فرانس انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دائرے کار میں، برکینا فاسو اور مالی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کو مزید آگے بڑھا رہا ہے، جس کی وجہ سے حال ہی میں دونوں ممالک سے فرانسیسی فوجیوں کا انخلا ہوا۔ بہت سے لوگوں نے فرانس کی جانب سے اپنی سابق کالونیوں پر دباؤ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
جنوری 2023 میں، برکینا فاسو نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ذریعہ فرانسیسی فوجیوں کو اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کی اجازت دی تھی۔ ویگنر گروپ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے، جو کہ ایک روسی نجی ملٹری کمپنی ہے، جس کے روسی حکومت سے تعلقات ہیں، فرانس کے ساتھ معاہدے کی تحلیل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مالی میں ویگنر گروپ کی کارروائی، سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں اس کے پہلے کی کارروائیوں کی عکاسی کرتی ہے، جو افریقی ریاستوں کے لیے تیار کردہ اسٹریٹجک منصوبہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ روس، ویگنر گروپ کے ساتھ، پسندیدگی حاصل کر رہا تھا کیونکہ فرانسیسی فوج مطلوبہ رفتار سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد میں ناکام رہی۔ نئے شراکت داروں کی تلاش کی خواہش باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے، اپنی سابقہ کالونیوں کے تئیں فرانس کے سمجھے جانے والے تکبر سے پیدا ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی مدد حاصل کرنے اور سونے کی کانوں جیسے قیمتی وسائل پر کنٹرول دینے کا عمل منفرد نہیں ہے، کیونکہ یہ فرانس سمیت دیگر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
آج چین افریقی ممالک کے اقتصادی اور تجارتی منظرنامے میں ایک غالب قوت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ تاہم، چین کی شمولیت کے حوالے سے سوالات باقی ہیں، جن میں "قرضوں میں پھنسی معیشتوں” کی ممکنہ تخلیق کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
افریقی ریاستیں اپنی مخلوط معیشتوں پر فخر کرتی ہیں، اور انہیں کڑی مشکلات کا سامنا ہے، پھر بھی 2023-24 میں ان کی متوقع ترقی کے بارے میں پرامید ہے، جو دنیا کی دوسری تیز ترین شرح شمار ہوتی ہے۔ ایک امید افزا اشارہ، ملازمت کی تخلیق میں اضافہ، پیداوار میں اضافہ، نئی صنعتوں کا ابھرنا، اور صارفین کی قوت خرید میں اضافہ ہے۔ مثلا، جنوبی افریقہ نے 2023 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 784,000 ملازمتوں (5.0%) میں قابل ذکر اضافہ کیا۔ان پیش رفتوں کی روشنی میں، افریقہ تیزی سے عالمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے
پاکستان بزنس کونسل نے دعویٰ کیا ہےکہ ملک میں لوگوں کے 9 ہزار ارب روپے بینکوں سے باہر پڑے ہیں جس کی وجہ سے ڈالر اور سونے پر سٹے بازی ہو رہی ہے جبکہ ایک بیان میں پاکستان بزنس کونسل نےکہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں میں حوالے کے ذریعے کرنسی پاکستان بھجوانےکا رجحان بڑھا ہے، درآمدات پر پابندیوں کو بھی قبل از وقت ختم کیا گیا، اس لیے بھی پاکستانی کرنسی پر دباؤ بڑھا ہے۔
پاکستان بزنس کونسل نےکہا ہے کہ ملک میں کپاس کی فصل اچھی ہوئی ہے، بھارت کی طرف سے اپنے چاول کی برآمد پر پابندی کے بعد پاکستانی چاول کی طلب بڑھی ہے، اسے برآمد کرکے تین ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر سری لنکا کی کرنسی سے بھی نیچے آگئی۔
