Baaghi TV

Tag: بجلی چوری

  • زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ عمران خان بجلی کا بل ادا کریں تو ایک اور مقدمے سے بچ جائیں گے-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان زمان پارک گھر کے بجلی کا بل ادا کریں اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اسٹاف کو زمان پارک گھر کو چیک کرنے دیں اگر عمران خان ایک اور مقدمے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کا بجلی کا بل ادا کریں مقدمے سے بچ جائیں گے۔

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لیسکو نے زمان پارک میں تحریک انصاف کے کیمپوں میں بجلی کی مبینہ چوری پر نوٹس جاری کیا تھا لیسکو کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ عمران خان کے گھر کے باہر کیمپوں میں بجلی چوری ہورہی ہے، بجلی چوری کی نشاندہی سوشل میڈیا پر کی گئی ہے لیسکو نے جی او آر سب ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ فوری ایکشن لیا جائے زمان پارک کے اطراف میں کیمپس میں نصب فلڈ لائٹس میں بجلی چوری ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے موسلا دھار بارشوں، ژالہ باری کا امکان

    لیسکو حکام کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اسٹاف نے لیسکو عملے کو زمان پارک میں داخل نہیں ہونے دیا، زمان پارک میں قائم کیمپوں میں بجلی چوری کی جارہی ہے، لہٰذا لیسکو کے اسٹاف کو بجلی کی املاک تک جانے کی اجازت دی جائےاگر اسٹاف کو چیکنگ کی اجازت نہ دی تو لیسکو یکطرفہ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • کیا واپڈا صارفین کو بجلی چوری کرنے پر خود مجبور کرتا ہے؟

    کیا واپڈا صارفین کو بجلی چوری کرنے پر خود مجبور کرتا ہے؟

    گزشتہ دنوں کچھ گھنٹوں کیلئے بڑے شہروں میں بجلی کیا گئی تھی پورے ملک کا میڈیا اور سوشل میڈیا چیخ اٹھا لیکن کیا ان بڑے شہروں میں بسنے والوں نے ان علاقوں کے بارے میں بھی کبھی سوچا ہے جہاں کئی کئی ہفتوں تک بجلی سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے جبکہ محکمہ واپڈا کے سرکاری ملازمین بجلی صارفین کی شکایت پران کا مسئلہ حل کرنے میں ہفتے لگا دیتے ہیں کیونکہ یہ محکمہ ایک ایسا سفید ہاتھی بن چکا ہے جس کی غلطی اور بدعنوانیوں کیخلاف شائد کسی میں ہمت نہیں کہ وہ برخلاف بدعنوان افسران کوئی کاروائی عمل میں لا سکے لیکن میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ صوبائی سطح کا ایک وزیر بھی اس محکمے کے آگے بے بس ہوگا۔

    کہانی کچھ یوں ہے کہ مقامی وڈیروں کے مظالم کیخلاف لکھنے پر جب مجھ پر ان کے لوگوں نے حملے شروع کئے تو میں نے اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ روز بروز کسی نہ کسی تنازعہ کو لیکر کبھی میرے بھائیوں تو کبھی رشتہ داروں کے ساتھ لڑائی جھگڑے جبکہ سیاسی اثرورسوخ پر ناصرف مجھے پولیس سے گرفتار کروا کر شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ میرے بہت ہی قریبی رشتہ داروں کیخلاف بھی ٹھیک اسی طرح کے جھوٹے و من گھڑت الزامات لگا کر مقدمات درج کروائے گئے اور حوالات بند کروا کر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جیل ڈلوایا گیا تاکہ وہ میرے خاندان کے ساتھ غمی خوشی کا معاملہ منقطع کردیں اور میرے خاندان کو مجبور کیا جاسکے کہ میں ان کے مظالم کے خلاف بولنا بند کردوں لہذا یہ سب ہونے کے بعد میں نے سوچا کہ مجھے میرے خاندان سمیت گاؤں چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ وہ لوگ ہر لحاظ سے مجھ سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے مجھ سے جڑے لوگوں کو کوئی مزید نقصان پہنچ جائے علاوہ ازیں گاؤں چھوڑنے کی دوسری اہم وجہ ہم بہن بھائیوں کی تعلیم بھی تھی کیونکہ گاؤں میں اسکول صرف جماعت پنجم تک تھا اور اس میں بھی کئی قسم کی مشکلات تھیں جیسے کہ اساتذہ پڑھانے کیلئے بھی نہیں آتے تھے کیونکہ مقامی وڈیرے چاہتے تھے کہ یہاں کے بچے پڑھنے لکھنے نہ پائیں اور یوں سیاسی اثرورسوخ پر وہ لوگ حاضری نہ کرنے والے اساتذہ کو محکمانہ کاروائی سے بھی بچا لیتے تھے۔

