Baaghi TV

Tag: با

  • کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و  رقص کی اسکالر تھیں

    کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں

    تاریخ ولادت: 25 دسمبر 1928ء
    دہلی
    تاریخ وفات:16 ستمبر 2020ء
    دہلی
    والدین:رام لال ملک
    ستیہ وتی ملک
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    مشی گن یونیورسٹی
    بنارس ہندو یونیورسٹی

    25 دسمبر 1928 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں۔ انھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی اور امریکہ کے مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ کپیلا جی، جو سنگیت ناٹک اکیڈمی کی فیلو رہ چکیں تھیں، ممتاز ڈانسر شمبھو مہاراج اور مشہور مورخ واسودیو شرن اگروال کی شاگردہ بھی تھیں۔

    وہ راجیہ سبھا کے لئے 2006 میں نامزد رکن مقرر کی گئی تھیں اور فائدہ کے عہدے کے تنازع کی وجہ سے انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ راجیہ سبھا کی رکن نامزد کی گئیں۔ واتسیاین نیشنل اندرا گاندھی آرٹ سینٹر کی بانی سکریٹری تھیں اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی لائف ٹائم ٹرسٹی بھی تھیں۔ انھوں نے ہندوستانی ناٹیاشاسترا اور ہندوستانی روایتی فن پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھیں۔ وہ ملک میں ہندوستانی فن کی سرکاری اسکالر کے طور پر سمجھی جاتی تھیں۔

    واتسیاین ہندی کی مشہور مصنفہ ستیہ وتی ملک کی بیٹی تھیں اور ان کے بھائی کیشیو ملک ایک مشہور انگریزی شاعر اور فن نقاد تھے۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ تعلیم میں سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی شادی سچدآنند ہیرآنند واتسیاین سے ہوئی تھی لیکن چند برسوں کے بعد ان سے طلاق ہوگئی اور اس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتی رہیں۔

  • سانحہ سیالکوٹ:جمعہ 10 دسمبر کوشرپسندوں اور ان کی فتنہ پرورسوچ پریومِ مذمت منانے کا اعلان

    سانحہ سیالکوٹ:جمعہ 10 دسمبر کوشرپسندوں اور ان کی فتنہ پرورسوچ پریومِ مذمت منانے کا اعلان

    اسلام آباد :سانحہ سیالکوٹ:جمعہ 10 دسمبر کوشرپسندوں اور ان کی فتنہ پرورسوچ پریومِ مذمت منانے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے سیالکوٹ واقعے پر ملک بھر میں جمعہ کو یومِ مذمت منانے کا اعلان کر دیا۔

    معاون خصوصی علامہ طاہراشرفی نے کہا ہے کہ کسی شخص کوبھی قانون ہاتھ میں لینےکی اجازت نہیں دی ‏جاسکتی سیالکوٹ واقعے پر جمعہ کویوم مذمت منایا جائے گا اور عوام کو بتایا جائےگاکہ توہین ناموس رسالت ‏کیا ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ 133 سے زائد توہین رسالت کیسز پر شکایات سنی ہیں اس مظلوم سری لنکن کی لاش ‏گھر پہنچی تو انتہائی درد ناک لمحہ تھا ناعاقبت اندیش افرادنےسری لنکن شہری کو جلایا یہ لمحہ فکریہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل اور پاکستان علما کونسل کے ضابطہ اخلاق میں واضح ہے عوام ،میڈیا، وکلا، ‏تاجران سمیت سب پر ذمہ داری عائدہوتی ہے دینی تشخص خراب کرنے والوں کے خلاف مل کر کھڑا ہونا ہو گا ‏مسیحی برادری بھی اتوار کو چرچز میں یوم مذمت منائے گی۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ایک طبقہ ہے جسے اسلامی تشخص اور عقیدہ ختم نبوت سےتکلیف ہے تمام ‏علمائے کرام نے سانحہ سیالکوٹ کی مذمت کی ہے انتہاپسندی کا خاتمہ اسی طرح ہوگا جس طرح دہشتگردی ‏کیخلاف اکٹھے ہوئے ہم سب کو آگے آنا ہوگا اور اس انتہا پسند سوچ کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔

  • شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے

    شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے

    اسلام آباد:شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے،اطلاعات کے کے مطابق قوم آج میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاسواں یوم شہادت منا رہی ہے۔ میجرمحمد اکرم شہید نے اپنی جان وطن عزیز کی خاطر قربان کرتےہوئے اس قوم اور وطن کے دفاع کووہ قوت بخشی جس کا مظہر آج بھی ہورہا ہے

