Baaghi TV

Tag: بائبل

  • ٹرمپ نے  حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی صدارت کا حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے۔ اس موقع پر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے عہدہ صدارت کا حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب میں ایک حیران کن بات یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ دو بائبلز تھامے کھڑی تھیں، وہیں صدر ٹرمپ نے اپنا سیدھا ہاتھ بلند کیا لیکن کسی بھی بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔اگرچہ امریکی دستور کے تحت صدر کے لیے بائبل پر ہاتھ رکھنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے، مگر یہ ایک قدیم روایت ہے کہ امریکی صدر اپنے عہدے کا حلف ایک ہاتھ بائبل پر رکھ کر لیتا ہے۔ یہ روایت امریکا کی صدارت کی تاریخ میں صدیوں سے جاری ہے، تاہم ٹرمپ کا یہ غیر متوقع اقدام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بن گیا۔

    یاد رہے کہ 20 جنوری 2017 کو اپنے پہلے دور صدارت کی حلف برداری کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو دو بائبلز پر رکھا تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال نے ملکی اور عالمی سطح پر بحث و مباحثہ کو جنم دیا ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    سائنسدانوں نے ایک ہزار سال سے زائد قدیم بیج زندہ کر دیا ہے جو اب ایک درخت میں تبدیل ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی: یہ بیج 1980 کی دہائی میں یہودا صحرا میں ایک کھدائی کے دوران ملا تھا اور اس کا تخمینہ 993 عیسوی سے 1202 عیسوی کے درمیان کا ہے ،اس نایاب درخت کی اونچائی 10 فٹ ہے اسے بڑھنے میں 14 سال لگےاور اسے ”شبا“ کا نام دیا گیا ہے جو بائبل کی ایک مشہور ملکہ کے نام پر ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بیج بائبل میں ذکر کردہ درختوں کی ایک نسل سے تعلق رکھتا ہے جو آج کے اسرائیل، فلسطین اور اردن میں پائے جاتے تھے یہ درخت ”تسوری“ (یعنی بالسم) کا ماخذ ہو سکتا ہے جو بائبل میں ذکر کردہ ایک ریزن ہے جسے طبی خواص کے لیے جانا جاتا ہے ”شبا“ کی خوشبو نہیں ہے مگر اس کے پتوں میں ایسی کیمیائی خصوصیات پائی گئی ہیں جو سوزش اور کینسر کے خلاف مؤثر ہو سکتی ہیں۔

    سائنسدانوں نے درخت کے پتوں کا کیمیائی تجزیہ کیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ اس میں موجود مرکبات اینٹی آکسیڈنٹ اور جلد کو ہموار کرنے کی خاصیات رکھتے ہیں شبا درخت کی پرجاتی کے بارے میں سائنسدانوں کو مکمل طور پر یقین نہیں ہے کیونکہ اس نے اب تک پھول یا تولیدی مواد نہیں دیا ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اگر موجودہ دور میں کوئی Commiphora کی قسم موجود ہے تو وہ بھی دریافت کی جا سکتی ہےلیہ درخت بائبل میں ذکر کردہ دوسری اہم مرکبات جیسے کہ میری اور فرانکی سینس سے بھی منسلک ہے جو حضرت عیسیٰ کے دور سے جڑی ہوئی ہیں۔

    یہ بیج بحیرہ مردار-جورڈن رفٹ ویلی کے اندر واقع ایک غار میں دریافت کیا گیا تھا، یہ علاقہ سوڈانی اور سوڈانو-زمبیزیائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 14.5% نباتات کی میزبانی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ ماحولیاتی زون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ Commiphora کی نسل، جس سے ممکنہ طور پر بیج تعلق رکھتا ہے، افریقہ سے ہجرت کر کے خطے کی منفرد آب و ہوا کے مطابق ہو سکتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”شبا“ کی تحقیق سے ہمیں بائبل کے قدیم معالجے کے راز جاننے کا موقع ملے گا اور ممکنہ طور پر دیگر قدیم درختوں کو زندہ کرنے کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

  • سویڈن: مقصدمقدس کتابوں کوجلانا نہیں تھا،صرف قرآن کی بیحرمتی کیخلاف آواز اٹھانا تھا.مسلم نوجوان