    بہرحال جب ہم گاؤں چھوڑ کر شہر منتقل ہوئے تو میں نے اس وقت محکمہ واپڈا (پیسکو) کو ایک درخواست لکھی جس میں آگاہ کیا گیا تھا کہ اس تاریخ سے ہمارا گاؤں والا گھر بند ہے اور ایسا نہ ہو کہ آپ جرمانہ بھیج دیں، ناصرف تحریری طور پر محکمہ کو آگاہ کیا تھا بلکہ زبانی طور پر بھی بزات خود اپنے علاقہ کے اس وقت کے میٹر ریڈر کو بھی بتایا تھا تاکہ وہ بھی لاعلم نہ رہے۔ یہاں پر ایک بات واضح کرتا چلوں کہ اس کے باوجود کہ بجلی کئی کئی دنوں میں سے چند گھنٹوں کیلئے منہ دکھائی کی رسم پوری کرتی تھی پھر بھی پورے گاؤں کے اُن چند گھرانوں میں ہم بھی شامل تھے جنہوں نے بجلی کے میٹر لگوا رکھے ہیں اور باقاعدگی سے بل ادا کرتے رہے لیکن ہمارے گاؤں چھوڑنے کے کچھ ہی عرصہ بعد میرے والد کے نام پر لگے اس میٹر کے بل میں تقریبا بیس ہزار روپے سے زائد کا جرمانہ بھیج دیا گیا چونکہ اس وقت میری تعلیم بھی جاری تھی اور تعلیم کے ساتھ ایک جگہ پر کام بھی کررہا تھا تو مجھے اس وقت فوراََ وقت نہ مل سکا لہذا اگلے میں بل کے آتے ہی بڑی مشکل سے اپنے مالک سے چھٹی لے کر پیسکو آفس جا پہنچا جہاں ایک متعلقہ افسر صاحب کو شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ اِس ایک ماہ کے اندر جرمانہ ڈبل ہوکر چالیس ہزار روپے سے زائد ہوچکا ہے اور ہم انتہائی غریب لوگ ہیں براہ کرم یہ بغیر کسی جرم کے عائد کیا گیا ہے لہذا اس کو ختم کیا جائے جس پر موصوف نے جواب دیا کہ یہ جرمانہ بجلی استعمال نہ ہونے یعنی میٹر بند ہونے یا یونٹ کم آنے کی وجہ سے لگایا گیا ہے تاہم انہیں درخواست کی نقل پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جناب کے محمکہ کو ناصرف تحریری طور پر آگاہ کیا تھا بلکہ میٹر ریڈر کو بھی بتایا تھا کہ اب ہم شہر منتقل ہورہے ہیں لہذا آئندہ سے گھر بند ہوگا مگر یہ سب سننے کے باوجود بھی افسر صاحب نے بڑے متکبرانہ انداز میں فرمایا "اب آپ کا کچھ نہیں ہوسکتا، جائے اور بِل جمع کروائے۔”

    پڑوسی کی لگی کنڈی کی وجہ سے میٹر والے گھر پر جرمانہ دے دیا گیا۔

    واپڈا آفیسر صاحب کی یہ بات سن اور انداز محسوس کرکے مایوس ہوگیا کیونکہ میرے پاس اتنی وافر دولت تو تھی نہیں کہ بلاجواز جرمانہ ادا کر دیتا لہذا پھر میں نے اسے موجودہ بل جمع کروانے کی استدعا کی تو انہوں نے موجودہ بل جمع کرنے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ "جرمانہ سمیت مکمل بِل ادا ہوجائے گا۔” تاہم بعدازاں وقتاََ فوقتاََ جب موجودہ بِل جمع ہوجاتا تو کردیتے تھے اور نہ ہوتا تو رہنے دیتے تھے اور یوں گاؤں کے گھر کا جرمانہ بڑھتے بڑھتے اب ایک لاکھ 43 ہزار سے بھی اُوپر بڑھ گیا ہے۔

    گزشتہ سال ایک دن تحریک انصاف کے ایک سینئر صوبائی وزیر سے بات ہورہی تھی تو میں نے انہیں محکمہ واپڈا (پیسکو) سے متعلق اپنا تجربہ بتایا جس کے بعد انہوں نے واپڈا بارے جو الفاظ ادا کیئے انہیں اخلاقی طور پر یہاں تحریر کرنے سے قاصر ہوں۔ جبکہ اب کئی سال بعد شہر کے گھر جو کرایہ کا ہے کے میٹر پر بھی گزشتہ دسمبر کے بل میں 46 ہزار روپے کا جرمانہ پیسکو کی جانب سے بھیج دیا گیا ہے، جسے دیکھ کر میرے ہوش اُڑ گئے اور میں یہ سوچنے لگا کہ چلو وہ گاؤں والا میٹر تو والد کے نام پر تھا جرمانہ ادا نہیں کیا تھا لیکن یہ تو کرایہ کا گھر ہے اب اگر ادھر بھی محمکہ واپڈا نے جرمانہ ختم نہ کیا تو کیا ہوگا؟ یہی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ مالک مکان کی کال نے مزید پریشان کردیا جب انہوں نے میری پوری بات سنے بغیر بل میں جرمانہ بارے سن کر کہا بس اسے فوراََ جمع کروائیں کیونکہ میں نے تو آپ کو کلیئر بل دیا تھا۔

    اس کے بعد میں نے میٹر ریڈر کا نمبر تلاش کیا اور انہیں مسلسل تین دن لگاتار پہلے پیغامات جبکہ بعدازاں کالز کرتا رہا تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا جسکے بعد اسلام آباد سے رات کے وقت نکلا اور صبح اپنے شہر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر پیسکو دفتر جرمانے والا بل ہمراہ لے کر پہنچ گیا جہاں انہوں نے زبانی طور پر بتایا کہ آپ پر جرمانہ کنڈا یعنی بجلی چوری کرنے کی وجہ سے آیا ہے میں نے ان سے اس کا ثبوت مانگا تو انہوں نے کہا آپ کے کم یونٹ اس بجلی چوری کا ثبوت ہیں تاہم میرے ٹھوس ثبوت کے مطالبے پر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے اور ان کے پاس کوئی خاطرخواہ جواب نہ تھا جبکہ میں نے انہیں گزارش کی کہ جس بنا پر میرے خلاف جرمانہ عائد کرنے کا جواز پیش کیا جارہا ہے ایک تو اس کا آپ کے پاس ثبوت نہیں اور دوسرا کنڈے پڑوسیوں نے واضح لگائے ہوئے جن کے خلاف کاروائی کے الٹا آپ میٹر لگانے والوں پر بلاجواز جرمانے دے رہے اس کے ساتھ ثبوت کے طور انہیں تصاویر بمع ویڈیوز بھی پیش کیں اور یہ بھی کہا کہ میرے ساتھ آپ لوگ ابھی چلیں میں آپ کو دیکھا سکتا ہوں کہ ابھی بھی سرعام کنڈے لگے ہوئے ہیں لیکن افسر صاحب نے مجھے شائد ٹالنے کیلئے کہا تھا کہ آپ جاؤ ہم آئندہ بروز ہفتہ 14 جنوری کو آپ کے پاس موقع پر آکر معائنہ کریں گے جبکہ حضور والا ابھی تک نیا مہینہ فروری لگ جانے کے باوجود بھی میری شکایت پر معائنہ کرنے نہیں آئے ہیں۔

    خیال رہے حالیہ دنوں واپڈا اہلکار میرے قریبی محلہ میں کنڈا کے خلاف آپریشن کرنے آئے اور اس محلہ کی طرف جانے والی مین تاروں کو کاٹ دیا جبکہ میرے گھر کی گلی سے گزرے تو اظہر من الشمس لگے کنڈے نظرانداز کردیئے گئے اور چونکہ وہ گاڑی میں تھے تو علم ہونے پر گھر سے باہر نکلا اور انہیں رکنے کا اشارہ کیا تاکہ شکایت بارے دوبارہ آگاہ کروں اور لگے کنڈوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرواؤں مگر وہ بغیر مجھے شکایت بتانے اور بجلی چوری کی نشاندہی کروانے کا موقع دیئے چلے گئے۔ تاہم بعدازاں محلے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس دن جو پیسکو اہلکار بجلی کی تاریں کاٹ گئے تھے وہ آج دوبارہ لگا گئے ہیں کیونکہ ان کا اصل مقصد بجلی چوری کو کرنا نہیں تھا بلکہ کچھ اور تھا.

    بالآخر تنگ آکر اس مسئلہ پر متعلقہ محکمہ، وفاقی وزیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک ٹوئیٹ کی جس میں مدعا بیان کیا کہ؛ "وزیراعظم شہباز شریف صاحب! آپ نے ٹھیک فرمایا تھا کہ اس ملک میں جسکی لاٹھی اسکی بھینس ہے، میں مستقل بل ادا کرتا ہوں جبکہ میرے محلہ کی اکثریت نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں مگر شائد کنڈا کے بجائے میٹر لگوانا میرا جرم بن گیا اور پیسکو نے46529 روپے کا بل بھیج دیا جوکہ میری ماہانہ آمدن سے بھی زائد ہے۔ حالانکہ میرا سردیوں کے دوران ماہانہ بل 500 سے 1000 تک آتا رہتا ہے اور موجودہ بل تو 398 ہے لہذا اب مجھے بتایا جائے کہ میرے ساتھ یہ ظلم کیوں؟ اس سے قبل بھی میرے گاؤں والے ایک گھر جو بند ہے پر بنا کسی وجہ کے جرمانہ بھیج دیا گیا تھا جو بڑھتے بڑھتے اب ایک لاکھ سے بھی زائد ہوگیا ہے جسکی شکایت محمکہ واپڈا میں کرنے پر جواب دیا گیا کہ جرمانہ ادا کریں۔”


    اس ٹوئیٹ پر مجھے کسی متعلقہ شخص یا اہل اقتدار نے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن کچھ ٹوئیٹر صارفین نے کنڈا لگانے کا مشورہ ضرور دیا اور کچھ نے تو بنا پوری بات جانے ہی کہہ دیا کہ آپ کے بِل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بجلی چوری کرتے ہیں کیونکہ بل بہت کم ہے لہذا کم بل پر بجلی چوری کا الزام لگانے والوں کیلئے عرض ہے کہ میں اس گھر میں چند ماہ پہلے کرایہ پر مُنتقل ہوا ہوں اور اس سے قبل گھر بند تھا جسکے سبب 123 روپے تک کا بھی بل آتا رہا تھا اب چونکہ سردیاں ہیں تو بلبوں، استری اور موبائل چارج کرنے کے علاوہ کوئی دوسری چیز زیادہ استعمال ہی نہیں ہوتی جبکہ گھر میں بھی کوئی اے سی، واٹر پمپ یا زیادہ بجلی پر استعمال ہونے والی چیز ہے نہیں اور دوسرا گھر میں شمسی سسٹم موجود ہے لہذا ہماری کوشش یہ ہوتی کہ کم سے کم بجلی کا استعمال ہو تاکہ بِل کم آئے اور سب سے اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اس گھر میں بہت کم رہتے ہیں کیونکہ میں اسلام آباد میں باغی ٹی وی سے بطور نیوزایڈیٹر منسلک ہوں تو صحافتی کام کے سلسلہ میں زیادہ تر اسلام آباد میں رہنا پڑتا ہے.

    بہرحال بہت سارے لوگوں نے مجھے واپڈا سے متعلق اپنے تجربات بارے بتایا تو میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ کیا محمکہ واپڈا بذات خود بجلی چوری پر عوام کو مجبور کرتا ہے؟ تو اس کا جواب چچا رحیم (فرضی نام) نے دیا کہ جی ہاں! یہ محمکہ خود ہی عوام کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بجلی چوری کریں اور پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ یا پھر میرے ساتھ نہیں ہوا کئی لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے کیونکہ کئی بجلی صارفین نے انہی بغیر جرم کے جرمانوں کے سبب تنگ آکر بجلی کے میٹر اتار کر اب براہ راست کنڈے لگادیئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چچا رحیم نے جواب دیا کہ میں نے خود بیٹوں سے جھگڑا کرکے اپنے نام پر بجلی کا میٹر لگوایا تھا چونکہ میں اس وقت بجلی چوری کو ناصرف جرم بلکہ گناہ کبیرہ سمجھتا تھا لیکن میرے بیٹے مجھے کہتے تھے بابا میٹر نہ لگوائیں کنڈا ٹھیک لگا ہوا ہے کیونکہ کئی لوگوں نے جرمانوں کے سبب میٹر کٹوا دیئے ہیں۔ مگر میں نے ان کی ایک نہ سنی اور بجلی کا میٹر لگوا دیا جسکے کچھ سال بعد مجھے تقریبا پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ بھیجا گیا تھا جو محمکہ پیسکو میں ایک جاننے والے اہلکار کی سفارش کے بعد ختم ہونے کے بجائے آدھا ہوگیا تو قسط کروا کر جمع کرواتا رہا لیکن اُسکی مکمل ادائیگی کے کچھ ہی عرصہ بعد دوبارہ پیسکو نے 30 ہزار روپے کا جرمانہ بھیج دیا جسکے بعد میں نے میٹر اتار کر کنڈا لگا دیا اور اب سب کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ کنڈا لگا لو مگر بجلی کا میٹر کبھی بھی نہ لگوائیں۔

    آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی کے ساتھ محمکہ واپڈا یا کسی نے بھی ایسی کوئی ناانصافی کی ہے تو اس کے جواب میں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ بجلی چوری کی جائے یا غلط کام کے بدلے غیر آئینی کام کیا جائے جبکہ آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے انصاف کے تقاضے کیلئے آواز بلند کی جائے اور ایسے محکموں یا بدعنوان اور ظالم افراد کو بے نقاب کیا جائے. جبکہ میری ذاتی رائے کے مطابق افسوس ہے کہ پاکستان میں اچھے لوگوں کی قدر ہے اور نہ برے کی پکڑ لہذا یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم ان تمام مسائل کا شکار اور دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہیں لیکن جہاں تک محکمہ واپڈا کی بات ہے تو اس کی بہتری کا واحد حل صرف ور صف نجکاری ہے اور اس کی زندہ مثال پی ٹی سی ایل ہے کیونکہ اب سے پہلے اس کا بھی یہی کچھ حال تھا لیکن جب سے اس کی نجکاری ہوئی ہے اب اس میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے.

    نوٹ؛ اگر محکمہ واپڈا (پیسکو) اس پر اپنا موقف دینا چاہے تو malikramzanisra@gmail.com پر رابطہ کرسکتا ہے.

  • برطانیہ میں بجلی چوری کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ

    برطانیہ میں بجلی چوری کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ

    برطانیہ: انگلینڈ اور ویلز میں انرجی بلز بڑھنے کی وجہ سے بجلی چوری کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق نئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے سال انگلینڈ اور ویلز میں بجلی چوری کی ریکارڈ تعداد میں ریکارڈ کیا گیا بجلی کی چوری کی سزا پانچ سال تک قید ہے اگرچہ پہلے سے ہی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، نیشنل انرجی ایکشن (NEA) مہم گروپ نے کہا کہ یہ ‘خوفناک’ ہے کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان زیادہ سے زیادہ لوگ غیر قانونی طریقہ اپنا رہے ہیں-

    لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے اطراف میں دھماکے،ہرطرف آگ پھیل گئی

    ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق برطانوی پولیس کو 12 ماہ میں بجلی چوری کی 3 ہزار 600 شکایات موصول ہوئیں، بجلی چوری کی شرح میں گزشتہ سال کی نسبت 13 فیصد اضافہ ہوا ان میں سے تقریباً 1,100 جنوری اور مارچ کے درمیان ہوئے 2018-19 اور 2019-20 میں اسی مدت کے دوران ریکارڈ کی گئی تعداد سے تقریباً دوگنا ہے۔

    سٹی انرجی سیف، جو Crimestoppers کے ذریعے چلایا جاتا ہے، نے خبردار کیا کہ میٹر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ تاروں کو زیادہ گرم کرنے، املاک کو نقصان پہنچانے اور ممکنہ طور پر جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہےاس میں کہا گیا ہے کہ اس جرم کی وجہ سے توانائی کمپنیوں کو ہر سال کم از کم 440 ملین پاؤنڈز کا نقصان ہوتا ہے – اس کے بعد یہ اخراجات صارفین تک پہنچتے ہیں-

    آفجیم کے ایک ترجمان نے کہا کہ ‘کسی بھی حالت میں صارفین کو خود بجلی کے میٹر جوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے’۔

    امریکا کا شہر جہاں پولیس محکمے کو تحلیل کر دیا گیا

    لیکن این ای اے نے کہا کہ زندگی کی قیمت کا بحران لوگوں کو ‘تیزی سے مایوس کن حالات’ میں مجبور کر رہا ہے جہاں وہ توانائی کے استعمال سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں – بشمول روشنی کے بجائے موم بتیاں استعمال کرنا – یا ممکنہ طور پر بجلی کی چوری کا سہارا لینا۔

