Baaghi TV

Tag: بارش

  • سیاحتی مقام کمراٹ میں سیاح پھنس گئے،رابطہ سڑکیں تباہ

    سیاحتی مقام کمراٹ میں سیاح پھنس گئے،رابطہ سڑکیں تباہ

    سیاحتی مقام کمراٹ خیبرپختونخوا میں سیلابی ریلے نے تباہی مچادی ہے،رابطہ سٹرکیں بند ہو گئی ہیں۔مقامی افراد کے مطابق مرکزی شاہراہ کو بحال کرنے میں کم از کم دو ہفتے لگ سکتے ہیں

    کمراٹ میں 300کےقریب سیاح بری طرح پھنس گئے ہیں ان میں کچھ نے اپنی مدد آپ کے تحت پیدل دشوار گزار راستوں سےچل کرجان بچائی کئی سیاح شدیدزخمی ہو گئے، مقامی لوگوں نے سیاحوں کی مددکی، اب بھی 60 سے 70 سیاح کمراٹ میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو ابھی تک محفوظ مقامات پر منتقل نہیں کیا جا سکا،

    دیر اپر کمراٹ میں سیلاب آنے کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ہدایت پر تمام محکمے الرٹ اور متحرک ہیں. ضلعی انتظامیہ عوام،سیاحوں کی تحفظ کیلئے فیلڈ میں موجود ہے۔ابتک 100 سے زائد سیاح کو مقامی انتظامیہ متاثرہ علاقوں سے نکال چکی ہے. بقایا رہ جانے والے سیاحوں کو مفت رہائش دی جارہی ہے.متاثرہ سڑکوں کی دوبارہ تعمیر و مرمت پربھی کام جاری ہے.

    اسسٹنٹ کمشنر فوکل پرسن شاہد علی کا کہنا ہے کہ کمراٹ میں سیاحوں کو ایک ہوٹل میں اکٹھا کیا گیا ہے، آج کوشش کی جاری ہے کہ سیاحوں کو باحفاظت نکال سکیں،جہازبانڈہ میں 50 سے 70 سیاح کو بھی کمراٹ آنے کا کہا گیا ہے، بری کوٹ کے مقام پر دریا برد میں دیرکمراٹ شاہراہ کی بحالی شروع کردی گئی جب کہ سیاحوں کو خوراک،کھانے پینےکی اشیاء حکومت فراہم کر رہی ہے

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • بلوچستان کے کئی اضلاع میں بارشوں سے مکانات تباہ،شہری بے گھر

    بلوچستان کے کئی اضلاع میں بارشوں سے مکانات تباہ،شہری بے گھر

    بلوچستان میں شدید بارشیں، سیلاب نے تباہی مچادی، مکانا ت تباہ ہو گئے، شہری کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں،بلوچستان میں طوفانی بارش کے بعد مختلف واقعات میں 29 افراد جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہوئے ہیں
    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے کہیں مکانات کو نقصان پہنچا تو کہیں برساتی ندی نالوں کو اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، دکی، زیارت، سنجاوی، لورالائی، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، کوژک ٹاپ، شیلاباغ، گلستان اور خواجہ عمران میں موسلادھار بارشیں ہوئیں جس دوران قلعہ سیف اللہ کےعلاقے تلری اور موسیٰ زئی میں بڑے پیمانے پر مکانات کو نقصان پہنچا،شدید بارشوں کے باعث دیگر مختلف شہروں کے پہاڑی برساتی ندی نالوں میں اونچے درجے کاسیلاب ہے جب کہ دکی، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں 6 افراد ریلوں میں بہہ گئے جن کی تلاش جاری ہے،شدید بارشوں کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں3 گاڑیاں بہہ گئیں تاہم لوگ محفوظ رہے،

    جھل مگسی میں مسافر گاڑی سیلاب میں بہہ گئی جس کے بعد گاڑی میں سوار 5 افراد نے درختوں پر پناہ لی جنہیں بعد میں ریسکیو کر لیا گیا،جھل مگسی میں ہی کار ریلےمیں بہہ گئی جس دوران ڈرائیور کو بچالیاگیا، ہرنائی کی کھوسٹ ندی کے ریلے میں 2 افراد پھنس گئے، سیلابی ریلوں کی وجہ سےہرنائی کوئٹہ روڈ پر ٹریفک معطل ہوگیا

    بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں ڈیرہ مراد جمالی سول اسپتال اور پولیس تھانہ بارش کے بعد زیرِ آب آ گئے ،ڈیرہ بگٹی سے آنے والا 1500 کیوسک سیلابی پانی پٹ فیڈر میں داخل ہو چکا، سندھ بلوچستان سرحد سنٹ کے مقام پر لیویز چیک پوسٹ سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہے، ضلع نصیر آباد میں 36 گھنٹے کی مسلسل بارش میں تقریباً 20 مکانات گر گئے ہیں،شاہ پور گاؤں میں تقریباً 20 مکانات گر کے تباہ ہو گئے ہیں،ڈیرہ مراد جمالی ریلوے اسٹیشن پر ریلوے ٹریک بارش کے پانی میں ڈوب گیا، پنجگور میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے موبائل اور لینڈ لائن فون سروس معطل ہے لیکن اس کے برعکس انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لینے میں ناکام رہی ہے

    صوبائی حکومت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کی روانگی، متاثرین کے لیے عارضی رہائش گاہوں کا قیام، اور خوراک و دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق وہ ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

  • بلدیاتی اداروں کی محنت کے باعث شہر بہتر صورتحال میں ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    بلدیاتی اداروں کی محنت کے باعث شہر بہتر صورتحال میں ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر کے مختلف علاقوں کا اچانک دورہ کیا۔

    اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے پی آئی ڈی سی پر واقع سیوریج پمپنگ اسٹیشن کا دورہ کیا جہاں سے شہر بھر کا پانی سمندر میں منتقل کیا جاتا ہے اس کے علاوہ انہوں نے اولڈ سٹی ایریا، آئی آئی چندریگر روڈ، آواری، صدر، شارع فیصل اور نرسری سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور نکاسی آب سمیت دیگر انتظامات کے حوالے سے ہدایات بھی دیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے نرسری پر نالے کا معائنہ کیا اور وہاں پر پانی کی روانی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر کا بیشتر حصہ دیکھا ہے ، حالات کافی بہتر ہیں، سڑکیں کلیئر ہیں،بارشیں وقفے وقفے سے جاری ہیں، بلدیاتی اداروں کے ورکرز نے دن رات کام کیا ہے، ہم نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں رین ایمرجنسی سیل قائم کیا ہے، عوام کے مسائل حل کررہے ہیں، اس سے پہلے میں رائیٹ بینک کے مسائل دیکھ کر آیا تھا، سیلاب متاثرین کے گھر دیکھے اور وہ بہت خوش تھے، نئے تعمیر شدہ مکانات میں رہنے والوں نے چیئرمین بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا، مرتضیٰ وہاب رات کو جاگتے ہیں اور ہم چین سے سوتے ہیں،2022 کی بارشوں میں شہر کے نکاسی سسٹم نے بہتر پرفارم کیا،اب 2024 کی بارشیں وقفے وقفے سے جاری ہیں،بلدیاتی اداروں کے ورکرز نے دن رات کام کیا ہے، بلدیاتی اداروں کی محنت کے باعث شہر بہتر صورتحال میں ہے، ابھی بھی الرٹ ہیں اور ہماری تیاری مکمل ہے، سیلاب متاثرین کے گھر دیکھے اور وہ بہت خوش تھے، میں ٹنڈو محمد خان میں بھی سیلاب متاثرین سے مل کر آیا ہوں، وہ مجھے اپنے گھر لے گئے اور پرسکون ہیں، نئے تعمیر شدہ مکانات میں رہنے والوں نے چیئرمین بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا،بلوچستان میں بارشوں کے باعث پانی نیچے آیا ہے، منچھر جھیل میں 115 فٹ پانی موجود ہے، منچھر جھیل سے پانی دریا میں نکل جائے گا،ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسائل کی وجہ سے بارشیں اور سیلاب کا سامنا ہے ، ہم نئے جنگلات لگانے کے منصوبے پر بھی کام کررہے ہیں،ایم این وی منصوبہ واپڈا کا ہے لیکن انھوں نے پرانے شگاف بھی ابھی تک پر نہیں کئے، ہمارا محکمہ آبپاشی ان شگافوں کو پر کر رہا ہے،بارشوں کے باعث شہر کی سڑکیں خراب ہوگئی ہیں، شہر میں آبادی بڑھتی گئی ہے لیکن اسٹارم واٹر ڈرین نہیں ہے،ہم وفاقی حکومت کو سپورٹ کررہے ہیں لیکن حکومت میں شامل نہیں ہیں

    بلاول نے مفت سولر ہوم سسٹم کی تقسیم کے عمل کا افتتاح کردیا

    طوفانی بارشوں کا امکان،وزیراعلیٰ سندھ کاتمام محکموں کو مزید متحرک رہنے کا حکم

    کراچی میں بارش،وزیراعلیٰ سندھ کا ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ کا جائزہ

    سندھ میں شدید بارشوں کا امکان،سمندر میں طغیانی کا خدشہ،شرجیل میمن متحرک

  • طوفانی بارشوں کا امکان،وزیراعلیٰ سندھ کاتمام محکموں  کو مزید متحرک رہنے کا حکم

    طوفانی بارشوں کا امکان،وزیراعلیٰ سندھ کاتمام محکموں کو مزید متحرک رہنے کا حکم

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ موسیمات پی ڈی ایم اے کی سائیکلون الرٹ پر ہدایات جاری کر دی

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پیشن گوئی کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں طوفانی بارشون کا امکان ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے تمام محکموں بالخصوص انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کو مزید متحرک رہنے کے احکامات جاری کر دیئے اور کہا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری تیاری مکمل ہونی چاہئے،صوبے کی تمام اسپتالوں کو اپنے انتظامات بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،تمام اسپتالوں کی انتظامیہ اپنے اسٹاف کی حاضری یقینی بنائے، سمندر کی صورتحال غیرمعمولی ہونے کے باعث ماہیگیروں کیلئے محکمہ فشریز ہدایات جاری کی جائیں، دریا، نہروں اور دیگر پانی کی گزرگاہوں کے بندوں کی نگرانی کرتے رہیں،

    دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت عبدالواحد ہالیپوتو کی زیر صدارت ڈی سی آفس تھرپارکر میں اہم میٹنگ ہوئی،ڈی سی اور ایس سی تھر پارکر میٹنگ میں شریک ہوئے،میٹنگ میں ڈی سی تھر پارکر نے ترجمان سندھ حکومت کو بارش کی صورتحال سے آگاہ کیا۔علاوہ ازیں ترجمان سندھ حکومت عبدالواحد ہالیپوتو نے ڈی سی تھر پارکر کے ہمراہ مٹھی کے علاقوں کا دورہ کیا،دورہ میں ترجمان سندھ حکومت نے مٹھی کے مختلف علاقوں کا جائزہ لیا

    علاوہ ازیں ٹنڈو الہ یار میں فوکل پرسن سرفراز راجڑ نے ڈپٹی کمشنر سلیم اللہ کے ہمراہ چمبڑ سٹی پمپنگ اسٹیشن کا دورہکیا،فوکل پرسن سرفراز راجڑ نے علاقے کے ذمہ دار افسر کو ہدایت دی کہ پمپنگ اسٹیشن والی گلی میں جمع ہونے والے بارش کے پانی کو فوری نکال کر گلی کو صاف کروایا جائے۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے رن آف کچھ اور ملحقہ علاقے پر موجود ڈیپ ڈپریشن کے شمال مشرقی بحیرہ عرب میں آنے کے بعد سمندری طوفان بننے کا امکان ظاہر کیا ہے،چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا بتانا ہے کہ یہ سسٹم اپنی شدت برقرار رکھتے ہوئے دیر رات یا کل صبح تک شمال مشرقی بحیرہ عرب اور اس سے ملحقہ سندھ کی ساحلی پٹی کے قریب آسکتا ہے جہاں سازگار موسمی حالات ملنے کے باعث یہ مختصر دورانیے کے لیے سمندری طوفان بن سکتا ہے جس کا نام اسنیٰ رکھا جائے گا،بننے والے سمندری طوفان کا نام پاکستان کا تجویز کردہ ہے، اسنیٰ کے معنی ‘بلند تر’ کے ہیں جب کہ مون سون میں سمندری طوفان کا بننا بہت غیرمعمولی ہے

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

  • کراچی میں بارش،وزیراعلیٰ سندھ کا ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ کا جائزہ

