ناموراداکار معمررانا کا کہنا ہے کہ فلم اور سینما ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں،فلم انڈسٹری کی ترقی کے ساتھ سینمائوں مییں بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہیے-معمررانا کا کہنا تھا کہ لالی ووڈ میں ایسا بھی دور دیکھا ہے کہ پروڈیوسر فلم بنا لیتے تھے لیکن انہیں فلم کی نمائش کیلئے سینما میسر نہیں ہوتا تھا-
اداکار نے فلم انڈسٹری کے بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نڈسٹری کے بحران کی سب سے بڑی وجہ سینمائوں کا پلازوں اور دیگر کاروباری مراکز میں تبدیل ہونا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری انڈسٹری ترقی کرے تو ہمیں سینمائوں کی تعداد بڑھنی چاہیے اور سب سے ضروری بات سینمائوں میں جدید ٹیکنالوجی کو لانا چاہیے-
ٹکٹ کی قیمت پر بات کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ پوش علاقوں میں بننے والے سینمائوں کی قیمت اس قدرمہنگی ہے کہ ایک عام فلم بین یہاں فلم نہیں دیکھ سکتا اس لیے ہمیں سب چیزوں کو مدنظر رکھنا چاہیے-
Tag: با غی ٹی وی

فلم اورسینما ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں،معمررانا

رابی پیر زادہ نے گلو کاری کیلئے اور ایک زبان پر عبور حاصل کر لیا
گلو کارہ واداکارہ رابی پیر زادہ نے گلو کاری کیلئے پنجابی زبان پرعبورحاصل کرلیا-رابی پیر زادہ نے پنجابی زبان سیکھنے کیلئے با قاعدہ ایک استاد کی خدمات حاصل کیں اور اب انہیں پنجابی زبان پر مکمل عبور حاصل ہو گیا ہے-
اس حوالے سے رابی پیرزادہ نے کہا کہ میں ملکہ ترنم نور جہاں کو ان کی فنی خدمات پر خراج تحسین پیش کرنا چا ہتی ہوں لیکن ان کے زیادہ تر گانے پنجابی زبان میں ہیں-
ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے سندھی،بلوچی،انگریزی اور زبا ن پر تو عبورحاصل ہے لیکن پنجابی پر نہیں تھا لیکن استاد سے سیکھنے کے بعد انہیں پنجابی پر بھی عبور حا صل ہو گیا ہے .ان کا کہنا تھا کہ اب میں ملکہ ترنم کے گائے ہوئے گیت پیش کرکے انہیں خراج تحسین پیش کروں گی-
سونا کشی کی نئی فلم”خاندانی شفاخانہ” میں بادشاہ کی انٹری
سوناکشی سہنا کی نئی فلم”خاندانی شفاخانہ” 2اگست کو ریلیزہوگی-جس میں سوناکشی سہنا مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں اور اس فلم میں مشہور ریپر بادشاہ پہلی بار بڑے پردے پر دکھائی دیں گے-
کامیاب فلموں کی ہیروئن نے اپنی نئی فلم”خاندانی شفاخانہ”کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کوئی لڑکی کسی فلم میں مضبوط مرکزی کردار ادا کرتی ہے تو اُس فلم پر”وومن سینٹرک”کا لیبل لگا دیا جاتا ہے جو بہت غلط بات ہے-
اس فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کامیابی اور ناکامی کا تمام تردارومدارسوناکشی سہنا پر ہے.اس بارے میں سوناکشی سہنا کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی روایتی سوچ تبدیل کرنا ہو گی تا کہ ہالی ووڈ کی طرح بالی ووڈ میں بھی اداکارائیں مضبوط مرکزی کردار اداکر سکیں-
فلم کی سٹوری کچھ اس طرح ہے کہ سونا کشی ایک پنجابی دوشیزہ کا کردار نبھا رہی ہیں جسے اپنے نانا سے ایک شفاخانہ ورثے میں ملا ہے جو کہ مردانہ کمزوری کے حوالے سے شہرت رکھتاہے-شفاخانہ چلانے میں اس لڑکی کو جن مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،وہی اس فلم کا موضوع بھی ہے جنہیں کامیڈی اندازمیں بڑے پردے پر پیش کیا گیا ہے-
گووندہ نے ہالی ووڈفلم”اویٹا رٹھکرانے کی وجہ بتا دی
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق گووندہ نے ایک ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیا جس میں انہوں نے ہالی ووڈ کی 2009 میں ریلیز ہونے والی فلم”اویٹار”سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ معروف ہدایتکار جیمز کیمرون کی جانب سے فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی گئی یہ وہ فلم تھی جو دنیاا بھر میں مقبول ہوئی اور باکس آفس پر اچھے ریکارڈ قائم کیے –
گووندہ کا کہنا تھا کہ میں نے ہی اس فلم کا نام اویٹار تجویز کیا اور جمیز کیمرون سے کہا تھا کہ آپ کی یہ فلم کامیاب ترین فلم رہے گی اور آپ کی اس فلم کو مکمل ہونے کیلئے سات سے آٹھ سال درکار ہوں گے جس پر کیمرون ناراض ہوگے-
فلم میں کام نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے گووندہ نے کہا کہ فلم کا اسکرپٹ اچھا تھا لیکن میں نے کیمرون سے کہا کہ آپ مجھے فلم میں ایک معذور کا کردار ادا کرنے کو کہہ رہے ہیں آپ چاہتے ہیں کہ میں 410 دن کی شوٹنگ کے دوران جسم کو رنگین رکھوں تو میں نے معذرت کر لی اور فلم میں کام کرنے سے انکار کردیا –
اداکار کا مزید کہنا تھا کہ میرے انکار کے بعد دوسرے اداکار کو فلم میں کاسٹ کیا گیا لیکن فلم کے با رے میں میری پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور فلم آٹھ سے نو سال بعد ریلیز کی گئی اور باکس آفس پر کامیاب رہی-
شہرت کیلئے مسلسل محنت کرنا پڑتی ہے،فرزانہ تھیم
اداکارہ فرزانہ تھیم کا کہنا ہے کہ کسی اداکار کیلئے شہرت حاصل کرنا آسان نہیں بلکہ اس کیلئے مسلسل کئی سال محنت کرنا پڑتی ہے.کامیابی کی صورت میں پرستاروں کی امیدیں بھی بڑھ جاتی ہیں نام اور مقام کو برقرار رکھنے کیلئے اس سلسلے میں تسلسل رکھنا پڑتاہے-
ایک انٹر ویو میں اداکارہ فرزانہ کا کہنا تھا کہ میں خود اپنے کام کا تنقیدی جائزہ لیتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں کہ ایک پراجکیٹ میں جو کردارادا کیا ہے اگلے پراجکیٹ میں اس سے بہتراداکاری کی جائے-ان کا کہنا تھا کہ میں نے بہت سے ڈرامہ سیریل میں کام کیاہےاور مداحوں سے بہت پیار ملا-
کنگنا رناوت کی فلم”ججمنٹل ہے کیا”کے پوسٹرکے چربہ ہونے کا الزام
غیر ملکی اداکارہ نے فلم”ججمنٹل ہے کیا”کے پوسٹر کے چربہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے-
بالی ووڈ فلم سازاپنی چربہ سازی کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہیں-اداکارہ کنگنا رناوت اور راج کمارراؤ کی نئی فلم”ججمنٹل ہے کیا”کے فلم سازوں پر بھی چوری کا الزام سامنے آیا ہے
ہنگری کی فن کارہ فلورہ بورسی نے کہا ے کہ”ججمنٹل ہے کیا کا پوسٹرہوبہواس کے پوسٹر کا چربہ ہے-
فلورہ بورسی نے الزام لگایا ہے کہ”ججمنٹل ہے کیا”کے فلم سازوں نے اس کے پوسٹر کی کاپی کی ہے اورفن کی چوری کے مرتکب ہوئے-فلورہ بورسی نے کہا ہے کہ بھارتی فلم سازوں کی یہ حرکت نا مناسب ہے،اگرانہیں اس کے فن کی نقل کرنی ہی تھی تو پہلے اخلاقی طور پر اجازت لینی چاہیے تھی-
پرینیتی چوپڑاکا پریا نکا کی وائرل تصویرپر تبصرہ کرنے سے انکار
بالی ووڈ کی ناموراداکارہ پرینیتی چوپڑا نےاپنی بہن اور اداکارہ پریا نکا چوپڑا کی سگریٹ پیتے ہوئے وائرل تصویر پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا-
حال ہی میں پریانکا چوپڑا کی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میںوہ سگریٹ پیتی ہوئی نظرآرہی ہیں-جبکہ ان کے برابر میں موجود ان کے شوہر نک جونز اور ان کی والدہ مدھو چوپڑا بھی سگار کا مزہ لے رہی ہیں-
یاد رہے کہ پریانکا چوپڑا نا صرف دمہ کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہیں بلکہ خود بھی دمے کی مریضہ ہیں گزشتہ برس انہوں نے لوگوں کو دمہ کے حوالے سے آگاہی دینی والی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا-لہذا سوشل میڈیا صارفین نے پریانکا چوپڑا کو سگریٹ پینے پر ان کے دُہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےانہیں دوغلہ قراردےدیا ہے-
حال ہی میں جب پریانکا چوپڑا کی بہن پرینیتی چوپڑا سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے یہ کہہ کے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ اس بارے میں بولنے کا ان کا کوئی حق نہی
مجھے لاہور بہت یاد آتا ہے، اداکارہ شبنم
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی اداکار شبنم کو رواںبرس پاکستان کے لکس ایوارڈزمیں لا ئف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے-
شبنم پاک وہند کی واحد اداکارہ ہیں جنہوں نے مسلسل 30 برس تک ہیروئن کا کردار ادا کیا.اپنے 40 سالہ فلمی کریئرمیں انہوں نے 200 کے قریب فلموں میں کام کیا اور اس دوران انہیں 13 مرتبہ نگاراور3 مرتبہ نیشنل ایوارڈ بھی ملے.پاکستان میں شبنم اور ندیم کی جوڑی کو بہت پسند کیا جاتا تھا ان دونوں نے ایک ساتھ کئی یادگار فلموں میںکام کیا جن میں بندش ،دیوانگی اور خوبصورت وغیرہ شامل ہیں-
لائف ٹائم اچیو منٹایوارڈ ملنے پر شبنم کا کہنا تھا کہ میںبہت خوش ہو کہ مجھے یہ ایوارڈ میری زندگی میں ملا ان کا کہنا تھا کہ جو کام مجھے ملا اور جوکام میں نے کیا اس خوشی کو میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی.ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ ایوارڈ مجھے میری زندگی میں ملا اگرمرنے کے بعد ملتا تو کچھ فا ئدہ نہ ہوتا.فلمی کریئر کے عروج پر پاکستان چھوڑجانے کے سوال پر شبنم کا کہنا تھا کہ میرے والد کو اٹیک ہوا تھا اس وجہ سے مجھے پاکستان چھوڑنا پڑا میں خوش قسمت ہوں کہ تین سال مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا.
شبنم کا پاکستان کے بارے میں مزید کہنا تھا کہ مجھے لاہور بہت یاد آتا ہے لاہور کے لوگ بہت ہیار کرنے والے تھے یہ سب چیزیں مجھے بہت یاد آتی ہیں –







