Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جو پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو چکی ہے۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک خبر رساں ادارہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں مثبت صحافت، سچائی کی آواز، اور وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز اس کی معیاری اور سچ پر مبنی خبریں، تجزیے اور تجزیاتی پروگرامز میں پوشیدہ ہے، جو عوام کے درمیان اعتماد اور سچائی کے لئے ایک معتبر ذریعہ بنے ہیں۔باغی ٹی وی کا آغاز پاکستان میں ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس چینل نے نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ باغی ٹی وی کی خبریں ہمیشہ سچ پر مبنی اور غیر متنازعہ ہوتی ہیں، جس سے عوام میں ایک مثبت اور حقیقت پر مبنی آگاہی پیدا ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان نے اپنی محنت اور قابلیت سے اس چینل کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ ان کی قیادت میں، باغی ٹی وی نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ مبشر لقمان کے صحافتی تجربے اور عزم نے اس ادارے کو پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک معتبر مقام دلایا ہے۔باغی ٹی وی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچائی کی آواز بن کر اُبھرا ہے۔ اس نے کبھی بھی کسی غیر اخلاقی یا جھوٹی خبر کی نشر کی اجازت نہیں دی، بلکہ ہر خبر کے پیچھے سچائی اور تحقیق کا سہارا لیا ہے۔ اس کے علاوہ، باغی ٹی وی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جب بھی پاکستان دشمن عناصر نے ملک کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور وطن عزیز کی سالمیت کا دفاع کیا۔

    باغی ٹی وی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ علاقائی مسائل کو بھی اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں نمائندے ہیں جو مقامی مسائل کو عالمی سطح پر پیش کرتے ہیں۔ یہ چینل نہ صرف بڑے شہروں کی خبریں دکھاتا ہے بلکہ دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کرتا ہے، تاکہ ان مسائل پر توجہ دی جا سکے۔باغی ٹی وی کو ایک سپاہی کا کردار ادا کرنے والا ادارہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے ہر نمائندے نے وطن عزیز کی حرمت کے لئے اپنے قلم کو ہتھیار بنایا ہوا ہے۔ یہ چینل ملکی دفاعی امور، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے بھی آواز اُٹھاتا رہتا ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر، ہم سب کو اس کی کامیابیوں اور اس کے صحافتی اصولوں کو سراہتے ہیں، سینئر صحافی اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان نے باغی ٹی وی پر ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور ملکی مفادات کو اولین ترجیح دی ہے، اور ان کے اس عزم نے اسے پاکستان میں ایک مضبوط صحافتی ادارہ بنا دیا ۔ آئندہ بھی یہ چینل اپنی اس روش پر گامزن رہے گا، اور پاکستان کی خدمت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    malik arshad

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جس کا قلم، حق کے اظہار کا ہتھیار بنا اور لفظوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کیا۔ آج اس باغی کی 13ویں سالگرہ ہے۔باغی ٹی وی ایک ایسا ادارہ ہے جو تیرہ سال قبل حق اور صداقت کی شمع تھامے میدانِ صحافت میں اترا۔ مبشر لقمان جیسے مایہ ناز صحافی کی سرپرستی میں یہ ادارہ ایک ایسے شجر کی مانند پروان چڑھا جو اپنی جڑیں حق و انصاف کی مٹی میں گاڑ چکا ہے۔ آج، تیرہ برس کی شب و روز محنت اور کاوشوں کے بعد، باغی ٹی وی اپنی13ویں سالگرہ منا رہا ہے اور یہ جشن صرف ایک ادارہ کے 13 برسوں کی تکمیل کا نہیں، بلکہ یہ ان تمام جدوجہد اور کاوشوں کا اعتراف ہے جو حق کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کے خلاف کی گئیں۔

    سن 2021 میں جب میرا قلم باغی ٹی وی کے لیے چلنا شروع ہوا، تو یہ محض ایک اتفاق تھا، لیکن ممتاز اعوان صاحب جیسے مخلص ایڈیٹر کی سرپرستی نے اس سفر کو میری زندگی کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ میری پہلی تحریر جب باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی، تو وہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کی جیت تھی۔ اس کے بعد، باغی ٹی وی نے میرے ہر مضمون، ہر تحریر کو جگہ دی، چاہے وہ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف۔ یہ آزادی اور غیر جانبداری اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

    باغی سے 4 سالہ رفاقت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ باغی ٹی وی فقط ایک صحافتی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ جس کا مقصد صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ وہ خبر پہنچانا تھا جو دبائی جا رہی ہو، وہ حقائق اجاگر کرنا جو چھپائے جا رہے ہوں، اور ان مظالم کو بے نقاب کرنا جو خاموشی کی چادر میں لپٹے ہوں۔ جہاں مین اسٹریم میڈیا نے مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں، وہیں باغی ٹی وی نے بغاوت کا علم تھام لیا اور ظلم و جبر کے خلاف بے خوف و خطر آواز اٹھائی۔ اور اس بے باکی کا سہرا بانی "باغی” مبشر لقمان کے سر کو جاتا ہے۔باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے مثبت صحافت کا وہ معیار قائم کیا جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ خبریں صرف تفریح یا خوف کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنے اور انہیں تعلیم دینے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ باغی ٹی وی نے اس بات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنی خبروں کو ہمیشہ حقائق پر مبنی اور مثبت انداز میں پیش کیا۔

    باغی ٹی وی نے معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنے میں ہمیشہ اولیت حاصل کی۔ ظلم، جہالت، اور ناانصافی جیسے موضوعات کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔ چاہے وہ کرونا کی وبا ہو، زلزلے کی تباہی، یا سیلاب کی تباہ کاری، باغی ٹی وی نے نہ صرف نا صرف قارئین کو باخبر رکھا،بلکہ لوگوں کو ایجوکیٹ بھی کیا۔ایک ایسی دنیا میں جہاں خبر کا مطلب صرف پروپیگنڈا ہو، وہاں باغی ٹی وی نے مثبت خبروں کا رجحان متعارف کروایا۔ اس نے عوام کو دکھایا کہ پاکستان میں کئی مثبت ڈیولپمنٹز بھی ہو رہی ہیں اور ان پر بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مثبت خبریں نہ صرف لوگوں کو امید دیتی ہیں بلکہ انہیں بہتر مستقبل کی کوشش کےلیے بھی مائل کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے تیرہ سالہ سفر کی کہانی صرف ایک ادارے کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک تحریک کی گواہی ہے جس نے ظلم و جبر کے خلاف حق کا علم بلند کیا۔ اس تیرہ سالہ سفر پر باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب ، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی سمیت دیگر ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی حق اور سچائی کی راہ پر چلتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا رہےگا

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی نے اپنے کامیاب سفر کے ساتھ 13 برس مکمل کر لئے

    باغی ٹی وی کے 13 برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی ٹیم نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،باغی ٹی وی کے بارہ برس مکمل ہونے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نےبھی مبارکباد کے پیغام بھجوائے ہیں، اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 13برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 13 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے-

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    baaghitv

    باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،مسلم لیگ ن کی رہنما،سابق رکن اسمبلی مہوش سلطانہ، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم عالی،ڈرامہ رائیٹر، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کی سینئر ناب صدر ریحانہ عثمانی،اپوا کی ممبر نرگس نور، المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا،مرکزی مسلم لیگ کےخوشاب سے رہنما ،سید جوادہاشمی،لاہور سے صحافی جان محمد رمضان، دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، تلہ گنگ پریس کلب کے وائس چیئرمین ملک ارشد کوٹگلہ،سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

  • سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی آج سالگرہ ہے۔سالگرہ کے موقع پر مبشر لقمان کو مختلف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے ہیں

    مبشر لقمان 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔مبشر لقمان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر لاہور سے حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا۔مبشر لقمان نے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز چینل بزنس پلس سے بطور میزبان کیا تھا۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران انہوں نے پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایکسپریس نیوز میں پروگرام "پوائنٹ بلینک” کی میزبانی کی اور پھر دنیا نیوز میں منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے "کھری بات ود لقمان” کے نام سے پروگرام کیا۔

    مبشر لقمان نے اے آر وائی نیوز میں "کھرا سچ” کے پروگرام کی میزبانی کی جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کی کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” عوام میں بے حد مقبول ہوا اور اس کے ذریعے انہوں نے کئی سیاسی معاملات پر کھل کر اپنی رائے دی۔مبشر لقمان مختلف ٹی وی چینلز میں کھرا سچ پروگرام کرتے رے، آج کل 365 نیوز پر انکا پروگرام کھراسچ جمعہ سے اتوار شام آٹھ بجے نشر ہوتا ہے، اس دوران، ان پر کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں کئی مقدمات بھی درج کیے گئے، مگر عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلے دیے اور ان کی سچائی کو تسلیم کیا۔

    ml
    مبشر لقمان نے اپنے صحافتی سفر میں کئی سنگ میل عبور کیے ہیں اور انہیں ان کی غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات کے لیے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ ان کا اندازِ صحافت، ان کی جرات مندانہ تحقیقات اور سچائی کی تلاش نے انہیں میڈیا کی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا ہے۔مبشر لقمان کی سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والی خصوصیت ان کی بے باک صحافت اور سوالات اٹھانے کی جرات ہے۔
    وہ کئی بڑے نیوز چینلز کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں اور ان کی تحقیقاتی رپورٹنگ نے عوامی سطح پر گہری تاثیر ڈالی ہے۔

    مبشر لقمان نہ صرف ایک قابل صحافی ہیں بلکہ انہوں نے سیاست میں بھی اپنی موجودگی کو محسوس کرایا ہے۔ وہ 2007 اور 2008 میں پنجاب کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات بھی رہے ہیں۔ اپنے پروگرام "کھرا سچ” کے ذریعے، انہوں نے نہ صرف حکومتی کرپشن کو بے نقاب کیا بلکہ عوامی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی۔

    mubasher

    مبشر لقمان کی ایمانداری اور بے باکی کی بدولت وہ ایک اہم شخصیت بن چکے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد مبشر لقمان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا بھی رہا، اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، تاہم وہ ہمیشہ اپنی سچائی پر قائم رہے اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ مبشر لقمان کے بارے میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی یہ اعتراف کیا کہ وہ ایک بہادر صحافی ہیں جو طاقتوروں کی کرپشن کو بے نقاب کرتے ہیں۔مبشر لقمان نے ہمیشہ حقائق کو سامنے لانے اور حکومتی کرپشن کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ پاکستان کے واحد اینکر ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچ بولنے کی جرات دکھائی اور حکمرانوں اور اپوزیشن دونوں کو آئینہ دکھایا۔

    مبشر لقمان پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک باغی ٹی وی کے سی ای او بھی ہیں ۔ باغی ٹی وی اردو انگریزی، چینی زبان، پشتو ، دری میں شائع ہو رہا ہے، مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بھی پاکستان کے مقبول ترین چینلز میں سے ہے۔بیباک تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ کھرا سچ اور پھر اس پر ڈٹ جانا مبشر لقمان کی پہچان ہے، انہوں نے مفاد کی خاطر کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا بلکہ علی الاعلان کلمہ حق کہا یہی وجہ ہے کہ ان پر نہ صرف مقدمے بنائے گئے بلکہ متعدد بار انکے پروگرام کو بھی بند کروانے کی مذموم کوشش کی گئی.

    mubasher

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر بھی ہیں، دو برس قبل لاہور میں انہوں نے ایشیا اور مڈل ایسٹ کے برج فیڈریشن کے تحت مقابلہ جات کروائے جس میں بھارت سمیت کئی ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی.پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے نائب صدر بھی ہیں. یہ نہ صرف مبشر لقمان اور پاکستان برج فیڈریشن کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے جبکہ ملک پاکستان کیلئے بھی اعزاز ہے کہ مبشر لقمان کو اس کھیل کے میدان میں عالمی سطح پر انہیں اپنی خدمات پر سراہا جارہا ہے.

    pbf ml

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر HBD_Mubasherlucman ٹرینڈ میں مداحوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے-

    ml

  • کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    پاکستان کے معروف سینئر صحافی و اینکر پرسن، مبشر لقمان، جنہیں عوام نے مختلف ٹی وی چینلز پر اپنے تجزیوں اور بے باک انداز کی وجہ سے پہچانا ہے، اب اپنے مداحوں اور فالوورز کے ساتھ ایک نئے طریقے سے رابطے میں ہیں۔ مبشر لقمان نے اپنے واٹس ایپ چینل کا آغاز کیا ہے جس میں وہ اپنے پروگرام "کھراسچ” کے حوالے سے اہم معلومات، تجزیے، اور اپ ڈیٹس فراہم کریں گے۔

    مبشر لقمان کا واٹس ایپ چینل ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر وہ اپنے پروگرام "کھراسچ” کی قسطوں کے علاوہ، سیاست، معیشت، سماجی مسائل اور دیگر اہم موضوعات پر اپ ڈیٹس فراہم کریں گے۔ اس چینل کے ذریعے مداحوں کو روزانہ کی خبریں، خصوصی تجزیے اور موجودہ صورتحال پر اہم بصیرت ملے گی۔مبشر لقمان کا پروگرام "کھراسچ” ایک ایسا پروگرام ہے جو سیاست، معیشت، اور ملک کے دیگر مسائل پر سچی اور بے لاگ بات کرتا ہے۔ اس پروگرام میں مبشر لقمان اپنے مشہور انداز میں حقائق کو بے نقاب کرتے ہیں اور عوام تک سچائی پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ واٹس ایپ چینل کے ذریعے اب عوام کو پروگرام کھرا سچ کی ویڈیوز اور اہم تجزیے موبائل پر براہ راست ملیں گے۔