    میجر اکرم شہید نے 1971 کی جنگ میں جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور وطن پر قربان ہو گئے۔

    میجر محمد اکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں 4 اپریل 1938 کو پیدا ہوئے۔میجر اکرم شہید اپنے ننھیال ڈنگہ میں پیدا ہوئے لیکن ان کا موضع نکہ کلاں،جہلم سے تعلق تھا جو جہلم میں واقع ہے۔ان کی یادگار بھی جہلم میں شاندار چوک کے ساتھ جہلم میں بنائی گئی ہے جب کہ تاریخ جہلم اور شہدائے جہلم از انجم سلطان شہباز میں ان کے مکمل سوانح موجود ہیں۔ نیز پروفیسر سعید راشد نے ان کے حوالے سے ایک کتاب شہید ہلی لکھی تھی۔

    میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا 50 واں یوم شہادت، 1971 کی جنگ میں جرات اور بہادری کی عظیم داستان رقم کی جس پر قوم کو آج بھی ناز ہے۔ جنگ کے دوران میجر اکرم شہید نے مشرقی پاکستان کے محاذ پر کمال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے فضائی، آرٹلری اور آرمڈ کے بڑے حملوں کو ناکام بنایا۔ میجر اکرم جوانوں کے ہمراہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا 15 روز تک بہادری سے مقابلہ کرتے رہے۔ اس دوران پاک فوج کی اہم سپلائی لائن پر دشمن کے حملے ناکام بناتے ہوئے میجر اکرم پانچ دسمبر 1971ء کو جام شہادت نوش کر گئے۔

    بہادری اور جرات کی نئی داستان رقم کرنے پر میجر اکرم شہید کو پاک فوج کے اعلی ترین اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ میجر اکرم شہید نے ملٹری کالج جہلم سے فارغ التحصیل ہو کر مارچ 1961ء میں 28ویں پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی اور اکتوبر 1963ء کو پاس آئوٹ ہو کر فرنٹیئر فورس ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔

    انہیں اپنے کورس میں بہترین نشانہ باز کا اعزاز بھی ملا، میجر محمد اکرم 13 اکتوبر 1963ء کو انفینٹری بٹالین کا حصہ بنے، اپنے بہترین ریکارڈ پر انہیں ستمبر 1970ء میں ملٹری انٹیلی جنس کورس کی تکمیل پر میجر کے عہدے پر ترقی ملی۔

  • سیالکوٹ واقعہ:لاش گھسیٹنے اور سیلفی لینے والے 13 مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد گرفتار

    سیالکوٹ واقعہ:لاش گھسیٹنے اور سیلفی لینے والے 13 مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد گرفتار

    لاہور:سری لنکن فیکٹری منیجر کا قتل: 13 مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد گرفتاراطلاعات کے مطابق سری لنکن شہری کے قتل میں ملوث 13 مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد گرفتار ہوچکے ہیں، سیلفی لینے، ویڈیو بنانے اور پتھر لاکر دینے والے ملزمان بھی قانون کے شکنجے میں آگئے۔

    ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے آئی جی پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں مبینہ توہین مذہب پر سری لنکن فیکٹری منیجر کا قتل کیا گیا، واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاریاں جاری ہیں،

    ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ 13 مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد گرفتار ہوچکے، 24 گھنٹے میں 200 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر آئے گا

    سیالکوٹ میں افسوسناک واقعے میں لوگوں کو اشتعال دلانے والا دوسرے ملزم ملزم طلحہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

    دوسری طرف پولیس نے اب تک 1115 سے زائد ملزمان کو ویڈیو کی مدد سے گرفتار کیا۔سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال:مذہبی انتہا پسندی نے ملک کوبدنام کروا دیا ،اطلاعات کے مطابق سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ارسال کر دی۔اس رپورٹ نے واقعہ میں مذہبی انتہا پسندی کووجہ قراردیا

    ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیکٹری کی مشین پر مذہبی حوالے سے ایک سٹکر لگا تھا، غیر ملکیوں کے وزٹ کی وجہ سے منیجر نے اسٹاف کو اسٹکر ہٹانے کا کہا، ملازمین کے انکار پر منیجر نے خود ہٹا دیا۔

