Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • مقبوضہ کشمیرتقریروں سے نہیں صرف جہادسے آزاد ہوگا، محمد ثروت اعجاز کا کشمیر ریلی سے خطاب

    مقبوضہ کشمیرتقریروں سے نہیں صرف جہادسے آزاد ہوگا، محمد ثروت اعجاز کا کشمیر ریلی سے خطاب

    پاکستان سنی تحریک کی تاجدار صداقت ویکجہتی کشمیر ریلی سے ثروت اعجاز قادری،پیر سید مظفر شاہ،علامہ اشرف گورمانی،ودیگر کا خطاب
    ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ آج پورے ملک نے یوم صدیق اکبر اور کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی سے واضع کردیا کہ ہم ایک ہیں
    ملک میں فرقہ واریت کی طرح سیاسی واریت کو بھی ختم کرنا ہوگا – مقبوضہ کشمیرتقریروں سے نہیں صرف جہادسے آزادہوگا، پاکستانی حکومت آزادیئ کشمیر کیلئے اعلان جہادکرے-پیر سید مظفر حسین نے کہا کہ ملک سے نفرتوں،تعصب وعصبیت کے خاتمہ کیلئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی روشن تعلیمات کو سرکاری سطح پر عام کیاجائے-

    کراچی میں پاکستان سنی تحریک کی اپیل پر 5فروری کو یوم تاجدارِ صداقت ویکجہتی کشمیر منایاگیا اور ملک گیرریلیاں، احتجاجی مظاہرے اور کانفرنسزمنعقد کی گئیں، کراچی میں سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری،ممتاز عالم دین پیر سید مظفر حسین،علامہ اشرف گورمانی علماء ومشائخ اور ثناخواں کی زیرقیادت نمائش چورنگی تا جامع کلاتھ مزارقطب عالم شاہ بخاریؒ تک عظیم الشان تاجدارِ صداقت و یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی جس میں علماء ومشائخ،تاجربرادری، سیاسی ومذہبی رہنماؤں سمیت پاکستان سنی تحریک کی مرکزی رابطہ کمیٹی اور کراچی ڈویژن کے رہنماؤں نے شرکت کی، ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کا کہناتھاکہ حکومت خلفاء راشدین کے ایام کو سرکاری طور منائے عام طعطیل کا اعلان کرئے، حضرت سیدنا صدیق اکبر تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوتؐ کے پہلے عظیم مجاہدہیں، سیدنا صدیق اکبر ؓ نے اسلام کیلئے گراں قدر قربانیاں پیش کیں- حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ روضہ رسول ﷺ میں آج بھی حضور نبی کریم ﷺ کے پہلومیں آرام فرمارہے ہیں وہ ایسامقدس مقام ہے جہاں پر صبح شام سترستر ہزارفرشتے آتے ہیں اور درود سلام پیش کرتے ہیں، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شان میں گستاخی سنگین ترین جرم ہے،حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کوجانب داری کا طرز عمل ترک کر کے قانون کی یکساں عملداری کو یقینی بنانا چاہیے، اُمت میں فرقہ وارانہ انتشارکا سبب بننے والوں کا محاسبہ کرنا حکومت کی اوّلین ذمہ داری ہے،پاکستان کو عراق اورشام بنانے کی سازشیں ناکام بنائیں گے،کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے، پاکستان کی تکمیل کیلئے کشمیر کی آزادی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،مقبوضہ کشمیرتقریروں سے نہیں صرف جہادسے آزادہوگا-

    پاکستانی حکومت آزادیئ کشمیر کیلئے اعلان جہادکرے پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ لڑے گی، عالمی قوتوں کو کشمیر پر بند ر بانٹ نہیں کرنے دیں گے،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اہل کشمیر تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں انہیں کسی صورت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،محمدثروت اعجاز قادری نے عالمی برادری کو خبردار کیاہے کہ کشمیر چار ایٹمی طاقتوں کے درمیان گھرا ہوادنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے اور اگر اسے لاکھوں کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل نہ کیا گیا تو خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہوں گے،مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے مسئلے کے حل کے لیے تو اقوام متحدہ اور بڑی طاقتیں حرکت میں آجاتی ہیں لیکن کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالی اوربھارت کے غیر آئینی ہتھکنڈے اور ظلم و ستم پر کوئی حرکت میں نہیں آتا،دنیا مسئلہ کی اہمیت و نزاکت کو سمجھتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام کرے، کشمیر کے حالات ایک متفقہ قومی لائحہ عمل کے متقاضی ہیں، بدقسمتی سے حکومت نے وہ اقدامات نہیں اٹھائے جو اسے اٹھانے چاہئیں تھے، ہمیں دنیا بھر کے فورمز پر کشمیر کی بات کرنی چاہیے،مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک جوائنٹ پولیٹیکل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے،پاکستانی حکومت نائب وزیر خارجہ برائے کشمیر مقرر کرے، کشمیر کی آزادی کے لیے قوم کا بچہ بچہ پاک فوج کے ساتھ کھڑاہے،بھارت بندوق کی نوک پر کشمیریوں کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے سے نہیں روک سکتا-

    اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی توبھارت دنیا کے نقشہ سے مٹ جائے گا، مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کا قبرستان بن کر رہے گا، اس موقع پر پیر سید مظفر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیدنا ابو بکرؓ کی تعلیمات امور سلطنت کیلئے مشعل راہ ہیں،جناب نبی کریم ﷺ کے ارشاد مبارک کی روشنی میں تما م کے تمام صحابہ کرامؓ ستاروں کی ماند اور جنتی ہیں،تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت رضی اللہ عنہم کیلئے عاشقان رسول تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں،ملک سے نفرتوں،تعصب وعصبیت کے خاتمہ کیلئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی روشن تعلیمات کو سرکاری سطح پر عام کیاجائے،اس موقع پر علامہ اشرف گورمانی،علامہ طارق شہزاد المدنی،علامہ عنصر قادری،علامہ محمو د قادری علامہ ذیشان مدنی،علامہ نثار علی اجاگر،،مولانا قاسم جلالی۔سید جنید باپو،اسعد باپو جنیدی،اے این آئی کے سلیم عطاری،عاطف حنیف بلو ثناء خواں حافظ طاہری قادری،محمد ساجد قادری،ودیگر نے بھی خطاب کیا،اور سیدنا صدیق اکبر کی شان میں منقبت اور کشمیریوں سے یکجہتی کرتے ہوئے ترانہ بھی پڑھا۔#

  • عادی جرائم پیشہ ملزمان کو سی سی ٹی وی کی مدد سے گرفتار کرلیا گیا، پولیس رپورٹ جاری

    عادی جرائم پیشہ ملزمان کو سی سی ٹی وی کی مدد سے گرفتار کرلیا گیا، پولیس رپورٹ جاری

    تھانہ سعود آباد ماڈل پی ایس کی کامیاب کاروائی مورخہ 2020-11-15 کو درخشاں سوسائٹی ملیر کالا بورڈ حدود تھانہ سعود آباد انیس احمد کو دوران ڈکیتی مزاحمت پر زخمی کرکے فرار ہونے والے دو سٹریٹ کریمنل ، ڈکیت ، عادی جرائم پیشہ ملزمان کو سی سی ٹی وی ویڈیو کی مدد سے مع اسلحہ و ایمونیشن برآمدگی کے گرفتار کر لیا-

    مورخہ 2020-11-15 کو درخشاں سوسائٹی ملیر کالا بورڈ حدود تھانہ سعود آباد میں دوموٹر سائیکل سوار ملزمان نے اسلحہ کے زور پر دوران ڈکیتی مزاحمت پر انیس احمد کو زخمی کیا اور فرار ہوگئے تھے اس واقعہ کی سی سی وڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں گرفتار ملزمان کو باآسانی شناخت کیا جا سکتا ہے- مذکورہ واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 380/20 بجرم دفعہ 394/34 پی پی سی بھی تھانہ سعود آباد میں درج کیا گیا تھا-گرفتار ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں اور کراچی کے مختلف تھانہ جات میں درجنوں سٹریٹ کرائم ، چوری ڈکیتی ، ناجائز اسلحہ برآمدگی میں کے مقدمات میں مطلوب و گرفتار ہو چکے ہیں- گرفتار شدہ ملزمان کا نام برآمدگی و پولیس کاروائی کی تفصیل ذیل ہے

    (1) نصار خان عرف دلشاد خان ولد ناصر خان
    (2) فراز خان ولد اسرار خان

    برآمدگی
    (1) دو عدد ضرب پسٹل تیس بور مع سات روند زندہ برآمد.

    (2) ایک عدد موٹر سائیکل نمبری نا معلوم میکر یونیک سیاہ انجن نمبر DSE-1849741 چیچس نمبر DSC-253757

    پولیس کاروائی
    گرفتار بالا ملزمان کی باقاعدہ گرفتاری تھانہ سعود آباد ماڈل پی ایس میں ذیل مقدمات کے تحت عمل میں لائی گئی ہے.

    (1) مقدمہ الزام نمبر 71/21 بجرم دفعہ 23(1)A آرم ایکٹ

    (2) مقدمہ الزام نمبر 72/21 بجرم دفعہ 23(1)A آرم ایکٹ

    (3) مقدمہ الزام نمبر 380/20 بجرم دفعہ 394/34 پی پی سی

    گرفتار بالا ملزمان کا سابقہ کریمنل ریکارڈ ذیل ہے

    (1) نصار خان عرف دلشاد خان ولد ناصر خان

    (1) مقدمہ الزام نمبر 522/19 بجرم دفعہ 392/34 پی پی سی تھانہ شاہ فیصل کالونی

    (2) مقدمہ الزام نمبر 16/20 بجرم دفعہ 392/34 پی پی سی تھانہ سعود آباد

    (3) مقدمہ الزام نمبر 17/20 بجرم دفعہ 392/34 پی پی سی تھانہ سعود آباد

    (4) مقدمہ الزام نمبر 18/20 بجرم دفعہ 23(1)A آرم ایکٹ تھانہ سعود آباد

    (2) فراز خان ولد اسرار خان

    (1) مقدمہ الزام نمبر 156/17 بجرم دفعہ 393 پی پی سی تھانہ ملیر سٹی

    (2) مقدمہ الزام نمبر 16/20 بجرم دفعہ 392/34 پی پی سی تھانہ سعود آباد

    (3) مقدمہ الزام نمبر 17/20 بجرم دفعہ 392/34 پی پی سی تھانہ سعود آباد

    (4) مقدمہ الزام نمبر 19/20 بجرم دفعہ 23(1)A آرم ایکٹ تھانہ سعود آباد

    (5) مقدمہ الزام نمبر 522/19 بجرم دفعہ 392/34 پی پی سی تھانہ شاہ فیصل کالونی

    گرفتار بالا ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے.