    کراچی میں بارش،وزیراعلیٰ سندھ کا ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ کا جائزہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ اور سعید غنی بھی موجود ہیں۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ملیر ندی میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےسجاول پل پر دریا کا جائزہ لیا،وزیراعلیٰ سندھ نے دریا پر پانی کا بہاؤ معائنہ کیا ،وزیر اعلی سندھ کو پل پر موسلا دھار بارش میں پانی کی گز پر بریفنگ دی گئی،بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ بھارت اور بنگلا دیش سے بننے والا سسٹم 2 دن سے سندھ میں برس رہا ہے جس کے سبب سب سے زیادہ بارش تھرپارکر میں ہوئی،کل سے تھرپارکر، سجاول، ٹھٹھہ، عمرکوٹ، شہید بینظیرآباد کے اضلاع میں زیادہ خطرات ہیں جب کہ دریا کے دوسری طرف اضلاع کیرتھر رینج، قمبر شہداد کوٹ، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو اور جامشورو میں بھی خطرہ ہے، کراچی شہر میں بھی خطرہ ہے، اس سلسلے میں میٹنگ کرتا رہا ہوں، ہر ضلع میں اپنے کابینہ کے لوگ فوکل پرسن مقرر کیے ہیں، دریائے سندھ میں بہاؤ تیز ہے،کراچی سے دیکھتا آرہا ہوں ہر جگہ صورتحال مینج اور انڈر کنٹرول ہے تاہم بدین میں کچھ شکایت ہے جسے حل کریں گے۔

    شہر قائد کراچی میں بارش جاری ہے، بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا ہے،گلیاں پانی سے بھر گئی ہیں، نکاسی آب کا سلسلہ جاری ہے، ادارے متحرک ہیں،کراچی کے علاقے ناردرن بائی پاس بارش کے باعث مکان کی چھت گرگئی، چھت گرنے سے 73 سالہ عرض محمد اور 67 سالہ خاتون آغا گل جاں بحق ہو گئے،پولیس حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے دونوں میاں بیوی تھے، حادثے میں ان کی بیٹی شکریہ خانم زخمی ہوئی جسے طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    دوسری جانب بدین میں صوبائی وزیر ذوالفقار علی شاہ کی زیر صدارت شہر میں جاری بارشوں پر ڈپٹی کمشنر آفس میں ہنگامی اجلاس ہوا،اجلاس میں صوبائی وزیر نے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا،صوبائی وزیر نے نشیبی علاقوں اور سڑکوں سے بارش کے پانی کو بر وقت صاف کرنے کا حکم دیا ،صوبائی وزیر نے بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کرنے کے احکامات دیے

    علاوہ ازیں میرپورخاص میں صوبائی وزیر سماجی بہبود و رین ایمرجنسی فوکل پرسن ضلع میرپورخاص میر طارق ٹالپر کی صدارت میں کمشنر کمیٹی ہال میرپورخاص میں رین ایمرجنسی کے متعلق اجلاس ہوا،صوبائی وزیر سماجی بہبود میر طارق ٹالپر کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں سمیت نشیبی علاقوں سے بارش کے پانی کی فوری نکاسی کے لیے بہتر حکمت عملی بنا کر کام کیا جائے اور تمام اداروں کو الرٹ رکھا جائے . میرپورخاص سمیت ڈگری ، ٹنڈو جان محمد جھڈو ، نوکوٹ ، کوٹ غلام محمد ، سندھڑی ، حسین بخش مری سے بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ٹاؤن کمیٹی اپنا فعال کردار ادا کریں .

    دوسری جانب سندھ بھر میں بارشوں کی صورتِ حال کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اختیار ڈپٹی کمشنر دے دیا گیا ہے،محکمہ تعلیم سندھ نے ضلعی ڈپٹی کمشنرز کو خط لکھا ہے اور کہا کہ بارشوں میں تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اختیار ڈپٹی کمشنر کو ہوگا،ڈپٹی کمشنر محکمۂ تعلیم سے مشاورت کے بعد اپنے ضلع میں چھٹی کرنے کا مجاز ہو گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر فوکل پرسن ٹنڈو الہ یار سرفراز راجپر نے دیگر حکام کے ہمراہ نصیر کینال کا دورہ کیا،فوکل پرسن سرفراز راجپر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ جلد از جلد علاقے میں موجود بارش کے پانی کو نکالا جائے اور آکسیڈیشن پانڈس جیسی مشینوں کے ذریعے بارش کے گندے پانی کو فلٹر کیا جائے۔

    فوکل پرسن رین ایمرجنسی اور صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے نجی نیوز چینل پر چلنے والی خبر کا نوٹس لے لیا،فوکل پرسن سید ذوالفقار علی شاہ شہر پیر علی شاہ کوٹ، بدین پہنچے،ترجمان سندھ حکومت عبدالواحد ہالیپوٹو، چیئرمین میونسپل کمیٹی پیر صالح بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ موجود تھے،صوبائی وزیر نے متاثرہ دیوار فوری بنانے اور پانی کی نکاسی کا کام تیز کرنے کی ہدایات دیں ،صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ بدین شہر میں موجود ہیں، شہر کی صورتحال کنٹرول میں ہے،

    واضح رہے کہ چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ مون سون سسٹم کا مرکز سندھ میں داخل ہو چکا ہے

  • سندھ میں شدید بارشوں کا امکان،سمندر میں طغیانی کا خدشہ،شرجیل میمن متحرک

    سندھ میں شدید بارشوں کا امکان،سمندر میں طغیانی کا خدشہ،شرجیل میمن متحرک

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں 27 تا 31 اگست میں شدید بارشوں کا امکان ہے،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، عوام بھی کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکام کے ساتھ تعاون کریں، وزہر اعلی ہائوس میں رین ایمرجنسی سیل قائم کر دیا گیا ہے،مون سون بارشوں کے پیش نظر حکومت سندھ کی جانب سے صوبے کے 30 اضلاع میں انچارج مقرر کئے گئے ہیں، وزیر اعلی سندھ نے تمام وزراء، مشیران، معاونین خاص اور ڈویژنل کمشنرز کو چوکس و متحرک رہنے کی ہدایات دیں ہیں، سمندر میں بھی طغیانی کا خدشہ ہے، ماہیگیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے، نکاسیء آب کے لیے ٹائونز کو ضروری مشینری دی گئی ہے، کے ایم سی اور واٹر بورڈ ک نکاسی آب کے سسٹم کو بہتر کیا گیا ہے، بلدیاتی اداروں اور پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندگان بشمول یو سی چیئرمینز تمام متعلقہ انتظامیہ کو بندوبست کی ہدایات دی گئی ہیں،حمل جھیل تا منچھرجھیل بندوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے، کمزور مقامات کی بھی نگرانی جاری ہے، تعلیمی ادارے کھلے یا بند رکھنے سے متعلق غور کیا جا رہا ہے،

