Baaghi TV

Tag: باپ پارٹی

  • بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کامیاب قرار

    بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کامیاب قرار

    وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کو کامیاب قرار دیا-

    وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے متعلق انتخابی عذرداری کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں باپ پارٹی کے امیدوار صالح بھوتانی کی درخواست منظور کر لی گئی عدالت نے صالح بھوتانی کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں پی بی 21 سے کامیاب امیدوار قرار دے دیا۔

    واضح رہے کہ صالح بھوتانی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت دوبارہ گنتی کا حکم دیا گیا تھا پیپلز پارٹی کے امیدوار علی حسن زہری کی درخواست پر حلقہ پی بی 21 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد انتخابی نتائج متنازع بن گئے تھے فیصلہ 29 جنوری کو محفوظ کیا گیا تھا چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 29 جنوری کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنا دیا گیا ہے۔

  • بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی صف بندی شروع ،صادق سنجرانی وزیر اعلیٰ کیلئے موزوں شخصیت  قرار

    بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی صف بندی شروع ،صادق سنجرانی وزیر اعلیٰ کیلئے موزوں شخصیت قرار

    کوئٹہ(تجزیہ: منصور مگسی ) ،بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی صف بندی شروع ،صادق سنجرانی وزیر اعلیٰ کیلئے موزوں شخصیت قرارباپ پارٹی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے-

    جنرل الیکشن 2023 کی مناسبت سے بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی صف بندی شروع کر دی گئی ہے جس کیلئے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے باخبر ذرائع کے مطابق بلوچستان میں حسب روایت مخلوط حکومت بنے گی جس کی قیادت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو سونپی جائے گی باپ پارٹی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے جام کمال گروپ اور قدوس بزنجو گروپ ایک دوسرے سے اپنی راہیں الگ کر چکے ہیں-

    میرون لیزلی مڈلکوٹ پاک فضائیہ کا جنگجو پائلٹ ،جو وطن پہ قربان ہوا اور سمندر …

    ذرائع کے مطابق جام گروپ میں شامل سردار سرفراز خان ڈومکی ، نوابزادہ طارق خان مگسی ، خالد خان مگسی اور سردار صالح محمد بھوتانی و دیگر ہم خیال ساتھیوں کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کا قوی امکان ہے جبکہ وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو ، اسپیکر صوبائی اسمبلی میر جان محمد جمالی، صوبائی وزیر حاجی محمد خان لہڑی سابق صوبائی وزیر میر عبدالغفور لہڑی، میر سرفراز بگٹی اور چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی اور ان کے دیگر ہم خیال ساتھی بلوچستان عوامی پارٹی میں ہی رہیں گے جبکہ صوبائی وزیر روینیو میر سکندر خان عمرانی ” قدوس بزنجو گروپ” میں ہوتے ہوئے بھی پارٹی میں خود کو اجنبی اور تنہا محسوس کر رہے ہیں اس لیے شاید وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیں گے-

    محافظ ہو جہاں محمود عالم سا کوئی بیٹا ، وہ دھرتی سر اٹھاتی ہے وہ …

    ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ نصیر آباد میں میر سکندر خان عمرانی کی جگہ میر شوکت خان بنگلزئی کو بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کیلئے آمادہ کر کے صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے ان کو پارٹی ٹکٹ دینے کیلئے کوشش کی جائے گی اس ساری صورتحال میں مختلف حلقوں کی جانب سے میر صادق سنجرانی کو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کیلئے موزوں اور قابل قبول شخصیت قرار دے کر ہوم ورک شروع کر دیا گیا ہے-

    شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع

  • باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    لاہور:باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سے گرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟اس حوالے سے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ علاؤالدین مری جو کہ آج کل باغی ٹی وی سے منسلک ہیں اوربلوچستان کے مسائل کے حوالے سے ایک ماہرانہ تجزیہ اورتبصرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آج انہوں نے بلوچستان کےمسائل کے حل نہ ہونے کا ذمہ دارقوتوں اورافراد کی نشاندہی کی ہے

    علاوالدین مری نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام موسم اور دنیا کی قیمتی ترین معدنیات سے مالا مال کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود یہ صوبہ ابھی بھی پسماندگی کا شکار ہے ،

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ اس ساری صورت حال کے ذمہ داربلوچستان کی سیاسی قوتیں بھی ہیں اور وفاق بھی اس کاذمہ دار ہے، عفیفہ راو کے ایک سوال کے جواب میں علاوالدین مری نے کہا کہ شہبازشریف کا صوبے کا تھوڑے ہی عرصے میں تین مرتبہ دورہ ایک اچھی بات ہے لیکن صرف دورے ہی کافی نہیں ، سابق حکومت کے دور میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے بہت زیادہ فنڈز رکھے گئے لیکن اس کے باوجود کوئی خاص ترقی دیکھنے کو نہیں ملی

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین اسلم بھوتانی ,خالد مگسی اور دیگررہنماوں کا یہ کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بلوچستان کو اربوں روپے کے خصوصی فنڈزدیئے گئے لیکن ہمیں عزت نہیں دی گئی ، اوراگرموجودہ حکومت کو دیکھا جائے توہمیں اگرعزت دیتے ہیں تو بلوچستان کے لیے اس قدرفنڈز نہیں دے رہے ہیں بلوچستان ہردوراورہرحکومت میں ایسے ہی پسماندہ رہا ہے ، گوادر کے حالات سب کے سامنے ہیں ، چین کے بھی کچھ ایسے ہی کنسرن ہیں

     

     

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان کی ترقی کےلیے ضروری ہے کہ بلوچستان بھرمیں ترقیاتی کاموں کے جال بچھائے جائیں ، صنعتوں کو فروغ دیا جائے ،اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کیا جائے ، نوجوان طبقے کوفنی تعلیم دلوا کرمعاشی سرگرمیوں کے لیےتیار کیا جائے نہ کہ گورنمنٹ جاب کی طرف دھکیل دیا جائے جس میں کم تنخواہوں سے کیسے گزارہ ہوسکتا ہے

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹس بنائی جائیں‌، ٹیکس فری زون بنائیں جائیں تاکہ لوگ معاشی سرگرمیوں کی طرف لوٹیں اورصوبے میں ایک بہتردور کاآغاز ہوسکے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہےکہ بلوچستان کے ہرعلاقے میں ترقیاتی کام کیے جائیں ، لوگوں‌کوتعلیم صحت اورروزگار فراہم کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو اپنے ہی علاقوں میں روزگارمل سکے

    علاوالدین مری کہتےہیں‌کہ اس سلسلے میں حکومتوں کوعملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نہ کہ بیانات کے ذریعے سہارا لیکرعوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کی خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور احساس محرومی ختم کرنے کےلیے کوشش کرے