    واٹس ایپ چینل کے ذریعے مبشر لقمان کے مداح اور فالوورز نہ صرف پروگرام کے اپ ڈیٹس حاصل کریں گے بلکہ ان کو فوری طور پر خبریں، تجزیے، اور اہم معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس چینل میں شامل ہونے کے لیے کسی پیچیدہ عمل کی ضرورت نہیں، آپ صرف واٹس ایپ پر چینل کو جوائن کر کے تازہ ترین اپ ڈیٹس حاصل کر سکتے ہیں۔

    مبشر لقمان کے واٹس ایپ چینل کو جوائن کرنے کے لیے، آپ کو بس ایک سادہ سا طریقہ اپنانا ہوگا:
    سب سے پہلے اپنے موبائل میں واٹس ایپ ایپ کھولیں۔
    اس کے بعد چینل کے لنک کو کلک کریں
    لنک پر کلک کرنے کے بعد آپ براہ راست چینل میں شامل ہو جائیں گے اور پروگرام کے تمام اپ ڈیٹس، خبریں اور تجزیے حاصل کر سکیں گے۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ چینل کے ذریعے وہ اپنے مداحوں اور عوام تک براہ راست اور فوری معلومات پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ملکی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور مسائل سے آگاہ رہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ سچ اور حقیقت تک عوام کی رسائی آسان ہو اور وہ مختلف موضوعات پر ایک جرات مندانہ رائے قائم کر سکیں۔

    اگر آپ بھی مبشر لقمان کے "کھراسچ” پروگرام سے جڑے رہنا چاہتے ہیں اور ان کے تجزیوں اور خبروں کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو واٹس ایپ چینل جوائن کرنا ایک بہترین موقع ہے۔

    Follow the Mubasher Lucman channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb0kWRy2v1IpmJoqRW0Z

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    وزیر اعلیٰ پنجاب کو کینسر ؟ مبشر لقمان نے اصل سچ سامنے رکھ دیا

    صحافت ایسی کریں کہ کوئی قیمت نہ لگا سکے، مبشر لقمان

    جھوٹے لا کھانی کی ایک اور ویڈیو ،مبشر لقمان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ؟ منہ توڑ جواب

    کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

  • عمران خان کی آج یا کل رہائی، اصل کہانی کیا؟

    عمران خان کی آج یا کل رہائی، اصل کہانی کیا؟

    سینئر صحافی و اینکر ٔپرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دو بڑی اہم خبریں آج آئی ہیں،ایک ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی، اس پر بہت لوگ مبارکبادیں دے رہے ہیں، قبل از وقت ہی، انکا خیال ہے آج نہیں تو کل عمران خان رہا ہو کر آ جائیں گے، میں نے کہا بتا دوں، یہ تکلیف دہ رات ہے، کچھ بھی ایسا نہیں ہونے والا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری خبر یہ کہ مفتی راغب نعیمی نے یوٹرن لے لیا اور قلا بازی کھا کر دوسری طرف بیٹھ گئے اور بڑی بے فکری سے آ کر انہوں نے علامہ طاہر اشرفی سے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ ٹائپنگ کی غلطی ہے، عمران خان جیل سےباہر نہیں آ رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ توشہ خانہ میں ایک کیس کے ساتھ ضمانت اور وہ بھی شرط پر ہوئی ہے، عدالت نے کہا کہ اس کی‌میں رہائی کا حکم ہے، باقی کیسز پر نہیں، عدالت نے ملزم عمران خان کو پابند کیا ہے، کہ اگر وہ تحقیقات میں تعاون نہیں کرتا تو ضمانت منسوخ ہو جائے گی، عمران خان کے اوپر 12 اہم کیسز ہیں جن میں سے نومئی کے کیسز بھی ہیں،توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، ملک دشمن کاروائیوں کے کیس ہیں، ان میں کسی کیس میں عمران خان کی ضمانت نہیں ہوئی، یہ بھول جائیں کہ عمران خان کل باہر آ رہے ہیں،ویوز لینے کے لئے جھوٹ بولا جا رہا،آج کی تاریخ میں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جو ریلیف دیا یہ عارضی اور مشروط ہے،اگلے دو تین دن میں کوئی رہائی نہیں ہو رہی، لوگوں کو غلط انفارمیشن دی جا رہی پھر لوگ اسی طرح یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مفتی راغب نعیمی نے یوٹرن لیا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا فتوی نہیں تھا، ٹائپنگ کی غلطی تھی، اس سے بڑا جھوٹ کیا ہو سکتا ہے ،علما حکومت وقت کے فیور میں کچھ کرنا شروع ہو جاتے ہیں تو سوچیں وہ اللہ سے زیادہ کس سے ڈر کر رہے ہیں، مفتی راغب نعیمی پہلے اللہ سے معافی مانگتے اور پھر عوام سے، اس فتوے کے بعد راغب نعیمی کئی پروگرام میں بیٹھ چکے اور اس فتوے کی تصدیق بھی کر چکے ہیں،پہلے دن سے میں کہہ رہا ہوں،جس دن فتویٰ آیا تھا اس دن مولانا طارق جمیل پروگرام میں تھے تو ان سے سوال کیا تھا کہ اگر کوئی آدمی گھٹیا مواد پرنٹ کرتا ہے تو کیا اس پرنٹنگ پریس کو بھی غیر شرعی قرار دے دیا جائے گا، پرنٹ کرنے والا برا ہے، پرنٹنگ پریس تو نہیں، اسکو تو حرام نہیں قرار دیا جا سکتا، یہی وہ چیزیں ہیں جو ہمارے لوگوں میں دین میں اتنی مشکل پیدا کر دی ہے، ہمارے مسلکی اختلافات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ فتوے سن لیں، اللہ تعالیٰ رحم کرے اور ایسے لوگوں سے بچائے، اگر انہوں نے حدیث پڑھی تو پہلی حدیث دیکھ لیں، جب مسلمان سنی سنائی بات آگے بڑھاتا ہے تو وہ اسکے منافق ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے، مفتی صاحب آپکو یہ ٹائپنگ کی غلطی چھ دن بعد یاد آئی، چھ دن تو اس پر آپ اپنے مؤقف پر رہے، پہلے آپ نے میرے پروگرام میں آنا تھا لیکن پھر آپ نے معذرت کر لی، آپ نے کہا تھا ساڑھے آٹھ بجے تک آ جاؤں گا،حافظ طاہر اشرفی نے ایک دن پہلے کنفرم کیاہوا تھا کہ میں آ رہا ہوں آپکے پروگرام میں پھر وہ بھی نہیں آئے،ان کو پتہ تھا کہ میں نے ان سے کیا پوچھنا ہے، ہم نے بتایا ہوا تھا،انکو اندھیرے میں نہیں رکھا ہوا تھا، جب آپ ان کو دینی تعلیم کے ساتھ انکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو پھر یہ آئیں ، بائیں، شائیں، میرے ہی چینل میں دو پروگراموں میں مفتی راغب نعیمی آ کر بیٹھ گئے لیکن کھرا سچ میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی.

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • چڑیل کی خوفناک مخبری، خون خرابے کی پلاننگ،عمران کی قسمت میں رسوائی

    چڑیل کی خوفناک مخبری، خون خرابے کی پلاننگ،عمران کی قسمت میں رسوائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چڑیل میری اڑ اڑ کر جا رہی ہے، سموگ کے باعث اس کا گلا خراب ہو گیا ہے لیکن وہ کے پی کے اور اسلام آباد سے اہم خبریں لے کر آئی ہے، یہ خبریں دس دن بعد کی ہیں، پی ٹی آئی کی جو کال ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈو اینڈ ڈائی ہے، عمران خان نے کال دی اور علیمہ خان کو ہیڈ بنایا،اب علیمہ خان کے فیل ہونے کا وقت آ گیا ہے، یہ کیا ہو رہا اور کیوں ہو رہا سب بتاؤں گا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کیا کر رہی اور حکومت کیا کرنے لگی ہے، کل سے یعنی 13 تاریخ تک صوابی موٹروے کے ساتھ ہزاروں ٹینٹ لگ رہے ہیں،یہ ٹینٹ خیبر پختونخوا حکومت لگا رہی ہے وہ دو آدمیوں کا ہے یا سو آدمیوں کا، وہاں سے لوگوں کو لایا جا رہا اور رکھا جائے گا،کل سے وہاں جلسہ ہو گا اور روز انکو گرمایا جائے گا، یہ سارا موٹروے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے تا کہ خبروں میں رہا جائے، انکی خواہش یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہاں آٹھ دس لوگ مر جائیں، یہ اسلحہ وہاں جمع کر رہے ہیں، مبینہ طور پر جلوس کے اندریا پولیس پر فائرنگ کر سکتے ہیں، اگر کوئی مر گیا تو انکی عید ہو گی، کیونکہ عمران خان کی ابھی تک ہر چیز فیل ہو گئی ہے، ایک ہی چیز ہے کہ کسی طرح انکو دو چار لاشیں مل جائیں یہ حکومت کا گیم پلان ہے، حکومت 24 سے ایک دو دن قبل، شاید فیض حمید کو سزا ہو جائے، اس سے دیکھیے گا ان کی قمر کیسے ٹوٹتی ہے،یا کوئی خبر آ جائے گی کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل پایہ تکمیل تک پہنچ گیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ انکو لوگ نہیں چاہئے، ان کو پانچ دس ہزار افراد چاہئے جو توڑ پھوڑ کریں، فائرنگ کریں اور انکے جواب میں فائرنگ کریں، انکو صرف اتنے لوگ چاہئے، ہماری میموری ایسی کہ ہم جلدی بھول جاتے ہیں، عمران خان خود دو تین بار تحریک چلا چکے ،وزیرآباد میں چھرے بھی چلے، عمران جب خود لیڈ کر رہے تھے وہ کتنے لاکھوں لوگ نکال سکے تھے،ارشد شریف کی بہیمانہ موت ہوئی تھی، ان سے لوگ پیار کرتے ہیں، لوگ انکی ناگہانی موت پر مشتعل تھے، اس ساری مارچ کو ارشد شریف شہید کے نام پر کیاگیا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شرکت کریں اس میں بھی پچاس ہزار بندہ اکٹھا نہیں ہوا تھا، عمران اس کو خود لیڈ کر رہے تھے، ایک بات طے ہے کہ اتنے زیادہ لوگ نہیں آنے، اوسطا پانچ سے دس ہزار افراد کا کہہ لیں، حکومت ان سے بڑی سختی سے نمٹے گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جو خیبر پختونخوا حکومت کا امپلائی پکڑا گیا اسکے لئے بہت مشکل ہو گی، اسکو سزا ہو گی خواہ وہ کوئی بھی ہو،غیر قانونی آرڈرز ماننے والوں کے خلاف ایکشن ہو گا، حکومت ڈانگ سوٹے کے لئے پوری طرح تیار ہے، علی امین گنڈا پور پچھلی بار 12 ضلع کراس کر کے گئے تھے اس بار 30 کر لیں گے، عین ممکن ہے کہ حکومت واپس پہنچنے تک کمفرٹ زون میں نہ رہنے دے اور گورننس رول لگا دے، میری کچھ لوگوں سے بات ہوئی جو پی ٹی آئی کے پرانے لوگ ہیں ان سے میرا رابطہ رہتا ہے وہ کڑھتے ہیں کہ یہ پی ٹی آئی کو ختم کروا رہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کےکہنے پر ہو رہا ہے، اسٹیبلشمنٹ ان سے باربار کروا رہی ہے،ان کے جتنے لیڈرز ہیں وہ ایکسپوز ہو رہے ہیں،مراد سعید پارٹی کا ہیڈ بننا جا رہا ہے، قریشی چپ بیٹھا ہے کوئی بیان نہیں دے رہا، پرویز الہیٰ کب سے رہا ہیں، لیکن مجال ہے کچھ بولاہو یا پی ٹی آئی کے لئے نظر آئے ہوں، بشریٰ بی بی چپ کر کے بیٹھی ہیں، علیمہ خان اٹھ اٹھ کر آ رہی ہیں، یہ موروثی سیاست ہی ہے، لوگوں کا یہ خیال ہے جب تک عمران کے بچے نہیں آتے ہم اپنے بچوں کو کیوں جانے دیں، آنا ہی ہے تو عمران کے تینوں بچے آئیں اور لیڈ کریں تا کہ پتہ چلے،علیمہ نے تو اب فنڈ ریزنگ شروع کر دی ہے،علیمہ خان پھر دو دن پہلے گرفتاری دے کر پتلی گلی سے نکل جائے گی، 24 کو ہو سکتا ہے ہنگامہ ہو، جو سڑکوں پر آئے گا اس کا استقبال ہو گا، موسم بدل رہا ہے، ایک ہفتے بعد مزید ٹھنڈا ہو جائے گا، آج تو ہم باہر نکل رہے ہیں، لیکن جب دس یا بارہ ڈگری ٹمپریچر ہو جاتا ہے تو کتنی دیر باہر رہ سکیں گے، دھرنا نہیں ہو سکتا، آنا اور ٹچ کرنا، مارکھانا اور چلے جانا اس میں کیسے کامیابی ہے؟ تحریک انصاف کا شاید یہ آخری شو ہو اور اسکے بعد لمبے عرصے تک کوئی پاور شو نہ کر سکیں

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • ایسے لگتا ہے جماعت اسلامی والوں نے جنت میں اکیلے جانا ہے،مصطفیٰ کمال

    ایسے لگتا ہے جماعت اسلامی والوں نے جنت میں اکیلے جانا ہے،مصطفیٰ کمال

    مبشر لقمان نے پروگرام کھرا سچ میں کہا کہ مصطفیٰ کمال اگر اجازت دیں تو امانت میں خیانت کر لیں جس پر مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آ پ کو اجازت ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے میٹنگ ہوئی تھی جس میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی موجود تھے، یہ میٹنگ میرے کمرے میں ہوئی تھی، بلدیاتی نظام کے حوالہ سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا تھا کہ جس طرح کی مدد چاہتے ہیں ہم تیار ہیں، کیا وجہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان ان جماعتوں سے اتحاد نہیں کرنا چاہتی جو انکے ساتھ چلنے کو تیار ہیں،حکومتی جماعتیں نہیں ہیں،آپ اور جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات کے مؤقف پر اکٹھے ہوں تو پھر میں نہیں سمجھتا سندھ میں کوئی روک سکتا ہے بلدیاتی انتخابات

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم حافظ نعیم الرحمان کے پاس گئے، شہر کے مسائل کے لئے متفقہ ایجنڈے پر عمل کے لئے گئے، ہم پیپلز پارٹی کے پاس بھی گئے، ایک ریلی ایم کیو ایم نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف کی تھی اس میں سب کو دعوت دی تھی،ہم دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ فلسطین کے مسئلہ پر سب جماعتیں ایک ہیں، ہم نے سب کو کہا کہ اپنے پرچم لے کر آئیں ، تا کہ لگے کہ ساری جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس ہے، میں نے خود حافظ نعیم الرحمان کو کال کی،تو انہوں نے کہا کہ دعوت نامہ بھیجیں ،میں اپنے لوگوں سے مشورہ کرتا ہوں، اگلے روز حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ آپ نے اس دعوت نامے میں اسرائیل کی مذمت کیوں نہیں کی، بھئی ہم پوری ریلی نکال رہے ہیں،جہاں اس چھوٹے سے معاملے پر ان کا یہ رویہ ہو کہ پھر کیا کیا جا سکتا ہے، ایسے لگتا ہے جماعت اسلامی والوں نے جنت میں اکیلے جانا ہے اور جب وہ داخل ہو جائیں گے تو جنت کے دروازے بند ہو جائیں گے

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • پی آئی اے 25 مارچ 2025 تک بند؟ 100 جہازکہاں سے آئینگے؟

    پی آئی اے 25 مارچ 2025 تک بند؟ 100 جہازکہاں سے آئینگے؟

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا ناکام عمل ہوا جس کو ہم سب نے دیکھا،کافی ملک میں آوازیں اٹھ رہی کوئی کہہ رہے ملک کے ساتھ مذاق،پی آئی اے کے ساتھ مذاق ہوا، جوبڈر ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے ساتھ مذاق ہوا، کیا بلیوورلڈ نے اپنی ایڈورٹائز منٹ کے لئے یہ کیا یا وہ سیریس تھے، نجکاری کمیشن نے صحیح کام کیا یا نہیں، اس بات کا جائزہ لینا ہے، بلیو ورلڈ کے چیئرمین سعد نذیر ہمارے ساتھ موجود ہیں،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میرا نام مبشر لقمان ہے، اچھے اچھے سوال میں نہیں پوچھتا، وجہ شہرت ہی میری یہی ہے، کل کیا ہوا، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ایک لمبی سٹوری ہے آپ بھی اسی ملک میں رہتے ہیں، فیصلے لیتے وقت جو ہوتا ہے وہی پی آئی اے کے ساتھ ہوا، جو عوام کے سامنے نہیں، وہ آنا چاہئے، عوام بغیر حقائق جانے سوشل میڈیا پر جج بن جاتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں جو لوگ فیصلہ کرتے ہیں وہ اس انداز میں کرتے ہیں کہ شاید ملک ان کا اپنا نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ پی آئی اے پچھلی دو دہائیوں سے بہت خسارے میں چلی گئی،آئی ایم ایف کے دباؤ پر کیونکہ وہ پاکستان کو پیسے دیتا ہے اور ہم بھیک مانگتے ہیں، اس کی شرط کہ جو ادارے خسارے میں ہیں انکو بند نہیں کرتے تو ہماری ادائیگی نہیں کر پاتے ،ایسے اداروں کو بند کریں،پی آئی اے سالانہ دو سو ارب کا نقصان کرتی ہے، آٹھ سو ارب کی لائبلٹی میں سے چھ سو ارب کی لائبلٹی نجکاری کمیشن نے ایک کمپنی بنائی اور وہاں موو کیں،جوکمپنی انہوں نے آفر کی ہے فار سیل ہے، اس کی لائبلٹی دو سو بلین کی ہے،انہوں نے ایک کمپنی سے تخمینہ لگوایا اور سوا دو ڈھائی ارب روپیہ ان کو دیا گیا کہ اسکو اس انداز میں بنائیں کہ دنیا بھر سے لوگ آئی، پی آئی اے بیچنے کے لئے روڈ شو کا پہلی بار سنا، دو بڑی ناکامی کی وجہ بنی، جو کمپنی لینا چاہ رہی تھی کہ سو فیصد ہمیں دو ،حکومت کچھ بھی نہ رکھے، سات ہزار ملازمین، جہاں دوہزار 25 سوہونے چاہئے تھے وہ بھی حکومت کہتی کہ رہیں گے، 155 ارب یہ کس کو گن رہے ہیں ؟ روٹس کو، جو معطل ہو چکے ہیں اور ہم بحال نہیں کروا پا رہے، پھر یہ جہازوں کو کہہ رہے ہیں کہ جو جہاز ہیں ہمارا اثاثہ ہیں، انکی اپنی رپورٹ کے مطابق جہاز گراؤنڈ ہوجانے اور مارچ 2025 میں پی آئی اے بند ہوجانی، ہمیں کنسلٹنٹ نے کہا کہ ایک ڈالر کی بڈ کرنی ہے، آئرلینڈ کی یہ کمپنی ہے، ایوی ایشن کی ہی ہے، ہماری ٹیم نے اس کمپنی کو سیلکٹ کیا تھا دو ہفتے انہوں نے پاکستان میں گزارے،

    سعد نذیر کا اس سوال کے جواب میں کہ آپ پی آئی اے لینے میں سیریس نہیں تھے، اپنی مشہوری چاہتے تھے،ہاؤسنگ سوسائٹی اس سے آرام سے بک جانی تھی، اگلے تین سال میں جو ایڈوٹائزمنٹ کرنی تھی وہ تین دن میں ہو گئی، کہنا تھا کہ پھر ملک صاحب کو بھی یہ کرنا چاہئے، ملک ریاض استاد ہیں،انکاریگارڈ اپنی جگہ،

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

    ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کراچی کے لیے پونے تین سال بعد جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں رہائشی جائیدادکی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 ہزار روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے‘نیول، زمزمہ، فیز 5، ڈی ایچ اے کے رہائشی جائیدادکی قیمت سب سے زیادہ 75ہزار تک فی مربع فٹ مقررکی گئی ہے۔جمشید کوارٹرز7 ہزار، لیاقت آباد 3 ہزار 600، لیاری کوارٹرزکے لیے رہائشی جائیدادکی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے فیصلے کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں جائیدادوں کی 12 کیٹیگریز میں تقسیم ختم کر دی گئی ہے۔فیصلے کے مطابق رہائشی,کمرشل، صنعتی علاقوں کے لیے جائیداد کی قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے، جائیداد کے لیے قیمتوں کا تعین فی مربع فٹ کے حساب سے کیا گیا ہے۔اس سے قبل کراچی کی جائیداد کی قیمتوں کا تعین فی مربع گز کے حساب سے کیا گیا تھا۔ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں رہائشی جائیدادکی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 ہزار روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔کراچی کے علاقے نیول، زمزمہ، فیز 5، ڈی ایچ اے کے رہائشی جائیدادکی قیمت سب سے زیادہ مقررکی گئی ہے، ان علاقوں کے لیے کمرشل پراپرٹی کی قیمت 75ہزار تک فی مربع فٹ مقررکی گئی ہے۔
    ایف بی آر کے مطابق عبداللہ ہارون روڈ اور برنس روڈ کی رہائشی جائیداد کی قیمت 7 ہزار روپے جبکہ بلدیہ ٹاون 1 ہزار 300 اور بفر زون کی رہائشی جائیداد کی قیمت 3 ہزار تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں سول لائنزکے لیے رہائشی جائیداد کی قیمت 10ہزار200 روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نئی قیمتوں کے بعد جمشید کوارٹرز7 ہزار، لیاقت آباد 3 ہزار 600، لیاری کوارٹرزکے لیے رہائشی جائیدادکی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نظر ثانی شدہ قیمتوں کے مطابق ایم اے جناح روڈ7 ہزار، محمود آباد اور نیلم کالونی 3 ہزار جبکہ پرانا گولیمار اور اورنگی ٹاون کے لیے رہائشی جائیداد کی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نئی قیمتوں کے مطابق شاہ فیصل کالونی 2 ہزار 200، شاہ فیصل ٹاون 3 ہزار روپے اور شاہراہ فیصل کی رہائشی جائیدادکی قیمت7 ہزارروپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جائیداد کی قیمت کو مارکیٹ ریٹ کے قریب لانے کے لیے ایف بی آر نے 56 شہروں میں پراپرٹی ویلیوایشن کی شرح 80 فیصد تک بڑھا دی تھی۔ایف بی آر کے اس فیصلے کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا اور سرمایہ کاری کو معیشت کے زیادہ پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔

    کراچی سے حیدر آباد بذریعہ سڑک منتقل کیا جانے والا طیارہ تاخیر کا شکار