Baaghi TV

Tag: باغی

  • دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

    شام میں جاری بغاوت کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے، دہلی میں واقع شام کے سفارتخانے نے اپنا پرانا قومی پرچم اتار کر باغیوں کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔ اس اقدام کو ایک اہم سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں موجود شام کے سفارتکاروں نے باغیوں کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔

    شام کے نئے جھنڈے میں سبز، سفید، سیاہ اور سرخ رنگ شامل ہیں، جو نہ صرف امید، آزادی، امن، جدوجہد اور انقلاب کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس پر موجود تین سرخ ستارے شام کی انقلابی تحریک کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ یہ جھنڈا اس بات کی علامت ہے کہ شام میں جاری سیاسی تبدیلی اور باغیوں کی حکومت کی تسلیمیت میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔پرانے قومی پرچم میں دو سبز ستارے تھے جو شام اور مصر کے ماضی کے اتحاد کی علامت تھے۔ تاہم، اب جو نیا جھنڈا اپنایا گیا ہے، وہ شام کی انقلابی تحریک اور اس کے نئے سیاسی رخ کو ظاہر کرتا ہے۔

    شام کے مختلف شہروں میں بھی باغیوں کی حکومت کی جانب سے نئے پرچم کو اپنانا شروع کر دیا گیا ہے۔ حمص، ادلب، حلب، حمہ، درعا اور دمشق جیسے اہم شہروں میں باغیوں نے اپنے نئے جھنڈے لہرا دئیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی دارالحکومت دمشق میں آئی ہے، جہاں باغیوں نے 11 دن کی سخت لڑائی کے بعد قبضہ مکمل کیا، جس کے بعد شام کے صدر بشار الاسد ملک چھوڑ کر روس میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

    شام میں اس سیاسی تبدیلی کو عالمی سطح پر مختلف ردعمل کا سامنا ہے۔ برلن، استنبول اور ایتھنز جیسے شہروں میں باغیوں کے حامیوں نے نئے جھنڈے کو لہرا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں کہ مختلف ممالک، خاص طور پر ہندوستان جیسے بڑے ممالک، اب اس سیاسی تبدیلی کے بعد شام کی حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کیسے ترتیب دیں گے۔ہندوستان کے لیے یہ نیا سیاسی منظرنامہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور اس کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں۔ تاہم، اب جب کہ باغیوں کی حکومت نے نئے جھنڈے کو اپنانا شروع کر دیا ہے، ہندوستان کے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس نئی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا یا پھر اس کی پالیسی میں تبدیلی لائے گا۔

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

  • شامی باغیوں کا فتح کے بعد  سرکاری ٹی وی پر خطاب

    شامی باغیوں کا فتح کے بعد سرکاری ٹی وی پر خطاب

    دمشق: شامی باغیوں نے دارالحکومت پر قبضے کے بعد سرکاری ٹی وی پر پہلے ہی خطاب میں تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شامی باغیوں نے اپنی فتح کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کرتے ہوئے بتایا کہ شام سے بشار الاسد حکومت کے طویل دور کا خاتمہ ہو گیا ہےباغیوں نے پہلے ہی خطاب میں تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دمشق میں صورتحال محفوظ ہے،کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہو گی۔

    عرب میڈیا کے مطابق شامی باغیوں نے آزاد شام کی خود مختاری اور سالمیت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ شام میں سیاہ دور کا خاتمہ کرنے کے بعد نیا عہد شروع ہونے جا رہا ہےباغیوں کا کہنا ہے کہ شام کی تمام سرکاری، غیر سرکاری املاک اور تنصیبات کا تحفظ کیا جائے گا۔

    شامی باغی گروپ تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے سابق شامی سرکاری فوج اور عوام کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور سابق حکومت کے فوجی سرکاری اداروں سے دور رہیں، سرکاری ادارے اس وقت سابق وزیراعظم کی نگرانی میں ہیں، اقتدار کی منتقلی تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی حکومتی اداروں کی سربراہی کریں گے۔

  • صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا،سربراہ باغی گروپ

    صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا،سربراہ باغی گروپ

    دمشق: شامی فوجی کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شامی فوجی کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا دمشق میں گولیاں چلنے اور دھماکے سنے جانے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جشن میں نعرے بازی بھی کر رہے ہیں، اس حوالے سے شامی باغی گروہ کا کہنا ہے جشن کے دوران ہوائی فائرنگ کی اجازت نہیں ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کا بتانا ہے کہ عوام کی جانب سے امیہ اسکوائر پر جشن منایا گیا شہری شامی فوج کے ٹینکوں پر چڑھ گئے، دمشق میں باغی ملیشیا کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، دمشق کے قریب جیل سے ہزاروں قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔

    صدر بشار الاسد کے ملک سے فرار ہونے کے بعد باغی گروپ تحریر الشام ملیشیا کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پُرامن انتقال اقتدار تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی تمام ریاستی اداروں کو چلائیں گے کسی بھی صورت شام میں موجود کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے ٹینک اور بکتر بند جنوب مغربی شام کی قنیطرہ گورنری میں داخل ہو گئیں۔

    عبرانی میڈیا آؤٹ لیٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج سرحدی دفاع مضبوط بنانے کے لیے قنیطرہ کے بفرزون میں داخل ہوئیں۔

    قبل ازیں شامی باغیوں نے دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کا دعویٰ کردیا ہے شامی صدر بشارالاسد بھی دمشق چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقامی شہریوں نے بتایا کہ دمشق میں گولیاں چلنے کی آوازیں اور دھماکے سنے جا رہے ہیں،بشارالاسد کے صدارتی محافظ بھی ان کی معمول کی رہائش گاہ پر تعینات نہیں جس کے باعث ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ بشار الاسد فرار ہوچکے ہیں، شامی فوجی افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ بشارالاسد طیاتازرے پر فرار ہوئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق شام کے باغیوں نے دمشق ائیرپورٹ اور سرکاری ٹی وی کی عمارت پرقبضے کا دعویٰ کیا ہے، دمشق میں شامی وزارت داخلہ کی عمارت باغیوں کے قبضے میں آگئی ہے دارالحکومت پر باغیوں کے قبضے کی اطلاعات کے بعد دمشق کے مرکزی اسکوائر پر ہزاروں شہری جمع ہو گئے اور جشن اور نعرے بازی شروع کر دی۔

    شامی اپوزیشن وار مانیٹر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد ملک چھوڑ کر طیارے میں کسی نامعلوم مقام کی طرف چلے گئے ہیں، صدر بشارالاسد آج صبح طیارے میں بیٹھ کر دمشق سے فرار ہوئے شامی کردوں نے دیرالزور کا کنٹرول سنبھال کر اپنا جھنڈا لہرا دیا اور صدربشارالاسد کی فوج کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا، سیکڑوں فوجیوں اور سرکاری افسران نے عراق میں پناہ لے لی۔

    دوسری جانب جنگجو لیڈر محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام میں حالیہ بغاوت کا مقصد صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانا ہے، شامی حکومت کا خاتمہ قریب ہے، ہتھیار پھینکنے والے سرکاری فوجیوں کو عام معافی دی جائے گی۔

    شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغی گروپ حیات تحریر الشام کے باغیوں نے اتوار کے روز حکومت کے خلاف زبردست کارروائی کے دوران اہم شہر حمص پر قبضہ کرنے کا اعلان کیارپورٹ میں بتایا گیا کہ باغیوں نے حمص کی سینٹرل جیل پر بھی قبضہ کیا جس دوران تین ہزار پانچ سو قیدی فرار ہوگئے۔

    باغیوں کا اسرائیلی سرحد کے قریب القُنیطرہ کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ خبرایجنسی کے مطابق دو ہزار شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے لی۔ جبکہ پولینڈ نے اپنے شہریوں کو شام چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔

    اس کے علاوہ امریکی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ شامی صدربشارالاسد دمشق میں موجود نہیں ہیں جبکہ شامی فوج دمشق کے مضافات سے پیچھے ہٹ گئی ہے،امریکی اور مغربی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بشارالاسد حکومت آئندہ ہفتے ختم ہونے کا امکان ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق تمام ایرانی فوجی عہدیدار خصوصی پرواز کے ذریعے دمشق سے تہران روانہ ہوگئے ہیں جبکہ پولینڈ نے اپنے شہریوں کو شام سے فوری نکلنے کا حکم دے دیا ہے اس کے علاوہ حمص شہر سے درجنوں فوجی گاڑیوں کو نکلتے دیکھاگیا، حمص کے مرکزی سکیورٹی ہیڈکوارٹرز سے بھی سکیورٹی اہلکار نکل گئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق شامی آرمی چیف جنرل عبدالکریم محمد ابراہیم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شامی عوام باغیوں کی من گھڑت افواہوں پر کان نہ دھرے، شامی فوج بغاوت پرقابو پانےکے لیےکوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، فوج نے باغیوں پر شدید حملے کرکے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا صفایا کیا،باغیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دیہی علاقوں میں فوج کے دستے موجود ہیں، عوام کے تعاون سے جلد بغاوت پر قابو پا لیا جائے گا۔

