Baaghi TV

Tag: بجلی بل

  • بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیس: تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں،سپریم کورٹ

    بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیس: تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے خلاف ایک ہزار 90 درخواستوں کی سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کرلیے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل نے عدالت سے مہلت مانگی جسے چیف جسٹس نے مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو آدھے گھنٹے میں تیاری کرنے کی تنبیہ کی اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس نہیں، وہ خوددلائل دیناچاہتے ہیں، عدالت کچھ مہلت دے دے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اگرآپ خود لکھ کرکہہ دیں کہ عامر رحمان نا اہل ہے، دلائل نہیں دے سکتے تو ٹھیک ہے، ہم تو عامر رحمان کو نااہل کہنے کی گستاخی نہیں کرسکتے، میں تو سمجھتا ہوں عامر رحمان قابل وکیل ہیں اورکیس میں خود دلائل دے سکتے ہیں، اتنے سارے وکلا موجود ہیں-

    پولیس کو ایک ہفتے میں شیخ رشید کو پیش کرنے کا حکم

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں پر کیسز کا ڈھیر ہے، 16 اکتوبر کو دلائل سن کر فیصلہ کریں گے اور اس روز ویڈیو لنک کی سہولت نہیں دی جائے گی، تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہےکہ لاہور ہائیکورٹ نے رواں سال فروری میں بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور فیصلے کے خلاف بجلی کی ترسیل کی کمپنیوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفرکیس میں اہم پیشرفت

  • 400 یونٹ تک صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ

    400 یونٹ تک صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ

    نگران وفاقی حکومت نے 400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا جبکہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر مشاورتی اجلاس ہوا اور اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 400یونٹ تک کے بجلی بل آئندہ 6 ماہ میں اقساط میں وصول کیے جائیں گے جس کی منظوری آئی ایم ایف سے لی جائے گی۔

    تاہم یہ بھی اجلاس میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف کی رضا مندی کے بعد صارفین کیلیے ریلیف کا اعلان کیا جائے گا، دوسری جانب بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری بھرکم بلوں کے خلاف عوامی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری رہا ہے اور انجمن تاجران لاہور نے ہڑتال کیلئے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم اور انجمن تاجران پاکستان سپریم کونسل نے احتجاجی کیمپ لگانے کا اعلان کر دیا ہے.

    علاوہ ازیں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف صوبائی دارالحکومت لاہور میں شاہ عالم مارکیٹ کے تاجر سڑکوں پر نکل آئے اور ٹائر جلاکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا جبکہ انجمن تاجران لاہور کے صدر مجاہد مقصود بٹ نے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    جبکہ انجمن تاجران پاکستان سپریم کونسل کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں کے معاملے پر حکومت سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، یکم ستمبر سے اپنی احتجاجی مہم شروع کررہے ہیں، ہر منگل کو لاہور کی کوئی ایک مارکیٹ کی تاجر برادری احتجاج کرے گی، پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگا رہے ہیں علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ بجلی چور کا ہاتھ کاٹا جائے، بجلی چوروں اور مفت بجلی لینے والے سرکاری ادارے کے خلاف کارروائی کریں، رپورٹ جاری کی جائے کہ کون سا سرکاری ادارہ کتنے کا نادہندہ ہے، ایوان صدر کتنا بجلی کا بل دے رہا ہے، یہ اصل مسئلہ ہے تاہم دوسری جانب بجلی کی قیمتوں کے خلاف ملتان ، راولپنڈی اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

  • بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    ڈان اخبار میں حالیہ شائع ہونے والے ایک مضمون میں، وزیراعظم کی جانب سے طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پر غور کیا گیا۔ ایک قابل ذکر تجویز میں قسطوں میں بل ادا کرنے کا اختیار شامل تھا۔ اگرچہ یہ خیال پہلی نظر میں قابل فہم معلوم ہو سکتا ہے، لیکن بغور جائزہ لینے سے بعض چیلنجوں اور پیچیدگیوں کا پتہ چلتا ہے جو اسے ناقابل عمل بنا دیتے ہیں۔

    اس کی وضاحت کے لیے، آئیے فرض کریں: 30,000 روپے ماہانہ آمدنی اور 12,000 روپے کا بل۔ اس صورت میں، بل کی ادائیگی کا %50 اگلے مہینے تک موخر کر دیا جاتا ہے۔ اگلے مہینے میں 10,000 روپے کا بل آتا ہے، جس میں مزید 50 فیصد تاخیر ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، اس مہینے میں ادا کرنے کے لیے 11,000 روپے کا بل آتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اور ممکنہ طور پر مالی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ تجویز اس کی طویل مدتی پائیداری، فرد کے مالی استحکام اور ادائیگی کی صلاحیت پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔

    فی الحال، سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ نان فائلرز کے لیے شرح کا مطلب بجلی کے بل میں شامل اضافی ٹیکس ہیڈ ہے۔ تاہم، ہر سال 12 لاکھ سے کم آمدنی والے افراد اور سالانہ 12 لاکھ سے زیادہ کمانے والے، پر ٹیکس ادا کرنے کے اہل ہونے کے درمیان فرق کرنے کا طریقہ کار ابھی تک واضح نہیں ہے۔ وضاحت کی یہ کمی ایک مزید بہتر طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتی ہے جو ٹیکس کی پالیسیوں کو بجلی کے بلنگ کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔

    غور طلب ایک اہم نکتہ بجلی کی کھپت کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا نظام ہے۔ یہ نظام ایک ایسا طریقہ استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کھپت کی شرح میں اضافہ ہے۔ منصفانہ اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے، ابتدائی یونٹس کے استعمال پر بجلی کے استعمال کے لیے فلیٹ ریٹ متعارف کرانا سمجھداری کا کام ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ نہ صرف بلنگ کو آسان بناتی ہے بلکہ صارفین کے لیے ٹیکسوں میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (XWDISCOs) کی طرف سے ہونے والے نقصانات کے مسئلے کو حل کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کمپنیوں کو بجلی چوری، لائن لاسز اور ناکافی وصولیوں کی وجہ سے 150 ارب روپے کے سالانہ نقصانات کا سامنا ہے۔ ان نقصانات کو ادائیگی کرنے کے لئے اسے صارفین پر مستقل طور پر منتقل کرنے کے بجائے، حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے حل کو ترجیح دے جو ان بنیادی مسائل کو براہ راست نشانہ بناتے ہوں۔ روک تھام اور احتساب پر توجہ دے کر، قانون کی پابندی کرنے والے صارفین پر بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ (ایکسپریس ٹریبیون، 2022) ان مسائل کے حل کو روایتی طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، خسارہ کو بل ادا کرنے والوں تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔

    آخر کار یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کی بنیادی وجوہات کو حل کرے اور ایسے ٹھوس اقدامات پیش کرے جو صارفین پر سے واقعی بوجھ کو کم کریں۔ بامعنی اور موثر حل کے بغیر، یہ مسئلہ برقرار رہے گا، جس سے شہریوں کو حقیقی ریلیف کے بغیر انہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر ایک نگراں حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اضافے اور بے تحاشا ٹیکسوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے درمیان ملک کے داخلی معاملات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تکنیکی حل نکالنے کی کوششوں کے بجائے ٹیکسوں کی بھرمار عوام کا معاشی قتل کر رہے ہیں، ملک کا معاشی عدم استحکام برقرار ہے اور بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حالیہ برسوں میں حکومتی تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شہریوں کے لیے ایک سنگین صورتحال کا باعث بنا ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی سیاسی قیادت میں تبدیلیوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا ہے، جس میں منتخب حکومتوں کی جگہ اتحادیوں اور اب نگراں انتظامیہ نے لے لی ہے۔ بدقسمتی سے، اس سیاسی ہنگامے نے معاشی عدم استحکام میں حصہ ڈالا ہے، جس میں افراط زر کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔خاص طور پر خوراک اور توانائی جیسے ضروری شعبوں سے منسلک ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ٹیکسوں کی بھرمار سے ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے عوام پر اہم مالی بوجھ پڑا ہے۔ الیکٹرک بل، جو کہ بہت سے شہریوں کے لیے بنیادی تشویش ہے، میں سو گنا تک اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ٹیکس کا پیچیدہ نظام ہے۔