    دوسری طرف اس حوالے سے پنجاب حکومت نے ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی، جس میں بتایا گیا کہ مرکزی ملزمان سمیت اب تک 112 ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں، سیالکوٹ میں ایسے افراد جنہوں نے اشتعال دلایا، ان کو بھی گرفتار کر لیا، پولیس نے مرکزی ملزمان کی گرفتاری کر کے مزید تحقیقات شروع کر دیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں، فیکٹری مینیجرز کی معاونت سے واقعہ میں ملوث افراد کی شناخت کی گئی۔

    وزیراعظم کے ساتھ ساتھ سانخہ سیالکوٹ کی رپورٹ وزیر اعلی پنجاب کو ارسال کر دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مار پیٹ کا واقعہ صبح گیارہ بجے شروع ہوا، گیارہ بج کر 25 منٹ پر 3 اہلکار موقع پر پہنچے، واقعے سے کچھ دیر قبل ورکرز کو ڈسپلن توڑنے پر فارغ کیا گیا، مینجر کے سخت ڈسپلن اور کام لینے پر ورکرز پہلے سے غصے میں تھے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ چند غیر ملکیوں کمپنیوں کے وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا، مینجر نے ورکرز کو کہا سب مشینیں صاف ہونی چاہیے، مینجر نے مشین پر لگے اسٹکیرز ہٹنانے کا کہا، مبینہ طور پر جب فیکٹری ملازمین نے اسٹکر نہیں ہٹایا تو منیجر نے خود ہٹا دیا، بادی النظر میں ورکرز نے اسٹیکرز کا بہانہ بنا کر تشدد کیا، اسٹیکرز پر مذہبی تحریر درج تھی، واقعہ کے وقت فیکٹری مالکان غائب ہوگئے۔

    رپورٹ کے مطابق بادی النظر میں ورکرز نے اسکٹیرز کا بہانہ بنا کر تشدد کیا سیالکوٹ:اسٹکیرز پر مزہبی تحریر درج تھی۔گرفتار ورکرز سیالکوٹ واقعہ کے وقت فیکٹری مالکان غائب ہو گے۔

     

     

  • کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر:  بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار رہی ہے:اقوام متحدہ

    کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر: بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار رہی ہے:اقوام متحدہ

    جنیوا:کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں جاری،بھارتی فوج اورپولیس آوازکودبا اور صحافیوں کومار رہی ہے :اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لالر Mary Lawlorنے کشمیری صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی متعدد کارروائیوں کے بارے میں بھارت کیساتھ اپنی مراسلت عام کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مراسلت بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے 2 صحافیوں قاضی شبلی اور آکاش حسن اور بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن چندر بھوشن تیواری کو ہراساں کرنے کے بارے میں تھی۔میری لالر نے یہ مراسلہ رواں برس یکم اکتوبر کو بھارتی حکومت کو بھیجا تھا۔

    مراسلے میں کشمیری صحافی قاضی شبلی کے گھر پر چھاپوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قاضی شبلی ضلع اسلام آباد میں ایک نیوز ویب سائٹ کشمیریت کے ایڈیٹر ہیں۔ رواں برس6 اگست کو پولیس نے قاضی شبلی کے گھر کی تلاشی لی جب کہ وہ وہاں نہیں تھے۔ پولس زبردستی تالہ توڑ کر شبلی کے گھر میں داخل ہوئی اور کھڑکیوں کے شیشوں، ایک حفاظتی کیمرہ اور دیگر کئی اشیاءکی توڑپھوڑ کی۔

    میری لالر نے اپنے مراسلے میں کہاکہ چھ اگست کو ہی پولیس نے شبلی کے ایک رشتہ دار اور دادی کے گھروں کی بھی تلاشی لی۔ تلاشی کی ان کارروائیوں سے چند گھنٹے قبل” کشمیریت “نے 2017 کا ایک مضمون سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ کیا تھا،جس میں ایک کشمیری نوجوان کے بارے میں بتایا گیا تھا جسے بھارتی فورسز نے قتل کر دیا تھا۔ مراسلے میں مقبوضہ جموںوکشمیر کے ایک فری لائنسس صحافی آکاش حسن کا بھی ذکر کیا گیا جو مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی بھارتی فوجی موجودگی اور وہاں کے شہریوں پر فوجیوں کی کڑی نگرانی کے بارے میں حالیہ برسوں کے دوران رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ رواں برس17 جولائی کوجب وہ رات 9 بجے کے قریب گھر جا رہے تھے تو ضلع پولیس نے اسلام آباد میں انکی گاڑی روک دی اور ایک پولیس افسر نے انہیں مبینہ طور پرگریبان سے پکڑا اور انکے چہرے اور جسم پر ڈنڈے برسائے۔مراسلے میں کہا گیا کہ حسن نے بعد ازاں حملے کی تفصیلات اور اپنے زخمی ہونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ واقعہ کے کچھ دیر بعد ضلع اسلام آباد کی پولیس کے ایک سپرنٹنڈنٹ نے حسن سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی۔ تاہم آکاش حسن کو ابھی تک کسی بھی تحقیقات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔

    مراسلے میں کہا گیا کہ یہ چھاپے جموں وکشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کی ایک واضح مثال ہیں۔مراسلے میں بھارتی ریاست بہار کے صحافی چندر بھوشن تیواری کا بھی ذکر کیا گیا جو مبینہ پولیس بدعنوانی کو بے نقاب کر تے رہے ہیں۔چندر بھوشن تیواری ریاست بہار کے کیمور ضلع میں روزنامہ ہندی اخبار گیان شیکھا ٹائمز کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ اخبار کے لیے وسیع تر مسائل بشمول انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ بھارتی پولیس نے انہیں بھی بے رحمی سے مارا پیٹا۔

    اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ شکایات کی تحقیقات اور پیروی کی کمی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ بھارتی پولیس فورسز میں بدعنوانی افسروں تک ہی محدود نہیں رہی ہے جن کے بارے میںاطلاعات ہیںکہ وہ رشوت لیتے ہیں۔ ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ صحافیوں کے خلاف بلاجواز حملے بھارت میں انسانی حقوق کے مسائل پر اظہار رائے کی آزادی اور مسائل کے بارے میں رپورٹنگ کو روکنے کی کوشش ہو سکتے ہیں ۔

  • کالا بلدیاتی قانون :ایم کیو ایم کے بعد جماعت اسلامی بھی میدان میں‌ آگئی

    کالا بلدیاتی قانون :ایم کیو ایم کے بعد جماعت اسلامی بھی میدان میں‌ آگئی

    کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کالا بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی 12دسمبر کو ”حقوق کراچی مارچ“کر ے گی، سندھ حکومت کے منظور کردہ بلدیاتی ترمیمی بل آئین کے آرٹیکل 32اور 140-Aکے خلاف ہے۔

    جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کی وڈیرہ شاہی آمریت مسلط کرنے ، شہری اداروں پر قبضے اور کراچی دشمن کالے بلدیاتی قانونی کے خلاف کراچی بھر میں 11مقامات پر احتجاجی دھرنے دیئے گئے۔

    جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے خلاف آئین اقدامات اور غیر جمہوری رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متنازع بلدیاتی ترمیمی بل 2021کو فی الفور واپس لینے ، بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی طور پر خود مختار بنانے اور کراچی کو میگا میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دیتے ہوئے با اختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے از سر نو قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ۔

    حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی بل کی اسمبلی سے جبری منظور ی کراچی کے عوام کو غلام بنانے اور شہری اداروں پر قبضے کی کوشش ہے ، یہ بل کراچی کے وسائل پر ڈاکہ اورلوٹ مار کا گھناﺅنا کھیل ہے جسے عوام مسترد کرتے ہیں ، آج کراچی بھر میں دیئے گئے دھرنے پیپلز پارٹی کی آمرانہ سوچ، فسطائیت اور کراچی پر قبضہ کرنے کے خلاف ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جمعہ 3دسمبر کو اسی حوالے سے پورے شہر میں یوم سیاہ منایا جائے گا اور سینکڑوں مقامات پر مظاہرے ہوں گے جبکہ اتوار 12دسمبر کو کراچی میں ایک بھر پور اور تاریخی ”حقوق کراچی مارچ “کیا جائے گا ،جعلی بل کے خلاف لاڑکانہ، جیکب آباد اور دیگر اندرون سندھ کے شہر ی بھی سڑکوں پر موجود ہیں اور احتجاج کررہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلےمتحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے سندھ حکومت کے لائے گئے بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا ہے ۔

    ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ، کے ڈی اے، بلدیہ کے پاس ہونا چاہیے لیکن بلدیاتی بل میں ترمیم سے آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں انہوں نے بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا اور احتجاج کا بھی فیصلہ کیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی میں سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021 کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا۔