Baaghi TV

Tag: بالی وڈ

  • سلمان خان کے والد سلیم خان کو دھمکیاں ملنے کے بعد ایف آئی آر لانچ کر دی گئی

    سلمان خان کے والد سلیم خان کو دھمکیاں ملنے کے بعد ایف آئی آر لانچ کر دی گئی

    بھارتی اداکارسلمان خان کو سدھو موسے والا کے قتل کے بعد دھمکیاں ملیں،دھمکیاں ملنے کے بعد ممبئی پولیس نے ان کی سیکیورٹی بڑھا دی تھی ۔ان کے بعد اب ان کے والد سلیم خان کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں ۔گزشتہ روز نہ معلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر لانچ کر دی گئی ہے۔ممبئی پولیس نے تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں ۔رپورٹس کے مطابق سلیم خان کو صبح آٹھ بجے کے قریب ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا۔سلیم خان اس وقت جاگنگ کے لئے جایا کرتے ہیں اور جاگنگ کرنے کے بعد وہ جس بینچ پر روٹین میں بیٹھتے ہیں اُس روز بھی وہیں جا کر بیٹھے اور انہیں وہاں ایک خط پڑا ملا جس کو کھول کر انہوں نے پڑھا تو اس میں ان کو دھمکیاں دی گئی تھیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس خط میں کسی کے دستخط نہیں ہیں لیکن اس میںسلمان خان اور ان کے والد سلیم خان دونوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں ۔اس خط کے بعد خان فیملی نے ممبئی پولیس سے رابطہ کرکے ایف آئی آر درج کروائی ۔

    جس وقت یہ واقعہ ہوا سلمان خان آئیفا ایوارڈز کے لئے دبئی میں موجود تھے وہاں وہ اس ایوارڈ کی میزبانی کے لئے گئے تھے کہا جا رہا ہے کہ سلمان خان آج ممبئی پہنچ جائینگے ۔سلمان خان اور سلیم خان کے پاکستانی پرستاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے بھارت میں ساری عمر گزاری وہیںان کا نام بنا لیکن اب اس سٹیج پر آکر ان کے لئے زندگی کا دائرہ تنگ کرنا مناسب نہیں ہے دونوں کو مکمل سیکیورٹی دی جائے اور معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے ورنہ تو خطرناک قسم کا نہ رکنے والا سلسلہ چل پڑے گا

  • بالی وڈ اداکارہ کترینہ کیف آج کتنے سال کی ہوگئیں

    بالی وڈ اداکارہ کترینہ کیف آج کتنے سال کی ہوگئیں

    بالی ووڈ اداکارہ باربی ڈول کترینہ کیف 36 برس کی ہو گیئں.کترینہ کیف 16 جولائی1983کو ھانگ کانگ میں پیدا ہوئیں .کترینہ کیف کی ماں انگریز جبکہ باپ بھارتی اورخود کترینہ کیف کی شہریت برطانوی ہے،ورک پرمٹ پر فلموں میں کترینہ کیف نے اپنا پہلا قدم 2003 میں رکھا لیکن کترینہ کی کامیاب فلمی زندگی کا سفر2005میں سرکار فلم سے شروع ہوا ،اس کے علاہ کترینہ کیف کئی مشہور برانڈزکی ایمبیسیڈر بھی ہیں. کترینہ کیف کے مداح سوشل میڈیا پر ان کو سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں. جس سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویئٹر پر "ہیپی برتھ ڈے کترینہ” ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے.

  • پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان کی فلم انڈسٹری "لالی ووڈ” کا آغاز 1948 میں ڈائریکٹر داؤد چاند کی فلم "تیری یاد” سے ہوا۔ 1947 سے لے کر 2007 تک لاہور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا گڑھ رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے ذیادہ فلمز میں ایکٹنگ کرنے کا ریکارڈ بھی پاکستانی اداکار سلطان راہی مرحوم کے پاس ہے جنہوں نے لگ بھگ 803 پنجابی اور اردو فلمز میں کام کیا۔ اسی بناء پر سلطان راہی مرحوم کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے اب تک تقریباً 10 ہزار اردو فلمز، 8 ہزار پنجابی فلمز، 6 ہزار پشتو فلمز اور 2 ہزار سندھی فلمز پروڈیوس کی ہیں۔ مزید علاقائی زبانوں میں بنائی گئی فلمز ان کے علاوہ ہیں۔ اگر اوسطا دیکھا جائے تو 72 سال میں پاکستان نے تقریباً ہر روز ایک نئی فلم کو جنم دیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے مثبت اور ثقافتی تشخص کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فلمز نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستانی فلمز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں مختلف ممالک میں ان کی علاقائی زبان میں "ڈبنگ” کرکے دکھایا جاتا رہاہے۔ چین میں پاکستانی اداکاروں کے مجسمے بھی بنا کر شہروں میں نصب کئے گئے جو کہ پاکستانی فلمز کی عالمی مقبولیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
    بدقسمتی سے 80 کی دہائی سے لے کر 2013 تک پاکستانی فلم انڈسٹری بیرونی سازشوں اور اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی۔ پھر اداکار و فلمساز ہمایوں سعید پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اور انہوں 2013 میں بطور فلمساز اپنی پہلی فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی ” پروڈیوس کی جو پاکستانی فلم انڈسٹری پر طاری جمود توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان میں فلمز بنانے کا سلسلہ چل نکلا جس نے نہ صرف نئے اداکار، ڈائریکٹر، کیمرہ مین، تیکنیک کار اور رائٹر پیدا کئے بلکہ نئے فلمسازوں کو بھی فلمز بنانے کا حوصلہ دیا۔
    اس وقت پاکستان کے نمایاں فلمسازوں میں ہمایوں سعید، سلمان اقبال، جرجیس سیجا، شہزاد نصیب، حسن ضیاء، یاسر نواز، فضا علی مرزا، جاوید شیخ، سید نور، علی ظفر، مہرین جبار، سلطانہ صدیقی، میمونہ درید، خالد علی اور شمعون عباسی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کی سب بڑی سینما کمپنی "Cinepax” کے ترجمان حسیب سید کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 30 پرانی(35MM) اور 120 ڈیجیٹل سینما سکرینز موجود ہیں جبکہ 28 نئی سینما سکرینز کا اضافہ رواں سال کے آخر تک ہو نے کا امکان ہے۔ جیو فلمز، اے آر وائی فلمز، ہم فلمز، اردو1 فلمز، ایور ریڈی فلمز، ڈسٹری بیوشن کلب، HKC انٹرٹینمنٹ، فٹ پرنٹ انٹرٹینمنٹ اور آئی ایم جی سی کا شمار پاکستان کے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر ز میں ہوتا ہے۔
    پاکستان کی بڑی سینما کمپنیوں کے مالکان نے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے "ایکسیلینسی فلمز” کے نام سے ایک فنڈ کا اجرء کیا۔ "ایکسیلینسی فلمز” اپنے تیار کردہ فارمولے کے تحت پاکستان کے فلم سازوں کو فلم بنانے کے لئے پیسہ فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کے منازل باآسانی طے کرسکے۔ "ایکسیلینسی فلمز” اب تک پاکستان کے کئی فلمسازوں کو فلم بنانے کے لئے فنڈز فراہم کر چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند اور سراہا جانے والا عمل ہے۔
    حکومتی سطح پر ہر دور میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ہر دور حکومت میں یہ بات صرف اور صرف کھوکھلے دعوے ثابت ہوئی جبکہ عملی طور پر فلمی صنعت کی بحالی کے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومتی سرپرستی اور سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری زبوں حالی اور بد حالی کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس صنعت کی طرف خصوصی توجہ دے تو نہ صرف یہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ملک کے سافٹ امیج کو بحال کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری زرمبادلہ کمانے کا اہم زریعہ سمجھی جاتی ہے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت ریونیو کمانے میں بھارت کی سب سے بڑی صنعت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کی توجہ اور مناسب حکمت عملی کے باعث پاکستان کی فلم انڈسٹری ملک کی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام بالا سے استدعا ہے کہ وہ گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو سہارا دیں اور اس سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا سبب بنیں۔