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد، شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص ڈویزن کے ڈپٹی کمشنرز سے رابطہ کیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بارش کی صورتحال معلوم کی،وزیراعلیٰ سندھ نے میرپورخاص ، عمرکوٹ، تھرپارکر ، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان اور سجاول کے ڈپٹی کمشنرز کو فون کیا اور ہدایت کی کہ عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کریں،نشیبی علاقوں، اہم سڑکوں اور راستوں سے بارش کے پانی کی نکاسی یقینی بنائیں،

    وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے میں جاری مون سون بارشوں سے متعلق تعلقہ سطح کی رپورٹ پیش کر دی گئی،میرپورخاص میں 48، حسن بخش مری میں 48، شجاع آباد میں 26، ڈگری میں 17، سندھڑی میں 11 اور جھڈو میں 8 ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،کنری میں 47، عمرکوٹ میں 17، سامارو میں 3 اور پتھورو میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے،چھاچھرو میں 42، مٹھی اور ڈیپلو میں 40-40، نگرپارکر میں 38، کلوئی میں 33، ڈالی میں 21، اسلام کوٹ میں 16 بارش ریکارڈکی گئی،شہداد پور میں 43، سانگھڑ اور جام نواز علی میں 20-20، سکرنڈ میں 14، سنجھورو میں 10 ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،نوابشاہ میں 7، کھپرو میں 5 اور ٹنڈو آدم میں 4 ملی میٹرز بارش ریکارڈ ہوئی،کوٹڑی میں 10، تھانو بولا خان 4، مانجھند میں ایک ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،ھالا میں 29، مٹیاری میں 27 اور سعید آباد میں 19 ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،چمبر میں 28، ٹنڈو الہیار میں 19 اور جھنڈو مری میں 6 ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،ٹنڈو محمد خان میں 13، ٹنڈو غلام حیدر میں 19، بلڑی شاہ کریم میں 8 ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،قاسم آباد میں 13، حیدرآباد سٹی میں 11، حیدرآباد اور لطیف آباد میں 9-9 بارش ریکارڈ کی گئی،بدین میں 53، ٹنڈو باگو میں 21، ماتلی میں 20، تلہار میں 17 اور شہید فاضل راہو میں 13 ملی میٹرز بارش ریکارڈکی گئی،جاتی میں 52، شاہ بندر میں 10، کھارو چھان میں 6، سجاول اور میرپور بٹھورو میں 5-5 ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،کیٹی بندر 18، ٹھٹو 17، میرپورساکرو 14 اور گھوڑا باڑی میں 10 ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،ضلع ملیر کے بن قاسم ٹاؤن میں 22، ابراہیم حیدری میں 18، گڈاپ اور شاہ مرید میں 17-17، میمن گوٹھ 16 اور ایئرپورٹ میں 13 بارش ریکارڈ کی گئی،ضلع شرقی کے گلشن اقبال میں 21، فیروز آباد میں 15، گلزار ہجری اور جمشید کوارٹرز میں 13-13 ملی میٹرز بارش ریکارڈ کی گئی،ضلع وسطی کے نیوکراچی میں 30، ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد میں 28-28، لیاقت آباد میں 24 اور گلبرگ میں 22 بارش ریکارڈ کی گئی،ضلع غربی کے منگھوپیر میں 43، اورنگی اور مومن آباد میں 8-8 ملی میٹرز ،سائیٹ ایریا میں 28، بلدیہ میں 12، ماڑی پور میں 10 اور کیماڑی میں 6 ملی میٹرز،ضلع جنوبی کے آرام باغ، سول لائن، گارڈن، لیاری اور صدر میں 15-15 ملی میٹرز ،کورنگی کے علاقے لانڈھی میں 38، شاہ فیصل ٹاؤن میں 12 اور ماڈل کالونی میں 6 بارش ریکارڈ کی گئی.

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

  • لاہور میں بارش،موسم خوشگوار،بارشوں کے پیش نظر کئی علاقوں میں فلڈنگ کے خطرات

    لاہور میں بارش،موسم خوشگوار،بارشوں کے پیش نظر کئی علاقوں میں فلڈنگ کے خطرات

    پنجاب میں مون سون بارشوں کا سپیل شروع ہو گیا , 29 اگست تک بارشیں جاری رہیں گی ، پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور سمیت گوجرنوالہ ، گجرات ، راولپنڈی ، سرگودھا ، ملتان کے ڈویژن میں بارشیں ہوگی ،بارشوں کے پیش نظر کئی علاقوں میں فلڈنگ کے خطرات بھی ہے ،پنجاب بھر کے کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز ، واسا ، محکمہ آب پاشی ، ریسکیو کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت پنجاب کے متعدد علاقوں میں بارش متوقع ہے،

    شہر لاہور میں بارش کے پیش نظر موسم خوشگوار ہو گیا ہے،شہر لاہور کا درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، لاہور کے محتلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،لاہور بھاٹی گیٹ،کربلاگامے شاہ لاہور،ضلع کچہری،مال روڈ کے علاقوں میں بارش ہوئی، جبکہ دہلی دروازے، اکبری منڈی کے علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت رین ایمرجنسی کا اجلاس،اقدامات کا حکم
    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت رین ایمرجنسی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں صوبائی وزراء، شرجیل میمن، سعید غنی، جام خان شورو، مخدوم محبوب الزمان، صوبائی مشیر نجمی عالم، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، میئر سکھر ارسلان شیخ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو بقاء اللہ انڑ، صوبائی سیکریٹریز، میٹرو لاجسٹ سردار سرفراز، کور ہیڈ کوارٹر اور کوم کار کے نمائندے شریک ہوئے،حیدرآباد، لاڑکانو، شہید بینظیرآباد، میرپورخاص ڈویژنل میئرز اور کمشنرز اور دیگر اضلاع کے ڈی سیز نے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی،وزیراعلیٰ سندھ کو موسم کی پیشن گوئی پر میٹرولاجسٹ سرفراز احمد نے بریفنگ دی، اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ میں 26 اگست یعنی آج بارش کا سسٹم داخل ہوگا، یہ نیا بارش کا سسٹم 31 اگست تک جاری رہے گا،اس کے بعد ایک نیا بارش کا سسٹم ستمبر کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے،اس نئے اسپیل سے کراچی میں 150 تا 200 ملی میٹرز بارش ہوسکتی ہے،ٹھٹہ، سجاول، میرپورخاص، سانگھڑ اور نوابشاہ میں 250 تا 300 ملی میٹرز بارش متوقع ہے،بدین، ٹنڈو محمد خان، تھرپارکر اور عمرکوٹ میں 500 ملی میٹرز بارش کا امکان ہے،سندھ کے دیگر اضلاع میں 70 تا 100 ملی میٹرز بارش کا امکان ہے،28 اگست کو بارش بہت تیز ہونے کی پیش گوئی ہے، کھیر تھر رینج پر بارش کے نتیجے میں دادو، قمبر، شہدادکوٹ، جیکب آباد اور جامشورو میں سیلابی صورتحال ہوسکتی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ سمندر دشت میں رہے گا،ماہی گیروں کے لئے بھی محکمہ فشریز ضروری ہدایات جارے کرے، وزیراعلیٰ سندھ نے تمام ڈویژنل کمشنرز کو صورتحال کا جائزہ لے کر انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی،وزیراعلیٰ سندھ نےتمام بلدیاتی اداروں کو متحرک رہنے کی ہدایت کر دی،اور کہا کہ کراچی کے تمام نالوں کی نگرانی، نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کیلئے مشینری کا انتظام کریں،

    مخدوم محبوب نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ امدادی سامال پی ڈی ایم اے کے اسٹاک میں موجود ہے،امدادی سامان میں خیمے، ترپالیں، مچھردانیاں، پانی کے کولر،ہائیجینک کٹس اور جانوروں کی مچھردانیاں شامل ہیں. وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ ٹاؤنز کو بھی نالوں کی صفائی کیلئے مشینری دی ہے، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کے نالوں اور واٹر بورڈ کے نکاسی آب کا سسٹم بہتر کیا ہے،وزیراعلیٰ سندھ نے تمام انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور اپنا بندوبست کرنے کی ہدایت کر دی،وزیر آبپاشی جام خان شورو نے نہروں کی پوزیشن سے اجلاس کو آگاہی دی اور بتایا کہ دریا کے دائیں کنارے پر بارشوں اور ہل ٹورینٹ کے پیش نظر ضروری مشینری بھی بندوں پر موجود ہے، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے کہا کہ حمل جھیل تا منچھر جھیل تک بندوں کی مضبوطی کا کام کر رہے ہیں،منچھر جھیل تا حمل جھیل تک تمام کمزور مقامات کی نگرانی بھی جاری ہے، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو

    کراچی میں 27 تا 31 اگست موسلا دھار بارش متوقع ہے،میٹرولاجسٹ سرفراز احمد نے کہا کہ دوسرا اسپیل ستمبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہوگا،دوسرے اسپیل میں بھی کراچی میں بارشیں متوقع ہیں،

    بھارت،سکول کے واش روم میں دوچار سالہ بچیوں کے ساتھ زیادتی

    اجمیر سیکس اسکینڈل،100 سے زائد لڑکیوں سے زیادتی ، 32 سال بعد 6ملزمان کو عمر قید کی سزا

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

  • بنگلہ دیش،سیلاب سے متاثرہ 9 اضلاع میں 9 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم

    بنگلہ دیش،سیلاب سے متاثرہ 9 اضلاع میں 9 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم

    بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ نو اضلاع میں کل 928,000 صارفین اس وقت بجلی سے محروم ہیں۔

    بجلی، توانائی اور معدنی وسائل کی وزارت نے ہفتہ کو اعداد و شمار جاری کئے ہیں،اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ متاثرہ ضلع فینی میں کل 17 سب سٹیشن بند ہو چکے ہیں، جس سے 441,000 صارفین بجلی سے محروم ہیں۔دیگر متاثرہ اضلاع میں چاند پور، نواکھلی، لکشمی پور، چٹاگانگ، کومیلا، کاکس بازار، مولوی بازار اور برہمن باریا شامل ہیں۔اگرچہ ان آٹھ اضلاع میں کوئی سب سٹیشن بند نہیں کیا گیا ہے، ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق، 905 فیڈرز میں سے 107 (ڈسٹری بیوشن لائنیں جو سب سٹیشن سے صارفین تک بجلی منتقل کرتی ہیں) کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نواکھلی میں 218,000، کومیلا میں 152,000، چٹاگانگ میں 78,000، اور لکشمی پور میں 25,000 صارفین اس وقت بجلی سے محروم ہیں۔دریں اثنا، بنگلہ دیش کے 11 اضلاع کے 77 اضلاع میں جاری سیلاب سے اٹھارہ افراد ہلاک اور 4.9 ملین سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں،سیلاب میں مجموعی طور پر 944,548 خاندان پھنسے ہوئے ہیں جبکہ 2,84,888 افراد اور 21,695 مویشیوں کو 3,527 پناہ گاہوں میں پناہ دی گئی۔سیلاب نے 11 اضلاع کے 77 اضلاع کے تحت 587 یونین اور میونسپلٹی کو متاثر کیاہے

    بنگلہ دیش کے توانائی، بجلی اور معدنی وسائل کے مشیر فوزول کبیر خان نے کہا ہے کہ شمال مشرقی بنگلہ دیش کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی لائنیں حادثات کو روکنے کے لیے بند کر دی گئی ہیں، نقصان کا تخمینہ مکمل کر لیا گیا ہے اور پانی کم ہونے کے بعد بحالی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے یہ بات سنیچر کی سہ پہر مانک گنج کے شیبلوئی ضلع میں پٹوریا گھاٹ کے قریب ایک پرائیویٹ کمپنی کے ذریعہ قائم کئے گئے 35 میگا واٹ کے سولر پاور پلانٹ کے دورے کے دوران کہی۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس سے قبل بجلی یا ایندھن کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لیے انرجی ریگولیٹری کمیشن سے مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے، جو تمام فریقین کو سننے کے بعد فیصلے کرنے کا ذمہ دار تیسرا فریق ہے۔تاہم، 2024 میں کمیشن کے ضوابط میں ایک شق شامل کی گئی تھی، جس سے حکومت چاہے تو ایندھن کی قیمتیں بڑھا سکتی ہے۔مشیر نے یہ بھی کہا کہ بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں غیر معقول اضافہ اب نہیں ہوگا۔