    NEA کی پالیسی اور وکالت کے ڈائریکٹر پیٹر اسمتھ نے کہا: ‘یہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، اور یہ خوفناک ہے اگر بحران گھروں کو روشن رکھنے کے لیے یہ کوشش کرنے پر مجبور کر رہا ہے’اور یہ اب ہو رہا ہے، سردیوں اور سرد موسم سے پہلے۔’

    جب سابق چانسلر رشی سنک نے مئی میں امدادی پیکج کا اعلان کیا تو این ای اے نے کہا کہ برطانیہ میں انرجی بلز گزشتہ برس ایک ہزار 409 روپے سے بڑھ کر 2 ہزار سالانہ تک جا پہنچے ہیں اس لیے بطور احتجاج اکتوبر سے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی مہم بھی چلائی جارہی ہے۔

    کہا جارہا ہے کہ رواں سال اکتوبر میں انرجی بلز میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ آئندہ برس انرجی بلز 3ہزار 358 پاؤنڈز سالانہ تک ہوجانے کی پیشگوئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی جو صارف 164 پاؤنڈز ماہانہ ادا کر رہا ہے وہ آئندہ برس تقریباً 355 پاؤنڈ ادا کرنے پر مجبور ہوگا۔

    جوبائیڈن کا نیومیکسیکو میں پاکستانیوں سمیت چارمسلمانوں کے قتل پر افسوس کا اظہار

    بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے گزشتہ روز برطانیہ کو دہائیوں کی بدترین معاشی وارننگ دے کر چونکا دیا انہوں نے کہا کہ برطانیہ 2022 کے آخر تک ایک سال کی کساد بازاری میں گر جائے گا یہ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد سے سب سے طویل اور 1990 کی دہائی میں جتنا گہرا ہے – گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے افراط زر کی شرح 13 فیصد سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔

    یوکرین میں وبائی امراض اور جنگ کے بعد خوراک، ایندھن، گیس اور متعدد دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے – جو ریکارڈ سطح کو چھو رہا ہے – لیکن کچھ ماہرین اقتصادیات نے دعویٰ کیا ہے کہ BofE کساد بازاری کی طرف برطانیہ کے کیریئر کے طور پر کام کرنے میں بہت سست رہا ہے۔

    اسمتھ نے مزید کہا: ‘اس خلا کو ختم کرنے کے لیے مزید مدد کی اشد ضرورت ہے اور اس موسم سرما میں خود کو گرم اور محفوظ رکھنے میں سب سے زیادہ کمزور لوگوں کی مدد کی جائے گی

    سخت گرمی: جاپانی عوام پالتو جانوروں کو پنکھوں والے لباس پہنانے لگے

    دونوں ممالک میں، گزشتہ سال بند کیے گئے بجلی چوری کے 57% کیسز میں کسی مشتبہ کی شناخت نہیں ہوئی، جب کہ 30% کو واضح مشکلات کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا اور 7% کو چارج یا سمن کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

    حکومت نے کہا کہ وہ گھرانوں کی زندگی گزارنے کے اخراجات میں مدد کے لیے 37 بلین پاؤنڈز فراہم کر رہی ہے۔

    حکومت کے ترجمان نے کہا: ‘ہم جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے پرعزم ہیں، بشمول بجلی کی مجرمانہ چوری، جس سے لوگوں کو شدید چوٹیں پہنچتی ہیں اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے۔’

  • بجلی چوروں کی سزا پورے علاقے کو دینا بنیادی حقوق کے خلاف ہے

    بجلی چوروں کی سزا پورے علاقے کو دینا بنیادی حقوق کے خلاف ہے

    بجلی چوروں کی سزا پورے علاقے کو دینا بنیادی حقوق کے خلاف ہے

    اسلام آباد،سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی توانائی کمیٹی کا اجلاس ہوا

    سینیٹر بہرہ مند تنگی کی جانب سے بجلی پیداوار، تقسیم و ترسیل ترمیمی بل 2021 پیش کیا گیا،سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ کنڈہ کلچر کو ختم کر کے میٹرایزیشن کرنی چاہیے، جو بل دے اسکو بجلی دینے چاہیے جو بل نہ دے اسکی بجلی کاٹنی چاہیے، سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ یہ اچھا بل ہے جو شخص بل دیتا ہے اسکی بجلی نہیں کٹنی چاہیے،سیکرٹری توانائی نے کہا کہ تمام گھروں میں اے ایم آئی میٹرز کے بغیر ایسا کرنا بہت مشکل ہے، ہم فیڈر پر لاسز کے حساب سے دیکھتے ہیں کہ کہاں بجلی چوری ہو رہی ہے،

    سینیٹر سیف اللہ نیازی نے کہا کہ زیادہ بجلی چوری والے علاقوں میں اے ایم آئی میٹرز لگانے چاہیے،حکام وزارت قانون نے کہا کہ بجلی چوروں کی سزا پورے علاقے کو دینا بنیادی حقوق کے خلاف ہے، وزارت قانون کے نزدیک یہ بل بہت اچھا ہے،شبلی فراز نے کہا کہ جس قانون پر عمل ہی نہ ہو سکے اس کا ہونا ٹھیک نہیں، میں بل کے حق میں ہوں لیکن منسٹری کا کہنا ہے کہ اس پر عمل ممکن نہیں، بہرہ مند تنگی نے کہا کہ اگر قانون پر عمل نہیں ہو سکتا تو کیا ہم قانون سازی کرنی چھوڑ دیں ؟ بجلی کاٹنا ایک آسان طریقہ ہے اس لیے یہ لا زم کیا جاتا ہے، بجلی نہ دینے والوں کو بات چیت کے ذریعے بل دینے پر آمادہ کیا جائے، کمیٹی نے وزارت توانائی کو بل پر تکنیکی مشاورت کی ہدایت کر دی،

    70 آدمیوں کے جلنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، چیف جسٹس کا شیخ رشید سے مکالمہ کہا آپ کو تو استعفیٰ دینا چاہئے تھا

    شیخ رشید نے عدالت سے مانگی مہلت،چیف جسٹس نے کہا لوگ آپکی باتیں سنتے ہیں لیکن ادارہ نااہل

    اسد عمر حاضر ہو، شیخ رشید کے بعد سپریم کورٹ نے اسد عمر کو بھی طلب کر لی

    شہباز شریف لندن کیا بھول آئے؟ دوبارہ لندن جانے کی اجازت ملے گی؟ شیخ رشید کا بڑا دعویٰ

    چھوٹی عید پر قربانی نہیں بلکہ گرفتاریاں ہوں گی،کس کس کی؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف ایٹمی دھماکے کے مخالف تھے،میں ایٹمی دھماکوں کیلئے کس کو ملا تھا، شیخ رشید نے بتا دیا

  • واپڈا کا بجلی چوروں کے خلاف سخت ایکشن

    واپڈا کا بجلی چوروں کے خلاف سخت ایکشن

    قصور
    کنگن پور میں ایس سی واپڈا قصور اور ایکسین چونیاں کی ہدایت پر کنگن پور میں بجلی چوروں کے خلاف گرینڈ آپریشن

    تفصیلات کے مطابق کنگن پور اور اس کے گردونواح میں بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے درجنوں بوگس میٹر ایل ٹی تاریں اور 7 ٹرانسفارمر واپڈا نے اپنے قبضہ میں لے لیے ہیں یہ گرینڈ آپریشن SDO واپڈا نعیم عباس اور SDO واپڈا عبدالرشید غازی کی سربراہی میں کیا گیا اس گرینڈ آپریشن میں بجلی چوروں کے خلاف ہیوی مشینری کا استعمال کیا گیا
    اس پر SDO کنگن پور نعیم عباس کا کہنا تھا کہ جو افراد بجلی چوری میں ملوث پائے گئے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

  • بجلی چور پریشان

    بجلی چور پریشان

    قصور
    بجلی چوروں کے گرد گھیرا تنگ
    تفصیلات کے مطابق لیسکو سب ڈویژن کھڈیاں خاص نے ایس ڈی او محمد آفتاب کے زیر قیادت چھاپہ مار کاروائی کرتے ہوئے 32 بجلی چوروں کو رنگے ہاتھوں بجلی چوری کرتے ہوئے دھر لیا یہ کاروائی چاہ فتح والا، ویرم ہٹھاڑ، جودھ سنگھ والا میں کی گئی پولیس نے ایس ڈی او کی مدعیت میں بجلی چوروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کر دی