Baaghi TV

Tag: بارٹر ٹریڈ

  • ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    پاکستان کو اس وقت اہم معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں خستہ حال معیشت، غیر ملکی ذخائر کی کمی، اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران شامل ہیں۔ تاہم، ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ بارٹر تجارتی معاہدے کرنے کا حالیہ فیصلہ ذہانت کا ایک نمونہ ہے اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غیررسمی حکمت عملی واقعی قابل ذکر ہے۔
    بارٹر ٹریڈ پاکستان کو غیر ملکی ذخائر کی ضرورت کے بغیر مختلف مصنوعات کا تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس سے غیر ملکی کرنسی کے کم ہوتے ذخائر پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ تبادلے کے لیے دستیاب مصنوعات میں قدرتی گیس، پیٹرولیم، پھل، گری دار میوہ، چاول، دودھ، سبزیاں، مٹھائیاں، کھیلوں کے سامان، بجلی کی اشیاء، ٹیکسٹائل، دواسازی اور چمڑا شامل ہیں۔

    بارٹر ٹریڈ میں دواسازی کی اشیاء کی شمولیت سے مقامی شعبے دوائیں بنانے کے لیے بااختیار ہو جائیں گے، خاص طور پر زندگی بچانے والی، اور دیگر عام دوائیں جن کی سپلائی یا تو کم ہے یا اجزاء کی کمی کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔ سرکاری اور نجی ملکیت والے دونوں ادارے کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد بارٹر پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کے پاس خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ماہ سے بھی کم مالیت کا زرمبادلہ موجود ہے۔

    ایران اور افغانستان سے اسمگلنگ ہماری معیشت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اگرچہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، مگر بارٹر ٹریڈ سے اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں کمی آنی چاہیے اور غیر ملکی ذخائر کو بچانے میں بھی مدد ہونی چاہیے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین اقتصادیات، اور وزارت تجارت کے اعلیٰ عہدیداروں کی ایک ٹیم کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعے کے مطابق، ملک میں سمگل کی جانے والی اعلیٰ اشیاء سالانہ (25 نومبر 2020) 3.3 بلین ڈالر کماتی ہیں۔ ان سمگل شدہ مصنوعات میں سیل فون، ٹائر، انجن آئل اور کھانے کی اشیاء شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، سگریٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے، جو پہلے 200 روپے کے مقابلہ میں اب 500 روپے فی پیکٹ فروخت ہوتے ہیں، افغان سگریٹ کو پاکستان میں ایک منافع بخش مارکیٹ ملی ہے، جو اچھی کوالٹی کا سگریٹ 130 روپے فی پیکٹ سے بھی کم میں مل جاتا ہے

    لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو صرف 11 اشیا کی سمگلنگ (12 جنوری 2023) کی وجہ سے سالانہ 2.63 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

    بارٹر ٹریڈ کے علاوہ، ہمیں دیگر اہم مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ میری تین تجاویز ہیں:

    سب سے پہلے ہمیں سازگار حالات بنا کر آئی ٹی جیسی صنعتوں پر پانچ سال کے لیے ٹیکس ختم کردینا چاہیے۔ ہم ان کی ترقی اور توسیع کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ اس سے ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور صارفین کی قوت خرید میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    دوسرا، ہمیں گرے اکانومی سے پیسے کی خاطر خواہ آمد کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں، جو کہ غیر سرکاری ذرائع سے چلتی ہے۔ یہ دس سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دے کر اور بعد کے سالوں میں ٹیکس چھوٹ دے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، ہمارے ماہرین اقتصادیات کو 21ویں صدی کے حقائق کو قبول کرنے اور کریپٹو کرنسی کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے قانونی شکل دینا اور منظم کرنا ضروری ہے۔ ہمیں باصلاحیت نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں جو اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تاکہ ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل ہو سکے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان 21ویں صدی میں قدم رکھے اور ایسی اختراعی حکمت عملی کو اپنائے جو معاشی مشکلات پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے۔

  • ایران، افغانستان اور روس کے ساتھ  بارٹر ٹریڈ کے لیے ایس او ایس جاری

    ایران، افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے لیے ایس او ایس جاری

    پاک، ایران، روس تجارت کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارٹر تجارت کی اجازت دے دی

    وزارت تجارت نے اس حوالے سے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ رولز جاری کردئیے ،وزارت تجارت پاکستان نے ایران، افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے لیے ایس او ایس جاری کیا ہے پاکستان اب افغانستان ایران روس کو بارٹر ٹریڈ کے ذریعے اشیاء برآمد کرسکے گا پاکستان بارٹر سسٹم کے تحت ایران اور روس سے خام تیل،ایل این جی ،ایل پی جی درآمد کرسکے گا،پاکستان ان ممالک کو گوشت، پھل سبزیاں چاول برآمد کرسکے گا،پاکستان ٹیکسٹائل مصنوعات، پرفیومز، کاسمیٹکس، آلات جراحی کٹلری برآمد کرسکے گا،پاکستان اب ایران افغانستان کو کھیلوں کا سامان بھی برآمد کرسکے گا،افغانستان سے پھل، میوہ جات سبزیاں دالیں آئل سیڈز درآمد کرسکے گا،بارٹر سسٹم کے تحت افغانستان سے منرلز، میٹلز اور کوئلہ درآمد کیا جاسکے گا،پاکستان ایران سے خام تیل، ایل این جی ایل پی جی منگوا سکے گا،ایران سے کیمکلز پراڈکٹس کھادیں پھل سبزیاں مصالحے بھی درآمد کی جاسکیں گی ،پاکستان روس سے بھی خام تیل ایل این جی ایل پی جی درآمد کرسکے گا،روس سے بارٹر سسٹم کے تحت گندم دالیں بھی منگوائی جاسکیں گی،روس سے صنعتی مشینری بھی درآمد کی جاسکے گی،