    پاکستان میں بجلی کے بلوں میں موجود یونٹس پر آنے والے بل کا تعین اس کے استعمال کے مطابق یونٹوں کی تعداد کرتی ہے۔ سو یونٹس سے کم بجلی ٹیرف میں فی یونٹ قیمت پانچ سو یونٹ والے بل سے نسبتاً کم ہو گی۔ لیکن اسی بل میں حکومت ٹیکسوں کی مد میں جو صارفین کی جیب پر ڈاکہ ڈالتی ہے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو فی یونٹ فنانسنگ کاسٹ چارج .43 پیسہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد شروع ہوتی ہے ٹیکسوں کی لمبی قطار۔ جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں دس فیصد سے لے کر پچیس فیصد تک، آمدنی ٹیکس بھی پانچ فیصد سے بیس فیصد، سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ یا ڈی ایم سی 1.86 سے آٹھ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر ای ڈی023. سے 23. فیصد ، الیکٹریسٹی ڈیوٹی 87. سے 2 فیصد، ایکسٹرا ٹیکس 3فیصد سے دس فیصد، گھریلو صارفین سے ٹی وی فیس 35 روپے، Further tax دو سے پانچ فیصد، آر ایس ٹیکس تین سے پانچ فیصد، ایف پی اے کا آر ایس ٹیکس 0.08 سے دو فیصد، ایف پی اے پر جی ایس ٹی0.3 سے 1 فیصد، ایف پی اے پر 0.05 فیصد Further tax, پراگ آئی ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ سے پندرہ فیصد، پراگ جی ایس ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ فیصد سے اٹھارہ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک فیصد سے پندرہ فیصد، ایف سی سرچارج چار سے دس فیصد، بل ایڈجسٹمنٹ پانچ سے پندرہ فیصد، ٹوٹل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو فیصد سے دس فیصد تک ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ اگر ہم ان سب ٹیکسوں کو اکٹھا کریں تو یونٹوں کے استعمال کے حساب سے ٹوٹل پچاس فیصد سے سڑسٹھ فیصد کے درمیان ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ ان کو اگر ہم مزید مختصر کریں تو ‏آسان الفاظ میں گھریلو صارفین سے 51 روپے فی یونٹ قیمت میں، ایندھن 6 روپے، 15 روپے بجلی گھر کرایہ، 16 روپے حکومت کا ٹیکس، 6.5 روپے دوسروں کو مفت یا سستا دینے کی مد میں اور آخر میں 6.5 روپے فی یونٹ بجلی چوری ہونے کا نقصان وصول کیا جاتا ہے۔ اسی شرح سے کمرشل صارف سے 66 سے اسی روپے فی یونٹ تک قیمت وصول کی جاتی ہے۔

    ماہرین کی رائے میں ان حالات پر قابو پانے کے مختلف حل ہیں۔ جن میں سے چند نقاط پیش کئے گئے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کو ہموار کرنے سے صارفین پر بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں اور محصولات کی وسیع رینج پر دوبارہ غور کرنا، اور معقولیت کے لیے اختیارات تلاش کرنا، مجموعی اخراجات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری مہنگے جیواشم ایندھن پر انحصار کو کم کر سکتی ہے، بالآخر بجلی کی قیمتوں کو روک سکتی ہے۔ اس منتقلی کے مثبت ماحولیاتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم، اس رعایتی عمل کو اچھی طرح سے ترتیب دیا جانا چاہیے اور مؤثر طریقے سے تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    معاشی بحالی کے لیے مستحکم سیاسی ماحول کا قیام بہت ضروری ہے۔ شفاف طرز حکمرانی اور پالیسیاں جو شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتی ہیں اعتماد پیدا کر سکتی ہیں اور سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہیں، جو بالآخر ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

    توانائی کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور چوری کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا لاگت کو روکنے پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سرمایہ کاری اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کے معاشی چیلنجز کثیر جہتی ہیں، جو سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، اور ٹیکس کے پیچیدہ نظام سے پیدا ہوئے ہیں۔ شہریوں پر پڑنے والا بوجھ، خاص طور پر بجلی کے بے تحاشا بلوں سے، فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس اصلاحات، توانائی کے تنوع، سبسڈی کی معقولیت، عوامی بیداری، سیاسی استحکام اور کارکردگی میں اضافہ پر مشتمل ایک جامع نقطہ نظر ضروری ہے۔ جیسے ہی قوم اس بحران سے گزر رہی ہے، پالیسی سازوں، ماہرین اقتصادیات اور شہریوں کی مشترکہ کوششیں مزید مستحکم اور خوشحال مستقبل کی جانب راہ ہموار کر سکتی ہیں

  • بجلی بلوں سے لوگوں کی چیخیں،حکمرانوں پہ لعن طعن

    بجلی بلوں سے لوگوں کی چیخیں،حکمرانوں پہ لعن طعن

    قصور
    بجلی بلوں نے لوگوں کی چیخیں نکلوا دیں،لوگوں کی طرف سے بجلی بلوں کو ادا نا کرنے کیساتھ حکمرانوں پہ لعنت طعن کا سلسہ جاری

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی بجلی کے بلوں نے غریب عوام کی چیخیں نکلوا کر رکھ دی ہیں
    دو وقت کی روٹی سے محروم عوام بجلی کے بلوں کو دیکھ کر حکمرانوں کی جان کو رو رہی ہے
    بجلی کے بلوں میں بے انتہاء ٹیکسوں اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے
    مہنگائی کے مارے لوگوں کی طرف سے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کیساتھ حکمرانوں پہ لعن طعن کا سلسلہ جاری ہے اور لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اشرافیہ کے اخراجات کم کرنے کے دعوے داروں نے ان کی عیاشیاں مذید بڑھا دی ہیں اگر حکمران مخلص ہیں تو لاکھوں روپیہ ماہانہ لینے والوں سے پیٹرول کے اخراجات اور بجلی کا بل لیا جائے اور باقی مراعات بھی ختم کی جائیں تاکہ غربت اور مہنگائی پہ قابو پایا جا سکے بصورت دیگر اگر حالات یہی رہے تو ملک خانہ جنگی کی طرف چلا جائے گا اور پھر کوئی غریب امیر کی تفریق نا ہو گی اور اصل نقصان امراء کو ہی ہو گا

  • صنعتکار بجلی نرخوں میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج

    صنعتکار بجلی نرخوں میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج

    بجلی نرخوں میں اضافہ واپس نہ لیا توصنعتیں بند کرکے چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے،فیصل معیز خان

    ایس ایم ایز کے لحاظ سے سیالکوٹ کے بعد دوسرے اور سندھ کے سب سے بڑے نارتھ کراچی صنعتی ایریا کے صنعتکاروں نے بجلی نرخوں میں حالیہ اضافے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بجلی نرخوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اورتنبیہ کی ہے کہ اگر ان کا مطالبہ نہ مانا گیا تو وہ سراپا احتجاج ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی صنعتوں کو تالے لگا دیں گے اور چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے۔

    نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خا ن نے چیف آف آرمی اسٹاف جنر ل سید عاصم منیر(نشان امتیاز ملٹری)، نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکٹر،نگراں وزیرانرجی،پاور، پیٹرولیم محمد علی اورنگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر سے اپیل کی کہ وہ صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے لیے بجلی نرخوں کو کم کرنے میں اپنا کردارادا کریں بصورت دیگر صنعتیں خاص طور پر چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (ایس ایم ایز) بند ہونے سے نہ صرف برآمدات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ بے روزگاری کا سیلاب آجائے گا جس کو قابو کر نا دشوار ہوگا۔

    صدر نکاٹی نے مزید کہا کہ دنیا میں اگر ترقی یافتہ ممالک کی کامیابیوں کا جائز ہ لیا جائے تو ایس ایم ایز کا اہم کردار نظر آئے گا مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایس ایم ایز کو بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زائد پیداواری لاگت کی وجہ سے پہلے ہی پیداواری سرگرمیاں محدود ہوگئی ہیں اور صنعتیں چلانا انتہائی دشوار ہے جبکہ ایس ایم ایز اپنے یونٹس بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ چھوٹا صنعتکار تقریباً مرگیا ہے لہٰذا بجلی نرخوں میں حالیہ اضافہ صنعتوں باالخصوص چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو برباد کردے گا کیونکہ مہنگی بجلی اور مہنگی گیس نے بڑی صنعتوں سمیت ایس ایم ایز کی پیداواری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ صورتحال اس حد تک خراب ہو گئی ہے کہ 35 فیصد ایس ایم ایز بند ہوگئی ہیں جس سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔

    فیصل معیز خان نے نگراں حکومت پر زور دیا کہ وہ کاروبار وصنعت مخالف پالیسیوں کے بجائے ایسی پالیسیاں وضع کریں جس سے کاروبارکرنے اور صنعتیں چلانے میں آسانیاں پیدا ہوں اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے باالخصوص ایس ایم ایز کے لیے خصوصی پالیسی مرتب کرتے ہوئے سبسڈی کے ساتھ خصوصی بجلی ٹیرف دیا جائے تاکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نگراں حکومت نے اگر ملک کو سنگین معاشی بحرانوں سے نکانے اورایس ایم ایز کو تباہی سے بچانے کے اقدامات نہ کیے تو ہم ایسے بھنور میں پھنس جائیں گے جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ ہو

    بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کو مشتعل کر دیا ہے

    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    مہنگائی کا نیا طوفان ,پٹرول ، ڈیزل ، بجلی کے نرخ بڑھیں گے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • پاکستان یارن مرچنٹس نے بجلی، گیس نرخوں میں بے پناہ اضافہ مسترد کردیا

    پاکستان یارن مرچنٹس نے بجلی، گیس نرخوں میں بے پناہ اضافہ مسترد کردیا

    پاکستان یارن مرچنٹس نے بجلی، گیس نرخوں میں بے پناہ اضافہ مسترد کردیا
    پاکستان یارن مرچنٹس ایسو سی ایشن (پائما) کے سینئر وائس چیئرمین سہیل نثار نے بجلی و گیس نرخوں میں بے انتہا اضافہ مسترد کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے کاروبار و صنعت کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر خان سے اپیل کی کہ ملک میں جاری سنگین معاشی بحران کے پیش نظر کاروبار کرنے اور پیداواری لاگت میں کمی کے اقدامات کیے جائیں اور بجلی، گیس کو مہنگی سے مہنگی تر کرنے کے بجائے نرخوں کو کم کیا جائے تاکہ کاروباری و پیدواری لاگت کوکم کیا جاسکے اور صنعتیں اپنی بقا قائم رکھ سکیں۔

    پائما کے سینئر وائس چیئرمین سہیل نثار نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر خان سے اپیل میں کہا کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور ڈالر کی قدر میں بے پناہ اضافے نے پہلے ہی خام مال کے درآمدکنندگان کے لیے مشکلات پیدا کی ہوئی ہے کیونکہ ڈالر کی عدم دستیابی کی وجہ سے بندرگاہوں پر درآمدی خام مال کے کنٹینز پھنس کر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے درآمدکنندگان کو بھاری ڈیمرج اور ڈیٹینشن کی مد میں خطیر نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے لہٰذا ایسی صورتحال میں بجلی و گیس نرخوں میں 400 فیصد سے زائد اضافہ کاروباری وپیداواری لاگت میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ کردے گا جس کے صنعتوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے اور ملکی برآمدات بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔

    انہوں نے حکومت سے اپیل میں کہا کہ کاروبار و صنعت کو تباہی سے بچانے اور ملکی معیشت کی دوباری بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں خاص طور پر یوٹیلیٹی چارجز میں کمی کی جائے بصورت دیگر کاروبار کرنا اور صنعتیں چلانا دشوار ہوجائے گا جس کے ملکی برآمدات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے جبکہ لاکھوں ورکرز کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    کیا حکومت نے اوگرا کی سفارش پر پٹرولیم منصوعات کی قیمتیں بڑھائیں؟ عدالت نے جواب طلب کر لیا

  • حکومت نے” کمال” کر دیا ،بجلی استعمال کئے بغیر ہی 20 ہزار کا بل،کسان پریشان

    حکومت نے” کمال” کر دیا ،بجلی استعمال کئے بغیر ہی 20 ہزار کا بل،کسان پریشان

    عوام دوست کی دعویدار حکومت نے ہی عوام کا جینا مشکل کر دیا. حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ اور ٹیکسوں کی آڑ میں کسانوں اور زمینداروں پر بجلی گرا دی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی نے صارف کوبغیر بجلی استعمال کئے ٹیوب ویل کا بل 20 ہزار روپوں سے ذائد بھیج دیا جبکہ جس ماہ کا بل بجھوایا گیا ہے اس ماہ بجلی کا ٹیوب ویل چلا ہی نہیں ،بل کی کاپی کے عکس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بل میں ایک بھی یونٹ نہیں ہے.

    بل صارف کے مطابق ٹیوب ویل کے بل پر گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی فکسڈ چارجز کی مد میں 4400 روپے وصول کرتی ہے چاہئے ٹیوب ویل چلایا جائے یا نا چلایا جائے . مگر مسلم لیگ ن کی کسان دوست حکومت نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں کسانوں کا ہی معاشی قتل شروع کر دیا ہے.صارف کے مطابق بارشوں کے باعث پورا مہینہ ٹیوب ویل نہیں چلایا گیا اور میٹر کی ریڈنگ بھی صفر ہے مگر حکومت کے حالیہ فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کے نفاز سے کوئی بھی یونٹ استعمال نا کرنے کے باوجود 15 ہزار روپوں سے ذائد کے چارجز بل میں شامل کر دیئے گئے ہیں جو کسانوں اور زمینداروں کے ساتھ سراسر ذیادتی ہے.

    بل صارف کا کہنا ہے کہ اگر بجلی استعمال کی جائے تو حکومت کی جانب سے اس پر فیول ایڈجسٹمنٹ وصول کی جانی چاہیئے مگر جب بجلی استعمال ہی نہیں کی گئی تو اس صورت میں فیول کے استعمال کا تو جواز ہی پیدا نہیں ہوتا .انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے حکومتی اقدامات کا نوٹس لیا جائے اورکسانوں اور زمینداروں کو ناجائز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیکسوں کے بوجھ سے آزاد کیا جائے تاکہ کسان اور زمیندار ملک اور قوم کی ترکی میں کھل کر اپنا حصہ ڈال سکیںآ.