    سویڈن: مقصدمقدس کتابوں کوجلانا نہیں تھا،صرف قرآن کی بیحرمتی کیخلاف آواز اٹھانا تھا.مسلم نوجوان

    سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پولیس کی جانب سے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے احتجاج کے دوران بائبل اور تورات کو جلانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد جہاں اسرائیل نے شدید ردعمل دیا وہیں پاکستان نے بھی مذمت کی جس کے پیشِ نظر تورات کی بے حرمتی کا منصوبہ تَرک کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق سویڈن نے مسلم نوجوان کو اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے آج توریت اور انجیل نذرآتش کرنے کی اجازت دی تھی جس کی اسرائیل کی جانب سے مذمت کی گئی تھی اسرائیل کے احتجاج کے بعد ہی 32 سالہ شخص نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ اپنے احتجاج سے آگے نہیں بڑھے گا۔ اس نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد دراصل ان لوگوں کی مذمت کرنا تھا، جو قرآن سمیت دیگر مقدس کتابوں کو جلاتے ہیں۔

    اجازت کے بعد احمد الوش اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے پہنچے اور انہوں نے توریت نذرآتش نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے پاس موجود لائٹر پھینک دیا اور کہا کہ مجھے اس کی بالکل ضرورت نہیں کیونکہ میں مقدس کتاب کو نذر آتش نہیں کروں گا نہ ہی کسی کو ایسا کرنا چاہیے۔

    مظاہرے کے منتظم احمد اے کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد دراصل مقدس کتابوں کو جلانا نہیں تھا بلکہ ان لوگوں پر تنقید کرنا تھا جنہوں نے حالیہ ماہ میں سوئیڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کیا ہے، جس کے لئے سوئیڈن کا قانون منع نہیں کرتا شامی نژاد سویڈش باشندے نے وضاحت کی کہ یہ ان لوگوں کے لیے جواب ہے، جو قرآن کو جلاتے ہیں، میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اظہار رائے کی آزادی کی حدود ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے

    واضح رہے کہ سویڈش پولیس نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اسٹاک ہوم میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے کے لیے اجازت نامہ دے دیا ہے، جس میں تورات اور بائبل کو جلانا شامل تھا۔

    غیرملکی میڈیا کےمطابق اسرائیل نےسویڈش حکومت سے احتجاج روکنےکا مطالبہ کیا ہے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ تمام مذاہب کی مُقدس کتابوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔


    انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ میں سویڈن میں حکام کی جانب سے ملک میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے بائبل کو جلانے کی اجازت دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہوں اسرائیل اس شرمناک فیصلے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے، جس سے یہودیوں کے مقدسات کو نقصان پہنچا ہے۔

    دہلی،رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کا اکشردھام مندر کا دورہ

    اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان کہا کہ ہم سویڈن سے مقدس کتابوں کو جلانے سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اسرائیل کے صدرکی حیثیت سے میں نے قرآن کو نذر آتش کرنے کی مذمت کرتا ہوں، جو مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے اور اب میرا دل شکستہ ہے کہ یہودیوں کی مقدس کتاب کے ساتھ ہی بائبل کے ساتھ بھی یہ ہی کیا گیا ہے، مقدس کتب کی بے حرمتی کی اجازت دینا اظہار رائے کی آزادی میں کوئی مشق نہیں ہے، یہ اشتعال انگیزی اور خالص نفرت کا عمل ہے، پوری دنیا کو مل کر اس قابل مذمت فعل کی مذمت کرنی چاہیے۔

    روس میں جنس کی تبدیلی پر پابندی کا قانونی بل پاس


    سُویڈن میں بائبل اور تورات کو نذر آتش کرنے کی اجازت دینے پر پاکستان کا سخت رد عمل سامنے آگیا ہے ترجمان دفتر خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ مقدس مذہبی کتابوں کو نذر آتش کرنے اجازت دینے کی مذمت کرتے ہیں، مذاہب کے خلاف نفرت انگیز اقدامات کی حمایت نہیں کرسکتے۔

    کریپٹو کرنسی کے بانی کیخلاف مقدمہ جزوی طور پر خارج