Baaghi TV

Tag: باسی کھانا

  • مضر صحت کھانا، آزاد کشمیر کی ہزاروں طالبات کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

    مضر صحت کھانا، آزاد کشمیر کی ہزاروں طالبات کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

    ماہ رمضان میں طالبات کی جان سے کھیلا جانے لگا، مضر صحت کھانے کی فراہمی،طالبات بیماریوں کا شکار،کوئی نوٹس لینے کو تیار نہیں، ہاسٹل انتظامیہ پیسے کمانے لگی تا ہم طالبات کی صحت کی کوئی پرواہ نہیں

    آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں کی ہزاروں طالبات کی جان کو خطرہ، ریاستی مشنری گھی پی کر سو گئی ہے، صحافی امجد بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ٹویٹ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ گذشتہ تین روز سے آزاد کشمیر کی مختلف جامعات اور کالجز کی تین درجن سے زائد طالبات کے پیغامات ملے۔ طالبات کے مطابق میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، پوسٹ گریجویٹ کالج فار گرلز میرپور، کوٹلی یونیورسٹی ،باغ ویمن یونیورسٹی،آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد،پوسٹ گریحویٹ کالج فار گرلز، ماڈل ساٙئینس کالج مظفرآباد سمیت درجنوں تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات نجی ہاسٹلز میں رہائش پذیر ہیں، جہاں انہیں مضر صحت اور باسی کھانا دیا جاتا ہے۔

    شکایت کرنے پر ہاسٹلز سے نکالنے اور والدین کو شکایات کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، طالبات نے باسی کھانوں اور گندے باورچی خانوں کی درجنوں تصاویر بھی ارسال کی ہیں۔ ریاستی اور ضلعی مشنری نجی ہاسٹلز کو لگام ڈالنے میں ناکام ہوچکی ہے، کئی طالبات ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہوچکی ہیں جبکہ سینکڑوں طالبات فاسٹ فوڈ کھانے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے انہیں صحت کے مسائل ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ہزاروں معصوم طالبات کی جان بچانے میں کردار ادا کریں۔

    طالبات کو دیا جانے والا باسی کھانا نہ صرف نقصان دہ بلکہ اسکا ذائقہ بھی بدل چکا ہوتا ہے، باسی کھانے سے صحت کے مسائل پیدا ہو تے ہیں،ہاسٹل انتظامیہ فیسیں تو پوری لیتی ہے لیکن طالبات کو ساتھ باسی کھانا کھلا رہی ہے، طالبات نے بات چیت کے دوران کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو اکثر طالبات پڑھنے کی بجائے ہسپتالوں میں علاج کروا رہی ہوں گی، کئی گھروں‌کو لوٹ جائیں گی تو کئی طالبات جو باہر کے کھانے نہیں کھا سکتی وہ باہر دستر خوان پر جا کر کھانا کھا رہی ہوں گی، ہاسٹل انتظامیہ کے خلاف فوری کاروائی کی ضرورت ہے، انہیں پابند کیا جائے کہ وہ طالبات کو تازہ کھانا دیں اور معیاری خوراک دیں،

    پارلیمنٹ ہاؤس،لاجز کا پانی مضر صحت ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

    اوچ شریف:مضر صحت ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی کی فروخت،فوڈ اتھارٹی منظر سے غائب

    کھانسی کے 9 سیرپس کے استعمال پر پابندی عائد 

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

    پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے ملازمین بارے حیرت انگیز انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ:نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر،اطلاعات کے مطابق سندھ کے باسی کئی محاذوں پر لڑرہے ہیں ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف حکومت کی بے رحمانہ پالیسیاں اورطاقتوروں ،وڈیروں کی خواہشات کا شکار ہورہے ہیں اس اثنا میں اگران پرکوئی اورظلم زیادتی یا تکلیف آجائے تو وہ کدھر جائیں گے

    نواب شاہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیرہےاوران کوکوئی پوچھنے والا نہیں مریض تڑپ رہے ہیں

    اس سلسلے میں‌ سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بعد نواب شاہ،متاثرین میں خواتین اوربچوں سمیت 20 افراد کوہسپتال منتقل کردیاگیا ہے ، جہاں ان کی حالات خراب بتائی جاتی ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ کھانا سندھ حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیاتھا ، لیکن کھانا باسی تھا اورپھرناقص بھی جس کی وجہ سے کھانا کھانے والے سب بیمار ہوگئے

     

     

    ادھروزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