    حکومت نے چین، روس اور ایران سے بارٹر ٹریڈ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، یعنی مال ،سروسز کے بدلے مال،سروس. اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ امپورٹ کے بدلے ڈالر کے بجائے مال یا سروس دینی ہوگی اور ڈالر کی طلب کم سے کم ہوتی جائے گی. ماہرین کے مطابق یہ بہت بڑا انقلابی فیصلہ ہے.اس سے ہمارے لوکل مال کی ایکسپورٹس اور کھپت کے مواقع بڑھ جائیں گے اور ملکی معیشت مضبوط ہوگی.ہمیں اس وقت ڈالر کی کمی کا جو سامنا ہے، اس کے پریشر میں کافی کمی آ جائے گی ،ہماری لوکل انڈسٹری کا کام بڑھے گا اوراگر ایران، روس اور چائنہ سے یہ تجارت کامیاب رہتی ہے تو یقینی طور پر روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور بیروزگاری میں کمی ہوگی

    ای سی سی نے اشیاء کے بدلے اشیاء امپورٹ کرنے کی منظوری دی تھی، حکومت کی جانب سے یہ پاکستانی عوام کے لیے حقیقی تبدیلی اور حقیقی ریلیف ہے۔ پاکستان کو سستی ایرانی مصنوعات بشمول کوئلہ، خام تیل، ایل این جی، ایل پی جی وغیرہ تک رسائی ملے گی۔

    وزارت تجارت کی جانب سے بارٹر ٹریڈ کے لئے جاری ایس او آ رمیں اشیا کی فہرست بھی دی گئی ہے، اشیا میں دودھ، کریم، گوشت، انڈے، مچھلی،چاول، بیکری آئٹم،نمک،آئل، صابن، ٹیکسٹائل،ریڈی میڈ گارمنٹس، لوہا اور سٹیل،کاپر، الیکٹرک پنکھے و دیگر اشیاء شامل ہیں

    پاکستان اور ایران دونوں 5 ارب ڈالر سالانہ تجارتی حجم حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں اس سلسلے میں، بارٹر ٹریڈ میکانزم کو فعال کرنا ایک اہم قدم ہے ، وفاقی وزیر تجارت نوید قمر کا کہنا تھا کہ پاکستان قریبی ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کا آغاز کر رہا ہے،کوئی پیسے لے گا نہ دے گا، صرف اشیاء کا کاروبار ہو گا،سید نوید قمرکا کہنا تھا کہ کہ چین ہمارے ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے تاہم بارٹر ٹریڈ ماڈل دو طرفہ تجارت میں نئی توانائی ڈالے گا

    صنعتکار رہنما چیئرمین ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن لاہو میاں خرم الیاس نے کہا ہے کہ بارٹر ٹریڈ پالیسی سے روس، ایران، افغانستان سے تاجرت و برآمدات اور درآمدات میں اضافہ ہوگا،پاکستان کی روس،ایران اور افغانستان سے مال کے بدلے مال کی تجارت (بارٹر سسٹم) کے ذریعے ایک ارب15 کروڑ 30لاکھ ڈالرز مالیت کی برآمدات اور دو ارب سے زائد درآمدات کی صلاحیت ہے ابتدا ء میں بارٹر کے تحت45 سے50فیصد ایران سے 20 فیصد اور افغانستان سے15 سے 20فیصد بارٹر تجارت ہوگی،باقی تجارت پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ وزارت تجارت کے مطابق بارٹر سسٹم میں رقوم کی منتقلی نہیں ہوتی حکومت نے اس حوالہ سے یکم جون کو ایس آر او بھی جاری کردیا ہے جس کے تحت تین ممالک کے ساتھ مال کے بدلے مال کی تجارت ہوگی۔بارٹر تجارت کا مقصد ڈالر پر دباؤ کم کرنا ہے۔پاکستان کے ہمسائیہ ممالک سے بارٹر تجارت میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہے گا روس سے پاکستانی تاجر دالیں، گندم، کوئلہ،پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس درآمدکرینگے۔انہوں نے کہا کہ بارٹر تجارت سے ڈالر پر انحصار کم،معیشت مستحکم اور کاروبار ی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین سہیل اکبر،احسن منیر چاولہ وائس چیئرمین کے ہمراہ صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میاں خرم الیاس نے کہا کہ روس، افغانستان اور ایران کے ساتھ بارٹر تجارت سے معیشت کو استحکام ملے گا اور کارباری لاگت کم ہوگی روپے کی قدر میں استحکام آئے گا جس سے مہنگائی کی شرح میں کمی ہوگی اور اشیاء سستی ہونے سے صارفین کو ریلیف ملے گا،