Baaghi TV

Tag: بادشاہ

  • بھارتی گلوکار بادشاہ کے نائٹ کلب کے باہر بم دھماکا

    بھارتی گلوکار بادشاہ کے نائٹ کلب کے باہر بم دھماکا

    چندی گڑھ : بھارتی گلوکار ’بادشاہ‘ کے کلب کے باہر دیسی ساختہ بم دھماکا ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی پولیس کےمطابق چندی گڑھ کے سیکٹر 26 میں نائٹ کلب کے باہر 2 دھماکے صبح 2.30 سے ​​2.45 بجے کے درمیان ہوا، 2 موٹرسائیکل سوارملزمان بارودی مواد پھینک کرفرار ہوگئے۔

    سیکیورٹی اداروں کے مطابق گینگسٹرز گولڈی براراور روہت گودارا (لارنس بشنوئی گینگ) نے سوشل میڈیا کے ذریعے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ڈیوراریسٹورنٹ ، سیویلی بار اور لاؤنج کو نشانہ بنایا، جو بھارتی ریپر بادشاہ کی ملکیت ہے، ریسٹورنٹ کے مالکان سے بھتے کے مطالبے کے لیے فون کے ذریعے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

    پولیس اس واقعے کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم دھماکے سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور نائٹ کلب کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔

    پولیس نے بتایا کہ دیسی ساختہ بم دھماکا ڈیورا کے باہر ہوا جو سیویلی بار اور لاؤنج کے قریب ہے، جو بھارتی ریپر کی ملکیت ہیں، دونوں ریسٹورنٹ ایک دوسرے سے 30 میٹرکے فاصلے پر ہیں دھماکے کی اطلاع ملنے کے بعد چندی گڑھ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حملہ آوروں کی شناخت کیلئے تحقیقات شروع کردی ہیں ، بم ڈسپوزل اسکواڈ اورفارنسک لیبارٹری کی ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

  • برطانوی بادشاہ چارلس سوم کو پلایا گیا نشہ آور قہوہ

    برطانوی بادشاہ چارلس سوم کو پلایا گیا نشہ آور قہوہ

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کو بحر الکاہل کے جزیرے سموآ کے دورے کے دوران نشہ آور قہوہ پلایا گیا۔

    برطانوی بادشاہ چارلس سوم کو نشہ آور قہوہ پلانے کا بنیادی مقصد انہیں ماحولیاتی نقصان کے بارے میں آگاہ کرنا تھا تاکہ اس کے تدارک کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔بادشاہ چارلس کو مقامی رسم و رواج کے مطابق ہائی چیف کا درجہ دیا گیا اور انہوں نے استقبالیہ تقریب میں نشہ آور قہوہ نوش کیا۔ اس تقریب میں وہ مقامی لوگوں کے درمیان موجود تھے اور قہوہ پینے کی روایتی تقریب میں شامل ہوئے۔شاہ چارلس آسٹریلیا اور سموآ کے گیارہ روزہ دورے پر ہیں۔ یہ ان کا گزشتہ سال کینسر کی تشخیص کے بعد پہلا بڑا غیر ملکی دورہ ہے۔ جزیرے کا یہ نشہ آور مشروب ثقافتی اعتبار سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔اس موقع پر شاہ چارلس کو قہوہ ناریل کے خول میں پیش کیا گیا۔

    یاد رہے کہ آسٹریلیا کے سابق نائب وزیرِاعظم 2022 میں مائیکرونیشیا کے ایک مقامی ریستوراں میں غلطی سے بہت زیادہ قہوہ پینے کے سبب اسپتال داخل ہوئے تھے۔

    اس واقعے کا مقصد ماحولیاتی مسائل پر توجہ دلانا ہے، جو کہ آج کی دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بادشاہ کا روایتی رسومات میں شامل ہونا، مقامی ثقافت کا احترام کرنے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ ایک یادگار لمحہ ہے جو عالمی رہنماؤں کے لیے ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    ایک ہی دن میں انڈیا کے درجنوں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول

    امریکن ایئر لائنز پھر بحران کا شکار،ملازمین نوکریوں سے فارغ

    کوکین سمگل کرنے کا جرم،امریکن ایئر لائن کے سابق مکینک کو سزا

    جہاز میں بم ہے،پرچی ملنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ

    بم کی دھمکی ملنے کے بعد بھارتی ایئر لائن کا رخ موڑ دیا گیا

    ایئر انڈیا کو بم سے اڑانے کی دھمکی افواہ نکلی

    احمد آباد میں کچھ اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں

    ممبئی میں تین بڑے بینکوں کو دھمکی آمیز ای میل موصول

    ویڈیو لیک ہونے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ڈیٹا ریکوری کا طریقہ

     ایئر انڈیا کی پرواز کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد ہر طرف افرا تفری

    بھارت میں طیارے کا اے سی نہ چلنے پر مسافر برہم ہو گئے

  • سعودی فرمانروا کی طبعیت خراب،ولی عہد کا دورہ جاپان ملتوی

    سعودی فرمانروا کی طبعیت خراب،ولی عہد کا دورہ جاپان ملتوی

    سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دورہ جاپان ملتوی کر دیا ہے

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جاپان کا تین روزہ دورہ کرنا تھا، بیس سے 23 مئی تک سعودی ولی عہد کا دورہ جاپان شیڈول تھا مگر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ولی عہد جاپان نہ جا سکے . سعودی ولی عہد کا دورہ جاپان دوسری بار منسوخ ہوا ہے.

    واضح رہے کہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز پھیپھڑوں کی سوزش میں مبتلا ہوگئے ہیں، انکا جدہ میں علاج معالجہ ہوا ،وہ السلام پیلس میں زیر علاج ہیں .”انتہائی قابل ڈاکٹر سعودی فرمانروا کا علاج کر رہے ہیں”، ایوان شاہی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن کی تشخیص ہوئی ہے طبی ٹیم نے اینٹی بائیوٹکس کے کورس پر مشتمل علاج تجویز کیا ہے

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • پاکستانی خاتون شاہ چارلس کی مشیرِ خاص مقرر

    پاکستانی خاتون شاہ چارلس کی مشیرِ خاص مقرر

    برطانوی میڈیا کا بتانا ہے کہ بکنگھم پیلس میں برٹش پاکستانی خاتون شاہ چارلس کی مشیر خاص مقرر ہوئی ہیں جبکہ یہ خاتون بہترین قومی اور بین الاقوامی امور کی ماہر ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون کو اشتہار کے ذریعے میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے علاوہ ازیں مقامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر روز اور برٹش پاکستانی خاتون شاہ چارلس کے پرائیویٹ سیکرٹری آفس کا حصہ ہوں گے، یہ آفس آئینی، حکومتی اور سیاسی امور کے لیے شاہ چارلس کو مشاورت فراہم کرتا ہے.

    برطانوی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برٹش پاکستانی اعلیٰ سرکاری آفیسر کا عہدہ بادشاہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری کے برابر ہو گا تاہم خیال رہے کہ بکنگھم پیلس میں اسسٹنٹ سیکرٹری کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، یہ تقرریاں شاہ چارلس کا برطانیہ کی تمام کمیونٹیز کا بادشاہ ہونےکی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    دوسری جانب حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاشف سرمد خالد کو امریکا میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد کولوراڈو کی ایڈمز کاؤنٹی میں ڈپٹی شیرف تعینات کر دیا گیا۔ کاشف خالد نے یونیورسٹی آف سندھ سے ایم اے کیا اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکا سے کرمنل جسٹس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ جبکہ یاد رہے کہ پاکستانی نوجوان کاشف خالد نے 2012 میں بطور کرائم رپورٹر کراچی میں صحافت بھی کی ہوئی ہے اور کاشف خالد 10 سال قبل امریکا منتقل ہو گئے تھے جہاں انہوں نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا اور کرمنل جسٹس میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکی ریاست کولوراڈو میں پولیس آفیسر کی نوکری حاصل کی۔

