Baaghi TV

Tag: بار کونسل

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا وکلا کی فلاح وبہبود کیلیے گرانٹ ایک ارب تک بڑھانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب کا وکلا کی فلاح وبہبود کیلیے گرانٹ ایک ارب تک بڑھانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بار کونسلز کی اپیکس باڈیز کے ارکان کی ملاقات ہوئی

    وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڈ اور احسن بھون بھی موجود تھے،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نےوکلاء کی فلاح وبہبود کےلئے گرانٹ ایک ارب تک بڑھانے کا اعلان کر دیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے خاتون وکلا کے لئے بار کونسل میں مخصوص ہال اور ڈے کئیر سنٹر قائم کرنے کا اعلان کر دیا،ملاقات کے دوران اٹک میں دو وکلا کے قتل کی اطلاع پر وزیر اعلی مریم نواز نےگہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ،بار کونسل ایکٹ اور لائیرز پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ملزم کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے کی ہدایت بھی کی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ وکلا برادری کا تحفظ یقینی بنا نا حکومت کی زمہ داری ہے ،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بارکونسل کے عہدیداران سے وکلا کے قتل پر تعزیت بھی کی.

    وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب بار کونسل کے دورے کی دعوت قبول کرلی،بہاولپور اور ملتان بار کے صدور کی طرف سے دورے کی دعوت پر بھی آمادگی دکھائی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نےپنجاب بار کونسل کو پانچ کروڑ ، بہاولپور اور ملتان ہائیکورٹ بار کے لئے ایک ایک کروڑ گرانٹ کے چیک دئیے،وکلا برادری کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں بحال کرنے پر اتفاقِ کیا گیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی کے لئے وکلا برادری کی جدو جہد قابل تحسین ہے۔ قانون کی حکمرانی اور فرد کی انصاف تک مساوی رسائی یقینی بنانے کے لیے بھرپور معاونت کریں گے۔عدالتی نظام کی کارکردگی بڑھانے اور انصاف کی بروقت فراہمی کیلئے حکومت انتظامی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔

    باروفد سے ملاقات میں صوبائی حکومت اور وکلا برادری کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعلی مریم نواز نے بار وفد کو وکلا کے مسائل کے حل کے لئے حکومت کے تعاون کی یقین دہانی کروائی، با ر عہد یداروں نے بھرپور تعاون اور مالی معاونت پروزیراعلی مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا .وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں منصفانہ اور موثر قانونی نظام کے اجتماعی مقصد کو آگے بڑھانے کی کاوشوں کو سراہا.سینیٹر پرویز رشید،،سینئر منسٹر مریم اورنگزیب،صوبائی وزیر اطلاعات عظمی زاہد بخاری،صوبائی وزیر قانون صہیب احمد بھرتھ، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان ،پرنسپل سیکرٹری ساجد ظفرڈال، ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

  • پاکستان بار نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

    پاکستان بار نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

    پاکستان بار نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

    پاکستان بار کونسل نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیےکے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے نام نوٹ میں کہا ہےکہ پاکستان بار چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے عشائیے میں احتجاجاً شرکت نہیں کرےگی۔

    جبکہ پاکستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ چیف جسٹس عمر عطابندیال فل کورٹ ریفرنس نہیں لے رہے، پاکستان بار احتجاجاً ججز کے چیف جسٹس کے اعزاز میں عشائیے میں شرکت نہیں کرےگی، اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ پاکستان بار چیف جسٹس کے ریفرنس میں عدالتی خامیوں اور خوبیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

    وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل نے چیف جسٹس کاالوداعی ریفرنس نہ ہونے پر اپنا خطاب بھی جاری کردیا، وائس چیئرمین پاکستان بار ہارون رشید کے خطاب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور پر تنقیدکی گئی ہے. ان کا کہنا ہےکہ پاکستان بار کونسل وکلا کی ریگولیٹری باڈی ہے، وکلا کے تحفظات گوش گزار کر رہا ہوں جو ممکن ہے جناب کی طبع پر گراں گزریں، عدالت عظمٰی میں 60 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں، زیر التوا مقدمات کے مقرر اور نمٹانےکا کوئی شفاف طریقہ کار نہیں بنایا گیا۔

    ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے پاکستان بار کی بار بار درخواست پر کبھی ملاقات نہیں کی، چیف جسٹس کا یہی جواب آیا کہ سپریم کورٹ بار سے رابطے میں ہیں تو ملاقات کی ضرورت نہیں علاوہ ازیں ان کا کہنا ہے کہ ایسامقدمہ مقرر کرنے کی درخواست نہیں کریں گے جس میں اپنا مفاد پوشیدہ ہو،کسی بھی مقدمےکے آغاز میں ایسے ریمارکس نہ دیں کہ پہلے ہی نتیجہ معلوم ہوجائے، سپریم کورٹ میں سرکاری افسران کو رجسٹرار مقرر کرکے آئینی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، عدالتی نظام سے ناآشنا سرکاری افسران کو رجسٹرار مقرر کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

  • کل کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہو نگے

    کل کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہو نگے

    خیبر پختون خوا بار کونسل نے کل سے عدالتی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، چئیرمین ایگزیکٹیو سید مبشر شاہ ایڈوکیٹ کے مطابق ہڑتال کی کال پاکستان بار کونسل نے دی ہے، سید مبشر شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ کوئٹہ میں قتل ہونے والے معروف قانون دان عبدالرزاق شر کےقتل کے خلاف ہڑتال کرہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ پروسیجر ایکٹ کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے سمیت دیگر امور پر بھی ہڑتال کی کال دی گئی ہے ۔ چئیرمین ایگزیکٹیو سید مبشر شاہ ایڈوکیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ کل کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوگا اور اس ضمن میں تمام وکلا تنظیموں کو باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے، واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر کو گزشتہ روز ائیرپورٹ روڈ پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

  • جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر

    جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر

    سندھ بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا۔

    باغی ٹی وی: ریفرنس وائس چیئرمین کے توسط سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا گیا ہے سندھ ہائیکورٹ بار کے وائس چئیرمین کے توسط سے دائر ہونیوالے ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کا رویہ عہدے کے حلف کے خلاف ہے لہٰذا ان کے خلاف انکوائری شروع کرائی جائے۔

    حکومتی اجلاس: پی ٹی آئی سےمذاکرات کےفائنل راؤنڈ کی حکمت عملی طے

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جسٹس مظاہرنقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر ہوچکے ہیں اسلام آباد بار کونسل کی جانب سےجسٹس مظاہرنقوی کےخلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں دائرکی تھی شکایت کےساتھ آڈیو ویڈیو کےٹرانسکرپٹ بھی لگائے گئے تھے شکایت میں کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے حوالے سے مختلف آڈیوز اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

    کراچی کی آبادی میں مزید اضافہ

    شکایت میں جسٹس مظاہر علی اکبر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الزام لگایا گیاتھا اس کے علاوہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ٹیکس چھپانے کا الزام بھی عائد کیا گیا،اسلام آباد بار کونسل کی شکایت میں کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف مالی بے ضا بطگی کے ثبوت ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی لہٰذا جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کارروائی کی جائے-

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    دریں اثنا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر اراکین کو خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جسٹس مظاہرنقوی کے معاملے پر اجلاس بلایا جائے خط میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا کر جج پر لگے الزامات اگر غلط ہیں تو جائزہ لیا جائے، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کے خلاف پاکستان بار نے شکایت بھجوائی، سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت قائم کی گئی ہے۔

    ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ آڈیو لیک،مریم کا ردعمل سامنے آ گیا

  • پاکستان بار کونسل کا سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار

    پاکستان بار کونسل کا سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار

    پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان بار کونسل بطور اعلیٰ ادارہ بالخصوص اور عام طور پر قانونی برادری کی نمائندہ کی حیثیت سے ہمیشہ یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے عدلیہ کو غیر جانبدار رکھنے کے لیے سیاسی معاملات میں کبھی ملوث نہ ہوں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان بار کونسل کے مطابق بدقسمتی سے سیاسی معاملات میں حالیہ سوموٹو لیا گیا تھا جس کی ضرورت نہیں تھی خاص طور پر جب یہ معاملہ دو مختلف ہائی کورٹس میں زیر سماعت تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ معمول رہا ہے کہ جب بھی معاملہ کسی بھی ہائی کورٹ کے سامنے زیرِ سماعت ہوتا ہے تو معزز عدات مداخلت نہیں کرتی لیکن بدقسمتی سے اس طرز عمل کو بعض معاملات میں نظر انداز کیا گیا ہے خاص طور پر سوموٹو دائرہ اختیار کے معاملے میں جس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز نےسی سی پی او لاہور کے تبادلے سے متعلق ایک سروس معاملے میں جس کا اختتام معزز سپریم کورٹ کے اختلافی فیصلے پر ہوا اور عدلیہ کے وقار کو کم کیا گیا.

    الیکشن کا فیصلہ زور زبردستی سے ہرگز قبول نہیں۔ مریم نواز

    پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں پولرائزیشن پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پولرائزیشن اور تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کی کوشش اور درخواست کی کہ سوموٹو دائرہ اختیار کے حوالے سے معیارات بنائے جائیں اور بنچوں کی تشکیل کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ ادارے میں ہم آہنگی برقرار رہے.
    https://twitter.com/tayyabbalochpk/status/1640723846612369409

    بار کونسل نے اپنے اعلامیہ میں لکھا کہ پاکستان بار کونسل عدلیہ کے ادارے کے لیے بہت عزت اور احترام رکھتی ہے اور ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ عدلیہ کے ادارے پر عوام کے اعتماد کو کبھی بھی متزلزل نہیں ہونا چاہیے جبکہ خاص طور پر سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے کے پیش نظر، یہ ایک اہم معاملہ ہے۔

    میہڑ : بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف سندھ ترقی پسند پارٹی کا تھانے کے سامنے …

    علاوہ ازیں بارکونسل نے اس بات پر تشویش کرتے ہوئے کہا ایک فل کورٹ کو روکتے ہوئے، دو معزز ججز جنہوں نے اس معاملے کو سننے سے انکار کر دیا تھا، ملک و قوم کو انتشار کی صورتحال سے بچانے کے لیے آئین کی تشریح کے حوالے سے معاملے کی سماعت کریں جبکہ کونسل کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں کے کردار کشی سے گریز کریں، وہ صرف فیصلے پر تبصرہ کریں ججز پر نہیں سپریم کورٹ کی عزت اور معزز عدلیہ کے وقار کو بحال کیا جائے

  • پاکستان بارکونسل کا کل 6 جنوری کو ہڑتال کا اعلان

    پاکستان بارکونسل کا کل 6 جنوری کو ہڑتال کا اعلان

    :پاکستان بارکونسل نے لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن اجلاس کے دن ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان کا کہنا تھاکہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس والے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے کہا ہے کہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس والے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک کو لانے کا کیا مقصد ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک کے بجائے 3 خواتین ججز لائیں لیکن ان کی سینیارٹی کے مطابق ان کی تعیناتی کی جائے ۔وائس چیئرمین نے مزید کہا ہے کہ چیف جسٹس کہہ چکے ہیں کہ ججز تقرری کا معاملہ نئے چیف جسٹس پرچھوڑنا چاہیے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کاایک اجلاس کیا گیا جس میں لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کا معاملہ چار چار سے ٹائی ہوگیا ۔اُس وقت بھی جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کے معاملے پر وکلا کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق کہ چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ میں جج کی تقرری کے لیے ہائی کورٹ کے جج کے نام کی سفارش کی جاتی ہے جس کی منظوری جوڈیشل کمیشن کی جانب سے دی جاتی ہے جبکہ جسٹس عائشہ ملک کے نام کی بھی چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے سفارش کی گئی تھی تاہم تکنیکی طور پر جسٹس عائشہ کا نام سپریم کورٹ میں بطور جج تقرری کے لیے مسترد کردیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ مزید رپورٹس کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، اٹارنی جنرل پاکستان اور وزیر قانون نے جسٹس عائشہ ملک کے نام کی حمایت کی تھی جب کہ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس مقبول باقر، ،سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) دوست محمد اور پاکستان بار کونسل کے اراکین نے جسٹس عائشہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ میں تقرری کے مخالف ووٹ ڈالا تھا ۔