سانحہ نو مئی کے بعد تحریک انصاف نہ چھوڑنے، گرفتار نہ ہونے والے تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا کہنا ہے کہ موجودہ تمام مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ میں ہے، پارٹی چھوڑنے والوں کی جگہ نئے لوگوں کو ٹکٹ دیں گے، انتخابی مہم سوشل میڈیا پر زیادہ موثر ہوتی ہے جہانگیر ترین بیٹے کو نہیں جتوا سکے تھے غلط مشورے دینے والے پارٹی چھوڑ رہے ہیں الیکشن جب بھی ہوں گے لڑیں گے مسائل کے حل کے لیے عدلیہ ، مقتدر اداروں سمیت سب کو ملکر بیٹھنا پڑے گا، نو مئی کے واقعہ کے بعد ووٹ بینک پراثر پڑے گا مگر اتنا نہیں ، امریکہ میں لابنگ فرم ہائیر کرنے کے حوالہ سے کچھ نہیں جانتا البتہ بینظیر دور میں میں خود لابنگ کے کئے امریکا گیا تھا ،پسند نہ بھی ہوں تو سپریم کورٹ کے فیصلے ماننے ہوں گے ، قومی ڈائیلاگ کے بغیر کوئی آپشن نہیں ،
تمام مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ
تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو
تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر شفقت محمود نے باغی ٹی وی کے معروف پروگرام یاسمین کی بیٹھک میں باغی ٹی وی کی سینئر اینکر یاسمین آفتاب علی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین یہ کہتا ہے کہ اسمبلی کی مدت ختم ہو تو ساٹھ ہا نوے دن میں الیکشن ہونا چاہئے اس بات سے نہیں ہلنا چاہیے اگر آئین سے ہٹیں گے تو پھر کوئی قانون قاعدہ نہیں ہو گا بدقسمتی سے پنجاب اسمبلی تحلیل ہوئی اور اب تحریک انصاف کے بہت سے لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ اسمبلی تحلیل نہیں ہونے چاہئے تھی وہاں الیکشن نہیں ہوئے ۔ آئین و قانون کے مطابق اکتوبر یا نومبر میں الیکشن ہونے چاہیے پھر پارٹی تیاری کرے گی ابھی تو حالات سب کے سامنے ہیں کافی مسائل ہیں ایک تیاری ہماری ہو گئی تھی پنجاب اسمبلی کے حوالہ سے اگرچہ اس میں کافی لوگ جھوڑ گئے اب دوسروں کو ٹکٹ دیں گے جو پارٹی کے ساتھ رہیں گے انکو ٹکٹ مل جائے گا باقی دیکھ لیں گے انتخابی مہم سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ نہیں کرنا پڑے گی
پارٹی چھوڑنے کی وجہ سے تحریک انصاف کے ووٹ بینک کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہو کہ فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے لوگوں کا اپنا ووٹ بینک ہے اس سے فرق پڑتا ہے جو الیکشن لڑتے ہیں انکو الیکشن آرگنائز کرنے کا پتہ ہے سیاسی پارٹی کا عوام میں ووٹ بینک وہ مین چیز ہوتی ہے آخری سروے تک ووٹ بینک قائم ہے جو جائیں گے انکی جگہ اور آ جائیں گے کوئی جاتا ہے تو نئے لوگ آئین گے آخری مصدقہ سروے میں تحریک انصاف کی مقبولیت قائم ہے نو مئی کے واقعات کے بعد ووٹ بینک میں کچھ فرق پڑے گا زیادہ نہیں ،ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کے جانے کی وجہ سے بہتری ہو جائے غلط مشورے دینے والے بھی جا رہے ہیں
ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کو دیکھ لیں سارا زور لگا کر بیٹے کو نہیں جتوا سکے عمران اسماعیل نے ایک الیکشن پی ٹی آئی ٹکٹ کی وجہ سے جیتا فواد چودھری عامر کیانی بھی، ترین سے جو ملے ان میں سے کسی کا ووٹ بینک نہیں۔ میڈیا سوشل میڈیا کی وجہ سے پارٹی کا ووٹ بڑھا ہے ۔ میں دو بار ایم این اے بنا پہلی بار الیکشن کا تجربہ نہیں تھا لیکن دوسری بار ٹرینڈ تھے۔
تمام مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ
تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو
امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے لابنگ فرم کے حوالہ سے یاسمین آفتاب علی کے ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود کہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے فرم ہائیر کرنے کا میرے علم میں نہیں کسی نے الگ انفرادی کیا ہو تو ہو سکتا ہے ۔ ایک وقت میں کہتے تھے اقتدار میں آنے کے لیے تین اے کا ہونا ضروری ہے۔اللہ ، امریکا اور آرمی ،جب یہی سوال دوبارہ کہا گیا تو شفقت محمود نے لابنگ فرم ہائیر کرنے کے حوالہ سے بے خبری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنے والوں نے کچھ کیا ہو تو علم نہیں جب پی پی میں تھا تو بینظیر نے مجھے لابنگ کے لیے امریکہ بھیجا تھا میں سینیٹر تھا اور گیا تھا یہ چیزیں ہمارے ملک تاریخ میں ہوتی ہیں شاید ہی کوئی جماعت ہو جس نے انٹرنیشنل لابنگ نہ کی ہو آئی ایم ایف ورلڈ بینک پر امریکہ کا بڑا اثر ہے