    بنگلہ دیش کی مشیر صحت مشیر نورجہاں بیگم نے کہا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو درپیش مختلف مسائل سے نمٹنے اور اسے اعلیٰ سطح پر لے جانے کے لیے اجتماعی کوشش دونوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بات ہفتہ کے روز نواکھلی میں سیلاب سے متاثرہ سونیموری ضلع کا معائنہ کرنے کے بعد کہی۔اپنے دورے کے دوران، مشیر صحت نے کاشی پور ملٹی پرپز ہائی اسکول، کاشی پور محمدیہ فاضل مدرسہ، اور واشک پور الفلاح ماڈل ہائی اسکول سمیت کئی پناہ گاہوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے ان مراکز میں پانی صاف کرنے والی گولیوں کی کمی دیکھی اور متعلقہ حکام کو ضروری ادویات کی وافر فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ اور فیلڈ ورکرز پر زور دیا کہ وہ عوامی بیداری میں مزید مضبوط کردار ادا کریں۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو مریض دوستانہ اور خدمت پر مبنی رویہ اپنانا چاہیے، کیونکہ ناقص خدمات کی فراہمی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔سیلاب کے بعد کے ادوار میں اکثر اسہال، ہیضہ اور جلد کے انفیکشن جیسی بیماریوں کے پھیلنے کو دیکھا جاتا ہے، اور ان صحت کے مسائل کے لیے ابتدائی آگاہی اور تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پناہ گاہوں میں رہنے والے لوگوں بالخصوص خواتین اور بچوں کا خاص خیال رکھا جائے.

    شہری گھروں کو چھوڑنے سے خوفزدہ،پانی سر پر آیا تو گھروں سے نکلے
    بنگلہ دیش میں سیلاب کی خبروں کے بعد ملک کے کونے کونے سے لوگ جان بچانے اور امداد کی پیشکش کرنے کے لیے متحرک ہوئے۔ بہت سے لوگ پانی کی شدت اور موسمی حالات سے بے خبر تھے۔دور دراز علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگ، جو بھی ڈھانچے باقی تھے، ان سے چمٹے ہوئے، بمشکل یہ بات کر سکتے تھے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں۔انہوں نے بیرون ملک ان کے اہل خانہ سے ویڈیو پیغامات کے ذریعے التجا کی، روتے ہوئے اور اپنے پیاروں کو بچانے کی درخواست کی، فیس بک پر پتے، فون نمبر اور علاقے کی تفصیل فراہم کی۔ اس اطلاع کی بنیاد پر کئی لوگوں کو بچا لیا گیا۔مسلسل کئی دنوں سے جاری بارش اور سیلاب کے باوجود زیادہ تر لوگوں کو بچا کر پناہ گاہوں میں لے جایا گیا ہے۔

    سیلاب متاثرین کی امداد کا جذبہ، طلبا بھی متحرک
    اب بچاؤ کی ابتدائی کوششوں کے بعد امداد کی تقسیم کا چیلنج شروع ہو گیا ہے۔ کسی بھی آفت کی صورتحال میں نوجوانوں کا آگے بڑھنے کا جوش ہمیشہ نمایاں ہوتا ہے۔اس بار طلبا تحریک سے وابستہ طلبہ گروپوں کی موجودگی میں ان کی کوششوں نے ایک مختلف شکل اختیار کر لی ہے۔لوگ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے جہاں سے بھی ہو سکے پہنچ گئے۔ کچھ گھر پر ہی رہ گئے ہیں، چندہ اکٹھا کر رہے ہیں۔متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا اجتماعی جذبہ پیدا ہوا ہے۔جمعہ کے روز چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس نے ریلیف فنڈ میں حصہ ڈالنے کے حوالے سے ہدایات دی ہیں۔کئی دیگر اداروں کی طرح فوج اور بحریہ کے ارکان نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ایک دن کی تنخواہ چیف ایڈوائزر ریلیف فنڈ میں عطیہ کی ہے۔بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے ارکان نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ایک دن کی تنخواہ بھی عطیہ کریں گے۔یہ مالی امداد فینی، چٹاگانگ، کومیلا، نواکھلی، سنم گنج اور حبیب گنج میں جاری شدید سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فراہم کی جا رہی ہے۔نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف محمود نے اپنی وزارت کے اندر مختلف اقدامات کیے ہیں جن میں ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنا بھی شامل ہے۔

    ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی چیلنج ریسکیو آپریشن کرنا ہے۔مشرقی علاقے کے لوگ سیلاب سے واقف نہیں ہیں، اس لیے انہیں اپنی حفاظت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ جب دریائے تیستا سے پانی چھوڑا جاتا ہے، تو رنگ پور کے لوگوں نے برسوں سے سیکھا ہے کہ اپنی حفاظت کیسے کی جائے۔اب ان کے لیے طویل مدتی ریلیف کی ضرورت ہوگی اور اس کی تقسیم کے لیے مربوط منصوبہ بندی ضروری ہے۔