    شام کی جنگ میں اہم واقعات

    مارچ 2011: دمشق اور درعا میں پرامن احتجاج شروع ہوا الاسد حکومت نے ایک پرتشدد کریک ڈاؤن کے ساتھ جواب دیا، جس کے نتیجے میں مسلح بغاوت ہوئی،

    جولائی 2012: حلب کی لڑائی کے ساتھ تنازعہ شدت اختیار کر گیا، جس میں اپوزیشن فورسز نے شہر کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا۔ شامی فوج نے چار سال بعد اس پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا-

    اگست 2013: مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سینکڑوں شہری مارے گئے یہ حملہ بین الاقوامی سطح پر مذمت کا باعث بنااور شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کرنے پر آمادہ کیا گیا-

    جون 2014: داعش نے پورے شام اور عراق میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد خلافت کا اعلان کیا۔ رقہ، شام میں ان کا اصل دارالحکومت بن گیا اور ان کی حکومت 2019 تک جاری رہی۔

    ستمبر 2015: روس نے الاسد کی حمایت میں براہ راست فوجی مداخلت شروع کی۔ روسی فضائی حملوں نے حکومتی فورسز کے حق میں لہر کو موڑنے میں مدد کی۔

    اپریل 2017: خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں شامی حکومت کے اہداف پر میزائل حملے شروع کرتے ہوئے امریکہ ملوث ہو گیا یہ اسد کی افواج کے خلاف ان کی پہلی براہ راست فوجی کارروائی تھی۔

    نومبر 2024: پچھلے چار سالوں میں تنازعہ بڑی حد تک رُک گیا، یہاں تک کہ مسلح گروپوں نے ادلب سے پچھلے ہفتے آپریشن شروع کیا۔

  • شامی صدارتی محل  کی صدر  کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کی تردید

    شامی صدارتی محل کی صدر کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کی تردید

    دمشق: شامی صدارتی محل نے صدر بشار الاسد کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کی تردید کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کے چند گھنٹے بعد شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے شامی صدارتی محل کا بیان جاری کیا جس میں ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئےکہا گیا ہےکہ صدر دمشق میں ہی ہیں اور اپنی ذمہ داریاں سرگرمی سے نبھانے میں مصروف ہیں۔

    واضح رہےکہ شام میں باغی حمص میں داخل ہوگئے ہیں اور باغیوں کی دمشق کی طرف پیش قدمی جاری ہے، باغیوں نے دمشق کے جنوبی ٹاؤن صنمین پر قبضےکا دعوٰی بھی کیا ہے،ایسے میں اطلاعات سامنے آئیں کہ بشارالاسد اپنے خاندان کے ساتھ ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق شامی اپوزیشن باغیوں کے ایک کمانڈر حسن عبدالغنی نے بتایا ہے کہ ہماری افواج نے دارالحکومت دمشق کو گھیرے میں لینےکا آخری مرحلہ شروع کر دیا ہے جبکہ امریکی میڈیا کا کہنا ہےکہ شام میں موجود ایران کی پاسدارن انقلاب کے اعلیٰ فوجی عہدیدار شام سے نکل چکے ہیں، تمام ایرانی فوجی عہدیدار خصوصی پرواز کے ذریعے دمشق سے تہران روانہ ہوگئے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اردن اور مصر نے شامی صدر بشار الاسد کو شام چھوڑنے کا مشورہ دے دیا، تاہم شامی صدر نے انکار کر دیا ہے، ترک، ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کی دوحا میں ملاقات ہوئی ہے، جس میں شامی حکومت اور باغی گروپوں سے فوری مذکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے شام میں مقامی بغاوتیں شروع ہونے سے صدر بشارالاسد کی اقتدار پر گرفت کو شدید جھٹکا لگا ہے۔

    شام میں بشارالاسد مخالف فورسز نے جنوبی شہر درعا کے بعد حمص پر قبضہ کر لیا ہے، یہ ایک ہفتے میں شامی حکومتی فورسز کے ہاتھوں کھو جانے والا چھٹا شہر ہےفوج نے ایک معاہدے کے تحت درعا سے دستبرداری پر رضامندی ظاہر کی جس کے تحت فوج کے اہلکا ر وں کو دمشق کے شمال میں تقریباً 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر محفوظ راستہ فراہم کیا –