  • شہزادہ چارلس برطانوی تخت و تاج کےباقاعدہ بادشاہ بن گئے

    شہزادہ چارلس برطانوی تخت و تاج کےباقاعدہ بادشاہ بن گئے

    ملکہ برطانیہ کی وفات کے بعد شاہی تخت فوری طور پر ان کے جانشین اور ویلز کے سابق شہزادے چارلس کو سونپ دیا گیا ہے۔ملکہ الزبتھ دوم کے جمعرات کو انتقال کے بعد چارلس اصولاً بادشاہ بن گئے تھے لیکن آج بروزہ ہفتہ 10 ستمبر کو منعقد ہونے والی تقریب ملک میں نئے بادشاہ کو متعارف کرانے کے لیے ایک اہم آئینی اور رسمی اقدام ہے۔اس سلسلے میں لندن کی شاہی رہائش گاہ سینٹ جیمز پیلس میں باڈی ایکسیشن کونسل کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں بادشاہ چارلس کے ساتھ اہلیہ کمیلا اور ولی عہد ولیم بھی موجود تھے۔ تقریب میں کنگ چارلس نے حلف نامے پر دستخط کیے۔

    تقریب میں بادشاہ چارلس نے شہنشاہ برطانیہ کے عہدے کا حلف اٹھالیا، جس کے بعد سینٹ جیمز محل کی بالکونی سے چارلس کو باضابطہ بادشاہ بنائے جانے کا اعلان ہوا۔اعلان کے ساتھ ہی لندن ٹاور اورہائیڈ پارک سے توپوں کی سلامی دی گئی۔ اس موقع پر بادشاہ چارلس نے چرچ آف اسکاٹ لینڈ کی روایات کی پاسداری کا عزم بھی اٹھایا۔

    لندن کی شاہی رہائش گاہ سینٹ جیمز پیلس میں ہونے والی تقریب میں الحاق کونسل نے شرکت کی جو بادشاہ کو مشورہ دینے والے سینیر سیاست دانوں اور حکام پر مشتمل ہے۔ کونسل نے اس موقع پر باضابطہ طور پر ان کو ‘کنگ چارلس سوم’ کا لقب دیا۔ اس کے بعد بادشاہ کے حلف اور اعلانات کا سلسلہ جاری رہے گا۔تقریب سے خطاب میں شاہ چارلس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے ملکہ برطانیہ کی وفات پر اظہار افسوس کیا گیا، ملکہ برطانیہ کی وفات ہمارے خاندان کیلئے صدمہ ہے۔ بطور بادشاہ انہیں ذمہ داریوں کا احساس ہے۔

    ملکہ برطانیہ نے بہترین انداز میں ذمہ داریاں ادا کیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ شاہ چارلس کی تاجپوشی میں مزید کئی ماہ لگیں گے۔ اس سے قبل ملکہ الزبتھ کے والد کے انتقال کے سولہ ماہ بعد تاجپوشی کی تقریب جاری رہی تھی۔کونسل کی جانب سے اعلان میں کہا گیا: ‘شہزادہ چارلس فلپ آرتھر جارج اب ہماری ملکہ، جن کی خوشگوار یادیں ہمارے ساتھ ہیں، کی موت کے بعد ہمارے بادشاہ چارلس سوم بن گئے ہیں۔ خداوند بادشاہ کی حفاظت فرمائے۔’

    تقریب میں چارلس کے ساتھ ان کی اہلیہ کیملا، جو اب ملکہ کنسورٹ ہیں اور ان کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم بھی موجود تھے۔ ولیم اب تخت کے وارث اور ولی عہد ہیں جن کو ان کے والد کے لقب یعنی پرنس آف ویلز سے نوازا گیا ہے۔تقریب کے بعد ایک شاہی اہلکار نے سینٹ جیمز پیلس کی بالکونی سے بلند آواز میں اعلان کیا۔

    یہ عمل لندن اور برطانیہ بھر میں دیگر مقامات پر بھی کیا جائے گا۔ اسکاٹ لینڈ کے بالمورل کیسل میں تخت پر بے مثال 70 سال گزارنے والی 96 سالہ ملکہ کی موت کے دو دن بعد لوگ اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لندن کے بکنگھم پیلس کے باہر ان کی تعزیت کے لیے جمع ہیں۔یہ مناظر برطانیہ بھر میں دیگر شاہی محلات اور دنیا بھر میں برطانوی سفارت خانوں کے باہر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تاریخ میں پہلی بار براہ راست نشر ہونے والی قدیم روایت اور سیاسی علامت پر مبنی تقریب میں برطانیہ کے نئے بادشاہ بننے کا باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ یہ تقریب 1952 کے بعد پہلی بار منعقد کی گئی ہے جب ملکہ الزبتھ دوم نے تخت سنبھالا تھا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بادشاہ بن گئے

    ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بادشاہ بن گئے

    ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد اُن کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس برطانیہ کے بادشاہ بن گئے۔نئے شاہ برطانیہ چارلس نے اپنے بیان میں کہا کہ پیاری والدہ کا انتقال خاندان کے تمام افراد کے لیے بڑا دکھ کا لمحہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جانتا ہوں اس نقصان کو ملک، دولت مشترکہ کے ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں کیسا محسوس کیا جائے گا۔اہلِ خانہ اور مجھے یہ بات تقویت دے گی کہ ملکہ کو ہر ایک سے عزت اور گہری محبت ملی۔نو منتخب برطانوی وزیراعظم لز ٹرس نے کہا کہ ملکہ ایلزبتھ وسیع تر برطانیہ کی روح تھیں۔

    دوسری طرف برطانیہ نے ملکہ کے انتقال پر 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ کی تدفین لندن برج آپریشن کے منصوبے کے تحت سر انجام پائے گی،ملکہ کے تابوت کو شاہی ٹرین پر سینٹ پینکراس ریلوے اسٹیشن لندن منتقل کیاجائے گا اور پھر ریلوے اسٹیشن سے تابوت بکنگھم پیلس لایا جائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق ملکہ کی آخری رسومات دس روز بعد ویسٹ منسٹرا بے پر ادا کی جائیں گی اور ملکہ کی آخری رسومات کے وقت دو منٹ خاموشی اختیار کی جائے گی اور پھر ملکہ کو کنگ جارج ششم میموریل چیپل ونڈزر میں سپردخاک کیا جائے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ کی آخری رسومات کے روز قومی تعطیل ہوگی۔ملکہ کو سپرد خا ک کیے جانے کے دن لندن اسٹاک،بینک اور تمام اہم ادارے بند رہیں گے۔

  • شاہ رخ خان نے کس طرح سے دل جیتا جانی لیور کا

    شاہ رخ خان نے کس طرح سے دل جیتا جانی لیور کا

    جانی لیور کا شمار ہندوستان کے بہترین کامیڈینز میں ہوتا ہے انہوں نے آج سے پینتیس برس قبل اپنے فلمی کیرئیر کی شروعات کی۔شروع میں ممکری کیا کرتے تھے ،انہوں نے بڑی فلمیں حاصل کیں جن میںاداکاری کے جوہر دکھا کر لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔جانی لیور نے شاہ رخ خان کے ساتھ متعدد فلمو ں میں کام کیا ان دونوں نے آخری بار ایک ساتھ کام 2015 میں دل والے میں کیا ۔اپنے حالیہ انٹرویو میں جانی لیور نے شاہ رخ خان کے ساتھ اپنی کی ہوئی فلم بادشاہ کو یاد کیا اور بتایا کہ کس طرح سے شاہ رخ خان نے ان کے مشکل وقت میں حوصلہ افزائی کی تھی۔انہوں نے کہا کہ بادشاہ فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی اسی دوران میرے والد کی حالت بہت سیریس تھی وہ ہسپتال میں تھے اور میں شوٹنگ کررہا تھا جس روز ان کا آپریشن تھا اس

    روز مجھے ایک کامیڈی سین کرنا تھا میں اس سین کے لئے تیار ہو رہا تھا تو دیکھا شاہ رخ خان میرے پاس آئے اور بولے آپ کے والد کی طبیعت کیسی ہے میں حیران رہ گیا کہ میں نے تویہاں کسی کو نہیں بتایا یہاں تک کہ ٹیم کے کسی ممبر کو بھی بھنک نہیں ہے کہ میںکسی ذاتی مسئلے میں پھنسا ہوا ہوں یا میرا دل پریشان ہے ۔شاہ رخ خان نے مجھے کہا کہ اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو مجھے بتائیے میں ہر وقت آپ کی کسی قسم کی مدد کے لئے تیا ر ہوں۔جانی لیور کہتے ہیں کہ میں شاہ رخ خان کے اس عاجزانہ رویے کی وجہ سے بہت متاثر ہوا۔

  • شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جو تبدیلیاں اور انقلاب آ چکا ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو پہلے ہی اپنی کئی ویڈیوز میں بتا چکا ہوں ہے لیکن آج میں آپ کو سعودی عرب میں جاری کچھ اندرونی سازشوں کے بارے میں بتاوں گا۔ کہ کیسے محمد بن سلمان زبردستی خود کو سعودی عرب کا بادشاہ تسلیم کروانے پر بضد ہے۔ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے کیسی کیسی سازشیں کی جا رہی ہیں؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ویسے تو اس وقت سعودی عرب کے اقتدار پر محمد بن سلمان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے اس کے کئی ثبوت تو پوری دنیا نے دیکھ بھی لئے کہ کیسے سعودی عرب کی سرزمین پر Justin beiberاور سلمان خان کے میوزیکل کنسرٹ کروائے گئے۔ جن میں مختصر لباس پہنی ہوئی ڈانسرز سعودی عرب کے اس جھنڈے کو خود سے لپیٹ لپیٹ کر ڈانس کر رہی تھیں جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ اس سے علاوہ بھی جس طرح سے سعودی عرب میں سینما کھولے گئے، خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کئے گئے، خواتین کو نوکری اور اکیلے سفر کرنے کی اجازت دی گئی، خواتین کے لئے حجاب کی پابندی ختم کی گئی، اسرائیلی طیاروں کو سعودی عرب کی فضا میں پرواز کی اجازت دی گئی۔ مغربی ممالک کے سیاحوں کیلئے ویزے کی شرائط میں تبدیلی اور نرمیاں کی گئیں۔ یہ سب وہ پالیسیز ہیں جو کہ شاہ سلمان کے نظریے کے بالکل الٹ ہیں۔ ان کے پیچھے صرف اور صرف محمد بن سلمان کی آئیڈیالوجی ہے جو کہ وہ سعودی عرب میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس وقت تمام صدارتی اجلاسوں کی سربراہی، تمام عالمی وفود اور جو بھی معززین سعودی عرب کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں ان کے استقبال سے لیکر، مملکت کے جتنے بھی اہم کام ہیں وہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ہی ہورہے ہیں۔ سعودی شاہی عدالت کے معاملات اور رابطہ کاری بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر ہی ہورہے ہیں۔ یہاں تک کہ شاہی عدالت کے ساتھ رابطہ بھی اس وقت ایم بی ایس کے دفتر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ویسے تو جون 2017میں جب محمد بن سلمان کی تخت کے وارث کے طور پر تقرری ہوئی اس کے بعد سے ہی وہ ایک طرح سے سعودی عرب کا ڈی فیکٹو لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جس طرح سے شاہ سلمان پورے منظر نامے سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں اور سعودی عرب میں تمام پالیسیاں بھی ان کے نظریات کے خلاف بنائی جا رہی ہیں تو اس بات میں کوئی شک ہی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی کہ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کا بے تاج بادشاہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ مغربی میڈیا میں بھی رپورٹس شائع کی جا رہی ہیں کہ شاہ سلمان کو مکمل طور پر غیر فعال کرکے محمد بن سلمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں کہ محمد بن سلمان نے اپنے والد کو قید میں ڈال دیا ہے کیونکہ جب سے کرونا پھیلنا شروع ہوا تھا اور شاہ سلمان کو کرونا کے ڈر سے نیوم سٹی شفٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک وہ وہاں پر ہی ہیں وہاں سے باہر تشریف نہیں لائے۔ جس کے بعد محمد بن سلمان خود پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا ہے۔ان افواہوں کے درست ہونے میں چند دلائل یہ بھی ہیں کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی ریاض میں کسی غیر ملکی عہدیدار کیساتھ آخری ملاقات مارچ2020میں سابق برطانوی وزیر
    Dominik roabسے ہوئی تھی اور ان کا آخری بیرون ملک سفر عمان کا دورہ تھا جو انھوں نے جنوری2020میں سلطان قابوس کی موت پر تعزیت کیلئے کیا تھا۔جبکہ سعودی حکام کی طرف سے شاہ سلمان کی اہم مواقعوں پر عدم موجودگی اور غیر حاضری کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔ آپ خود سوچیں کہ ایک طرف جب شاہ سلمان کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ شاہ سلمان بالکل خیریت سے ہیں لیکن جب حکومتی معاملات اور فیصلوں کی بات کی جاتی ہے تو شاہ سلمان کہیں نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ اسی مہینے کے شروع میں ہونے والی فرانسیسی صدرEmmanuel Macron