    سماجی کارکن شفات بنتی واحد ڈھاکہ سے بوریچونگ گئیں تاکہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ دوست اس کے ذریعے امداد بھیج رہے ہیں۔جب ان سے اس کے تجربے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: "پانی اب بھی بڑھ رہا ہے۔ لوگ پناہ گاہوں میں جانے کو تیار نہیں ہیں جب تک کہ پانی نہ پہنچ جائے۔ ان کی گردنیں گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہتیں، نتیجتاً، اگر پانی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔جب ان سے علاقے میں امدادی صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: "یہاں بہت زیادہ خوراک آرہی ہے، لیکن منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ پرجوش لوگوں کی بڑی تعداد افراتفری کا خطرہ پیدا کرتی ہے، جسے منتظمین کو روکنا چاہیے۔”ان کی ضروریات سننے کے بعد حفاظتی جیکٹس، ٹارچ، ادویات اور خشک خوراک کا انتظام کیا گیا ہے،گورنمنٹ ماڈل کالج کے پرنسپل پناہ گاہوں میں لائے جانے والوں کے لیے کھانے کے انتظامات کو مربوط کر رہے ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے کوئی حکومتی اقدام دیکھا ہے تو اس نے جواب دیا: "میں نے مختلف اسکولوں اور کالجوں کے طلباء اور ہلال احمر کے ارکان کو دیکھا، لیکن میں نے یہاں کوئی پولیس یا فائر سروس کا عملہ نہیں دیکھا۔”امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ تحریک کے کارکن اور عام طلبہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے امداد جمع کر رہے ہیں۔داخلی راستے کے قریب ایک "عوامی ریلیف کلیکشن” بوتھ قائم کیا گیا ہے، جہاں ڈھاکہ کے مختلف حصوں سے لوگ مختلف قسم کے امدادی سامان عطیہ کر رہے ہیں۔ انہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھیجا جائے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی آفت میں امدادی تقسیم کے لیے ایک مربوط منصوبہ کیسا نظر آ سکتا ہے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ماہر نعیم گوہر وارہ نے کہا: "اس وقت لوگوں کو بچانا اور پناہ گاہوں تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ ہمیں یہ پیغام دینا چاہیے کہ کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ڈھاکہ سے آنا اگر ہر کوئی ذاتی طور پر امداد تقسیم کرنا چاہتا ہے تو یہ کیسے کام کرے گا؟” حکومت کو اب ایکشن لینا چاہیے۔ اس بات کا تعین کیا جانا چاہیے کہ کون اس کام کو ضلع اور یونین کی سطح پر انجام دے گا۔

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    بھارت،ڈاکٹر زیادتی کیس، ملزم پورنو گرافی کا عادی،موبائل سے فحش ویڈیوز برآمد

  • لاہور میں بارش،محکمہ موسمیات نے دیگر شہروں میں بھی بارش کی نوید سنا دی

    لاہور میں بارش،محکمہ موسمیات نے دیگر شہروں میں بھی بارش کی نوید سنا دی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بارش ہوئی ہے جس سے گرمی کی شدت میں کمی آ گئی ہے

    لاہور کے مختلف علاقوں میں تیز بارش ہوئی ہے، بارش کے بعد گلیاں پانی سے بھر گئی ہیں، کئی علاقوں میں بارش کے بعد بجلی بھی غائب ہو گئی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر ایم ڈی واسا غفران احمد نے واسا لاہور کو متحرک رہنے کی ہدایات کر دیں ،مون سون ایمرجنسی کیمپ پر تمام سٹاف و مشینری مکمل الرٹ رہیں ،ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ تمام جنریٹرز کو سٹینڈ بائی اور فعال رکھا جائے ،تمام ڈسپوزل سٹیشنز کی سکرینوں کو مکمل صاف رکھنے کی ہدایات کی گئی ہیں،تمام انڈر پاسز اور شاہراہوں کو کلیئر رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں

    کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں سے نالوں میں طغیانی
    خیبر پختو نخوا میں بھی بارشوں سے ندی نالے بپھر گئے،جنوبی وزیرستان میں شدید بارش کے بعد ریلوں نے تباہی مچادی ، پنجاب میں بھی مون سون بارشوں کا طاقتور سپیل جاری ہے، کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں سے نالوں میں طغیانی آ گئی، کوٹ مٹھی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے چناب میں جھنگ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی ہے،پانی کی سطح میں اضافے سے دریائے چناب کے کنارے آباد متعدد دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ مظفر گڑھ کی تحصیل رنگپور کی نہر میں30 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ہے،احمد پور شرقیہ میں اوچ کینال میں20 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، فصلیں زیر آب آ گئیں جبکہ پانی قریبی رہائشی بستیوں میں داخل ہونے سے متعدد گھروں کی دیواریں گر گئیں،دریا ئے سندھ میں ڈی آئی خان کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، کچے کے علاقے میں ہسپتال اور ہسکول دریا برد ہو گئے،

    مہانڈری دریائے کنہار پر جھیل بننے سے ہوٹلوں دوکانوں اور مقامی آبادی کو خطرہ
    بالاکوٹ کے علاقہ مہانڈری میں ایک بار پھر سیلاب کا خطرہ ہے،مہانڈری دریائے کنہارپر جھیل بننے سے ہوٹلوں دوکانوں اور مقامی آبادی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہےپہاڑ سرکنے کے بعد وہاں پر علاقہ مکین نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے،مہانڈری میں پہاڑ کا حصہ سرک کر دریائے کنہار میں گر گیا، ضلعی وتحصیل انتظامیہ موقع پر پہنچ گی ہے اور نقصان کا جائزہ بھی لے رہے ہیں،این ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ جھیل کو کھولنے کے لیے این ایچ اے کی بھاری مشینری موقع پر پہنچ گئی ہے ،مہانڈری کے مغربی جانب دریائے کنہار کے کٹاؤ سے لساں دھانوں پہاڑی سے لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ، مٹی کے بھاری تودے دریائے کنہار میں گرنے لگے ، بھاری لینڈ سلائیڈنگ اپنے ساتھ درختوں کو بھی جڑوں سے اکھاڑ کر لے آئی لینڈ سلائیڈنگ سے مہانڈری کے مغربی جانب واقع گاؤں لساں دھانوں کی مقامی آبادی کے درجنوں گھروں کو شدید خطرات لاحق ہیں تاہم ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی لینڈ سلائیڈنگ والے مقام سے شاھراہ کاغان دور ہونے کے باعث جاری ٹریفک میں کسی قسم کا خلل نہیں پڑا شاھراہ کاغان پر معمولات زندگی مکمل بحال ہیں ادھر لینڈ سلائیڈنگ والے متاثرہ ایریا میں تودے گرنے سے دریائے کنہار کی روانی متاثر ہو رہی ھے اور خدا نخواستہ بند پڑنے سے دریائے کنہار میں جھیل بن سکتی ھے جو مقامی آبادی کے لئے خطرہ لاحق کر سکتی ھے