  • "ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے”: میانمار کے اساتذہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے

    "ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے”: میانمار کے اساتذہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے

    میانمار میں اساتذہ جمعہ کے روز ایک فوجی نافرمانی کی مہم میں شامل ہونے کے لئے ایک تازہ ترین گروپ بن گئے جس میں کچھ لیکچروں نے فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف احتجاج میں حکام سے تعاون کرنے یا تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سول نافرمانی کی مہم پیر کے روز بغاوت کے فورا بعد ہی طبی کارکنوں میں شروع ہوئی تھی لیکن اس کے بعد سے یہ پھیلا ہوا ہے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں طلباء ، نوجوانوں کے گروہوں اور کچھ کارکنوں کو شامل کرنا۔

    ینگون یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی کیمپس عمارتوں کے سامنے سرخ رنگ کے ربن پہننے اور احتجاجی نشانات کے انعقاد ، سیکڑوں لیکچررز اور اساتذہ جمع ہوئے۔”ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے جس نے ہماری منتخب حکومت سے غیر قانونی طور پر اقتدار پر قبضہ کیا۔”
    ہم اب ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ فوجی بغاوت ناکام ہوجائے ، "انہوں نے مزید کہا ، دوسرے عملے نے گھیر لیا جنہوں نے میانمار میں بہت سے مظاہرین کے ذریعہ اب تین انگلیوں کی سلامی رکھی ہے۔

    عملے کے ایک ممبر نے تخمینہ لگایا کہ یونیورسٹی کے 246 میں سے 200 عملہ احتجاج میں شامل ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد انتظامیہ کے نظام کو روکنا ہے۔ ایک اور لیکچرار ہنی لیوین نے کہا کہ اب ہم پرامن ہڑتال کررہے ہیں۔ یانگون میں ڈاگن یونیورسٹی میں بھی اسی طرح کے احتجاج کی اطلاعات ہیں۔

    ڈاکٹروں اور اساتذہ جیسے پیشہ ور گروپوں میں مخالفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دیگر کم رسمی مظاہرے ہوئے ہیں جن میں لوگوں نے کین اور ساسپین پیٹنے اور بغاوت کی مخالفت کی نشاندہی کرنے کے لئے کاروں کے سینگوں سے نوازا تھا۔ جمعہ کے روز جنوب مشرقی شہر داؤئی میں بھی بغاوت کے متعدد مظاہرین نے مارچ کیا ، جس کے بعد موٹرسائیکلوں کے حامی بھی آئے۔“ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم آج ہی داؤئی میں جمہوریت کے لئے اپنی جنگ شروع کرتے ہیں۔ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں اور ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ فوج نے براہ راست جنوب مشرقی ایشیائی ملک ، جس کو برما بھی کہا جاتا ہے ، پر 1962 کے بغاوت کے بعد تقریبا almost 50 سالوں تک حکومت کی اور سالوں کے دوران متعدد بار جمہوریت کے حامی مظاہروں کو کچل دیا۔

  • ون چیمپیئن شپ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹ میں پاکستان اور  بھارت آخر کون جیتا؟؟

    ون چیمپیئن شپ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹ میں پاکستان اور بھارت آخر کون جیتا؟؟

    ون چیمپیئن شپ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹ میں پاکستان نے بھارت کو شکست سے دوچار کردیا۔ سنگا پور میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان کے فائٹر احمد مجتبیٰ نے بھارتی حریف راجو راہول کو ناک آؤٹ کردیا۔ بھارتی سورما پاکستانی شاہین کا رنگ میں مقابلہ ہی نہ کرپایا اور پہلے راؤنڈ میں پہلے ہی مکے میں ڈھیر ہوگیا۔ احمد وولورین مجتبیٰ کے نام سے اپنی پہچان رکھنے والے پاکستانی فائٹر نے بھارتی سورما کو پہلے ہی راؤنڈ میں سینے پر ایسا مکا مارا کہ وہ دوبارہ اٹھ ہی نہیں پایا اور میچ ختم ہوگیا۔ خیال رہے کہ احمد مجتبیٰ کو اس فائٹ کیلئے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم اور دنیا کے تیز ترین باؤلر کا ریکارڈ رکھنے والے شعیب اختر نے بھرپور سپورٹ کا اعلان کیا تھا۔ شعیب اختر نے کہا تھا کہ اگر احمد مجتبیٰ یہ فائٹ جیتے تو وہ خود ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کریں گے۔

  • جنوبی کوریا نے دنیا کے سب سے بڑے سمندری ونڈ فارم کے لئے 43 بلین منصوبے کی نقاب کشائی کی

    جنوبی کوریا نے دنیا کے سب سے بڑے سمندری ونڈ فارم کے لئے 43 بلین منصوبے کی نقاب کشائی کی

