Baaghi TV

Tag: بجٹ 2024

  • نان فائلرز پر گاڑی اور مکان کی خریداری پر پابندی تجویز

    نان فائلرز پر گاڑی اور مکان کی خریداری پر پابندی تجویز

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اراکین نے نان فائلرز پر گاڑی اور مکان کی خریداری پر پابندی تجویز دیدی ہے۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی شریک ہوئےانہوں نے اراکین کو بتایا کہ زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے گا نان فائلرز کی اختراع سمجھ نہیں آتی، ہم نے نان فائلرز کی ٹرم کو ختم کرنا ہے این ٹی این نمبر کے بغیر آپ لندن پیرس اور تھائی لینڈ نہیں جا سکیں گے جبکہ نان فائلرز کو صرف عمرہ اور حج کی اجازت ہوگی۔

    سینٹر محسن عزیز نے کہا کہ نان فائلرز پر گاڑی اور مکان خریداری پر پابندی ہونا چاہیےانڈسٹری کے 80 فیصد خریدار نان فائلرز ہیں برآمدی شعبے کو نارمل ٹیکس نظام میں لانے سے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا گیا ہےسینٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ہم آپ کو معیشت کی بحالی میں مکمل مدد فراہم کریں گے، آپ عمرہ اور حج کیلئے فائلر ہونے کی شرط عائد کریں، الیکٹرک کاروں پر ٹیکس استثنی برقرار رکھا جائے جبکہ سینٹر انوشہ رحمن نے کہا کہ موبائل فونز پر ٹیکس کم کیا جائے موبائل فون کے استعمال سے ٹیکس بنتا ہے اس پر ٹیکس عائد کرنے کرنے سے نہیں ہے۔

    صرف بجٹ کا معاملہ نہیں، ہمیں پنجاب میں اسپیس چاہیے،یوسف رضا گیلانی

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وزیر اعظم نے پی ڈبلیو ڈی کو بند کرنے کا فیصلہ ادارے میں کرپشن کے باعث کیا انہوں نے کہا کہ ٹیکس بیس کو بڑھانا ہے ساڑھے 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح پر ملک نہیں چل سکتا ملک میں ٹیکس کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلایزیشن کی جائے گی زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، ملک کے 6 شہروں میں 31 ہزار ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، جولائی سے ریٹیلرز پر ٹیکس عائد ہو جائے گا ملک کی ٹیکس آمدن سے زیادہ قرض پر سود کی ادائیگیاں ہیں ملک میں اسمارٹ فونز بننا شروع ہو گئے ہیں –

    گورنر سندھ کا طبی سہولیات لوگوں کے گھر کی دہلیز پر پہنچانے کیلئے ایپ لانچ …

    انہوں نے کہا کہ غریبوں کیلئے 593 ارب روپے رکھا گیا ہے انکو تربیت اور تعلیم فراہم کریں گے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس 35 فیصد رکھا گیا ہے کاروباری آمدن والوں پر 45 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، ایف بی آر کی ٹیکس لیکیج 6 ہزار سے 7 ہزار ارب روپے سالانہ ہے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا نئے طور پر مکمل اطلاق کیا جائے گا اس کا پہلا اطلاق بڑی ناکامی تھی کوئی حکومتی کمپنی اسٹرٹیجک نہیں ہے، وزارتوں کو حکومتی کمپنیوں کے اسٹرٹیجک کمپنی ہونے کا ثبوت دینا ہو گا۔

    اجلاس میں نمائندہ ایف پی سی سی آئی کریم عزیز نے کہا کہ اس بجٹ میں صنعت اور برآمدات کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا، انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمد پر ایک فیصد انکم ٹیکس تھا اس کو 29 فیصد کر دیا گیا ہے، ایسا کرنے سے انڈر انوائسنگ بڑھ جائے گی انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے ٹیرف میں کمی کی جائے اس دفعہ ہر چیز پر سیلز ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے ہم بجٹ سے مطمئن نہیں ہیں انڈسٹری چلے گی تو روزگار اور ٹیکس ملے گا۔

    پیپلز پارٹی کس بات پر ناراض؟جاگیرداروں پر تو ٹیکس لگایا ہی نہیں گیا،خالد مقبول صدیقی

  • سعودی وزارت خزانہ  نے 2024 کے ابتدائی بجٹ کا اعلان کردیا

    سعودی وزارت خزانہ نے 2024 کے ابتدائی بجٹ کا اعلان کردیا

    سعودی وزارت خزانہ کی جانب سے 2024 کے ابتدائی بجٹ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق 1.251 ٹریلین ریال کے اخراجات جبکہ 1.172 ٹریلین ریال آمدنی ہو گی۔ 79 ارب ریال کا خسارہ شامل ہے جبکہ عالمی ادارے کے مطابق سعودی عرب کے ابتدائی بجٹ کے بیان کے حوالے سے بتایا گیا گیا کہ ’یہ تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہو گا جس میں ترقیاتی امور پر بھرپور توجہ دی گئی ہے اور بڑے منصوبوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

    جبکہ بجٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 2024 کا بجٹ تاریخ کا بہت بڑا بجٹ ہے۔ 2019 کا بجٹ 1.106 ٹریلین ریال کا تھا جبکہ 2020 کا 1.020 ٹریلین اور 2023 کا 1.114 ٹریلین ریال تھا اور 2024 کا جو بجٹ پیش کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں کہا گیا یہ سال 1934 میں مملکت کے پہلے بجٹ سے 89 ہزار گنا ہے۔ مملکت کا پہلا بجٹ صرف 14 ملین ریال کا تھا۔

    تاہم وزارت خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ رواں برس 2023 کے بجٹ کی آمدنی تقریبا 1.18 ٹریلین ریال تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ اخراجات 1.262 ٹریلین ریال ہوں گے۔ اس حساب سے خسارہ 82 بلین ریال ہو گا جو ملکی پیداوار کا 2 فیصد ہے تاہم ادھر وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدعان نے توقع ظاہر کی کہ ’2024 کے لیے مجموعی آمدنی تقریبا 1.172 بلین ریال تک پہنچ جائے گی۔ اس اعتبار سے توقع ہے کہ 2026 میں آمدنی 1.259 بلین ریال تک پہنچ جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نواز شریف کا مقصد نظام کی اصلاح، عوام کی فلاح ہے. مریم نواز شریف
    کسان کی لگژی گاڑی اوڈی اے 4 میں سبزی بیچنے کی ویڈیو وائرل
    مریم نواز شریف لندن روانہ ہوگئیں
    امیروں سے مزید ٹیکس لیے جائیں اورغریبوں کو تحفظ دیا جائے،آئی ایم ایف سربراہ
    علاوہ ازیں اخراجات کے بارے میں تخمینہ ہے کہ وہ 2024 تک 1.251 بلین ریال ہوں گے، انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا ’ معاشی اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔ مارکیٹ کی صورتحال دیکھتے ہوئے بہتری کی جانب گامزن رہیں گے‘۔