    گلگت،لینڈ سلائیڈنگ،15 مکانات مکمل تباہ،59 گھروں کو جزوی نقصان
    گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں پیش آئے ہیں جس کے باعث شاہراہ قراقرم مختلف مقامات پر بند ہوگئی ہے،ڈی سی غذر کے مطابق گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گوپس کے گاؤں یانگل میں لینڈ سلائیڈنگ سے 15 مکانات مکمل تباہ ہوگئے اور 59 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ لینڈ سلائیڈنگ سے 45 مویشی خانے مکمل اور 20 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں،انتظامیہ کے مطابق اشکومن، ہائم اور یاسین میں بھی 11 گھر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ گئے اور مویشی خانوں کو بھی نقصان پہنچا، شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور درخت بھی جڑوں سے اکھڑ گئے،بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ گلگت، غذر، شندور روڈ ٹریفک کے لیے بحال کردیا گیا تاہم ہنزہ میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کے بعد شاہراہ قراقرم مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہوگئی جبکہ متعدد بالائی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

    رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 84 شہری جاں بحق 224 زخمی اور 245 گھر متاثر
    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے پیشِ نظر پی ڈی ایم اے کی فلڈ الرٹ فیکٹ شیٹ جاری کردی گئی، مون سون بارشوں کی صورتحال، پنجاب کے دریاؤں، بیراجز اور ڈیمز میں پانی کی سطح بارے اعداد و شمار شامل ہیں،ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا امکان ہے،ڈیرہ غازی خان ملتان اور بہاولپور ڈویژنز میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے،رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 84 شہری جاں بحق 224 زخمی اور 245 گھر متاثر ہوئے،اموات آسمانی بجلی،کرنٹ لگنے کچے گھر اور بوسیدہ عمارتوں کے گرنے سے ہوئیں۔ مون سون بارشوں کے باعث 44 مویشی بھی ہلاک ہوئے، 100 گھر مکمل جبکہ 145 گھر جزوی طور پر متاثر ہوئے،حکومتی پالیسی کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کی جا رہی ہے،زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے ،دریائے سندھ میں تربیلا کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے جبکہ تونسہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے،دریائے چناب راوی ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔ڈیرہ غازی خان رودکوہیوں میں بھی پانی کا بہاؤ نارمل ہے، نارووال نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 70 فیصد، تربیلا میں 99فیصد ہے۔ستلج ، بیاس اور راوی پر قائم بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح 54 فیصد تک ہے۔پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں 24 گھنٹے صورتحال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے ۔ممکنہ سیلابی خطرے کے پیشِ نظر انتظامات مکمل ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کے پیشِ نظر تمام محکمے ہمہ وقت الرٹ ہیں،ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ عوام الناس سے التماس ہے کہ موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔کچے مکانات اور بوسیدہ عمارتوں میں ہرگز رہائش پذیر نہ ہوں۔خراب موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں ۔ ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں۔

    دوسری جانب کراچی میں مطلع جزوی ابرآلود ہے جبکہ سورج اور ہلکے بادلوں کے درمیان آنکھ مچولی بھی جاری ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق شہر قائد میں آج بھی وقفے وقفے سے ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان ہے، شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے جبکہ موجودہ درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
    محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر، شمال مشرقی پنجاب، خطہ پوٹھوہار، خیبر پختونخوا، شمالی بلوچستان اور گلگت بلتستان میں تیز ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، اس دوران شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں چند مقامات پر موسلادھار بارش ہونے کی بھی توقع ہے،اسلام آباد اور گرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، مری، گلیات، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، تونسہ، لیہ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، قصور، لاہور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، ڈیرہ اسماعیل خان اورخوشاب میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے،بالاکوٹ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، نوشہرہ، صوابی، چارسدہ، مہمند، خیبر، باجوڑ، مالاکنڈ، مردان، پشاور، کرک، کوہاٹ اور کرم میں بارش کی توقع ہے۔زیارت، ژوب، بارکھان، موسیٰ خیل، شیرانی، لورالائی، کوئٹہ، قلعہ عبد اللہ، قلات، خضدار، قلعہ سیف اللہ اور لسبیلہ میں بھی بارش کا امکان ہے،کراچی، جامشورو، ٹھٹھہ اوربدین میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے، چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام اور مانسہرہ میں بارش ہونے کی توقع ہے، اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے،

    محکمہ موسمیات کے مطابق ژوب، بارکھان، موسیٰ خیل، شیرانی، لورالائی، کوئٹہ اور زیارت میں موسلا دھار بارش کا امکان ہے جبکہ قلات، خضدار، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ اور لسبیلہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،گزشتہ روز کوئٹہ میں درجہ حرارت 33، قلات میں 28، ژوب میں 34، زیارت میں 25، سبی میں 36 اور تربت میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا،نوکنڈی درجہ حرارت میں 42، چمن میں 37، گوادر میں 32 اور جیونی میں 31 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

  • بچی کیوں روئی؟ سفاک باپ نے تلہ گنگ میں آٹھ  ماہ کی بیٹی کومار دیا

    بچی کیوں روئی؟ سفاک باپ نے تلہ گنگ میں آٹھ ماہ کی بیٹی کومار دیا

    تلہ گنگ کے علاقے بلال آباد میں سفاک باپ نے آٹھ ماہ کی بچی کی جان لے لی

    اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، تلہ گنگ کے نواحی علاقے بلال آباد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، کم سن بچی کے رونے پر سفاک باپ نے بچی کو قتل کر دیا،واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، درج مقدمے کے مطابق بارش ہو رہی تھی اور اس دوران صحن سے کمرے میں جاتے ہوئے آٹھ ماہ کی بچی نے رونا شروع کر دیا جس پر بچی کا باپ طیش میں آ گیا اور اپنی ہی کمسن بیٹی کا گلا دبا دیا،واقعہ کے بعد ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے،بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    قبل ازیں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا کے احکامات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کیپٹن(ر)واحد محمود نے تھانہ ڈوہمن کے علاقہ سیگل آباد میں دوہرے قتل کی لرزہ خیز واردات پر فوری نوٹس لیا،ابتدائی اطلاع کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے چوہدری شیراز علی اورذیشان حیدر کو سہگل آباد کے قریب فائرنگ کرکے قتل کر دیا اور شمریز علی ساکن کھیوال زخمی ہوگیا جسکو فوری طور پر ڈی ایچ کیوھسپتال پہنچا دیا گیا ہےوقوعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او چکوال فوری موقع پر پہنچ گئے اور کرائم سین کا جائزہ لیا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

    لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت پربجلی صارفین کےلئے سب سے اچھی خبر

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا