Baaghi TV

Tag: بارسلونا

  • بارسلونا میں آتشزدگی کی روک تھام کے لیےمنفرد ٹیم کی خدمات

    بارسلونا میں آتشزدگی کی روک تھام کے لیےمنفرد ٹیم کی خدمات

    اسپین کے شہر بارسلونا میں آتشزدگی کی روک تھام کے لیے بکریوں اور بھیڑوں پر مشتمل ٹیم بنائی گئی ہے جن کا بس کام ہے زیادہ سے زیادہ سبزہ چرنا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک ادارے Pau Costa Foundation کی جانب سے اس طریقہ کار پر 2016 سے اسپین میں کام کیا جارہا ہے اور اس کے عہدیدار Guillem Canaleta نے بتایا کہ ماضی میں اس طرح جنگلات کو آتشزدگی سے بچایا جاتا تھا، ہم نے کچھ نیا نہیں کیا۔

    مصر: حکومت کا چرچ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 100,000 مصری پاؤنڈ دینے کا اعلان

    بارسلونا میں اس پروگرام کا آغاز اپریل میں Collserola پارک سے ہوا تھا 290 بھیڑوں اور بکریوں کو انڈر گروتھ کے لیے استعمال کیا ہے کولسیرولا نیشنل پارک 20 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور وہاں ہر سال آگ لگنے کے اوسطاً 50 واقعات سامنے آتے ہیں عام طور پر یہ آگ زیادہ نہیں پھیلتی مگر یہ خطرہ موجود ہےکہ کسی دن بڑےپیمانےپرآتشزدگی سےملحقہ آبادیاں متاثرہوسکتی ہیں-

    اس پائلٹ پراجیکٹ کا اختتام جولائی میں ہوا مگر اب اسے بارسلونا کے دیگر حصوں میں بھی جلد شروع کیا جائے گا، یہ بحیرہ روم کے بندرگاہی شہر کے 1.6 ملین باشندوں کو دیہی علاقوں کے بارے میں تعلیم دینے میں بھی مدد کرتا ہے-

    چرواہوں میں سے ایک ڈینیئل سانچیز نےکہا کہ سب سےبڑا چیلنج لوگوں کو دیہی زندگی کےبارے میں دوبارہ تعلیم دینا ہےجب وہ جانوروں کو چرانے کے لیے باہر لے جا رہے تھے سالہ ریوڑ کی دیکھ بھال کے لیے سینٹ لورینک ساول سے بارسلونا منتقل ہوا، جو کہ اندرون ملک سے کچھ 50 کلومیٹر (30 میل) دور واقع ہے۔ وہ بھیڑوں اور بکریوں کے پاس پارک میں ایک شیڈ میں سوتا ہے۔

    امریکی انخلا کے فیصلے نے قومی سلامتی کو مضبوط کیا،وائٹ ہاؤس

    8,200-ہیکٹر (20,262-ایکڑ) پارک نیویارک کے سینٹرل پارک سے 22 گنا بڑا اور پیرس کے بوئس ڈی بولون سے آٹھ گنا بڑا ہے اس کے دیکھنے کے مقامات بارسلونا کے وسیع و عریض نظارے پیش کرتے ہیں، اور پیدل سفر کے راستے اسے جوگرز، سائیکل سواروں اور سیر کے لیے نکلنے والے لوگوں میں مقبول بناتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بارسلونا پہلا شہر نہیں جہاں بھیڑ بکریوں کو آتشزدگی کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اس سے قبل امریکی ریاست کیلیفورنیا میں متعدد کمپنیوں نے بکریوں کی خدمات اسی مقصد کے لیے حاصل کیں جبکہ شمالی پرتگال میں گھوڑوں کے ذریعے Faia Brava reserve کو بچایا گیا جبکہ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں بھی مویشیوں کو آتشزدگی کا خطرہ کم کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے-

    یاد رہے کہ یہ ایک قدیم حکمت عملی ہے جس کو دنیا کے مختلف حصوں میں آتشزدگی کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس میں جن علاقوں میں آگ لگنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں سبزہ چرنے والے مویشیوں کو چھوڑ دیا جائے جو ایسی خشک نباتات کھالیں جو آگ کے لیے ایندھن کا باعث بن سکتی ہیں۔

    مصرمیں کالج کے پہلے سال ہی میڈیکل کی طلبہ کی ریکارڈ تعداد ناکام

  • بارسلونا میں انٹرنیشنل کشمیرکانفرنس:تحریک آزادی کشمیرکی حمایت

    بارسلونا میں انٹرنیشنل کشمیرکانفرنس:تحریک آزادی کشمیرکی حمایت

    بارسلونا :بارسلونا میں انٹرنیشنل کشمیرکانفرنس:تحریک آزادی کشمیرکی حمایت ،اطلاعات کے مطابق ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن اسپین کے زیر اہتمام بارسلونا کےنواحی شہر بادالونا میں انٹرنیشنل کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی قونصل جنرل مرزا سلیمان بابر بیگ اور خصوصی شرکت چیئرمین ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ چوہدری پرویز اقبال لوسر نے برسلز سے خصوصی شرکت کی۔

    کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔نظامت کے فرائض کامران خان نے سر انجام دئیے۔کانفرنس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مقامی آبادی کو مسئلہ کشمیر کی جانب متوجہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس طرح کی کانفرنسز جس میں اسپانش مقامی حکومتی اور اپوزیشن کے لوگ موجود ہوں فائدہ مند ہوتی ہیں۔ مقامی اسپانش حکومتی اور اپوزیشن کے نمائندوں نے اپنی گفتگو میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں پر ہونے والی زیادتی کی مذمت کی اور کہا کہ ہماری جماعتیں بھی اس مسئلہ پران کے ساتھ ہیں۔

    قونصل جنرل مرزا سلیمان بابر بیگ نے اپنے خطاب میں مقامی اسپانش حکومتی اور اپوزیشن کے نمائندوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کم وبیش تین سال سے لاک ڈاون لگا ہوا ہے، بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی بھی ممکن نہیں ہے۔ آپ لوگاگر مقبوضہ کشمیر جانا چاہیں اور وہاں کے حالات کو دنیا کے سامنے لانا چاہیں تو وہ آپ کو اجازت نہیں دیتے لیکن میں آپ لوگوں کو آزاد کشمیر کا فری ویزہ دیتا ہوں آپ جائیں اور وہاں کے حالات کو دیکھیں آپ خود جان جائیں گے کہ بھارت کس طرح نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے

    انہوں نے کہا کہ اب جنگ میزائل کی نہیں بلکہ اب سوشل میڈیا کی جنگ ہے جس میں آپ کو آگے بڑھنا چاہئیے جس طرح آپ لوگ مقامی زبان بولتے ہیں اس ہیتھار کو استعمال کریں اور یورپی عوام کو بتائیں کہ ہمارا ہمسائیہ کس قدر مظالم ڈھا رہا ہے

    چئیرمین ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ چوہدری پرویز اقبال لوسر نے کہا کہ ہماری اولین کوشش ہے کہ ہم مقامی افراد تک کسی بھی وسیلہ سے اس مسئلہ کو نمایاں کریں ہم یہاں کی پارلیمنٹ میں بھی گئے ہیں بھارتی قونصل خانہ کے سامنے بھی احتجاج کیا ہے میں اپنے پاکستانیوں کو کہتا ہوں کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کو ادھر چھوڑ دیں اور صرف ایک سبز ہلالی پرچم کے ہوجائیں دنیا عزت کرے گی،اپنے بچوں کو یہاں کی سیاسی جماعتوں اور اعلی تعلیم کے لئے آگے لے کر جائیں تو ہماری آواز ان کے ایوانوں تک پہنچے گی

    ہال میں موجود لوگ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند کرتے رہے