Baaghi TV

Tag: بارکھان

  • بارکھان اور گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    بارکھان اور گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    بارکھان اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے-

    بارکھان اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے،زلزلہ پیما مرکزکے مطابق زلزلے کی شدت4.2 اور گہرائی 25 کلومیٹر تھی، زلزلے کا مرکز بارکھان سے 27 کلومیٹرشمال مشرق میں واقع تھا۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق زلزلے کے فوری بعد مختلف علاقوں میں ریسکیو اور نگرانی کے عملے کو الرٹ کر دیا گیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے تاحال زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں میں خوف کی کیفیت برقرار ہے اور لوگ حفاظتی اقدامات اختیار کر رہے ہیں۔

    مقامی حکومت نے عمارتوں میں کسی بھی ممکنہ نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں،ماہرین زلزلہ سے متعلق شہریوں کو ہدایت کر رہے ہیں کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔

  • بارکھان میں شرپسندوں نے سڑک کی تعمیراتی مشینری کو آگ لگا دی

    بارکھان میں شرپسندوں نے سڑک کی تعمیراتی مشینری کو آگ لگا دی

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں نامعلوم مسلح افراد نےسڑک کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور جنریٹر کو آگ لگا دی۔

    لیویز حکام کا کہنا ہے کہ بارکھان میں نامعلوم افراد نے شرپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک بنانے کی مشینری اور جنریٹر کو آگ لگادی، تاہم واقعے میں کوئی جان نقصان نہیں ہوا، لیویز نے مشینری کو آگ لگانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نا معلوم ملزمان کو تلاش کیا جارہا ہے، جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا، یہ واقعہ گزشتہ شب پیش آیا تھا، لیکن خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

    واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان میں ملک دشمن قوتیں سرگرم ہیں، اور صوبے کی تعمیر و ترقی کی دشمنی میں شرپسندی کی کارروائیاں کرتی رہتی ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آئے روز ان شرپسندوں کا قلع قمع کرنے کی کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔

    اس سے قبل مارچ 2025 میں بھی بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں نامعلوم افراد نے تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے 4 مزدور جاں بحق ہو گئے تھے۔

  • بارکھان واقعہ: کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل

    بارکھان واقعہ: کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل

    سانحہ بارکھان میں کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :واضح رہے کہ خان محمد مری کے دوبیٹوں اور ایک نامعلوم خاتون کی لاش بلوچستان کے علاقے بارکھان کے کنویں سے ملی تھیں جس کے بعد دعویٰ کیا گیا تھاکہ کنویں میں سے ملنے والی خاتون کی لاش گراں ناز کی ہے لہٰذا گزشتہ روز کنویں سے ملنے والی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹرعائشہ فیض کے مطابق کنویں سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک لڑکی کی لاش ہے جس کی عمر 17 سے 18 سال ہے، مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کیا گیا لڑکی کےسر پر تین گولیاں ماری گئیں اور شناخت چھپانے کےلیے چہرے اور گردن پر تیزاب پھینکا گیا۔پولیس سرجن نے بتایا کہ قتل کی گئی لڑکی گراں ناز نہیں بلکہ اس کی بیٹی ہوسکتی ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ ظوی خاندان کی بازیابی کے لیے آپریشن مشرقی بلوچستان اورجنوبی پنجاب میں عمل میں لایا گیا لیویزکوئیک رسپانس فورس کےآپریشن میں تمام مغویوں کو بازیاب کرالیا گیا، بازیاب ہونے والوں میں مغوی خاتون گراں ناز، 4 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ خان محمد مری کی بیوی گراں ناز ،بیٹی اور ایک بیٹے کو بارکھان بارڈر ایریا سے بازیاب کرایا گیا جبکہ دو بیٹےڈیرہ بگٹی بارکھان بارڈر ایریا اور ایک بیٹا دکی کے علاقے نانا صاحب سے بازیاب کرایا گیا تمام 6 افراد سرکار کی حفاظتی تحویل میں ہیں ان کو میڈیا کے سامنے لاکر تفصیلات دی جائیں گی۔

    لیویز ذرائع کے مطابق اغواء کار گروہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مزاحمت کی کوشش نہیں کی،آپریشنزمیں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

    واضح رہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران پر گراں ناز مری اور ان کے بیٹوں کو یرغمال بنانے اور قتل کرنے کا الزام ہے قتل کے الزام میں بلوچستان کے برطرف وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کو حراست میں لے لیا گیا۔

  • کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ارض پاک پاکستان کو بنے تقریباً 75 سال ہو چکےاس ملک کو بنانے کا مقصد ایک آزاد خودمختار ریاست تھا جو کہ صرف اور صرف قرآن و حدیث کے تابع ہونی تھی مگر افسوس صد افسوس کہ اتنے برس گزرنے کے بعد بھی غلبہ جہالت و ظلم کا ہے جو کہ قیام پاکستان سے قبل بھی تھا یعنی وہ مقصد حاصل نا ہوس سکا جس کی ضرروت تھی-

    کہیں مہنگائی و بے روزگاری نے مار رکھا ہے تو کہیں وڈیرے جاگیر دار لوگوں کو جانوروں کی طرح مار رہے ہیں گزشتہ دن بلوچستان میں کنوئیں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کا قاتل صوبائی وزیر سردار کھیتران تاحال آزاد گھوم رہا ہے اور یقیناً وہ آزاد ہی گھومے گا کیونکہ ریاست میں قانون تو ہے مگر ماڑے کے لئے تگڑے کے لئے قانون بہت کمزور ہے –