    سے ملاقات اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی قیادت کے بعد تو تمام کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اور اب تو یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ شاہ سلمان کے برعکس محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی پوری طرح سے تیار ہیں۔ اور جلد ہی ان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی سامنے آسکتا ہے۔ یعنی اب سعودی عرب میں وہی ہو گا جو محمد بن سلمان چاہتا ہے شاہ سلمان اور ان کے نظریات اب ماضی کا قصہ بننے جا رہے ہیں۔
    ویسے تو شاہ سلمان کی غیر موجودگی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ ماسک پہننے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور کیونکہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گرمجوشی سے سلام کرنے کا رجحان رکھتے ہیں اس لیے انہیں کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی مکمل غیر موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا اس بات سے یقین اٹھ گیا ہے کہ ان کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ صرف کرونا ہے۔ ویسے بھی جس طرح سے اقتدار میں آنے کے بعد محمد بن سلمان نے کئی سعودی شہزادوں کو قید میں ڈالا ہے یا ملک سے باہر فرار پر مجبور کیا ہے تو زیادہ تر لوگوں کو یہ ہی خدشہ ہے کہ اس وقت شاہ سلمان کو دراصل قید یا نظر بند کیا گیا ہے تاکہ حکومتی معاملات مکمل طور پر ایم بی ایس کے قابو میں رہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن کھل کر اس مسئلے پر آواز اس لئے نہیں اٹھائی جا رہی کیونکہ سعودی عرب میں جو بھی محمد بن سلمان کے اقتدار کیخلاف آواز اٹھاتا ہے خواہ وہ شاہی خاندان سے ہو یا کوئی عالم ہی کیوں نہ ہو اس کے نصیب میں قید لکھ دی جاتی ہے۔ آپ کو یاد دلا دوں کہ یہ وہی محمد بن سلمان ہیں جنہوں نے صرف تنقید کرنے پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں بےدردی سے قتل کروا دیا تھا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں اس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا تھا لیکن سعودی عرب میں میڈیا آزاد نہ ہونے کی وجہ سے ایم بی ایس کے خلاف کبھی کوئی بھی آواز سامنے نہیں آتی۔ کوئی عالم دین محمد بن سلمان کی پالیسیزکو تنقید کا نشانہ بنائے تو چند لمحوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ سعودی حکام بھی اپنی نوکری بچانے کیلئے ایم بی ایس کی ہاں میں ہاں ہی ملاتے ہیں۔یہاں تک کہ تمام معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے محمد بن سلمان نے پورے ملک میں جاسوسی کا ایسا نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر ایک لمحے کی خبریں ایم بی ایس کو دی جاتی ہیں۔ تاکہ کوئی بھی بغاوت سر نہ اٹھا سکے اور اس کو پہلے ہی کچل دیا جائے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہاں تک تیاری مکمل ہے تو محمد بن سلمان نے ابھی تک اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کیوں نہیں کروایا تو اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ سعودی عرب کے سب سے اہم اسٹریٹجک اتحادی امریکی صدر جو بائیڈن نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ملاقات تو دور کی بات ہے یہاں تک کہ جوبائیڈن اور محمد بن سلمان کا ایک بار بھی ٹیلی فون پر رابطہ تک نہیں ہوا ہے۔ ورنہ شاہی عدالت تو خود کو محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار کرچکی ہے۔ اور محمد بن سلمان کے لئے یہ ہی بہتر ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح شاہ سلمان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھوں بادشاہی کا تاج پہن لیں ورنہ دوسری صورت میں ان کو شاہی خاندان کے اندر سے ہی بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب کی بادشاہت کا تاج محمد بن سلمان اپنے سر پر سجا چکے ہیں جس کا مظاہرہ پوری دنیا سعودی ولی عہد کے خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران دیکھ بھی چکی ہے کہ کیسے ان کا نیم شاہی استقبال کیا گیا اور کس طرح میڈیا نے اس کو وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ اس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بہت جلد اب سعودی عرب میں صرف وہی ہوگا جو کہ ایم بی ایس چاہے گا۔ اب سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں اور انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب اسلامی روایات اور تشخص جو سعودی عرب کی پہچان ہوا کرتا تھا اب وہ ملیا میٹ ہونے والا ہے جس کے بعد ایک نیا اور ماڈرن سعودی عرب دنیا کے سامنے ہو گا۔