسوب کرکے خان کے حق مین اور ملک کے خلاف پروپیگنڈا کررہے اے آر وائی کو 2018 مین بھی جھوٹ اور پروپیگنڈا کی وجہ سے تین ملئن کا جرمانہ ہوا ،اس سال بھی ARY کو جھوٹے پروپیگنڈا کی وجہ سے ناصرف جرمانہ ہوا بلکہ معافی بھی مانگنی پڑی

    اے آر وائی پر خبر چلنے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نجی ٹی وی پرحساس معاملات پر گفتگو اورحقائق کوغلط اندازسےپیش کرنا خطرناک ہے نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان کے بعد سازش کی بحث دفن ہوگئی ہے واضح ہوگیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی، اسے سازش دکھانے والے اصل میں سازش کررہے ہیں پاکستانی سفیر نے موقف اجلاس میں رکھا، ان کے مراسلے کے تناظر اور مواد کا بغور جائزہ لیا گیا ،سفیر کے موقف، تناظر اور ارادے کے واضح ہونے کے بعد یہ خبریں محض منفی سیاست کا حصہ ہیں ،جھوٹ کو خبر بنا کر پیش کرنا پاکستان کے قومی مفادات کے گلے پر چھری چلانا ہے عمران صاحب بعض چینلز کو جھوٹی خبریں فیڈ کررہے ہیں جو ملک کے خلاف سازش ہے ،عمران صاحب کا جھوٹ پکڑا گیا ہے تو وہ میڈیا کے ایک حصے کو جھوٹی خبریں پھیلانے کے لئے استعمال کررہے ہیں ،نیشنل سکیورٹی کونسل کے اعلامیے کے بعد اس نوع کی خبریں ملک کے ساتھ بھلائی نہیں،ملکی سلامتی افراد ، اداروں سے زیادہ مقدم ہوتی ہے۔

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید

  • اے آر وائی کا گھیرا مزید تنگ:قومی سلامتی کمیٹی کی خبرکوذرائع سے چلانے پرشوکازنوٹس

    اے آر وائی کا گھیرا مزید تنگ:قومی سلامتی کمیٹی کی خبرکوذرائع سے چلانے پرشوکازنوٹس

    اسلام آباد:اے آر وائی کا گھیرا مزید تنگ:قومی سلامتی کمیٹی کی خبرکوذرائع سے چلانے پرشوکازنوٹس ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پیمرا کی طرف سے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پربہت زیادہ دباوبڑھا دیا گیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اے آر وائی کو شوکاز نوٹس بھی بھیج دیا گیا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جھوٹی خبر چلانے پر اے آ ر وائی نیوز کو پیمرا نے شو کاز نوٹس جا ری کر دیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کی خبر کو ذرائع سے چلانے پر جواب طلب کر لیا۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیرنے واضح کردیا ہے کہ امریکا پاکستان میں رجیم چینج میں ملوث ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے معاملے میں حکومتی دباؤ کے باوجود امریکا میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید ڈٹ گئے۔

    نجی ٹی وی اے آر وائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق پاکستانی سفیر اسد مجید پر بیان بدلوانے کے لیے حکومتی دباؤ کام نہ آیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسد مجید نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ خط میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی ہے، کیسے کہوں کہ یہ اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے مطابق مراسلے میں کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی ہے۔

    جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے توثیق کی ہے کہ امریکی مراسلہ سازش نہیں مداخلت ہے، خفیہ اداروں نے اعلامیہ کی تحقیقات کی، واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کو ٹیلی گرام موصول ہوا، تمام ترمعلومات اور مراسلوں کی بنیاد پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ غیر ملکی سازش نہیں تھی۔

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے جاری اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوران تحقیقات غیر ملکی سازش کے کوئی ثبوت نہیں ملے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کا اعادہ بھی کیا گیا۔

  • پی ٹی سی ایل نے کیبل پر اے آر وائی نیوز کو بلاک نہیں کیا:پیمرا

    پی ٹی سی ایل نے کیبل پر اے آر وائی نیوز کو بلاک نہیں کیا:پیمرا

    لاہورپی ٹی سی ایل نے کیبل پر اے آر وائی نیوز کو بلاک نہیں کیا:اطلاعات کے مطابق پیمرا نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لاہور کے جلسے کی لائیو کوریج کو کیبل پرپابندی نہیں لگائی گئی ،

     

    دوسری طرف مریم اورنگزیب نے بھی کہا ہے کہ اے آر وائی کوکیبل پرپابندی نہیں لگائی گئی ،

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اے آر وائی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے جلسے کی کوریج کرنے پر پی ٹی سی ایل نے کیبل پر اے آر وائی نیوز کو بلاک کردیا۔

     

    تفصیلات کے مطابق عمران خان کے جلسے کی کوریج کرنے پر ملک کے مختلف شہروں میں کیبل پر اے آر وائی نیوز کی نشریات بند کردی گئیں، پی ٹی سی ایل نے بھی کیبل پر اے آر وائی نیوز کو بلاک کردیا ہے۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ ظفروال، ڈسکہ، مانسہرہ میں بھی اے آر وائی نیوز کی نشریات نہیں دکھائی جارہیں۔

    مینار پاکستان اور اطراف کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس میں بھی خلل آرہا ہے، مختلف شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈںگ بھی کی جارہی ہے۔

    لاہو ر کے مختلف علاقوں میں بھی اے آر وائی نیوز کی نشریات بند کردی گئی ہیں، پی سی ایس آئی آر، کالج روڈ اور اطراف میں نشریات بند ہیں۔

    ادھر سندھ پولیس بھی سی ویو پر پی ٹی آئی کے پروگرام میں پہنچ گئیں، پولیس کی جانب سے اسکرین بند کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