Baaghi TV

Tag: بانی پاکستان

  • آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

    آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

    قائداعظم محمد علی جناح کے 148 ویں یوم پیدائش پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہم بانیء پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا 148 واں یوم پیدائش منا رہے ہیں اور ان کی غیر معمولی بصیرت، غیر متزلزل ہمت اور بے مثال عزم کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ قائد اعظم نے وہ کر دکھایا جسے بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے اور ان کی انتھک محنت کی بدولت ہمیں ہمارا وطن پاکستان معارض وجود میں آیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قائداعظم نادر صلاحیتوں کے رہنما تھے جو اتحاد، انصاف اور مساوات پر گہرا یقین رکھتے تھے۔ ان کی زندگی ان گنت لوگوں کو ایک روشن خیال استاد، بصیرت رکھنے والے وکیل، اصولی اور ثابت قدم سیاست دان اور کرشماتی رہنما کے طور پر متاثر کرتی آئی ہے۔ قائد اعظم کی جدو جہد کا سفر یقین کی طاقت اور محنت اور لگن کے ذریعے خوابوں کی تعبیر کا ثبوت ہے۔ قائداعظم نے ایک بار کہا تھا کہ "ناکامی میرے لیے نامعلوم لفظ ہے۔” اپنے الفاظ کے مطابق، انہوں نے اپنے عزم کی پیروی کی اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو ایک قوم بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے لیے، ان کے حتمی مقصد کے حصول کے سامنے عنوانات اور تعریفوں کی حیثیت ثانوی تھی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ قائداعظم نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا جہاں بلا لحاظ مذہب و نسل ہر شہری عزت، آزادی اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔ پاکستان کے لیے ان کا وژن شمولیت، اتحاد اور خوشحالی کا تھا۔ جب ہم آج کے دن انکی سالگرہ منا رہے ہیں، تو آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں اور ان اقدار کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کریں جن کے لیے انہوں نے جہدوجہد کی۔ بطور پاکستانی یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی قوم کی ترقی، خوشحالی اور اتحاد کے لیے انتھک محنت کریں۔

  • ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوارالحق کا کہنا ہے کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے، ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی : بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے 75ویں یوم وفات پراپنے پیغام میں نگراں وزیراعظم بے کہا کہ ہم قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتےہیں،ان کی قیادت کےبغیرآزادریاست کاخواب پورانہ ہوتا، آئین قائداعظم کے 14نکات کی نمائندگی کرتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل دورسےگزررہاہے اور ہمیں قائد کے اصولوں پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے آئیں عہد کی تجدید کریں کہ ہم اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

    پرویزالٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی

    نگران وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم کی زندگی اصول پسندی، آئینی جدوجہد، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں کا عملی نمونہ تھی، قائد کے پاکستان میں کسی کو لسانی، طبقاتی، مذہبی اور عددی بنیادوں پر فوقیت حاصل نہیں۔

    قائد اعظم کے درجات کی بلندی کی دُعا کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑنے مزید کہا کہ سب کومل کرپاکستان کی ترقی کیلئےمحنت کرنی ہوگی-

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

  • بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی منابست سے مزار قائد کی تزئین و آرائش اورگنبد اورزینوں کے سنگ مرمرکی مرمت کا کام جاری ہے-

    باغی ٹی وی :بانی پاکستان کا یوم ولادت ہر سال 25 دسمبر کوجوش و خروش سے منایا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے مزار قائد پر تزئین و آرائش کا کام جاری ہےطویل و عریض رقبے پر پھیلے بانی پاکستان کے مزار کی دیکھ بھال،اور تزئین وآرائش کا سلسلہ پورے سال جاری رہتا ہے،مگر بابائے قوم کی یوم ولادت 25دسمبر کی تیاریوں کے حوالے سے خاص اقدامات کیے جاتے ہیں پیر کواسی تزئین وآرائش کے دوران پاک چین دوستی کی علامت 80 فٹ طویل فانوس کی صفائی کا کام شروع کیا گیا۔

    نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کے مطابق کئی روز سے جاری کاموں کے دوران قبر کے گرد موجود چاندی کی جالیوں اورمرکزی دروازوں کے رنگ روغن اور پودوں کی تراش خراش کا کام پورا ہوگیا ہے، گزشتہ روز پیر کوعین قائد اعظم کی قبر پر نصب پاک چین دوستی کی علامت 80 فٹ طویل فانوس کی صفائی کا کام ہوا-

