پاکستان کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے امریکا ایران امن مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کے لیے دستخط ہوگئے ہیں جبکہ ایران اپنے یورینیم کو باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی شرح کم کرنے پر راضی ہوگیا ہے جس کے بعد امریکا نے بھی ایران پر عائد پابندیا ں 60 دنوں کے لیے ہٹا دی ہیں،جس کی تصدیق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی کر دی ہے-
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اقدام کا مقصد کسی بھی قسم کے تصادم یا کشیدگی سے بچنا ہے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی بنیاد پر لبنان کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کی ضمانت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
واضح رہے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے ہیں دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے لیے ایک اہم جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے محدود مدت کے لیے ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی ہے اس فیصلے کے تحت ایران 21 اگست تک عالمی منڈی میں خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت جاری رکھ سکے گا تاہم شمالی کوریا ، کیوبا اور یوکرین پر ایرانی تیل خریداری پر پابندی تاحال برقرار ہے۔