ایک اور سوال کے جواب میں تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا باغی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سیاست کے اندر ملکی بقا کے لیے بڑا ضروری ہے کہ قومی ڈائیلاگ ہو میں اس پر یقین رکھتا ہوں شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل نے بھی اسکا ذکر کیا تھا میں نے 2009 میں بھی قومی ڈائیلاگ کا کہا تھا ہمارے ملک کے مسائل اس طرح کے ہیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا میں کئی عہدوں پر رہا وزیر رہا ۔ سٹیٹ کی زمینوں پر لوگوں نے قبضے کیے ہوئے ہیں اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو انصاف ضروری ہے اسوقت ڈیڈ لاک ہے سپریم کورٹ حکم دے اور حکومت نہ مانے تو یہ بھی ڈیڈ لاک ہے ۔ اگر ہم نے مستقبل کی طرف دیکھنا ہے تو معاشی مسائل حل کرنے ہوں گے مڈل کلاس لوگ سوچتے ہیں کہ فروٹ خریدنا ہے یا نہیں مٹن لینا ہے یا نہیں ۔ ہماری بدقسمتی ۔وہ قومیں بڑی بدقسمت ہوتی ہیں جسکو صحیح فیصلے نہ کرنے دیئے جائیں سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانیں گے تو پھر نظام نہیں چلے گا۔ آج کچھ لوگوں کو فیصلے پسند نہیں آ رہے کل ہمیں نہیں آ رہے تھے کسی کو حق نہیں کہ فیصلے پر اعتراض کرے اگر قانون کے مطابق نہیں تو کمنٹ کر سکتے ہیں لیکن لاگو کرنا ہو گا سپریم کورٹ اندرونی معاملات کو خود دیکھتی ہے اگر پارلیمنٹ مداخلت کرنا شروع کر دے یا مینج کرنا شروع کر دے تو پھر کیا ہونا ہے۔۔
ایک اور سوال کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو کئی مواقع ملے ۔ اٹھارہویں ترمیم کی لیکن 62 63 کو نہیں چھیڑا مجھے کئی چیزیں ہیں جو پسند نہیں لیکن ہم نے کچھ نہیں چھیڑا ۔مسائل پاکستان کے اتنے ہو گئے ہیں سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں مقتدر اداروں کو بھی بیٹھنا پڑے گا جب تک معاملات طے نہ ہوں اٹھنا نہیں چاہئے ہماری آبادی 25 کروڑ ہو چکی سوا دو کروڑ بچہ سکول سے باہر ہیں اسکا کیا حال ہو گا ۔ پانی کا مسئلہ ذراعت کے لیے پانی نہیں ہو گا موسمیاتی تبدیلی، بہت مسائل ہیں ایک گھنٹہ میں ایجوکیشن کے مسائل پر بات کر سکتا ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ حل کرے گا کون۔ جب کرونا تھا تو ہم بین الصوبائی وزرا کانفرنس کو فعال کیا اور تمام صوبوں نے سکولوں امتحانات کے حوالہ سے مشترکہ فیصلے کیے ایک مثال ہے کہ ہم ملکر بھی فیصلے کر سکتے ہیں غربت کا مقابلہ کرنا ہے اگر غریب سیاستدانوں پر چڑھ دوڑے تو کیا ہو گا ضروری ہے کہ تمام مسائل کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ ہونا چاہئے
تمام مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ
تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو
پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹیل میڈیا نیٹ ورک باغی ٹی وی پر یاسمین کی بیٹھک پروگرام ہر ہفتہ اور اتوار کو صبح دس بجے نشر ہوتا ہے، سینئر اینکر وتجزیہ نگار یاسمین آفتاب علی پروگرام میں سماجی و معاشرتی مسائل، بین الاقوامی منظر نامے ، ملکی سیاسی اتار چڑھاو پر بات کرتی ہیں
تفصیلات کے مطابق مردان انسداد دھشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج خالد خان کوترپان نے توہین رسالت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئےجرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت کا حکم سنا دیا،استغاثہ کے مطابق 13 فروری2017 کو مردان کے شہری علاقہ گلی باغ میں 36 سالہ عرفان ولد گل بہادر نے مسجد کے لاوّد سپیکر کے ذریعے نبوت کا دعوی کیا تھا،جس پر عوام نے مشتعل ہو کر اسکو پکڑ کر جان سے مارنے کی کوشیش کی تھی لیکن وہ موقعے سے فرار ہو گیا تھا،تاہم دو دن بعد پولیس نے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے مجرم کو گرفتار کر دیا اور اس کے خلاف توہین رسالت سمیت تین مخلتف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ،بدھ کو انسداد دھشتگردی مردان کے خصوصی عدالت نمبر 2 کے جج خالد خان کوترپان نے توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پرمجرم کو سزائے موت ااور چار لاکھ روپے کے جرمانے کی سزا کا حکم سنا دیا جبکہ مزید دو دفعات سیون جی اے اور نائن ٹی اے میں عدالت نے پانچ پانچ سال قید اور 80،80 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا،
پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں، باغی ٹی وی کی جانب سے سینئر صحافی و اینکر پرسن، پاکستان برج فیڈریشن کے صدر، برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے نائب صدر مبشر لقمان کو پاکستان میں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد پر شیلڈ دی گئی
باغی ٹی وی کے دفتر میں شیلڈ دینے کی تقریب منعقد کی گئی، اس موقع پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتا ز اعوان، الفجر ٹی وی کے ڈائریکٹر پروگرام عبدالحی لقمان،باغی ٹی وی کے سوشل میڈیا ہیڈ عبداللہ آصف ،الفجر کے اینکر قاری بابر العطار عطاری،باغی ٹی وی کی اینکر آمنہ، ضیا خالد، پروگرام کھرا سچ کے این ایل ای عدیل احمد، باغی ٹی وی اور کھرا سچ کے کیمرا مین احسن قاسم،نور فاطمہ, رفیع اللہ، تابش و دیگر موجود تھے،
تقریب میں شرکاء نے برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد پر صدر پاکستان برج فیڈریشن مبشر لقمان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان میں برج کے فروغ کے لئے انکا کردار نمایاں ہے، بین الاقوامی ٹیموں کی پاکستان آمد خصوصا بھارتی ٹیم کی آمد پر پاکستان کا ایک روشن اور مثبت چہرہ و پیغام دنیا کے سامنے گیا، بیفیم کی کامیابی کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، باغی ٹی وی کی جانب سے پاکستان برج فیڈریشن کے صدر، برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے نائب صدر مبشر لقمان کو پاکستان میں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد پر شیلڈ دی گئی ،
باغی ٹی وی کے دفتر میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے باغی ٹی وی کی ٹیم کو اعزازی شیلڈ دیں، بہترین کارکردگی پر ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان کو شیلڈ دی گئی، الفجر ٹی وی کے اینکر قاری بابر العطار عطاری کو بھی اعزازی شیلڈ دی گئی ،انچارج نمائندگان باغی ٹی وی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو بہترین کارکردگی پر شیلڈ دی گئی، باغی ٹی وی کے کیمرہ مین احسن قاسم کو بھی شیلڈ دی گئی،
اس موقع پر مبشر لقمان نے نمایاں اور بہترین کارکردگی پر تمام ٹیم کو مبارکباد دی، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتازاعوان کی جانب سے کہا گیا کہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر ماہ شیلڈ و سرٹفکیٹ دیئے جائیں گے،
سیالکوٹ پروفیشنل پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب مقامی ہوٹل میں ہوئی،
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان تقریب کے مہمان خصوصی تھے، دوران تقریب معزز مہمان مبشر لقمان نے ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے حلف لیا ، اس موقع پر پروگرام کھرا سچ کے ایگزیکٹو پروڈیوسر راو اویس مہتاب، کاظم نقوی، ممتاز اعوان بھی موجود تھے، تقریب کے اختتام پر سیالکوٹ پروفیشنل پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کی جانب سے مہمانان گرامی کو یادگاری شیلڈ دی گئیں ،
مبشر لقمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے شہر سیالکوٹ آیا ہوں ، آزادی صحافت کوئی چیز نہیں، آزادی صحافت کو چھوڑیں صحافی آزاد کر دیں، کوئی صحافی آزاد نہیں، معاش کی وجہ سے پریشان ہے، صحافی ہر ایک کے لیے بات کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی نہیں کر سکتا، صحافیوں کے مسائل ہیں تنخواہیں نہیں ملتی ۔25 پچیس سال کام کرنے کے بعد ڈاون سائزنگ کا کہہ دیا جاتا ہے اور دفتر بند ہو جاتے ہیں، تنخواہیں کم اور احسان کر کے دی جاتی ہیں یہ صحافی کی قدروقیمت ہے ، ہمیں اپنے مقام کی جستجو کرنی ہو گی، سب سے پہلے ہماری عزت ہونی چاہئے صحافی کی عزت ہونی چاہئے ، کچھ صحافیوں کا بھی قصور ہے، پریس کلب بند دو گروپس کی لڑائی کی وجہ سے بند ہوتے ہیں صحافی ہی لڑ رہے ہیں، پریس کلب میں صحافی کم اور دوسرے لوگ زیادہ ملتے ہیں، ایسی صحافت کا کیا فائدہ آپکا دفتر گھر جھگڑے میں بند کروا دیا ، سیالکوٹ وہ شہر ہے اور وہ شہری ہیں جو اپنی سڑکیں بنا لیتے ہیں حکومتی مدد کے بغیر سب کچھ کر لیتے ہیں سڑکیں بنا لیتے ہیں ، ایئر لائن بھئ بنا لیتے ہیں لیکن سیالکوٹ کے صحافی اپنا ہی پریس کلب بند کروا کر بیٹھے ہیں ، لوگ کہتے ہیں کہ صحافت آزاد ہونی چاہئے، پاکستان میں صحافت آزاد نہیں ہو سکتی، آزادی صحافت کا مطلب کسی کو برا نہیں کہنا ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس چیز کے ساتھ اشتہار جڑ جاتا ہے وہ ڈے منایا جاتا ہے پاکستان ڈے نہیں منایا جاتا، معاشرے میں جو تفریق پیدا کرنے کی بجائے اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے، کونسی صحافت کونسی آزادی یہ سارے ڈھنگوسلے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ مرے بغیر جنت نہیں ملتی، صحافت کی معراج کو پہنچنا ہے تو اسکے لئے جدوجہد کرنی ہوگی ، اپنے لیے پہلے سوچیں جو اپنا اچھا نہیں کر سکتا وہ کسی اور کا اچھا نہیں کر سکتا ، اپنے ٹولز بدلیں ، سکل اپنی امپروو کریں، سوشل میڈیا پر جو میڈیم ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کریں ، 55 مقدمات میرے اوپر ایک ساتھ تھے جو ابھی تک چل رہے ہیں ، 28 ناقابل ضمانت وارنٹ اس ملک میں میرے نکل چکے ، قابل ضمانت کی بات ہی نہ کریں،
چیئرمین پروفیشنل الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن سیالکوٹ خرم میر کا کہنا تھا کہ تقریب حلف برداری میں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کو خوش آمدید کہتا ہوں ،ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مبشر لقمان یہاں آئے، پروفیشنل ایسوسی ایشن آٹھ سال سے کام کر رہی ہے ، مبشر لقمان ہمارے لیے سپر سٹار ہیں انکا تقریب میں آنا ہمارے لیے باعث فخر ہے
پروفیشنل الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن کے چیئرمین مجلس عاملہ شاہد ریاض کا کہنا تھا کہ ہماری تنظیم کے لئے مبشر لقمان کا آنا باعث مسرت ہے، ہم آپ سے سیکھنا چاہتے ہیں ، صحافت میں آن سے رہنمائی لیں گے، حق سچ کو عوام کے سامنے لانا بہت بڑا کام ہے، عوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ ملکی مفاد تنظیم کا موٹو ہے عوام کے سامنے حقائق لانا ضروری ہیں۔
اسلام آباد ،باغی ٹی وی (ویب نیوز)پی ٹی آئی رہنما عامر مغل اور توقیر شاہ کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کرلیا
تفصیل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ہنگامہ آرئی کیس میں اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے 2 اہم رہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنما عامر مغل اور توقیر شاہ کو تھانہ نون کی حدود سے گرفتار کیا ، دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سی ٹی ڈی اسلام آباد نے گرفتار کیاجبکہ دونوں کیخلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
ریاض: سعودی پرچم ڈیزائن کرنے والے معروف خطاط صالح المنصوف86 سال کی عمر میں انتقال کر گئے-
باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق صالح المنصوف کو 50 سال قبل سعودی عرب کے پرچم پرکلمہ طیّبہ لکھنےاورتلوارکےانداز کواپ ڈیٹ کرنے کا اعزازحاصل تھا۔اتفاق سے ان کی وفات بھی سعودی عرب کے قومی پرچم کے دن کوہوئی ہے۔
صالح المنصوف پہلے سعودی خطاط تھے جنھوں نے 1960 کی دہائی کے اوائل میں سعودی عرب کے پرچم پرسفید رنگ کا استعمال کرتے ہوئے تلوار کھینچی تھی انھوں نے ہی سبزرنگ کے پرچم پراس تلوارکے اوپرسفید رنگ میں کلمہ طیّبہ رقم کیا تھا۔تب ٹیکنالوجی اور پرنٹنگ کے آلات عام دستیاب نہیں تھے۔
وہ ان پہلے خطاطوں میں بھی شامل تھے جن کی کتابت جامعہ امام محمد بن سعود کے لاتعدادگرایجویٹس کی اسناد اور سرٹی فکیٹس کی زینت بنی تھی اور وہ ایک عرصہ یہ تعلیمی اسناد تحریر کرتے رہے تھے۔
ہیکرز نے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے نیویارک آفس میں ایک پراسرار سائبر اٹیک کر دیا-
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس اور چین کے ساتھ مغربی تناؤ کے درمیان ہیکرز نے ایف بی آئی کے سب سے بڑے دفتر کے کمپیوٹرز کو نشانہ بنا ڈالا ہے حکام نے اطلاع دی کہ دفتر سائبر اٹیک پر قابو پانے کےلیے کام کررہا ہےحملے سے گزشتہ دنوں کمپیوٹر نیٹ ورک کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے۔
سی این این کے مطابق کے مطابق ایف بی آئی حکام کاخیال ہےکہ یہ واقعہ بچوں کےجنسی استحصال کی تصاویراورنیٹ ورکس کی تحقیقات میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹم سے متعلق ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس واقعہ سے آگاہ ہے اور اضافی معلومات حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ایف بی آئی نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یہ واقعہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے سائبر اٹیک کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے دفتر نے خود 2021 کے نومبر میں ایک ہیکنگ کا واقعہ بھی دیکھا تھا جس میں ایک پارٹی نے ایف بی آئی کے ذریعے استعمال ہونے والے ای میل ایڈریس کو امریکہ میں سرکاری اور مقامی قانون نافذ کرنے والے حکام سے بات چیت کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
ہزاروں تنظیموں کو جعلی ای میلز بھیجی گئی تھیں اور ان ای میلز کے ذریعے بھیجے گئے مبینہ خط میں بتایا گیا تھا کہ کوئی خطرہ ہے۔ اس وقت ایف بی آئی نے مشتبہ شخص کا اعلان کیے بغیر اس واقعے کو سافٹ ویئر کی کمزوری سے منسوب کیا تھا۔
واشنگٹن ڈی سی سے لندن کیلئے روانہ ہونے والی برٹش ائیر ویز کی پرواز میں آگ لگنے کی اطلاع پر طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کردی گئی۔
باغی ٹی وی: ایوی ایشن حکام کے مطابق پرواز بی اے 216 کے طور پر بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر طیارے نے امریکا کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بج کر 49 منٹ پر واشنگٹن ڈی سی سے برطانیہ کے ہیتھرو لندن ائیرپورٹ کیلئے ٹیک آف کیا۔
پرواز کے ایک گھنٹے بعد پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرول کو طیارے کے کیبن میں دھواں بھرنے کی اطلاع دی، جس کے بعد پرواز کو قریبی ہیلی فیکس ائیر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرادی گئی تاہم طیارہ اور تمام مسافر محفوظ رہے۔
بعدازاں رجسٹریشن (G-ZBkL) کے حامل طیارے کا مکمل معائنہ کیا گیا اور طیارے کو مکمل فٹ قرار دے کر مسافروں کو منزل پر روانہ کر دیا گیا۔