    فوٹو بشکریہ: ایکسپریس
    مزارقائد کے ریذیڈنٹ انجینئرعلیم شیخ کے مطابق بابائے قوم کے مزارکی آرائش ومرمت کا کام پورے سال جاری رہتا ہے تاہم قومی تہواروں پر اس حوالے سے اہتمام بڑھ جاتا ہے اس سلسلے میں سب سے بڑا اقدام 72 فٹ ڈایا میٹر کے گنبد کی مرمت ہے،کیونکہ مسلسل دھوپ اورسردوگرم موسموں کی وجہ سے گنبد کے جوڑوں کی مرمت اور بعدازاں دھلائی ناگزیر ہے بابائے قوم کی قبر پرنصب دیدہ زیب فانوس جس پر ساڑھے 6 کلوگرام سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے اس کی صفائی اورپالش کے کام کو بھی خصوصی فوقیت دی جاتی ہے۔

    علیم شیخ کے مطابق پہلا فانوس سن 1971میں چین کے مسلمانوں کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا جبکہ حالیہ نصب فانوس جمہوریہ چین کے عوام کی جانب سے سن 2017 میں نصب کیا گیا ہے، بابائے قوم کی قبر کے گرد چاندی کی منقش جالیوں اورگنبد کے چاروں دروازوں پرنصب تانبے اورلکڑی کی دیدہ زیب جالیوں کی پالش اوررنگ وروغن بھی جاری ہے۔

    مزار کے احاطے میں تاحد نگاہ بچھے سفیدماربل کی صفائی،پودوں کی تراش خراش،گھانس کی کٹائی،اورمرکزی دروازوں کی رنگ وروغن کا کام بھی جاری ہے،خصوصی دن کی مناسبت سے مزارقائد کے سبزہ زاراورزینوں کی دونوں جانب متعدد اقسام کے خوشنما نئے پودے بھی لگائے گئے ہیں۔

    4 روز بعد ہونے والی 25دسمبر کوتبدیلی گارڈ کے بعد خصوصی تقریبات کے دوران گورنرووزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ دیگر اہم شخصیات بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارقائد پرحاضری دیں گے بعدازاں مزارقائد بغیر ٹکٹ کے عام شہریوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ قائد اعظم کی آخری آرام گاہ کی تعمیر کا فیصلہ 21جنوری1956ء کوکیا گیا تھا۔ مزار کے ڈیزائن کےلیے ایک بین الا قوامی مقابلہ منعقد کروایا گیا جس میں یحییٰ مرچنٹ کے پیش کردہ ڈیزائن کی منظوری دی گئی۔ تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز8فروری1960ء کو کیا گیا اور31مئی1966ء کو مزار کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہوا۔12جون1970ء کو عمارت کو سنگ مرمر سے آراستہ کرنے کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔

    دسمبر1970ء میں چینی مسلمانوں کی ایسوسی ایشن کی جانب سے81فٹ لمبا خوبصورت فانوس تحفے میں دیا گیا، جسے مزارِ قائد کے گنبد میں نصب کیا گیا۔ فانوس میں41 طاقتور برقی قمقمے نصب تھے۔2016ء میں46سال کے طویل عرصے میں فانوس پرانا ہوجانے کے پیش نظر چین نےایک اور فانوس کا تحفہ دیا، جس کا وزن2من اور قطر28مربع میٹر ہے جبکہ اس میں48برقی قمقمے اور8.3کلو گرام سونے کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس فانوس کو نصب کرنے کےلیے چین سے انجینئروں اور ٹیکنیشنز کی13رکنی ٹیم پاکستان آئی، جس نے فانوس کی تنصیب کا کام مکمل کیا۔

    پرانے فانوس کو مزارِقائد کے احاطے میں ہی بطور یادگار رکھا گیا ہے اس موقع پر چین سے فانوس نصب کرنے کےلیے آنے والے ٹیکنیکل ہیڈ، مسٹر چاؤنگ اور مسٹر ڈیوڈ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ قائداعظمؒ ایک عالمی لیڈر تھے، جن کی شخصیت کو چین میں بھی انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مزید یہ کہ مزار قائد پر فانوس کی تنصیب اُن کےلیے نہ صرف ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ ایک ایسا اعزاز تھا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔

    مزار کی تعمیر پر آنے والے تمام اخراجات، جو1کروڑ48لاکھ روپے تھے، عوام کے چندے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عطیات سے پورے کیے گئے۔ مزارِ قائد کی اونچائی سطح سمندر سے91فٹ بلند رکھی گئی ہے، اس کا کُل رقبہ131.58ایکڑ ہے جس پر بعد میں خوبصورت باغات لگائے گئے، راہ داریاں بنائی گئیں اور فوارے و آبشاریں نصب کی گئیں۔15جنوری1971ء کو مزارِ قائد باضابطہ طور پر شہریوں کےلیے کھول دیا گیا جس کے بعد سے عوام کا ایک جم غفیر روزانہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کےلیے آتا ہے۔

    1995ء میں مزار کو مزید خوبصورت اور سرسبز بنانے کی منظوری دی گئی اور اس کا نام ’’باغِ قائد اعظم‘‘ رکھ دیا گیا۔ مزار کے احاطے میں لینڈ لائٹس، ٹاپ لائٹس اور زیرِ آب لائٹس کا جال بچھا دیا گیا، جس کے بعد مزار قائد مکمل طور پر ایک جدید باغ بن گیا۔ مزار میں داخل ہونے کے لیے مختلف ناموں سے5 دروازے بنائے گئے ہیں جنہیں بابِ جناح، بابِ قائدین، بابِ تنظیم، بابِ امام اور بابِ اتحاد کا نام دیا گیا۔ مزار کا گنبد کئی میل دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    تعمیرات اور تزئین و آرائش کے پورے مرحلے میں تقریباً 4لاکھ28ہزار مربع فٹ سنگِ مرمر،4ہزار ٹن سیمنٹ، 565ٹن فولاد،64ہزار فٹ پائپ، 248زیرِ زمیں روشنیاں،69راستوں کی روشنیاں اور چبوترے کے لیے 64فلڈ لائٹس کا استعمال کیا گیا ہے، جس پر33کروڑ روپے لاگت آئی۔ باغ کو مزید خوبصورت بنانے کےلیے36اقسام کے5ہزار درخت،46ہزار749مربع فٹ گھاس اور ڈھائی ہزار بینچ بنوائی گئیں، جس کے سبب آج اسے کراچی کا سب سے پُررونق اور حسین باغ ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

    مزار قائد اپنی منفرد عمارت اور اچھوتے طرز تعمیر کی وجہ سے پاکستان کی بہترین عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ مزار کی تعمیر میں استعمال ہونے والا تمام سامان ملکی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور یہ ہمارے ملکی معماروں اور ہنرمندوں کی شبانہ روز محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مزار کی تعمیر میں قائد کی شخصیت، کردار، مرتبے اور اسلامی فن تعمیر کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔

    مزار کے ڈیزائنر جناب یحیٰ مرچنٹ نے ڈیزائن میں بہت ساری تشبیہات سے کام لیا ہے۔ انہوں نے خود کہا کہ ’’کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں قائد پیدا ہوئے، زندگی بھر مسلمانانِ ہند کی رہنمائی کے بعد انتقال بھی یہیں کیا،اس مزار کو ڈیزائن کرتے ہوئے میں نے عظیم رہنما کی ذاتی خصوصیات کو بھی پیش نظر رکھا‘‘۔ مزار کے احاطے میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم محترم لیاقت علی خان اورقائدِ محترم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح بھی مدفون ہیں۔

  • بانی پاکستان،کشمیر، اور بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    بانی پاکستان،کشمیر، اور بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    3جون1947ء کے تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت ریاستوں کی آزادی اور الحاق کے بارے میں جو اصول طے ہوئے تھے، ان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ بننا تھا، لیکن جب کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا موقع نہیں دیا گیا تو کشمیریوں نے اولاً 19 جولائی 1947ء کو الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی۔ بعد میں 24 اکتوبر 1947ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ۔

    قائداعظمؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اپنی کتاب ’’مائی برادر‘‘ میں بھی قائداعظمؒ کی کشمیر سے وابستگی اور تشویش کے بارے میں جو اشارہ دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اعظمؒ کشمیر کے بارے میں کس حد تک فکر مند تھے۔

    آپ لکھتی ہیں کہ قائداعظمؒ کے آخری ایام میں ان پر جب غنودگی اور نیم بے ہوشی کا دورہ پڑتا تھا تو آپ فرماتے تھے کہ کشمیر کو حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے آئین اور مہاجرین کے الفاظ استعمال کئے۔

    قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1926ء میں کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کشمیری زعما سے ملاقاتیں بھی کیں۔ اس وقت اگرچہ کشمیر میں تحریک حریت کے خدوخال زیادہ نمایاں نہیں تھے، لیکن کشمیری مسلمانوں کی حالت دِگرگوں تھی اور انہیں ہندؤوں کے مقابلے میں دوسرے تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔

    قائدا عظم ؒ دوسری بار 1929ء، تیسری بار 1936ء اور چوتھی بار1944ء میں کشمیر گئے،جہاں آپ نے نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کے اجلاسوں سے خطاب بھی کیا اور کم و بیش ڈیڑھ ماہ کے لگ بھگ کشمیر میں قیام کیا۔
    بھارت مقبوضہ کشمیر کو3حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی قانونی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے آئین میں ایسی شقیں موجود ہیں جس کے تحت پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع کسی بھی ریاست کی سرحدیں تبدیل کی جا سکتی ہیں تاہم پاکستانی قانونی ماہرین کے مطابق ایسی کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور حتیٰ کے بھارتی آئین کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کرنے اورنئی سرحدیں بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370ہے۔ آرٹیکل35-A کے برعکس آرٹیکل 370آئین کا باضابطہ حصہ ہے اور ریاست کو خودمختارانہ حیثیت دیتا ہے۔ آرٹیکل35-A کو آئین میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔

    یہ آرٹیکل ریاستی اسمبلی کو ریاست کے مستقل رہائشیوں کا تعین کرنے کی اجازت دیتا ہے اور مستقل رہائشیوں کو خصوصی حقوق اور مراعات دیتا ہے۔ بھارتی ماہرین کے مطابق یہ دونوں قوانین ابتدا میں عارضی طور پر بنائے گئے تھے۔ ان کے باضابطہ ہونے کی بنیاد مقبوضہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی ہے جس نے ریاست کا آئین تشکیل دیا اور آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی سفارش کئے بغیر اس نے خود کو تحلیل کر دیا۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق آرٹیکل 370 میں آرٹیکل 368(1)کے ذریعے ترمیم کی جا سکتی ہے جس کیلئے لوک سبھا میں ایک تحریک پیش کرنے کی ضرورت ہے جس میں آرٹیکل 368(1) کے ذریعے آرٹیکل 370منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جائے جو پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا طریقہ کار طے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    پا رلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کویہ ترمیم منظور کرنا ہوگی اور اس کے بعد بھارت کی آدھی ریاستوں کو اس کی توثیق کرنا ہوگی اور یہ عمل مکمل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر کی سرحدوں کے ازسر نو تعین کا اختیار حاصل ہو جائیگا۔اس کے بعد پارلیمنٹ آرٹیکل 3کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریاست کو مختلف حصوں میں تقسیم یا اس کی سرحدوں کا دوبارہ تعین کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370کی موجودگی میں یہ اقدام غیرقانونی ہو گا۔

    بھارت کی نیوز ایجنسی ’’آئی اے این ایس‘‘ کے مطابق لوک سبھا کے سابق سیکرٹری جنرل سبھاش کیشپ نے دعویٰ کیا کہ آرٹیکل 370آئین کی خصوصی نہیں عارضی شق ہے اور مختلف عارضی، عبوری اور خصوصی شقوں میں عارضی شق سب سے کمزور ہوتی ہے اور فیصلہ صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اس شق کو کب اور کیسے ختم کرنا ہے۔

    بین الاقوامی قانون کے ممتاز پاکستانی ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ایسی کوئی بھی کوشش جو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کرے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ایسا کوئی بھی اقدام چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہو گی، حکومت پاکستان کو یہ معاملہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے سامنے بھرپور طریقے سے اٹھانا چاہئے۔

    بین الاقوامی قانون کے ایک اور ماہر بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-Aمقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متنازعہ علاقے کے طور پر مقبوضہ وادی کی حالت جوں کی توں رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ آرٹیکل ختم کرنے سے بھارت کی عالمی برادری سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہو گی اور اس کا آزاد کشمیر کی حیثیت پر بھی پڑیگا۔ پاکستان کو فوری طور پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ بھارت کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لئے عالمی دباؤ ڈالا جا سکے۔اس سلسلے میں سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

    پاکستان کو یہ اقدام بھارتی جارحیت تصور کرنا چاہئے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت پاکستان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانا اس علاقے کو ضم کرنے کے مترادف ہے جس پر پاکستان دعویٰ رکھتا ہے۔ بیرسٹر اسد رحیم خان نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی اور یہ امن کوششوں کیلئے تباہ کن ہوگا۔

    بھارت شملہ معاہدے میں اس امر پر اتفاق کر چکا ہے کہ دونوں ممالک کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ طور پر کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ مقبوضہ وادی میں ہندوؤں کی آبادکاری اور مسلم رہائشیوں پر مظالم کے ذریعے مودی کا ہندوتوا منصوبہ نہ صرف وادی کو تباہ کر دے گا بلکہ کئی دہائیوں میں طے پانے والے قانونی اتفاق رائے کا بھی خاتمہ کردیگا۔
    پاکستان کو اس حساس ایشو میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم کشمیری عوام کا بھرپور ساتھ دینا اور مدد کرنی چاہئے۔