    جنوبی کوریا نے 2030 تک دنیا کا سب سے بڑا ونڈ پاور پلانٹ تعمیر کرنے کے 48.5 ٹریلین ون ($ 43.2 بلین) منصوبے کی نقاب کشائی کی جس کے تحت COVID-19 وبائی امراض سے ماحول دوست دوستانہ بحالی کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

    پروجیکٹ صدر مون جا ئےان کی گرین نیو ڈیل کا ایک اہم جز ہے ، جو ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت میں جیواشم ایندھن پر انحصار روکنے اور 2050 تک اسے کاربن غیر جانبدار بنانے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔ مون نے اس پلانٹ کے لئے جنوب مغربی ساحلی شہر سنن میں دستخط کرنے کی تقریب میں شرکت کی ، جس کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت 8.2 گیگا واٹ ہوگی۔ مون نے اس تقریب میں کہا ، "اس منصوبے کے ساتھ ، ہم ماحول دوست توانائی کی منتقلی کو تیز اور کاربن غیرجانبداری کی طرف مزید بھرپور طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔”

    یوٹیلیٹی اور انجینئرنگ کمپنیوں نے بھی شرکت کی جن میں کوریا الیکٹرک پاور کارپوریشن ، ایس کے ای اینڈ ایس ، ہنوہا انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کارپوریشن ، ڈوسان ہیوی انڈسٹریز اینڈ کنسٹرکشن کمپنی ، سی ایس ونڈ کارپ اور سمکنگ ایم اینڈ ٹی کمپنی شامل ہیں۔ مون کے دفتر بلیو ہاؤس نے بتایا کہ کمپنیاں مطلوبہ فنڈ کا 47.6 ٹریلین اور حکومت کو باقی 0.9 ٹریلین مہیا کرے گی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے سے 5،600 ملازمتیں فراہم ہوں گی اور 2030 تک ملک کی ہوا سے چلنے والی بجلی کی گنجائش 16.5 گیگاواٹ تکمیل تکمیل تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔عہدیداروں نے بتایا کہ 8.2 گیگاواٹ بجلی کا تخمینہ 6 جوہری ری ایکٹرز کے ذریعہ پیدا ہونے والی توانائی ، یا 71 ملین دیودار کے درخت لگانے کے اثرات پر مشتمل ہے۔

    آج تک ، دنیا کا سب سے بڑا سمندر ونڈ فارم برطانیہ میں ہورنسی 1 ہے ، جس میں 1.12 گیگا واٹ کی گنجائش ہے۔ یاد رہے کہ $ 1 کوریہ میں 1،123.4000 وون کے برابر ہوتا ہے.