  • باغیوں کی پیش قدمی، بشار الاسد کابینہ فرار ہونے کیلئے فوجی بیس پر جمع

    باغیوں کی پیش قدمی، بشار الاسد کابینہ فرار ہونے کیلئے فوجی بیس پر جمع

    شامی صدر بشار الاسد کی کابینہ اور بڑی تعداد میں فوجی ایئر بیس میں جمع ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شامی باغیوں کی دارالحکومت دمشق کی جانب تیزی سے پیش قدمی جاری ہے، شامی اسٹیک ہولڈرز نے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کا پلان تیار کرلیا گیا، مجوزہ پلان میں اقتدار کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی،اس پلان کے تحت عبوری حکومت 9 ماہ کے اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کی پابند ہوگی۔
    
    دوسری جانب شام کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل محمد خالد الرحمون نے بیان کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق میں مسلح باغیوں کا کوئی وجود نہیں ہے دمشق کے گرد انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، کوئی بھی مسلح ملیشیا سیکیورٹی حصار کو توڑ نہیں سکتی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اردن اور مصر نے شامی صدر بشار الاسد کو شام چھوڑنے کا مشورہ دے دیا، تاہم شامی صدر نے انکار کر دیا ہے، ترک، ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کی دوحا میں ملاقات ہوئی ہے، جس میں شامی حکومت اور باغی گروپوں سے فوری مذکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے شام میں مقامی بغاوتیں شروع ہونے سے صدر بشارالاسد کی اقتدار پر گرفت کو شدید جھٹکا لگا ہے۔

    شام میں بشارالاسد مخالف فورسز نے جنوبی شہر درعا کے بعد حمص پر قبضہ کر لیا ہے، یہ ایک ہفتے میں شامی حکومتی فورسز کے ہاتھوں کھو جانے والا چھٹا شہر ہےفوج نے ایک معاہدے کے تحت درعا سے دستبرداری پر رضامندی ظاہر کی جس کے تحت فوج کے اہلکا ر وں کو دمشق کے شمال میں تقریباً 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر محفوظ راستہ فراہم کیا –

  • شامی باغی حمص میں داخل،شامی فورسز کو انخلا کی آخری کال

    شامی باغی حمص میں داخل،شامی فورسز کو انخلا کی آخری کال

    شام میں باغی درعا پر قبضےکے بعد حمص میں داخل ہوگئے-

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق سیکڑوں شامی فوجی اور ایران نواز ملیشیا کے درجنوں رضاکار بھاگ کر عراق میں داخل ہوگئے ہیں 1650 شامی فوجیوں اور اعلیٰ سرکاری افسران نےعراق میں پناہ لے لی ہے عراقی شہرالقائم میں سیکڑوں زخمی شامی فوجیوں کوطبی امداد بھی دی جا رہی ہے۔

    شامی باغی درعا اور قنیطرہ شہروں پر قبضے کے بعد حمص کے نواحی علاقوں میں داخل ہوئے اور عمارتوں پر لگے صدر بشارالاسد کے پورٹریٹ پھاڑ دیے۔ حما شہر میں بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کا مجسمہ گرا دیا گیا، شام کا شمالی شہر ادلب پہلے ہی باغیوں کے قبضے میں ہے، حالیہ حملوں کے دوران باغی حلب اور حما کاکنٹرول حاصل کرچکے ہیں جب کہ حمص کی حدود میں داخل ہوکر شامی فورسز کو انخلا کی آخری کال دے رکھی ہے۔

    باغیوں کی دمشق کی طرف پیش قدمی جاری ہے، باغیوں نے دمشق کے جنوبی ٹاؤن صنمین پر قبضےکا دعوٰی بھی کیا ہے،برطانوی میڈیا کے مطا بق شامی باغیوں نےدعویٰ کیا ہےکہ انہوں نے 24 گھنٹوں کے اندر تقریباً پورے جنوب مغرب پر قبضہ کرلیا ہے اور دمشق سے 30 کلومیٹر کے اندر پیش قدمی کی ہے۔

  • اسرائیل کا یمن اور لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل کا یمن اور لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل نے یمن پر فضائی حملہ کیا ہے اور حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے

    اسرائیلی فضائیہ ے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے یمن پر حملہ کیا،اسرائیل نے لبنان پر بھی فضائی حملہ کیا ہے،مغربی یمنی بندرگاہی شہر حدیدہ میں اسرائیلی فوج نے حوثی اہداف کو نشانہ بنایا،تین سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی لبنان میں ڈپووں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے گولہ بارود کو ذخیرہ کر رہے تھے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ حوثیوں کے مضبوط گڑھ حدیدہ میں متعدد "فوجی اہداف” کو نشانہ بنایا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کا حملہ "حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی ریاست کے خلاف کیے گئے سینکڑوں حملوں کے جواب میں” تھا۔

    ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل نہ پہنچ سکے۔اسرائیلی وزیراعظم
    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ بندرگاہ کو حوثی ملیشیا کے لیے ایرانی ہتھیاروں کے داخلے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسرائیل کی سرحدوں سے تقریباً 1,800 کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے والے حملے دشمنوں کے لیے ایک یاد دہانی ہیں کہ ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل نہ پہنچ سکے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں کو پیغام دینا تھا۔ گیلنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ”اس وقت حدیدہ میں جو آگ جل رہی ہے وہ پورے مشرق وسطیٰ میں نظر آرہی ہے اور اس کی اہمیت واضح ہے۔” "حوثیوں نے ہم پر 200 سے زیادہ بار حملہ کیا۔ پہلی بار جب انہوں نے کسی اسرائیلی شہری کو نقصان پہنچایا، ہم نے انہیں مارا۔ اور ہم یہ کسی بھی جگہ کریں گے جہاں اس کی ضرورت ہو گی۔

    حوثی تحریک کے زیر انتظام المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے کہا کہ فضائی حملوں میں 80 افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یمن کو ” اسرائیلی جارحیت” کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور صوبے کے پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد "عوام کے مصائب میں اضافہ کرنا اور یمن پر غزہ کی حمایت بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے” لیکن یہ صرف یمن کے عوام اور اس کی مسلح افواج کو اس حمایت کو برقرار رکھنے کے لیے مزید پرعزم بنائیں گے۔

    یمن کے انصار اللہ حوثی گروپ کے ترجمان کا ہنگامی بیان
    اسرائیل نے آج یمن کے حدیدہ پر شہر پر بمباری کی ،یہ بمباری شہری اہداف پر کی گئی ہے ،جس میں الیکٹریسٹی اسٹیشن آئل ریفائنری اور دو بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ،اسرائیلی دہشت گردی میں ہمارے مسلمان شہید ہوئے ہیں ،ہم اسرائیل کی بمباری کا جواب دیں گے ،آج سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب جنگی علاقہ ہے،اسرائیلی شہری تل ابیب چھوڑ دیں ،ہم تل ابیب پر حملہ کریں گے ،ہم ہر قیمت پر غزہ کی مدد اور نصرت جاری رکھیں گے ہم اسرائیل سے لمبی جنگ لڑنے کے لیے تیار رہیں ،تاکہ اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم کردے اور مظلوموں کا خون بہانا بند کردے ،ہم پوری امت مسلمہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قضیہ فلسطین کے لیے کھڑے ہوجائیں ،یمن کے غیور مسلمان اسرائیل سے لڑیں گے اور سبق سکھائیں گے

    یمن پر امریکی ساختہ F35 جہازوں سے بمباری کی گئی ،یہ جہاز 2000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے بحر احمر میں مصر سعودی عرب کی حدود سے گزر کر یمن پہنچے ،فضا میں ان جہازوں میں اٹلی کے جہازوں سے تیل بھرا گیا ،

    قبل ازیں جمعہ کو حوثی باغیوں کے ڈرون حملے میں تل ابیب کے وسط میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک شخص ہلاک اور کم از کم 10 دیگر زخمی ہوئے تھے،

    جنوری سے، امریکی اور برطانوی افواج یمن میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں، جسے باغیوں نے غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی کارروائیوں کا انتقام قرار دیا ہے۔ تاہم جن بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے کئی کا تعلق اسرائیل سے نہیں ہے۔مشترکہ افواج کے فضائی حملوں نے اب تک ایران کی حمایت یافتہ فورس کو روکنے میں بہت کم کام کیا ہے۔

    دوسری جگہوں پر، فلسطینیوں نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے جمعہ کے تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اس فیصلے پر تنقید کی۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی عدالت کے فیصلے کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور ہونا چاہیے،اردن کے وزیر خارجہ نے بھی آئی سی جے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔اقوام متحدہ کی عدالت نے جمعہ کے روز اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنا قبضہ "جتنا جلد ممکن ہو” ختم کرے اور اپنی "بین الاقوامی طور پر غلط کارروائیوں” کے لیے مکمل معاوضہ ادا کرے۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ نے عدالت کی رائے کو "بنیادی طور پر غلط” اور یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اور اپنے موقف کو دہرایا کہ خطے میں سیاسی تصفیہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہودی قوم اپنی سرزمین پر قابض نہیں ہو سکتی‘‘۔امریکہ نے عدالت کے فیصلے پر تنقید کی، واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے تنازع کو حل کرنے کی کوششیں پیچیدہ ہو جائیں گی۔

  • غریب شہری کا رکشہ چوری کرنے والے گرفتار

    غریب شہری کا رکشہ چوری کرنے والے گرفتار

    مردان سے تعلق رکھنے والے رکشہ ڈرائیور نے نوشہرہ کینٹ میں نماز پڑھنے کی غرض سے رکشہ مسجد کے باہر کھڑا کیا،جسے نا معلوم افراد چوری کر کے لے گئے،جس کا مقدمہ رکشہ ڈرائیور نصراللہ کی مدعیت میں قریبی تھانے میں درج کیاگیا جس پر پولیس حرکت میں آکر ڈی ایس پی احسان شاہ نے کاروائی کر کے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا فوری حکم دیا،تاہم پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سےملزمان تک رسائی حاصل کی جنکو گرفتار کر لیا گیا ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان کا گروہ 3 افراد پر مشتمل ہے اور انہوں نے مختلف علاقوں میں اس طرح کی کاروائیاں کی ہے،چوری شدہ رکشہ کے حوالے سے بتایا کہ رکشے کو فروخت کیا گیا ہے تاہم نشاندہی کرنے پر فروختگی رقم بھی برآمد کی گئی،ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے

  • سپیشل چلڈرن اولمپکس2023 کی افتتاحی  تقریب

    سپیشل چلڈرن اولمپکس2023 کی افتتاحی تقریب

    پشاور میں سپیشل چلڈرن اولمپکس کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی جس میں کرکٹر محمد حارث نے شرکت کی سپیشل چلڈرن اولمپکس میں پشاور کے 9 سکولوں کے بچے حصہ لے رہی ہیں،جس میں مختف قسم کے انڈور اور آوٹ ڈور گیمز کے مقابلے شامل ہے،کرکٹر محمد حارث نے سپیشل اولمپکس کو بچوں کے لئے ایک خوش آئین قدم قرار دیا،اور کہا کہ سپیشل بچوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے لہذا انکے لئے اس طرح کی سرگرمیاں نہایت اہم ہے، گیمز میں بچے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ،سپیشل چلڈرن گیمز کا انعقاد پشاور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور ضلعی سپورٹس آفس پشاور کی جانب سے کیا گیا ہے،جبکہ مقابلے تہماس خان فٹ بال سٹیڈیم کئے جا رہے ہے،

  • توہین رسالت کا مقدمہ،عدالت نے ملزم کو سنائی سزائے موت

    توہین رسالت کا مقدمہ،عدالت نے ملزم کو سنائی سزائے موت

    تفصیلات کے مطابق مردان انسداد دھشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج خالد خان کوترپان نے توہین رسالت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئےجرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت کا حکم سنا دیا،استغاثہ کے مطابق 13 فروری2017 کو مردان کے شہری علاقہ گلی باغ میں 36 سالہ عرفان ولد گل بہادر نے مسجد کے لاوّد سپیکر کے ذریعے نبوت کا دعوی کیا تھا،جس پر عوام نے مشتعل ہو کر اسکو پکڑ کر جان سے مارنے کی کوشیش کی تھی لیکن وہ موقعے سے فرار ہو گیا تھا،تاہم دو دن بعد پولیس نے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے مجرم کو گرفتار کر دیا اور اس کے خلاف توہین رسالت سمیت تین مخلتف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ،بدھ کو انسداد دھشتگردی مردان کے خصوصی عدالت نمبر 2 کے جج خالد خان کوترپان نے توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پرمجرم کو سزائے موت ااور چار لاکھ روپے کے جرمانے کی سزا کا حکم سنا دیا جبکہ مزید دو دفعات سیون جی اے اور نائن ٹی اے میں عدالت نے پانچ پانچ سال قید اور 80،80 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا،