Baaghi TV

Tag: باکو

  • لاہور سے باکو کے لئے پروازوں کا آغاز

    لاہور سے باکو کے لئے پروازوں کا آغاز

    لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی لاہور سے باکو کے لئے پروازوں کا آغاز ہوگیا-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق پہلی پرواز پی کے 159 لاہور سے 152 مسافروں کو لے کر 11 بج کر 50 پر روانہ ہوئی پرواز کی روانگی سےقبل لاہور ایئر پورٹ پر سادہ مگر باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف بحیثیت مہمان خصوصی شریک ہوئے، پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر خضر فرہاد وف اور وزارت ہوابازی کے اعلی حکام نے خصوصی شرکت کی۔

    اس موقع پر خواجہ محمد آصف نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل لوگوں کا خیال تھا کہ پی آئی اے مشکل سے کبھی باہر نہیں نکل سکے گی مگر وزیر اعظم کی زیر قیادت جامع اصلاحاتی پروگرام کے بعد آج پی آئی اے اپنے قدموں پر کھڑی ہے،پی آئی اے اپنے نیٹ ورک کو وسعت دے رہا ہے اور باکو اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، اس پرواز سے پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تعلقات بہت مستحکم ہوں گے۔

    اسلام آباد، راولپنڈی میں بارش، تیز ہواؤں کیساتھ ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری

    سعودی شہریوں کیلئے پاکستان آنے پر کوئی ویزا نہیں،محسن نقوی

    یو اے ای کے وزیر خارجہ 20 سے 21 اپریل تک پاکستان کا دورہ کریں گے

  • آرمینیا اور آذربائیجان پرہونے والے مذاکرات منسوخ

    آرمینیا اور آذربائیجان پرہونے والے مذاکرات منسوخ

    برسلز:آرمینیا اور آذربائیجان پرہونے والے مذاکرات منسوخ ،اطلاعات کےمطابق آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نے دونوں فریقوں کے درمیان امن مذاکرات میں ثالثی کے لیے فرانسیسی رہنما ایمانوئل میکرون سے یریوان کے مطالبے پر اگلے ماہ برسلز میں آرمینیائی وزیر اعظم کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ہے۔

    پاکستان اورترکی کوقابل تجدید توانائی کےحصول کیلئےمل کر کام کرنا ہو گا:وزیراعظم

    آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ 7 دسمبر کو بیلجیئم کے دارالحکومت میں وزیر اعظم نکول پاشینیان سے ملاقات نہیں کریں گے جب آرمینیائی رہنما پر یہ الزام لگا کر امن مذاکرات کے اگلے مرحلے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فرانس کو باکو اور یریوان کے درمیان ایک دلال کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ نگورنو کاراباخ علاقے پر طویل عرصے سے جاری تنازعے میں فرانس جانبدارانہ کردار ادا کررہا ہے جو قابل مذمت ہے

    آذربائیجان اس سے قبل فرانس پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے الگ ہونے والے خطے پر کئی دہائیوں سے جاری تنازع میں آرمینیا کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

    باکو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نے کہا کہ پشینیان “صرف اس شرط پر میٹنگ پر رضامند ہوئے” کہ میکرون شرکت کریں۔ “اس کا مطلب ہے کہ میٹنگ نہیں ہوگی،”

    وزیرخزانہ نے پاکستان کےدیوالیہ ہونےکی قیاس آرائیوں کو پھرمسترد کردیا

    آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نےپشینیان پر “امن مذاکرات کو ختم کرنے کی کوشش” کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی رہنما نے “آذربائیجان مخالف موقف” اپنایا ہے اور وہ باکو کی “توہین” کر رہے ہیں۔آذربائیجان کے صدر نے مزید کہا کہ ’’یہ واضح ہے کہ ان حالات میں اس رویہ کے ساتھ فرانس آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن عمل کا حصہ نہیں بن سکتا‘‘۔

  • آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع،

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع،

    تہران :آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع، اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

    ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

    آرمینیا کی وزرات دفاع کے مطابق آذری فوج نے اس کی فوجی پوزیشوں پر صبح پانچ بجے سے آرٹلری، ہیوی توپ خانے اور ڈرون سے بمباری شروع کر دی جس کا آرمینیا کی افواج نے مناسب جواب دیا لیکن آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا پر الزام عائد کیا کہ اس کی افواج نے دشکسان، کلباجر اور لاچین کے سرحدی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تخریبی کاروائیاں کی ہیں اور آذری فوجی پوزیشنوں پر فائرنگ کی ہے جن میں مارٹر کا استعمال بھی کیا گیا۔

    گزشتہ ہفتے آرمینیا نے آذربائیجان پر اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کا الزام لگایا تھا۔

    یاد رہے کہ ایک دوسرے کے جانی دشمن آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان پہلی مرتبہ 1980ء میں لڑائی ہوئی تھی جب یہ دونوں علاقے سابق سوویت یونین کے کنڑول میں تھے جس میں آرمینیا کی افواج نے آذربائیجان سے نگارنوکاراباخ کے علاقے چھین لئے تھے۔

    2020ء میں ہونے والی جنگ میں آذربائیجان نے اپنے علاقے واپس چھین لئے تھے اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگوں اور جھڑپوں میں 30,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