  • تاقیامت خلیفہ بلافصل صدیق اکبرؓکے مقام کوکوئی نہیں پہنچ سکتا،علامہ اورنگزیب

    تاقیامت خلیفہ بلافصل صدیق اکبرؓکے مقام کوکوئی نہیں پہنچ سکتا،علامہ اورنگزیب

    ملک بھر میں جلسے، جلوس، ریلیوں اور سیمینار منعقد کئے گئے ھیں،علامہ ربنوازحنفی
    انبیاء کرامؑ کے بعدمومنین میں سب سے افضل مقام سیدنا صدیق اکبرؓکاہے،مدح صحابہؓجلوس سے خطاب
    کراچی ہلسنّت والجماعت پاکستان کے زیر اہتمام خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا یوم وفات 22 جمادی الثانی ملک بھر میں عقیدت و احترام سے جبکہ 5 فروری یکجہتی کشمیر قومی جوش و جذبے سے منایا گیا، اس موقع پر ملک بھر میں جلسے، جلوس، ریلیوں اور سیمینار منعقد کئے گئے، کراچی میں لسبیلہ چوک تاتبت سینٹرل پر عظیم الشان مدح صحابہؓ مطالباتی جلوس نکالاگیا،جس میں ہزاروں کی تعدادمیں علماء کرام،وکلاء،اسکول،کالجز،مدارس کے طلباء،عوام اہلسنّت اورکارکنان نے بھرپورایمانی غیرت وحمیت کے ساتھ شرکت کی،کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، لاھور، پشاور اور مختلف شہروں میں خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد احمد لدھیانوی، علامہ اورنگزیب فاروقی، مولانا عبدالخالق رحمانی، مولانا مسعودالرحمن عثمانی، راو جاوید اقبال، مولانا اشرف طاہر، مولانا عبداللہ سندھی، مولانا رمضان مینگل، علامہ عطا محمد دیشانی، مولانا تصدق حسین، مولانا معاویہ اعظم،مولانارب نوازحنفی،مولاناتاج محمدحنفی سیدمحی الدین شاہ،مولاشکیل فاروقی،مولاناعادل عمر،مولاناعبدالرافع شاہ و و دیگر نے کہا کہ 22 جمادی الثانی کو عام تعطیل کا مطالبہ اہلسنت کا دیرینہ مطالبہ ہے، حکومت پاکستان و صوبائی حکومتیں عوام اہلسنّت کے دیرینہ مطالبے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں، جس سے عوام اہلسنّت میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق ؓکی تکفیر یا توہین عوام اہلسنت کسی بھی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں، قومی سلامتی کے ادارے اس توہین اور تکفیر کو روکنے کے لئے ملک میں مؤثر قانون سازی کریں، توہین صحابہ کا سلسلہ نہ رکا اور قانون سازی نہ کی گئی تو پرامن و نہتے عوام اہلسنت اسلام آباد کا بھی رخ کر سکتے ہیں رہنماوں نے مزید کہا کہ سیدنا صدیق اکبر اور مظلوم کشمیری عوام سے آج ملک بھر کے عوام نے اظہار یکجہتی کیا ہے، حکمران عوام کی آواز سنیں، تحفظ اساس بنیاد اسلام بل کے راستے میں جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں ان رکاوٹوں کو دور کر کے اس بل کو منظور کیا جائے، سارے صحابہ اسلام کی بنیاد جبکہ ابوبکر صدیق رض سنگ بنیاد ہیں، کسی کو اسلام کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے، ملک بھر میں نکلنے والے جلوسوں کے موقع پر شرکاء نے کشمیری پرچم بھی ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھے، زیراہتمام خلیفہ بلافصل،سسررسولؐ،امام الصحابہؓ اول المسلمین سیدناصدیق اکبرؓکایوم وفات(22جمادی الثانی)ملک بھرمیں عقیدت واحترام سے منایاگیا،سیدناصدیق اکبرؓکے فضائل ومناقب عوام الناس تک پہنچانے کیلئے ملک بھرمیں سیمینارز،تقاریب،جلسے اوریوم صدیق اکبرؓسرکاری سطح پرنہ منائے جانے اورعام تعطیل نہ کرنے کیخلاف شہر شہرقریہ قریہ مدح صحابہؓ مطالباتی جلوس نکالے گئے، قائدین نے کہاکہ امام الصحابہؓسیدناصدیق اکبرؓکامقام روئے زمین پراتنابلندہے کہ تمام انبیاء کرام ؑکے بعدسب سے بلنداوراعلیٰ وارفع اگرکسی کامقام ہے تووہ خلیفہ بلافصل سیدناصدیق اکبرؓکاہی ہے،قیامت تک آنیوالی امت سیدناصدیق اکبرؓکی گردتک بھی نہیں پہنچ سکتی،حضوراکرمؐنے اپنی حیات مبارکہ میں ہی سیدناسیدیق اکبرؓ کومصلیٰ امامت پر فائزکرکے قیامت تک آنیوالی امت کوبتلادیاکہ حضوراکرمؐ کے دنیاسے پردہ فرماجانے کے بعدقیامت تک امت کیلئے سیدناصدیق اکبرؓہی امام اول اورخلیفہ بلافصل ہیں،جولوگ سیدناصدیق اکبر ؓکوفراموش کرکے کسی اورکے امام ہونے کادعویٰ کرتے ہیں وہ دراصل صدیق اکبرؓ نہیں بلکہ حضوراکرمؐ کاانکارکرتے ہیں۔

  • سینیٹ کمیٹی برائے سمندر ی امور کا اجلاس،کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت

    سینیٹ کمیٹی برائے سمندر ی امور کا اجلاس،کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت

    ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت سمندری امور اور اس سے منسلک محکموں کے مختص کردہ بجٹ اور اس کے استعمال کا جائزہ، وزارت سمندری امور کی تجویز کردہ پی ایس ڈی پی اور اس سے منسلک محکموں کی مالی سال 2021-22،کے علاوہ کمیٹی کے 31 اگست 2020 کے اجلاس میں ہدایت کی روشنی میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بقیہ اراضی کی شرح کو حتمی شکل دینے اور بقایاجات کی ادائیگی کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نزہت صادق نے وزارت سمندری امور کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کی تعمیر وترقی میں وزارت سمندری امور کا ایک اہم کردار ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے گوادر میں مکمل ہونے والے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعریف کی اور کہا کہ گوادر میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کرکٹ اسٹیڈیم تیار ہوا ہے جس کی پذیرائی نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں ہوئی ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی نے کہا کہ نئی فشرنگ پالیسی لا رہے ہیں اور اس پالیسی کے تحت ہمارا ہدف2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہے جبکہ اس وقت 400 سے450 ملین ڈالر ہماری ایکسپورٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک نیا وزل مانیٹرنگ سسٹم کشتیوں پر لگانے جا رہے ہیں اور اس طرح ہم ہر کشتی کو مانیٹر کر سکیں گے اور اس کیلئے ہم نے ایک سمری کابینہ میں لے کر جا رہے ہیں اس کی منظوری کے بعد ہم ہر چھوٹی بڑی کشتی کی مانیٹرنگ با آسانی کر سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک ماہی گیر کو بھی کامیاب نوجوان پروگرام کے ذریعے قرضہ دیا جائے گا اس کیلئے پالیسی تیار ہے اور بہت جلد اس کو کابینہ سے منظور کرا لیا جائے گا۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت سمندری امور کے حکام نے وزارت اور اس سے منسلک محکموں کا بجٹ 1157.716 ملین مختص کیا گیا تھا اور وزارت سمندری امور سے منسلک تمام محکموں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا اور وزارت سمندری امور کے منصوبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
    کمیٹی اجلاس میں وزارت سمندری امور کی گوادر پورٹ اتھارٹی کے حوالے سے تجویز کردہ پی ایس ڈی پی کے مالی سال 2021-22 کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے کمیٹی کوبریفنگ دی اور گوادر میں جاری منصوبہ جات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ 31 اگست 2020 کو منعقدہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی ہدایت کی روشنی میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بقیہ اراضی کی شرح کو حتمی شکل دینے اور بقایاجات کی ادائیگی کے بارے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر گوادر کی جانب سے ایک سروے کیا گیا تھا جس میں مکمل ریکارڈ نہیں لیا گیا تاہم ایک مشترکہ سروے کیا جارہا ہے جو کہ ایک ہفتے میں مکمل ہو جائے گا۔ حکام نے کمیٹی کو یقینی دہانی کرائی کہ جن لوگوں کی زمین اس منصوبے میں آرہی ہے ان کو ادائیگی کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز رانا محمود الحسن، ستارہ ایاز کے علاوہ وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی کے وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • فرارملزم علاج معالجے کیلئے ہسپتال پہنچا اور پکڑا گیا

    فرارملزم علاج معالجے کیلئے ہسپتال پہنچا اور پکڑا گیا

    تھانہ کورنگی کی حدود لنک روڈ کورنگی نمبر ڈیرھ پولیس مقابلے میں فرار ہونے والے تین ملزمان میں دو لٹیرے بھائی ، عادی جرائم پیشہ گرفتار جن میں سے ایک زخمی حالت میں گرفتار

    امروز بوقت 12:05 بجے تین موٹر سائیکل سوار ملزمان اسلحہ کے زور پر لنک روڈ کورنگی نمبر ڈیرھ حدود تھانہ کورنگی عوام سے لوٹ مار میں مصروف تھے- پولیس پارٹی معمول کی پیٹرولنگ میں مصروف تھی جیسے ہی پولیس موبائل لنک روڈ کورنگی نمبر ڈیرھ پہنچی تو عوام سے اسلحہ کے زور پر لوٹ مار کرنے والے تین موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس کو دیکھتے ہی پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کردی- جس سے دو گولیاں پولیس موبائل کے سامنے والے شیشے پر لگی جس سے شیشے میں سوراخ ہوا- پولیس پارٹی کی جوابی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوار ملزمان کا ایک پیچھے بیٹھا ایک ساتھی زخمی ہوا۔

    موٹر سائیکل سوار ملزمان عوام کی بھیٹر اور ٹریفک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ھوگئے- مذکورہ واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 85/21 بجرم 353 /324/34 ت پ 7ATA تھانہ کورنگی میں درج کیا گیا تھا- زخمی ملزم بلغرض علاج معالجے کیلئے جناح ہسپتال پہنچا اور اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی اور بتایا کے مجھے شاہ لطیف ٹاون میں دوران ڈکیتی مزاحمت پر گولی لگی ہے اور ملزمان فرار ہوگئے ہیں- جناح ہسپتال سے ایم ایل او کی انٹری چلنے کے بعد تھانہ کورنگی کی پولیس پارٹی جناح ہسپتال پہنچی اور مذکورہ ملزم کو شناخت کیا گیا.

    ملزم کی شناخت ظفر خان ولد ہمیش گل کے نام سے ہوئی جسکا مزید کریمنل ریکارڈ چیک کیا گیا تو ملزم عادی جرائم پیشہ نکلا اور سے قبل بھی تھانہ شاہ لطیف ٹاون میں مقدمہ الزام نمبر 484/2020 بجرم دفعہ 6/9B منشیات برآمدگی میں گرفتار ہو چکا ہے- گرفتار زخمی ملزم کے دوسرے بھائی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جسکی شناخت فرید گل ولد ہمیش گل کے نام ہوئی ہے جو کے عادی جرائم پیشہ ہے اور تھانہ صدر میں مقدمہ الزام نمبر 313/15 بجرم دفعہ 6/9A منشیات برآمدگی میں گرفتار ہو چکا ہے- گرفتار ملزم کی باقاعدہ گرفتاری تھانہ کورنگی میں مقدمہ الزام نمبر 85/21 بجرم 353 /324/34 ت پ 7ATA کے تحت عمل میں لائی گئی ہے-

    . گرفتار ملزمان سے دیگر ایک مفرور ساتھی کے بارے میں مزید تفتیش کی جارہی ہے.

  • مسلئہ کشمیرکو کشمیریوں کی امنگوں کی روشنی میں حل کرنا ضروری، میاں اسلم اقبال

    مسلئہ کشمیرکو کشمیریوں کی امنگوں کی روشنی میں حل کرنا ضروری، میاں اسلم اقبال

    میاں اسلم اقبال کی ڈسٹرکٹ کیمپ جیل میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت

    یورپی معاشرے میں اگر جانور پر بھی ظلم ہوجائے تو کہرام مچ جاتا ہے، مقبوضہ وادی میں گزشتہ 7عشروں سے انسانیت کی تذلیل ہورہی ہے- میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر عالمی برادری کی بے حسی قابل افسوس ہے، خطے میں پائیدار امن کیلئے کشمیر کے تنازع کا حل نکالنا ہوگا-صوبائی وزیر نے کیمپ جیل میں قیدی بچوں کی تعلیم و تربیت کے عمل بھی جائزہ لیا

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے آج ڈسٹرکٹ کیمپ جیل میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی.آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ نے کیمپ جیل آمد پر صوبائی وزیر کا استقبال کیا۔تقریب میں لوک فنکار سائیں ظہور، احمدنوازگلوکاراور دیگر فنکاروں نے ملی نغمے گا کر شرکاء کا لہو گرمایہ۔

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے اور کشمیریوں کے ساتھ ہمارا دینی اور قلبی رشتہ ہے۔پوری پاکستانی قوم آج کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کادن منارہی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ یورپی معاشرے میں اگر کسی جانور پر ظلم ہو جائے تو کہرام مچ جاتا ہے۔مقبوضہ وادی میں گزشتہ 7عشروں سے انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔والدین کے سامنے بچوں اور بچوں کے سامنے والدین کو شہید کیا جارہا ہے۔ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کی عصمت دری ہو رہی ہے۔نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر عالمی برادری کی بیحسی قابل افسوس ہے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو کشمیریوں پر بھارتی جبرو ستم رکوانے کیلئے اپنا کردار ادا کر نا ہوگا اور خطے میں پائیدار امن کیلئے کشمیر کے تنازعہ کوکشمیریوں کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے اور پاکستان کے 22 کروڑ عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ قوم کے نونہالوں کو جیلوں میں دیکھ کر دلی دکھ ہوتا ہے۔جیلوں میں اصلاحات کے ذریعے انہیں جرائم کی آماجگاہ کی بجائے اصلاحی مراکز بنانا ہو گا۔قیدیوں کو مختلف فنون کی تربیت کے لئے ٹیوٹا کے ساتھ اشتراک بڑھایا جائے گا۔ آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔پنجاب کی مختلف جیلوں میں ٹیوٹا کے اشتراک 15 مختلف کورسز کرائے جارہے ہیں جبکہ 12 ہزار قیدیوں کو ٹیوٹا کے اشتراک سے فنی تر بیت فراہم کی گئی ہے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت نے قیدی بچوں کی تعلیم و تربیت کے مراکز کادورہ کیا اور قیدی بچوں کو دی جانے والی تعلیم و تربیت کے عمل کا جائزہ لیا۔آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ،سپرنٹنڈنٹ جییل نورحسن اور دیگر پولیس افسران بھی ہمراہ تھے-
    ٭

  • ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف-پی-ایس-سی ترمیمی بل کے سمیت مختلف امور کا جائزہ

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف-پی-ایس-سی ترمیمی بل کے سمیت مختلف امور کا جائزہ

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے 26اکتوبر 2020کوسینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2020، سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے 26اگست 2020کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے وفاقی اداروں میں گزشتہ ایک سال سے خالی رہ جانے والی اسامیوں کو ختم کرنے، سینیٹر مشتاق احمد کے 26جنوری 2021کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سدرن اضلاع کے ہائی ویز پر اپریشنل موبائل فون ٹاورز کی تعداد، اسلام آباد کلب کے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار مختلف مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور ممبر شپ حاصل کرنے کے طریقہ کار کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے یکم ستمبر 2020کو ریفر کی گئی عوامی عرضداشت نمبر 3260 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے 26اکتوبر 2020کوسینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2020کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس بل کی بدولت مقابلے کے امتحان کے معاملات میں مزید شفافیت آئے گی آئی ٹی کے بہتر استعمال سے معاملات مزید بہتر ہونگے۔ سفارش اور رشوت کا کلچر ختم ہو گا لوگ ڈیجیٹل پر بہت ایکٹو ہیں نتائج چیک کرنے کا موقع ملے گا ایف پی ایس سی کے قانون کے سیکشن 7میں ترمیم تجویز کی ہے۔ ڈیجیٹل ایؤلویشن (ارتقا) سے لوگوں کو فائدہ ہو گا جس پر سیکرٹری ایف پی ایس سی نے کمیٹی کو بتایا کہ مقابلے کے امتحان کے پرچے سب جیکٹیو اور اوبجیکٹیو ہوتے ۔ ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے اوبجیکٹیو چیک ہو سکتا ہے سب جیکٹیو نہیں۔ سب جیکٹیو میں بہت سی چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یہ بل صرف مقابلے کے امتحانات کے لئے نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ایف پی ایس سی اس بل کا تفصیل سے جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کریں۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سینیٹ اجلاس میں سوال اٹھایا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق سرکاری اداروں میں تقریبا 70ہزار کے قریب خالی آسامیوں کو ختم کیا جا رہا ہے کیا ان آسامیوں کی ضرورت نہیں تھی اور وہ ایک سال سے خالی کیوں تھیں یہ بھی بتایا جائے کہ اُن میں سے کتنی ٹیکنیکل آسامیاں ہیں۔ اسپیشل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ کیبنٹ کی عملدرآمد کمیٹی میں اس حوالے سے ایک تجویز آئی تھی اُس تجویز کی بنیاد پر مشاورت کی جا رہی ہے اور وزارت قانون سے بھی رائے حاصل کی جا رہی ہے ابھی کچھ فائنل نہیں ہو ا اور نہ ہی ایک دم ختم کرنے کا ارادہ ہے۔ وزارت خزانہ کو بھی لکھا ہے کہ ایس او پیز بنا کر محکموں سے تفصیلات حاصل کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مکمل تیاری سے کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں آگاہ کریں۔

    سینیٹر مشتاق احمد کے 26جنوری 2021کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سدرن اضلاع کے ہائی ویز پر اپریشنل موبائل فون ٹاورز کی تعدادکے معاملے کا کمیٹی اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں موبائل سگنل کا بہت بڑا ایشو ہے۔ سدرن بیلٹ میں گیارہ اضلاع ہیں جہاں کی آبادی 84لاکھ کے قریب ہے اور کمیٹی کو فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق ہر ضلع میں 48ٹاور لگائے گئے جبکہ جیز اور یو فون کمپنی کے فی ضلع پانچ ٹاور بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں بے شمار تعلیمی ادارے ہیں اور کسطرح لوگ آن لائن تعلیم حاصل کرتے ہونگے۔ ممبر پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ این 55پر ٹاورز کی تعداد 530ہے البتہ ٹاور لگانے کی ذمہ داری یو ایس ایف کی بنتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ موبائل سگنل کا مسئلہ بہت زیادہ ہے یہاں پہاڑوں پر بھی سگنل نہیں ہوتے اور خیبر پختونخواہ کے بے شمار علاقوں میں سگنل کے مسائل ہیں۔ ڈی جی لائسنسنگ پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پورے ملک میں 46555موبائل فون ٹاورز لگائے گئے ہیں جن میں سے خیبر پختونخواہ میں 6444ٹاورز ہیں یہاں ٹیلی نار نے زیادہ کام کیا ہے اور پہاڑ ہونے کی وجہ سے مسلسل کوریج میں مسئلہ ہوتا ہے اگلے چار سے چھ سال میں ملک کی 90فیصد آباد ی کو کور کر لیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے آئندہ اجلاس میں یو ایس ایف کے حکام سے بریفنگ حاصل کی جائے۔

    اسلام آباد کلب کے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار مختلف مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور ممبر شپ حاصل کرنے کے طریقہ کارکے معاملات کا تفصیل سے قائمہ کمیٹی نے جائزہ لیا۔ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن و ایڈمنسٹریٹر اسلام آباد کلب سردار احمد نواز سکھیرا اور اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کلب کے کل ممبران کی تعداد 9554ہے جن میں سے 52فیصدسروس، 44فیصد نان سروس اور دیگر 4فیصد شامل ہیں۔ کلب کے اخراجات ممبران سے لئے جاتے ہیں، اخراجات کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں کل ملازمین کی تعداد 912ہے جن میں سے 492کنٹریکٹ اور 420مستقل ہیں۔ کمیٹی کو ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار بارے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کلب کی ایک مینجمنٹ کمیٹی ہے جس کے نو ممبران ہوتے ہیں پانچ ممبران حکومت نامزد کرتی ہے تین ممبر، ممبران میں سے لئے جاتے ہیں اور ایک ممبر ڈیپلومیٹک کمیونٹی سے ہو تا ہے۔ کلب کے امور کے حوالے سے دیگر چھ کمیٹیاں بھی بنائی گئی ہیں اور رولز اور آڈٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے تاکہ کمرشل آڈٹ کے ساتھ فیڈرل آڈٹ بھی ہو سکے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملات کی بہتری کیلئے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں قابل تعریف ہے کمیٹی ان کو مکمل سپورٹ کرتی ہے غیر قانونی چیزوں کو روکنے کیلئے کمیٹی بھر پور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کلب کی حیثیت سیکنڈ ہوم کی ہوتی ہے کلب کے معیار اور سروس کو مزید بہترین ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایف نائن پارک میں بھی ایک کلب بنایا گیا تھا کروڑوں روپے لگنے کے باوجود ویران پڑا ہے اسکا جائزہ لیا جائے۔ وزیر انچارج کیبنٹ ڈویژن علی محمد نے کہاکہ ہمیں مڈل کلاس طبقے کیلئے بھی کلب قائم کرنے چاہئے جہاں لوگوں کو معیاری سہولت میسر ہو سکے۔

    کمیٹی اجلاس میں عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اسپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت سے کوٹہ طے کیا گیا تھا معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں ہے۔ پٹشنر کے وکیل نے بتایا کہ آئین کے کسی ایکٹ میں اجازت نہیں دی گئی کہ وفاقی ادارے صوبوں کی آسامیوں پر وفاق کے بندے بھرتی کرے۔ انہوں نے کہا کہ 1954کے رولز کے بعد 2014میں ایک ایس آر او آیا جس میں 1954کے رولز کو تبدیل کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ پہلے یہ تعین کیا جائے یہ معاملہ عدالت میں ہونے پر کمیٹی جائزہ لے سکتی ہے یا نہیں وزارت قانون و انصاف، سینیٹ کی قانون سازی کے حکام اور معزز پٹشنر کا وکیل مل کر تعین کریں اور کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری قانون و انصاف تفصیلات سے آگاہ کریں۔

    کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرزسیمی ایذدی، روبینہ خالد، مشتاق احمد، فیصل جاویداور انور لال دین کے علاوہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، ا سپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن،ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی