Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے،شرجیل میمن

    کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پانچ ایم جی ڈی پلانٹس کے منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے-

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک ٹریلین روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں یہ بجٹ عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے وژن کی عکاسی کرتا ہےسندھ حکومت نے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز حیدرآباد اور بینظیرآباد کے لیے سات، سات ارب روپے کے ترقیاتی پیکیجز مختص کیے ہیں تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    سینئر وزیر نے کورنگی کازوے کی تعمیر اور شاہراہِ بھٹو کی توسیع کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور شہری آمدورفت کی سہولت کے لیے یہ منصوبے اہمیت کے حامل ہیں کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پانچ ایم جی ڈی پلانٹس کے منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے، جن سے شہر کے پانی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

  • آزاد کشمیر کا 3 کھرب 10 ارب سے زائد کا بجٹ پیش

    آزاد کشمیر کا 3 کھرب 10 ارب سے زائد کا بجٹ پیش

    آزادکشمیر حکومت کی جانب سے مالی سال 26-2025 کے لیے تین کھرب 10 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے جو گزشتہ سال کی نسبت 30 فیصد زیادہ ہے۔

    حکام کے مطابق مجوزہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 49 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 261 ارب روپے رکھا گیا ہے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاق کے برابر اضافے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے،سرکاری ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا یہ بجٹ آزادکشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ تصور کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان نے ایوان کے دروازے بند کر کے احتجاج کیا اور دھرنا دیا جس کی وجہ سے حکومتی اراکین ایوان میں داخل نہ ہو سکے اور اجلاس تاخیر کا شکار ہوا۔

    اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قواعد انضباط کار معطل کر کے آج ہی بجٹ منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وہ بھرپور مخالفت کرتے ہیں،وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ایوان کے اندر آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں، انہوں نے اپوزیشن کے اقدام کو غیر قانونی اور غیر پارلیمانی قرار دیا۔

  • بلوچستان کابجٹ آج پیش کیا جائے گا، تنخواہوں میں اضافے کا امکان

    بلوچستان کابجٹ آج پیش کیا جائے گا، تنخواہوں میں اضافے کا امکان

    بلوچستان حکومت آج آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا اعلان کرے گی۔

    صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے بجٹ کا مجموعی حجم ایک ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے، جبکہ یہ بجٹ چالیس ارب روپے سرپلس ہوگا۔

    حکام کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی اخراجات کی مد میں 245 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 642 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ تعلیم کے شعبے میں 125 ارب اور صحت کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے صحت، تعلیم اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے اضافی طور پر 30 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔

    پاکستان اور چین کے درمیان 5 سالہ ٹیکنالوجی و مہارت کا تاریخی معاہدہ

    صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے بھی 97 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی محاصل سے بلوچستا ن کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 743 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 70 ارب روپے زیادہ ہے یہ رقم قا بل تقسیم محاصل اور گیس سمیت دیگر قدرتی وسائل سے براہ راست منتقلیوں پر مشتمل ہوگی، صوبائی ٹیکسوں اور نان ٹیکس آمدن کی مد میں بلوچستان کو 150 ارب روپے سے زائد حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق اضافہ کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ رولز میں تبدیلیوں پر شدید تحفظات،جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

  • پنجاب کابینہ سے منظوری کے بعد پنجاب کا ٹیکس فری بجٹ اسمبلی میں پیش

    پنجاب کابینہ سے منظوری کے بعد پنجاب کا ٹیکس فری بجٹ اسمبلی میں پیش

    پنجاب کابینہ نے مالی سال 26-2025 کے لیے 5535 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں بجٹ الاوکیشن کی منظوری دی گئی، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی، مزدور کی کم از کم اجرت کو بڑھا کر 40 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا،کابینہ سے منظوری کے بعد پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں اجلاس کے دوران اسپیشلائزڈ میڈیکل انسٹیٹیوشنز پنجاب 2025 بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، جب کہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے عوامی آگاہی اور معلومات کی فراہمی پنجاب 2025 بل ایوان میں پیش کیا، جس پر اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان نے ترامیم کی تجاویز دی۔

    اسمبلی میں بلوں کی مرحلہ وار منظوری پر اپوزیشن نے سخت اعتراض کیارکن اسمبلی اعجاز شفیع ڈوگر نے کہا کہ بلز پاس کرانے کی ایسی کیا جلدی ہے؟ حکومت کو کس چیز کا خوف ہے؟ قیدی نمبر 804 تو جیل میں بیٹھا ہے، یہاں ایک ہی وقت میں تین تین، چار چار بل منظور کیے جا رہے ہیں، اپوزیشن کے اعتراضات پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دور کے منصوبے بھی ہم مکمل کر رہے ہیں، آپ سالوں میں کام کرتے تھے، ہم مہینوں میں کر رہے ہیں۔ یہ قوم کا وقت ہے، اسے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

    پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر پیش کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی امور پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے اور قوم کو تاریخی کامیابی دلائی ہے۔ وزیر خزانہ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

    انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی مخالفت کرتے ہیں اور ایران میں شہادتوں اور نقصانات پر دلی افسوس ہے انہوں نے اسرائیلی دہشتگردی کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

    بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کی اور پوری قوم کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو نظام مفلوج تھا، اب پنجاب میں دن رات ترقی ہو رہی ہے سڑکیں بن رہی ہیں، اسپتال اور اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز پنجاب کی ترقی کے لیے بھرپور کام کر رہی ہیں، غربت کے خاتمے اور نوجوانوں کی فلاح کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق پنجاب میں طلبہ کو لیپ ٹاپ دئیے جا رہے ہیں، بچوں کو معیاری تعلیم دی جا رہی ہے اور نوجوانوں کے لیے ترقی کے راستے کھول دیے گئے ہیں موجودہ بجٹ عوامی خدمت کا بجٹ ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ترقی کے سفر کو مزید آگے بڑھائیں گے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کریں گے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ وزیرخزانہ پنجاب نے کہا ہے کہ صوبے کا مجموعی بجٹ 5335 ارب روپے پر مشتمل ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 47 فیصد کا تاریخی اضافہ کیا گیا ہےاب تک 50 ہزار طلبا کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جا چکے ہیں اور 10 ارب روپے سے ’’وزیراعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم‘‘ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ پنجاب بھر کے 3,500 سے زائد سرکاری اسکولوں میں بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    صحت کے شعبے میں نمایاں اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور میں نواز شریف کینسر اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بھی زیر تعمیر ہے انہوں نے انکشاف کیا کہ موٹرویز پر ایمرجنسی ایمبولینس سروسز متعارف کرائی جا رہی ہیں اور پنجاب میں اب تک 20 ہزار مریضوں کو ڈائلیسز کی مفت سہولیات فراہم کی گئی ہیں، صحت کے لیے مجموعی طور پر 631 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں ترقیاتی مد میں 181 ارب روپے اور غیرترقیاتی اخراجات کے لیے 450 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں-

    وزیر خزانہ کے مطابق نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لیے 2.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دو بڑے منصوبے—ہیلتھ کلینک پروگرام اور کمیونٹی ہیلتھ پروگرام—کے لیے بالترتیب 9 ارب اور 12.6 ارب روپے رکھے گئے ہیں ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس پر 85.5 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے-

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ تعلیم کے میدان میں اسکولوں کو بنیادی سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے 5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بجٹ میں عوامی مفاد کے منصوبوں اور فلاحی پروگرامز کو ترجیح دی گئی ہے لاہور میں 67 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید آٹنرم اسکول کا آغاز ہو چکا ہے، جو تعلیمی میدان میں ایک انقلابی قدم ہے وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صوبے میں گورننس کی رفتار اور معیار یکسر تبدیل ہو چکا ہے، اور ان کی قیادت میں صرف ایک سال کے دوران 6,104 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جو پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے حکومت غریب عوام کے لیے اپنی چھت، طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اور اسکولوں میں بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ خوراک و دودھ کی فراہمی جیسے انقلابی اقدامات کر رہی ہے۔

    بجٹ دستاویز کے مطابق محکمہ تعلیم کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 661 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 127 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں ہونہار طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی مد میں 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ 4.5 ارب روپے سے طلبہ کو وظائف دیے جائیں گےلیپ ٹاپ اسکیم کے تحت پنجاب بھر کے 112,000 طلبہ کو لیپ ٹاپ دیے جائیں گے تاکہ تعلیمی میدان میں ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جا سکیں انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبے میں عوام کو مفت ادویات کی فراہمی کے لیے بھی خطیر رقم رکھی گئی ہے، جس سے لاکھوں مریضوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

    ابہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ مکمل شفافیت اور منصفانہ تقسیم کے اصولوں کے تحت ترتیب دیا گیا ہے، جس کا محور صرف اور صرف عوامی فلاح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر کے 3500 سے زائد سرکاری اسکولوں میں بچوں کی غذائی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے، جب کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں پر بجٹ میں ریکارڈ فنڈز مختص کیے گئے ہیں ہم نے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دیا جا رہا ہے اور 50 ہزار سے زائد طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جا چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی وژنری قیادت میں صوبہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

    پنجاب حکومت کے بجٹ 2025-26 کی سرکاری دستاویزات کے مطابق مختلف شعبہ جات کے لیے بجٹ میں نمایاں اور ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں بنیادی سہولیات اور سروسز کا معیار بہتر بنانا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق پنجاب میں تعلیم کے شعبے کے بجٹ میں 127 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی بجٹ میں 41 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    پولیس کے بجٹ میں حیران کن طور پر 132 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد امن و امان کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

    زرعی شعبے کے بجٹ میں 24 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسانوں کو سہولیات، سبسڈی اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو اور زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

    ٹرانسپورٹ کے شعبے کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے، جہاں بجٹ میں 359 فیصد کا زبردست اضافہ کیا گیا ہے۔

    ماحولیات کے تحفظ کے لیے بھی بجٹ میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    بجٹ میں عوامی ریلیف، ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کو نمایاں ترجیح دی گئی ہے بجٹ دستاویزات کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 1240 ارب روپے رکھا گیا ہے، جو صوبے کی تاریخ کا ایک بڑا ترقیاتی پیکج قرار دیا جا رہا ہے۔

    وفاقی محاصل سے پنجاب کو 4062.2 ارب روپے کی منتقلی متوقع ہے جبکہ صوبائی سطح پر محاصل کا ہدف 828.1 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ میں ٹارگٹڈ سبسڈیز کے لیے 72.27 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ مستحق طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں تعلیم کے لیے 811.8 ارب روپے، صحت کے لیے 630.5 ارب روپے، اور امن و امان کے لیے 299.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے 411.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    زراعت کے شعبے کے لیے 129.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ تنخواہوں کی مد میں 630 ارب اور پنشن ادائیگیوں کے لیے 462 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو 340 ارب روپے کا ہدف دیا گیا ہے، بورڈ آف ریونیو کا ہدف 135.5 ارب جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا ہدف 70 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کے لیے 97.9 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 79.5 ارب روپے اور رمضان پیکج کے لیے 35 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب

    صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے پیش کردہ بجٹ کو ملک کی تاریخ کا لاثانی بجٹ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عوامی خدمت کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ یہ زیرو ٹیکس بجٹ ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ دیا جا رہا ہے پائی پائی عوام کی امانت ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں مریم نواز شریف نے فنانشل ڈسپلن، ای ٹینڈرنگ اور گڈگورننس کی وجہ سے اسکینڈل فری ترقیاتی عمل کو حکومت پنجاب کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

    وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ 700 سڑکوں کی تعمیر و توسیع پر کام جاری ہے، جس سے 12 ہزار کلومیٹر سڑکوں کا نیٹ ورک مکمل ہوگا۔ تعلیم و صحت کے شعبوں میں بجٹ کی موجودہ سطح کو تاریخ کا سب سے بڑا اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فری میڈیسن ہر اسپتال میں فراہم کی جائے گی جب کہ اسکولوں میں تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔

    انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں 94 نئے ترقیاتی پروگرامز اور 100 منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جو ماضی میں کسی حکومت نے نہیں دیے۔ پچھلا بجٹ بھی ریکارڈ تھا، لیکن اب ہم اپنے ہی ریکارڈ توڑ رہے ہیں پنجاب میں 40 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر 40 سال میں نہ ہو سکی، لیکن ان کی حکومت مختصر وقت میں یہ ہدف حاصل کرے گی،عید کے موقع پر پورے صوبے میں صفائی کے ریکارڈ قائم کیے گئے، افسران خود سڑکوں پر نکلے، عوامی خدمت کو مشن سمجھ کر کام کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ٹیکس بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے گی جب کہ سرکاری ملازمین کو کارکردگی کی بنیاد پر ایڈیشنل پرفارمنس بونس دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے مزدور کی کم از کم اجرت 40 ہزار مقرر کر دی گئی ہے اور اجرتوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے گاانہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتے ہوئے بھی حکومت نے 740 ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش کیا جب کہ مقامی قرضوں کی شرح میں 94 فیصد کمی آئی ہے۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ تمام اعداد و شمار خود زبانی یاد ہیں اور صوبائی اسمبلی میں مکمل شفافیت کے ساتھ فنڈز کے استعمال کی تفصیل پیش کی جائے گی انہوں نے چیف سیکرٹری، وزیر خزانہ، وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ مریم اورنگزیب اور تمام ٹیم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا کہاکہ اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت اور عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے کامیابی صرف نیت اور محنت سے حاصل ہوتی ہے، اور ہم یہ سفر جاری رکھیں گے۔

    پنجاب بجٹ 2025-26 کے اہم نکات
    کل بجٹ کا حجم: 5335 ارب روپے
    ترقیاتی بجٹ: 1240 ارب روپے
    وفاقی محاصل سے آمدن: 4062.2 ارب روپے
    صوبائی محاصل کا ہدف: 828.1 ارب روپے
    ٹارگٹڈ سبسڈیز: 72.27 ارب روپے
    تنخواہوں میں اضافہ: 10 فیصد
    پنشن میں اضافہ: 5 فیصد
    تعلیم کے لیے مختص: 811.8 ارب روپے
    صحت کے لیے مختص: 630.5 ارب روپے
    بلدیاتی اداروں کے لیے: 411.1 ارب روپے
    امن و امان کے لیے: 299.3 ارب روپے
    زراعت کے لیے: 129.8 ارب روپے
    تنخواہوں کی مد میں: 630 ارب روپے
    پنشن ادائیگیوں کے لیے: 462 ارب روپے
    پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف: 340 ارب روپے
    بورڈ آف ریونیو کا ہدف: 135.5 ارب روپے
    ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا ہدف: 70 ارب روپے
    مائنز اینڈ منرلز کا ہدف: 97.9 ارب روپے
    مفت ادویات کے لیے مختص: 79.5 ارب روپے
    رمضان پیکج کے لیے مختص: 35 ارب روپے
    پنجاب کابینہ نے مالی سال 26-202

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقت کی کمی کے باعث مجموعی طور پر پیش کیے گئے سات میں سے پانچ بلز کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اجلاس میں حکومت نے قانون سازی کے متعدد اہم نکات پیش کیے، جن پر مختصر بحث کے بعد ایوان نے منظوری دے دی۔

    اسمبلی نے متفقہ طور پر ”سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم پنجاب بل“ کو منظور کیا، جس کا مقصد پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے تحقیقی اور تربیتی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ تحفظِ صارف پنجاب 2025 کا مسودہ قانون بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، جس کے تحت صوبے میں صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر نظام تشکیل دیا جائے گا۔

    مزید برآں، بوائلرز اینڈ پریشر ویسلز ایکٹ 2025 کو بھی ایوان نے اکثریتی رائے سے منظور کیا۔ اس قانون کا مقصد صنعتی حفاظتی معیارات کو بہتر بنانا اور انسانی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    اجلاس میں پیش کیا گیا ”سپیشلائزڈ میڈیکل انسٹیٹیوشنز پنجاب بل“ بھی منظوری پا گیا، جس کے تحت خصوصی طبی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر علاج کی سہولیات میسر آسکیں۔

    پانچویں منظور شدہ قانون ”آگاہی اور معلومات کی فراہمی 2025 بل“ تھا، جو سرکاری اداروں سے معلومات کے حصول میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔

  • پنجاب کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا

    پنجاب کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا

    لاہور: وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان کل مالی سال 2025-26 کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کریں گے۔

    اس سے قبل پنجاب کابینہ سے خصوصی اجلاس میں بجٹ کی منظوری لی جائے گی، وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا ہے کہ پنجاب کا آئندہ بجٹ بھی عوام دوست اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے ترقیاتی ویژن کا آ ئینہ دار ہوگا بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، پہلے سے لاگو ٹیکسز کی وصولیوں کو یقینی بنایا جائے گا وسائل میں اضافے کے لیے صوبائی اثاثوں کا موثر استعمال پنجاب حکومت کی ترجیحی پالیسی ہوگی، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے کامیاب منصو بے جاری رکھے جائیں گے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ بجٹ میں خواتین، بچوں معذور افراد، محنت کشوں سمیت تمام طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے تکنیکی و مالی معاونت مہیا کی جائے گی، کسان کارڈ کو مزید موثر بنایا جائے گا آئندہ مالی سال کا بجٹ معاشی ترقی، شفافیت اور سماجی تحفظ کے اصولوں پر مبنی ہوگا، بجٹ میں ترقیاتی کاموں کو ترجیح دی جائے گی، پسماندہ اضلاع خصوصاََ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    بھارت اور اسرائیل پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرانے میں ناکام رہے،خواجہ آصف

    عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین سے سفارتخانہ رابطے میں ہے،اسحاق ڈار

    اسرائیلی فوج نے ایران کے ’ایٹمی پروگرام کے ہیڈکوارٹر‘ پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

  • خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش،ماہانہ اجرت ،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

    خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش،ماہانہ اجرت ،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

    پشاور:کے پی حکومت نے مالی سال 2025-26ء کے لیے 2119 ارب روپے کا سرپلس بجٹ اسمبلی میں پیش کردیا، سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 547 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    کے پی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم کی زیر صدارت شروع ہوا، اجلاس میں وزیر قانون بابر سلیم نے بجٹ پیش کیا،بجٹ دستاویز کے مطابق بجٹ کا حجم 2119 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں سالانہ کل اخراجات کا تخمینہ 1962 ارب روپے لگایا گیا ہے، بجٹ 157 ارب روپے سر پلس رکھا گیا ہیں، سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 547 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔

    کے پی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پینشن میں سات فیصد اضافہ تجویزکیا ہے۔ ایگزیکٹو الاوئنس نہ لینے والے ملازمین کا ڈسپیرٹی الاوئنس 15 سے 20فیصد بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے،نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت اعلان کے مطابق صوبے بھر میں کم سے کم ماہانہ اجرت 36ہزار سے بڑھا کر 40ہزار روپے کردی گئی ہے۔

    اسرائیلی حملے سے قبل ایران میں موساد کمانڈوز کی کارروائیاں سامنے آگئیں،ویڈیوز

    بجٹ دستاویز کے مطابق ایم ایف سی کے تحت صوبے کو 267ارب روپے کمی کا سامنا ہے،بجلی خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمہ 71ارب روپے کے بقایا جات ہے،آئل و گیس کی مد میں وفاق کے ذمہ 58 ارب روپے واجب الاد ہے، بیرونی امداد گرانٹس کی مد میں صوبے کو 177ارب روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    دستاویز کے مطابق بجٹ میں تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے 1415ارب روپے رکھے گئے ہیں، بندوبستی اضلاع کے اخراجات جاریہ کے لیے 1255 ارب، قبائلی اضلاع کے لیے 160 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، نئے سال میں محصولات کا تخمینہ 129 ارب روپے لگایا گیا ہے، رہائشی اور کمرشل پراپرٹی الاٹمنٹ ٹرانسفر اور اسٹاپ ڈیوٹی دو فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کردی گئی۔

    4.9 مرلہ رہائشی کمرشل پراپرٹی پر ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے، ہوٹل بیڈ ٹیکس کو 10فیصد سے کم کر کے 7فیصد کرنے کی تجویز ہے، 36ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے افراد پر پرفیشل ٹیکس ختم کرنے کی تجویز، الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس، ٹوکن ٹیکس معاف کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    اسرائیلی حملہ، ایران میں انتقام کی علامت ’سرخ پرچم‘ لہرا دیا گیا

    قبل ازیں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پہنچے تو ارکان نے تالیاں بجاکر استقبال کیا، اپوزیشن ارکان علی بابا چالیس چور کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے انہوں نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر صاف چلی شفاف چلی کرپشن سرعام چلی کے نعرے درج تھے جواب میں حکومتی ارکان نے بھی نعرے بازی کی، حکومتی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے ن لیگ کی صوبیہ شاہد اپنے ساتھ بگل بھی لے کر آئیں اور اسے بجاتی رہیں، اپوزیشن نے ایوان میں شدید نعرے بازی بھی کی۔

    اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کو مداخلت کی درخواست کی جس پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے تمام اراکین کو بٹھادیا، خیبرپختونخوا اسمبلی کے ایوان میں ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا گیا۔

    وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان میں بجٹ پیش کیا اور کہا کہ جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے منصب سنبھالا تو معاشی بالکل حالات خراب تھے، بجٹ میں 90ارب روپے کم موصول ہوئے لیکن اس کے باوجود حکومت نے ایک مثالی بجٹ پیش کیا، رواں مالی سال کے دوران صوبائی حکومت نے اپنے واجب الادا قرضوں میں سے مجموعی طور پر 49ارب روپے کی ادائیگی کی جس میں 18ارب روپے کا مارک اپ شامل ہے۔

    اسرائیلی حملے سے قبل ایران میں موساد کمانڈوز کی کارروائیاں سامنے آگئیں،ویڈیوز

    انہوں ںے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے، رواں مالی سال پولیس فورس کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جس کا مقصد پولیس کو جدید اسلحہ مشینری حفاظتی آلات اور دیگر ضروری سامان فراہم کرتا ہے، صحت کارڈ کی بحالی ایک بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے،رواں سال بندوبستی اضلاع کے لئے 120ارب روپے رکھے گئے ہیں تاہم اب بہتر مالیاتی نظم ونسق کے تحت 30فیصد اضافہ کردیا اے ڈی پی پلس کے تحت اسے بٹھاکر 155ارب کردیا گیا ہے یہ اضافی 35 ارب روپےہے ایم منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے میں خرچ ہوئے۔

  • آئی ٹی ایکسپورٹ کو  25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ

    آئی ٹی ایکسپورٹ کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کا شعبہ اپنی برآمدی صلاحیت کے باعث ملکی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکا ہے، اور حکومت نے آئندہ پانچ سالوں میں آئی ٹی ایکسپورٹ کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس اور سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس 2024 اور آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس میں پاکستان کی بہتر ہوتی رینکنگ ملکی آئی ٹی شعبے کی ترقی کا واضح ثبوت ہے۔

    وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں آئی سی ٹی برآمدات 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21.2 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئندہ مالی سال بھی اس شعبے کی ترقی جاری رکھی جائے گی۔

    تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ٹیکس ریلیف کا اعلان

    بجٹ میں دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کیے گئے

    صحت کے 21 منصوبوں کی تکمیل کے لیے 14.3 ارب روپے کی رقم مختص

    سستی بجلی کے لیے 9 ہزار میگا واٹ بجلی گھروں کے معاہدے ختم

    پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 2.50 روپے کاربن لیوی عائد کرنے کا اعلان

  • بجٹ میں دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کیے گئے

    بجٹ میں دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کیے گئے

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں اعلان کیا ہے کہ ملکی دفاع حکومت کی سب سے اہم ترجیح ہے اور اس کے لیے 2,550 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    محمد اورنگزیب نے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی سیاسی قیادت، افواجِ پاکستان اور عوام کی جواں مردی، دانشمندی اور یکجہتی کو تاریخی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ایک شاندار عسکری فتح کے ساتھ قومی وقار اور غیرت کا بھی مظہر ہے۔انہوں نے بتایا کہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 971 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو مبارک باد دی اور کہا کہ ہماری افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، شجاعت اور قربانی سے دشمن کو مؤثر جواب دیا، جس نے سرحدوں کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بڑھایا۔

    انہوں نے اس کامیابی کو قوم کی متحدہ قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ہر مشکل میں متحد رہتے ہیں اور وطن کی حفاظت کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔

    سستی بجلی کے لیے 9 ہزار میگا واٹ بجلی گھروں کے معاہدے ختم

    پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 2.50 روپے کاربن لیوی عائد کرنے کا اعلان

    وفاقی حکومت نے 2025-26 کا 17.5 کھرب روپے کا بجٹ پیش کردیا

  • حکومت سندھ کا نئے مالی سال کا بجٹ 13 جون کو پیش کرنے کا اعلان

    حکومت سندھ کا نئے مالی سال کا بجٹ 13 جون کو پیش کرنے کا اعلان

    حکومت سندھ کی جانب سے 13 جون کو سندھ اسمبلی میں نئے مالی سال 2025-26ء کا بجٹ پیش کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق 57 صوبائی محکموں اور خودمختار اداروں کا ترقیاتی بجٹ 600 ارب روپے کا ہوگا ڈیولپمنٹ کمیٹی نے منظوری دے دی گئی ہےصوبائی وزیر منصوبہ بندی وترقیات ناصر شاہ کی صدارت میں تین روزہ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دیدی گئی ہےمحکمہ زراعت کا 13 ارب روپے ، اسکول ایجوکیشن کا 8 ارب روپے ، جنگلات کا 4 ارب روپے، جبکہ محکمہ صحت کا 51 ارب روپے تجویز کردیا گیا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق صنعت کا 4 ارب روپے ، آبپاشی کا 96 ارب روپے ، بلدیات کا 13 ارب روپے ، منصوبہ بندی کا 16 ارب روپے تجویز کردیا گیا ہے، محکمہ سروسز کا 14 ارب ، ٹرانسپورٹ کا 57 ارب روپے ، ورکس اینڈ سروسز کا ایک کھرب 39 ارب روپے بجٹ تجویز کردیا گیاہےمحکمہ سوشل پروٹیکشن کا 12 ارب روپے ، محکمہ داخلہ کا 11 ارب روپے ، توانائی کے 9 ارب روپے، محکمہ خزانہ کا 8 ارب روپے رکھنے کی تجویز کردی گئی، محکمہ خوراک کا 41 کروڑ روپے، انسانی حقوق 13 کروڑ روپے ، محکمہ اطلاعات کا 27 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز کردیا گیا۔

    وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کی منظوری دیدی

    ائیر فرانس نے پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال شروع کردیا

    ارشد ندیم کے نام پر ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ

  • بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    تنخواہ دارطبقے کیلئے اچھی خبر،بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز ہے-

    ذرائع کےمطابق انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترمیم زیر غورہے، سالانہ ٹیکس فری آمدن کی حد 6 لاکھ سے بڑھائی جا سکتی ہے، ماہانہ 83 ہزار روپے تنخواہ تک ٹیکس فری کرنے کی تجویز،ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 5 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد ہونے کا امکان ہے-

    ایک لاکھ 83 ہزار روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس 15 سے کم ہوکر 12.5 فیصد کرنے کی تجویز، دو لاکھ 67 ہزار ماہانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس 25 کے بجائے 22.5 فیصد ہو سکتا ہے، ذرائع کےمطابق تین لاکھ 33 ہزار روپے تک تنخواہ پر ٹیکس 30 کے بجائے 27.5 فیصد ہو سکتا ہے،تین لاکھ 33 ہزار سے زائد تنخواہ پر ٹیکس 32.5 فیصد ہو سکتا ہے،اس پرحتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی