Baaghi TV

Tag: بجٹ اجلاس

  • گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

    گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار کر دیا۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری ملی ہے، جسے دیکھ رہا ہوں، آئین کے مطابق 14 روز تک سمری پر دستخط کرنے کا پابند ہوں، سمری پر آج ہی دستخط کرنے کا پابند نہیں ہوں، کسی کا پابند نہیں کہ ہر صورت سمری پر دستخط آج ہی کروں۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یا کسی اور کی دھمکیوں اور دباؤ میں آکر کبھی سمری پر دستخط نہیں کروں گا، ریاست پر حملے کرنے والے انتشاری ٹولے سے ڈرنے والا نہیں،خیبرپختونخوا میں کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں کی دھمکیوں سے کوئی ڈر نہیں، وزیر اعلیٰ اپنی گیڈر بھبکیوں سے باز آجائیں۔

    بھارتی حکمران جماعت بی جے پی دھڑوں میں تقسیم

    اسرائیلی حملے میں جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، تصدیق ہو گئی

    سینیٹ میں اسرائیلی حملے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • سستی بجلی کے لیے 9 ہزار میگا واٹ بجلی گھروں کے معاہدے ختم

    سستی بجلی کے لیے 9 ہزار میگا واٹ بجلی گھروں کے معاہدے ختم

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سستی بجلی کے حصول کے لیے جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے اور 9 ہزار میگا واٹ کے مہنگے بجلی گھروں کے معاہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ پاور سیکٹر میں مستقل بہتری کے لیے گہری اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی تین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا تقریباً آدھا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اس حوالے سے تمام ضروریات پوری کر لی گئی ہیں۔

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کو مؤثر بنانے کے لیے اس کی تنظیم نو کی گئی ہے اور اسے تین نئی کمپنیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو بجلی کے ترسیلی نظام میں رکاوٹیں دور کرنے اور مستقبل کے منصوبوں پر کام کریں گی۔ ان اداروں کے لیے عالمی معیار کے ماہرین کو بھی تعینات کیا جائے گا۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے اب تک 4 ہزار ارب روپے سے زائد کی بچت کی ہے اور ایسے مہنگے بجلی گھر جنہیں نیشنل گرڈ میں شامل کیا جانا تھا، ترک کر دیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جینکوز کی سرکاری ملکیت والے بجلی گھروں کو بند کر کے ان کے فالتو آلات کی فروخت کا عمل شروع کیا جا رہا ہے، جس سے سالانہ 7 ارب روپے سے زائد کا مالی بوجھ کم ہوگا۔

    وفاقی حکومت نے 2025-26 کا 17.5 کھرب روپے کا بجٹ پیش کردیا

  • پیپلزپارٹی کا بھی بجٹ اجلاس کے دوران حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کا فیصلہ

    پیپلزپارٹی کا بھی بجٹ اجلاس کے دوران حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کا فیصلہ

    اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بعد حکومت کی اتحادی پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی بجٹ اجلاس کے دوران متعدد حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کا فیصلہ کرلیا۔

    ذرائع نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے بجٹ کے لئے حکمت عملی مرتب کر لی، پاکستان پیپلزپارٹی کا بجٹ میں چھوٹے کسانوں کی آواز بننے کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزپارٹی بجٹ میں چھوٹے کسانوں کے آواز اٹھائے گی پیپلزپارٹی کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، پیپلزپارٹی کا اپنی تقاریر میں عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا جائے گا، پیپلزپارٹی کی جانب سے چھوٹے کسانوں کو سہولیات دینے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

    ذرائع نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی تمام فصلیں خسارے میں جا رہیں ہیں، حکومت کی جانب سے زراعت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہے، بجٹ میں پی پی نجکاری پالیسی کی مخالفت کرے گی ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا، پیپلزپارٹی کی جانب سے سرکاری ملازمین کو مستقل کرنے اور یوٹیلٹی سٹورز کے ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

    ائیر فرانس نے پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال شروع کردیا

    وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کی منظوری دیدی

    ارشد ندیم کے نام پر ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ

  • قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس  مالی سال 2024-25 پر فافن کی رپورٹ  جاری

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس مالی سال 2024-25 پر فافن کی رپورٹ جاری

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس مالی سال 2024-25 پر فافن نے رپورٹ جاری کر دی

    فافن کی رپورٹ کے مطابق بجٹ پیش کرنےسے منظوری تک اسمبلی اجلاس کے 48 گھنٹے 2منٹ صرف ہوئے ، 179 ارکان قومی اسمبلی نے بجٹ پر ہونے والی بحثوں میں حصہ لیا ، سنی اتحاد کونسل کے 69 ارکان نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیا، تقریباً 60 اراکین بجٹ اجلاس کی تمام نشستوں میں شریک ہوئے ، پانچ اراکین نے بجٹ اجلاس کی کسی بھی نشست میں شرکت نہ کی ، بحث میں حصہ لینے والوں میں سے 70 فیصد ارکان نے بجٹ تجاویز پر تنقیدی رائے کا اظہار کیا، بجٹ پر تنقید کرنیوالوں میں حکومت اور اسکی اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی شامل تھے، پیپلز پارٹی کے 40 ، مسلم لیگ (ن) کے 37، ایم کیو ایم کے 18 ارکان نے بجٹ پر بحث کی ،جے یو آئی کے 5 اور آزاد 5 اراکین نے بحث میں حصہ لیا ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، آئی پی پی ، مسلم لیگ ق اور ایم ڈبلیو ایم کے ایک ، ایک رکن نے حصہ لیا ، اپوزیشن نے 133 مطالبات زر میں سے 30 پر کٹوتی کی 422 تحاریک پیش کیں ، تمام مسترد ہوئیں ، موجودہ مالی سال کے لیے 103 مطالبات زر بغیر کسی کٹوتی تحریک کے منظور کرلئے گئے ، گزشتہ 2 مالی سالوں کے لیے ضمنی اوراضافی مطالبات زر بغیر کسی بحث کے منظور ہوئے ،بجٹ سیشن کے دوران پانچ حکومتی بلوں کی بھی منظوری دی گئی جن کے لیے قواعد معطل کیے گئے

    ایوان کی کارروائی کی زیادہ تر دستاویزات اسمبلی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں،اجلاس کی 13 نشستوں میں سے 5 کی حرف بحرف مباحث ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جاچکے ہیں،اسمبلی کے آفیشل یو ٹیوب چینل پر ایوان کارروائی کی ویڈیو کے بعض حصوں کی آڈیو بند کر دی گئی ،وزیراعظم اور وزرا نے بجٹ اجلاس میں کم از کم 09 یقین دہانیاں کروائیں

    موسمیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے ماحولیات کے تحفظ میں مدد ملے گی، صدر مملکت

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    موسمیاتی تبدیلی،پرواز میں ہچکولے،رخ موڈ دیا گیا، 30 مسافر زخمی

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • کراچی سٹی کونسل :بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کا  دس نکاتی وائٹ پیپر جاری

    کراچی سٹی کونسل :بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کا دس نکاتی وائٹ پیپر جاری

    کراچی سٹی کونسل کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کی گئی ،سٹی کونسل میں ہنگامہ آرائی کے دوران آئندہ مالی سال کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: میئر ڈائس کےسامنے حکومت اور اپوزیشن ارکان کی ایک دوسرے سے تلخ کلامی اور تکرار بھی ہوئی، اپوزیشن کی جانب سے جعلی بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے گئے اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں، سٹی کونسل میں اپوزیشن نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے بجٹ پر دس نکاتی وائٹ پیپر جاری کردیا۔

    وائٹ پیپر کے مطابق بلدیہ عظمی کراچی کابجٹ مکمل طورپراخراجاتی بنیاد پربنایا گیا ہے اور بجٹ میں ریونیو کےتمام اکاؤنٹس کا تخمینہ انتہائی کم لگایا گیاہےکراچی کی246 یونین کمیٹیز کے لیے ایک بھی نئی اسکیم کو شامل نہیں کیاگیا، منتخب چیئرمین و کونسل اراکین کے لیےکسی قسم کا ترقیاتی فنڈ نہیں رکھاگیا۔

    غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ صوبائی، ورلڈ بینک قرضوں کےعلاوہ بلدیہ کوئی خاطرخواہ ترقیاتی فنڈ رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے، بلدیہ کے بجٹ کا 82 فیصد حصہ قرضوں اور گرانٹس کےذریعے بنایا گیا ہے چارجڈ پارکنگ کی مد میں سالانہ آمدنی صرف 15.9 کروڑ روپے ظاہرکی گئی ہے جبکہ شہر بھر میں 83 پارکنگ سائٹ موجود ہیں، فی سائٹ اوسط یومیہ آمدنی محض 6 ہزار روپے بن رہی ہے۔

    ملک میں سونا اور ڈالر مہنگا، اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن

    وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ اشتہارات کی مد میں اس سال آمدنی میں محض ایک لاکھ روپےکا اضافہ ظاہرکیا گیا ہے جبکہ شہر میں 106 شاہراہیں بلدیہ کے ماتحت ہیں، ان تمام شاہراہوں پر اشتہارات لگائے جاتے ہیں، اس کی کل آمدن انتہائی کم ظاہر کی جارہی ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ہاکس بے پر 99 ہٹ ہیں، شہر بھر میں11 پٹرول پمپ موجود ہیں، بجٹ میں اس کی کوئی واضح تفصیل نہیں۔

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک سے ایک ارب 85کروڑ روپے بلدیہ نےگزشتہ سال وصول کرنےتھے، اس سال بھی اس رقم کو برقرار رکھا گیا ہے، مرتضی وہاب جواب دیں کےالیکٹرک سے اتنی بڑی رقم کیوں وصول نہیں کی گئی، کراچی میڈیکل کالج کے لیےایک مرتبہ پھر وہی 50 کروڑ کی روایتی گرانٹ رکھی گئی ہے، رواں سال اس کالج کویونیورسٹی بننا ہے، اتنےکم بجٹ سے یہ کام ممکن نہیں۔

  • قومی اسمبلی، بجٹ اجلاس میں بجٹ پیش،بلاول شریک نہ ہوئے

    قومی اسمبلی، بجٹ اجلاس میں بجٹ پیش،بلاول شریک نہ ہوئے

    اسلام آباد: اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو گیا ہے، اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا.

    پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، بلاول زرداری نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے بعد روانہ ہو گئے،اسحاق ڈار بلاول کو منانے گئے تا ہم بلاول نہ مانے،تاہم اسحاق ڈار خورشید شاہ اور نوید قمر کو ایوان میں لے آئے.وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں پہنچ گئے.تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی ایوان میں پہنچ گئے، پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی. اراکین نے عمران خان کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں،اور عمران خان کی رہائی کے لئے نعرے لگا رہے تھے،

    آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے،وزیر خزانہ
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مئی میں مہنگائی کم ہو کر 12 فیصد تک آ گئی ، اشیائے خورونوش اب عوام کی پہنچ میں ہیں،آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے، درپیش چینلجز کے باوجود یہ معمولی کامیابی نہیں،

    پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا ،وزیر خزانہ
    اپوزیشن اراکین نے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ دیں.قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے صرف چار اراکین شریک ہیں،سید غلام مصطفی شاہ، سید خورشید شاہ، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی اجلاس میں شریک ہیں،وزیر خزانہ محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ معیشت بہتر ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے ،ماضی میں ریاست پر غیر ضروری ذمہ داریوں کا بوجھ دالا گیا ، غیر ضروری ذمہ داریوں کی وجہ سے حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہوگئے ،ملک بحران کی صورتحال سے نکل چکا ہے، دیر پا ترقی کے سفر کا آغاز ہوچکا ہے پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا ،ہمیں ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے عوامی ریلیف پر توجہ دینا ہوگی،بہتر حکمت عملی کے تحت مہنگائی میں خاطر خواہ کمی ہوئی، بد قسمتی سے پاکستان ٹیکس نظام میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے، وزیر اعظم کی ہدایت ہے ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے،کفالت پروگرام کے تحت مستفید افراد کی تعداد ایک کروڑ کی جائے گی آبی وسائل کیلئے 206 ارب مختص کئے گئے ہیں،کراچی میں آئی ٹی پارک کیلئے 8 ارب روپے فراہم کریں گے ،حکومتی آمدن کو بڑھائیں گے اور اخراجات میں کمی کرینگے ،پی آئی ایس پی میں مزید 5 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائے گا ،بجلی چوری کی روک تھام سے 50 ارب روپے کی بچت ہوگی، پی آئی اے کی نجکاری کو تیز تر بنایا جائے گا،

    ماہانہ اجرت 36 ہزار، دفاع کیلئے2 ہزار 122 ارب مختص،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ
    کم از کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار کردی آئندہ مالی سال مہنگائی میں اضافے کی شرح کا ہدف 12 فیصد رکھا گیا ،9 ہزار 775 ارب روپے سود کی ادائیگی ہوگی ،دفاع کیلئے 2 ہزار 122 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،وفاق کے مجموعی اخراجات 18 ہزار 270 ارب روپے ہوں گے ،پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے 1500 ارب رکھے ہیں ،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے 839 ارب روپے رکھے ہیں ،آزاد کشمیر ، جی بی، ضم اضلاع اور دیگر کیلئے 1777 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،الیکٹرانک بائیکس کیلئے 4 ارب ، انواٹر پنکھوں کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے گے ہیں،50 ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑی پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،نئے پلاٹوں،رہائشی اور کمرشل پراپرٹی پر پانچ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے،فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے ،فائلرز کیلئے شرح 15 فیصد اور نان فائلرز کیلئے 45 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے.

    توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپے مختص
    وفاقی وزیر خزانہ محمد اونگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب میں مزید کہا کہ 9بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ ہے، توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،جامشورو کول پاور پلانٹ کے لئے 21ارب اور این ٹی ڈی سی کی بہتری کےلئے 11ارب روپے،
    آبی وسائل کے لئے206ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،مہمند ڈیم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کےلئے 45ارب روپے ،دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 40ارب روپے ، چشمہ رائٹ بینک کینال کے لئے 18ارب روپے ،بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کےلئے 10ارب روپے ،کراچی میں آئی پارک کے قیام کےلئے 8ارب روپے ،ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد منصوبے کے لئے 11ارب روپے، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لئے 20ارب روپے مختص ہونگے،

    نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،بجٹ دستاویزات
    موبائل فون پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے،ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات مہنگی ہوں گی ،سیلز ٹیکس پندرہ سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کر دیا گیا،تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا ہے، نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،فاٹا اور پاٹا کیلئے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،سگریٹ فلٹر میں استعمال ہونے خام مال پر چوالیس ہزار روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگے گی،ٹیکس سٹیمپ کے بغیر سگریٹ بیچنے والے ریٹیلز پر سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی،

    پنشن اخراجات کیلئے 1014 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،سولر پینل، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال خام مال کی درآمد پر رعایت دینے کی تجویز دی گئی،آئرن اور سٹیل سکریپ پر سیلز ٹیکس سے چھوٹ کی تجویز دی گئی،گریڈ ایک یا 16 تک تمام خالی اسامیاں ختم کرنے کی تجویز 45 ارب روپے سالانہ بچت ہوگی

    مالی سال 25-2024 کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے. افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سر پلیس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا، ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے.وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,877 ارب روپے ہے، صوبوں کا حصہ سات ہزار چار سو اڑ تیسں (7.438) ارب روپے ہو گا،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف تین ہزار پانچ سوستاسی (3,587) ارب روپے ہو گا.وفاقی حکومت کی خالص آمدنی نو ہزار ایک سو انیس (9,119) ارب روپے ہو گی،

    بجٹ اجلاس، نواز شریف، بلاول، مولانا فضل الرحمان،اختر مینگل شریک نہ ہوئے
    بجٹ اجلاس سے اہم ترین سیاستدان اور سینئر ارکان غائب رہے،بجٹ اجلاس سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف غیر حاضر رہے، بلاول بھٹو زرداری بھی بجٹ اجلاس میں شریک نہ ہوئے ،بی این پی مینگل کے سربراہ اختر جان مینگل بھی بجٹ اجلاس سے لا تعلق، شریک نہ ہوئے ،سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان بھی بجٹ اجلاس میں شرکت کیلئے نہ آئے

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • پاکستان کو ٹیکس ریونیو میں اضافے کی ضرورت ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان کو ٹیکس ریونیو میں اضافے کی ضرورت ہے،اسحاق ڈار

    قومی اسمبلی اجلاس، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بینک نے کچھ پابندیاں لگائی تھیں ،سٹیٹ بینک نے تمام پابندیاں ہٹا دی ہیں ،تاجروں اور انڈسٹری کے مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا ،ملک کے حالات کی وجہ سے درآمدات پر پابندیاں لگائی تھیں،ہماری کوشش ہو گی کہ پاکستان کی معیشت کو جلد سے جلد بہتر کریں،بیرونی ادائیگی کرنا ہماری ذمہ داری ہے،انڈسٹریر کو جو مسائل تھے وہ دور ہو جائیں گے،ارکان نے تنقید کے ساتھ تجاویذ بھی پیش کیں،سپر ٹیکس گزشتہ برس لایا گیا تھا، سپر ٹیکس کی کم سے کم حد 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کی جا رہی ہے، کیش نکلوانے پر 0.6 فیصد ٹیکس کا مقصد ڈاکو منٹیشن بڑھانا ہے،بون شئیرز پر 10 فیصد جبکہ ڈیویڈنڈ پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، بونس شئیرز پر ٹیکس کمپنیوں نے ادا نہیں کرنا،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سینٹ اور اسمبلی کی طرف سے جو تجاویز آئیں ہیں میں ان پہ تمام ممبران کا اور دونوں ہاؤسز کا مشکور ہوں ،نان فائلرز کے رقم نکالنے پر 0.6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ ہے،ڈیویڈنڈ پر 15 فیصد اور بونس شیئر کے لیے ٹیکس کی شرح 10 فیصد تجویزہے ،امپورٹس کے حوالے سے پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں پنکھوں کی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو انرجی ایفیشنٹ مصنوعات بنانے کے لیے چھے مہینے کی توسیع دے رہے ہیں اور اس پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ،سوپر ٹیکس کی حد 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کر دی گئی ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم بڑھا کر 466 ارب روپے کر دی گئی ہے پاکستان کو ٹیکس ریونیو میں اضافے کی ضرورت ہے،دو سے تین روز میں بجٹ پاس کریں گے کوشش ہے پاکستان کے فارن ریزرو میں اضافہ کریں، اسٹیٹ بینک کی جانب سے بزنس پرسختیوں کوختم کردیا گیا ،

    رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں ایوان کی توجہ شمالی وزیرستان میں گیس کے مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں گیس دریافت ہو چکی ہے، اس سے قومی خزانے کو ڈیڑھ بلین ڈالر کا فائدہ ہوگا جو کہ ہم ایل این جی کو امپورٹ کرنے پر خرچ کرتے ہیں، گیس پائپ لائن بچھائی جارہی ہے مگر مقامی لوگوں کو گیس فراہم نہیں کی جارہی، اس معاملے کو پہلے بھی اجاگر کیا گیا ہے، شمالی وزیرستان میں گیس کے مسئلے پر پہلے بھی وزیرستان میں احتجاج ہوا تھا، وزیراعظم صاحب نے کمیٹی بنائی جس نے وعدے کیے مگر ابھی تک ان کے مسائل کے حل تو دور کی بات ان سے بات تک نہیں کی،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام

  • مدارس کے طلبا کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،مولانا عبدالاکبر چترالی

    مدارس کے طلبا کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،مولانا عبدالاکبر چترالی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت بجٹ اجلاس جاری ہے

    بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں اراکین کی تعداد انتہائی کم،تاہم بجٹ پر بحث جاری ہے،رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مردم شُماری کے دوران ڈیوٹی نبھانے والے اساتذہ اور اہلکاروں کو محکمہ شماریات کی جانب سے اب تک معاوضہ ادا نہیں کیا گیا، میرا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلباء کو لیپ ٹاپ سکیم میں شامل نہیں کیا گیا ان طلباء کو بھی سیکم میں شامل کیا جائے، ملک میں 40 لاکھ طلباء دینی مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، وفاق المدارس کے طلباء کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،

    کسان کو قرضے پر 2 فیصد ٹیکس کو ختم کیا جائے، راؤ محمد اجمل
    رکن قومی اسمبلی راؤ محمد اجمل نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسان کو جو قرضہ دیا جاتا ہے، زرعی بینک کا ہو یا کمرشل بینک کا، اس پر لگنے والے 2 فیصد ٹیکس کو ختم کیا جائے، ڈیزل، بجلی اور کھاد کسان کے لیے ضروری جزو ہیں، بجٹ میں ان تینوں چیزوں کے لیے ریلیف نہیں دیا گیا، اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں،

    اس سال بچوں میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے، شزہ فاطمہ
    شزہ فاطمہ ایس اے پی ایم برائے یوتھ افیئرز نے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچے اس ملک کا اثاثہ ہیں اور اسی بات کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کا دوبارہ آغاز کیا ،وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے لیے 80 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے وزیراعظم نے پہلا حکم لیپ ٹاپ سکیم کو دوبارہ شروع کرنے کا دیا ،اس سال بچوں میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے، 50 ہزار سے زائد نوجوانوں میں 30 ارب روپے کے قرضوں کی تقسیم کی گئی ہے تاکہ وہ زراعت اور بزنس کے لیے ان پیسوں کو استعمال کر سکیں، وزیراعظم کے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ایک لاکھ بچوں کو اس سال ٹریننگ دی جائے گی جس میں سے 60 ہزار بچے پہلے ہی اس سے مستفید ہو چکے ہیں

    سوئی جہاں گیس کا پلانٹ لگا ہے وہاں ابھی تک گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، خالد مگسی
    رکن قومی اسمبلی خالد مگسی نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں 1952 میں گیس نکلی اور 1985 میں کوئٹہ کو گیس ملی، سوئی شہر میں جہاں گیس کا پلانٹ لگا ہے وہاں ابھی تک گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، ہم مسئلے کے حل کے لئے درخواست کرتے ہیں مگر کوئی نہیں سنتا، میں نے وزیر اعظم سے بھی بات کی ہے، وزارت پیٹرولیم کو بلایا جائے اور مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں،

    لوڈشیڈنگ کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے،وفاقی وزیر برائے آبی وسائل
    وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی تقسیم کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لائن لاسز کو کم کرکے نہ صرف لوڈشیڈنگ کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے بلکہ قومی وسائل کی بچت بھی کی جا سکتی ہے جہاں تک پانی کی بات ہے تو پانی وافر مقدار میں موجود ہے مگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر کچھ علاقوں میں نہیں پہنچ پا رہا جن کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے

    رکن قومی اسمبلی سید حسین طارق نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بھی پیٹرولیم کے مسائل ہیں، سندھ کے مختلف علاقوں سے گیس نکالی جارہی ہے مگر ان علاقوں کو گیس نہیں مل رہی، پچھلے سالوں میں کسانوں کو قرضے ملے ہوئے تھے مگر سیلابی صورتحال کی وجہ سے کسان اپنے قرضے ادا نہیں کرسکے جس کی وجہ سے بینک ان کسانوں کی زمین کو فروخت کرنے کی کوشش کرہا ہے،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام

  • بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے ہوگا

    بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے ہوگا

    بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے ہوگا جس میں صوبائی وزیرخزانہ زمرک خان اچکزئی بجٹ پیش کریں گے بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم 700 ارب روپے سے زائد ہونےکا امکان ہے، آئندہ بجٹ میں صحت کارڈ کے لیے 5 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیےجانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کےلیے 2 ارب 70کروڑ روپے رکھے ہیں اور بلوچستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کے لیے 2 ارب روپے فوڈ سکیورٹی کے لیے ایک ارب اور پی پی ایچ آئی کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے پنشن فنڈ کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں، عوامی انڈوومنٹ فنڈ کے لیے ایک ارب روپے جبکہ لوگوں کو ہنرمند بنانے کے پروگرام کے لیے 2 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

    پنجاب کی نگران حکومت آج بجٹ پیش کرے گی

    بلوچستان کو قابل تقسیم محاصل سے 45 ارب سے زائد آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہےصوبے کو براہ راست ٹرانسفر سے 20 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد گیس رئیلٹی، ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں بلوچستان کو16 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد جبکہ قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی سے 3 ارب 38 کروڑروپےکی آمدنی متوقع ہے۔

    خیبر پختونحوا، پنجاب اور کشمیر میں آندھی اور بارش کا امکان

    دوسری جانب محکمہ خزانہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت 1368 ارب روپے سے زائد کا مجموعی بجٹ پیش کرے گی 4 ماہ کے بجٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 426 ارب 87 کروڑ روپے اور غیرترقیاتی منصوبوں کے لیے 941 ارب 34 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جوائنٹ پریروٹیزکمیٹی نے بجٹ کےاعداد و شمارکی منظوری دے دی ہے اور نگران کابینہ آج اجلاس میں 4 ماہ کے بجٹ کی منظوری دے گی۔

    یونان میں عوام کا تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں پر احتجاج