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کنوئیں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں وڈیروں کے ٹکڑوں پہ پلنے والی پولیس فوری حرکت میں ائی کیونکہ نوکری بھی تو کرنی ہے کبھی سرکار کی تو کبھی سردار کی پولیس نے بتایا کہ تینوں مقتولین کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جبکہ مقتولہ خاتون کے چہرے پر تیزاب ڈال کر اسے مسخ کیا گیا ہے-

    لاشیں شناخت کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان منتقل کی گئیں جہاں خاتون سمیت تینوں لاشوں کی شناخت ہوگئی لاشیں خان محمد مری نامی شخص کی اہلیہ اور دو بیٹوں کی ہیں جو کہ صوبائی وزیر سردار کھیتران کی نجی جیل میں قید تھے مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مزید پانچ افراد صوبائی وزیر کی نجی جیل میں تا حال قید ہیں –

    چند دن قبل مقتولہ خاتون نے قرآن ہاتھ میں پکڑ کر اپنی فریاد جاری کی تھی جو کہ سوشل میڈیا پہ وائرل بھی ہوئی صاحب اختیار لوگوں تک پہنچی بھی اس مظلوم عورت کی فریاد تھی کہ اس کی بیٹی اور اس کے ساتھ روزانہ زنا کیا جاتا ہے تاہم پھر بھی کسی کے کان پہ جو تک نا رینگی-

    واضع رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی سینکڑوں ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں مگر ان سرداروں وڈیروں کو کوئی لگام نہیں ڈالی جا سکی اور شاید ڈالی بھی نا جا سکے گی کیونکہ یہ جمہوریت ہے اور جمہوریت میں فیصلے جمہور دیکھ کر کئے جاتے ہیں ناکہ انسانی منشور دیکھ کر افسوس کہ قوم کو مہنگائی نے اس قدر مار دیا کہ غریب اب سانسیں بھی مشکل سے ہی لے سکتا ہے مگر اس سے بھی بڑا افسوس کہ مغلوب عوام کو جب جی چاہتا ہے جیسے مرضی قتل کر دیا جاتا ہے اور ظالم کا ہاتھ روکنا تو دور کی بات اس کے خلاف آواز بلند کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ انصاف کی عدم دستیابی ہے-

    اس قوم کو روزی روٹی میں اس قدر مگن و مجبور کر دیا گیا کہ کوئی لبوں پہ حرف شکایت نا لائے اور جو لائے وہ زندہ نا رہنے پائے
    جمہوری مفاد کی خاطر لوگوں کو مہنگائی کے خلاف سڑکوں پہ انے کی اور دنگے فساد کی ترغیب دی جاتی ہے جو کہ سراسر غلط ہے
    مگر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اٹھنے کی ترغیب بلکل نہیں دی جاتی کیونکہ وہ جانتے ہیں جو آج کسی دوسرے کے خلاف اٹھ گئے کل وہ ہمارے خلاف بھی الم بغاوت بلند کریں گے

    اسی ڈر سے وہ لوگوں کو غیر ضروری کاموں میں الجھا کر مہنگائی کے خلاف سڑکوں پہ آنے کو جہاد قرار دیتے ہیں حالانکہ قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ

    مسلمانو ! جو لوگ قتل کر دیے جائیں ان کے لیے تمہیں قصاص (یعنی بدلہ لینے کا حکم دیا جاتا ہے۔ (لیکن بدلہ لینے میں انسان دوسرے انسان کے برابر ہے) اگر آزاد آدمی نے آزاد آدمی کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے وہی قتل کیا جائے گا (یہ نہیں ہوسکتا کہ مقتول کی بڑائی یا نسل کے شرف کی وجہ سے دو آدمی قتل کیے جائیں جیسا کہ عرب جاہلیت میں دستور تھا) اگر غلام قاتل ہے تو غلام ہی قتل کیا جائے گا ( یہ نہیں ہوسکتا کہ مقتول کے آزاد ہونے کی وجہ سے دو غلام قتل کیے جائیں) عورت نے قتل کیا ہے تو عورت ہی قتل کی جائے گی اور پھر اگر ایسا ہو کہ کسی قاتل کو مقتول کے وارث سے کہ (رشتہ انسانی میں) اس کا بھائی ہے معافی مل جائے (اور قتل کی جگہ خوں بہا لینے پر راضی ہو جائے) تو (خوں بہا لے کر چھوڑ دیا جا سکتا ہے) اور ( اس صورت میں) مقتول کے وارث کے لیے دستور کے مطابق (خوں بہا کا) مطالبہ ہے اور قاتل کے لیے خوش معاملگی کے ساتھ ادا کر دینا۔ اور دیکھو یہ ( جو قصاص کے معاملہ کو تمام زیادتیوں سے پاک کرکے عدل و مساوات کی اصل پر قائم کر دیا گیا ہے تو یہ) تو تمہارے پروردگار کی طرف جرف سے تمہارے لیے سختیوں کا کم کر دینا اور رحمت کا فیضان ہوا۔ اب اس کے بعد جو کوئی زیادتی کرے گا تو یقین کرو وہ (اللہ کے حضور) عذاب درد ناک کا سزاوار ہو گا

    قتل کے بدلے قتل اور خون بہا لے کر معافی بھی ہےمگر سب خاموش کوئی نہیں کہتا مظلوموں کو کہ اٹھو اپنی آنے والی نسلوں کے لئے نکلوں ہتھیار پکڑو ظالموں کو مارو اور اگر وہ ڈر کر معافی مانگ کر خون بہا دے دیں تو اسے معاف کرو پیسہ لے کر تاکہ آگے اسے اسے پتہ ہو خون اتنا سستا نہیں مگر افسوس کون ہے جو بتائے گا؟کون ہے جو راستہ دکھائے گا کیونکہ اب تو راستے بغیر مفاد نہیں دکھائے جاتے