Baaghi TV

Tag: بحالی

  • سیلابی پانی، ٹرین آپریشن کی بحالی میں مشکلات کا سامنا

    سیلابی پانی، ٹرین آپریشن کی بحالی میں مشکلات کا سامنا

    ریلوے حکام نے ٹریک اور پلوں پر سیلابی پانی ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر100فیصد مسافر و فریٹ ٹرین آپریشن بحال ہونے میں مزید 12سے15روز تاخیر سے شروع ہونے کا عندیا دیدیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ریلوے انتظامیہ نے آج 11 ستمبر تک مسافروں کو تمام ٹرینوں کا ری فنڈ دیدیا ہے البتہ کل 12 ستمبر سے صرف روہڑی اسٹیشن تک رحمان بابا ٹرین کو پشاور سے براستہ فیصل آباد چلایا جائے گا،اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں بند ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ریلوے حکام کو سیلابی پانی کی وجہ سے ٹرین آپریشن شروع کرنے میں ٹیکینکل مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اگر ٹرین آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو ریلوے انفراسٹرکچر کو مزید ٹیکینکل نقصان پہنچنے کے خدشہ ہے۔

    چیف آپریٹنگ سپرنٹنڈنٹ آفیسر ریلوے وقار شاہد کے مطابق ٹریک پر سیلابی پانی کی صورتحال کا چوبیس گھنٹے جائزہ لیا جارہا ہے، ریلوے ٹریک اور پلوں پر سیلابی پانی کی وجہ سے ٹرین آپریشن کسی صورت شروع نہیں کیا جاسکتا ،100 فیصد مسافر اور فریٹ ٹرین آپریشن بحال ہونے میں مذید 12سے 15 روز لگ سکتے ہیں جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی سو فیصد ٹرین آپریشن شروع کردیا جائے گا۔

    ذرائع کےمطابق اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں مکمل طور پر بند ہیں جس کی وجہ سے ریلوے خسارہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔

  • وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی، زاہد اکرم درانی

    وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی، زاہد اکرم درانی

    ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر وفاقی اداروں کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی کوآرڈینیشن اور مانیٹرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔

    ڈپٹی سپیکر نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی بڑی آبادی حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔کمیٹی کے ارکان نے زور دیتے ہوے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے خیمے ، کھانے پینے کے اشیا ء، مچھر دانی اور طبی سامان کی فراہمی کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومت میں ہم آہنگی ضروری ہے ۔کمیٹی ممبران نے سیلاب متاثرین کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر افسوس کا اظہار کیا ۔

    ڈپٹی سپیکر نے دیر بالا کی ضلعی انتظامیہ کی غیر پیشہ ورانہ روش کا نوٹس لیتے ہوے انہوں نے دیر بالا میں سڑک کھولنے کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو این او سی کی عدم فراہمی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ونگ کو خط لکھنے کی ہدایت کی ۔کمیٹی ممبران نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی امداد کی عدم فراہمی پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ سیلاب اور بارشوں سے مرنے والوں کو مالی معاوضہ جلد از جلد ادا کیا جائے ۔

    کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ڈویلپمنٹ ساجد حسین طوری ، ممبر قومی اسمبلی مولانا محمّد انور ، سینیٹر ہدایت الرحمان ، پی پی پی کے صوبائی صدر نجم الدین خان ، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی ، این ڈی ایم اے کے اعلی افسران اور خیبر پختونخوا کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

  • جلسے بھی ہوں گے اور سیلاب متاثرین کی بحالی بھی، شوکت یوسفزئی کی انوکھی منطق

    جلسے بھی ہوں گے اور سیلاب متاثرین کی بحالی بھی، شوکت یوسفزئی کی انوکھی منطق

    ترجمان خیبر پختونخوا حکومت شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ امپورٹڈ حکومت سیلاب پر سیاست کررہی ہے، ہمارے جلسے بھی ہوں گے اور سیلاب متاثرین کی بحالی اور امداد بھی کریں گے۔

    شوکت یوسفزئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے انفراسٹرکچر پر زیادہ فوکس کیا ہوا ہے، جہاں سیلاب آنے کا خدشہ تھا وہ جگہیں پہلے ہی خالی کرانے کی کوشش کی۔

    انہوں نے کہا کہ شانگلہ،چارسدہ،نوشہرہ،کوہستان اور ٹانک بہت زیادہ متاثر ہوئے، جہاں سیلاب کے خطرات ہیں لوگ ان علاقوں میں واپس نہ جائیں۔ترجمان خیبر پختونخوا حکومتنے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

    شوکت یوسفزئی کاکہنا تھا کہ 102.3 ارب روپے کا خیبر پختونخوا میں نقصان ہوا ہے، 1400 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں، ایک ہزار اسکول اور 73 اسپتال سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ سوات میں 34،ڈی آئی خان میں 31 اور وزیرستان میں 17 اموات ہوئیں، جبکہ زخمیوں کو ایک لاکھ 60 ہزار روپے دیے جارہے ہیں۔

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وارننگ الرٹ صوبے کے اندر دوبارہ جاری کیا جاچکا ہے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے پاس 2 ہیلی کاپٹر ہیں، ایک ہیلی کاپٹرمیں صرف 3 افراد دوسرے میں 17 افراد بیٹھ سکتے ہیں۔

    ان کاکہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت سیلاب پر سیاست کر رہی ہے تحریک انصاف نہیں، صوبے میں 13 اضلاع آفت زدہ،279 جاں بحق اور6 لاکھ 75 ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

    ترجمان خیبر پختونخوا حکومت نے کہا کہ ہماری انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں پہلے سے تیار تھیں، 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہےشوکت یوسفزئی

    کے پی حکومت نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے 1200 ملین روپے جاری کیے تھے، وزیراعلی نے کوہستان میں پھنسنے والے5 افراد سے متعلق انکوائری کا حکم بھی دیا ہے،شوکت یوسفزئی

    شوکت یوسفزئی نے شکوہ کیا کہ این ایف آر سی سی میں ہم سے تعاون نہیں ہو رہا۔

  • سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

    سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

    وزیر اعظم محمّد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے.وزیر اعظم مواصلات اور سڑکوں کی بحالی کے کام نگرانی خود کر رہے ہیں،اس حوالے سے انھیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے.وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مواصلات اور رابطہ سڑکوں کی بحالی اولین ترجیح ہے.

    وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر مواصلات اور چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی قومی شاہراہوں کی بحالی کو یقینی بنا رہے ہیں،گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران چاروں صوبوں، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ شاہراہوں کو بحال کر دیا گیا ہے

    گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران چاروں صوبوں، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ بیشتر قومی شاہراہوں اور موٹر ویز کو بحال کر دیا گیا ہے، قومی شاہراہ N-15 کو مانسہرہ سے چلاس براستہ ناران ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے ، اسی طرح کراچی سے چمن قومی شاہراہ N-25 جو کہ حب سے خضدار تک سیلاب سے متاثر تھی کو بھی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے. قراقرم ہائی وے N-35 جو کہ ٹریفک کے لیے انڈس کوہستان اور ہنزہ کے اضلاع میں بند تھی,کو بھی مکمل بحال کر دیا گیا ہے.

    قومی شاہراہ N-40 کا کوئٹہ -نوشکی سیکشن ، قومی شاہراہ N-45 کا چکدرہ- دیر سیکشن، انڈس ہائی وے N-55 کے راجن پور – تونسہ اور ڈیرہ اسماعیل خان – پیزو سیکشنز ، N-65 کا سبی – کوئٹہ سیکشن، N-70 کا فورٹ منرو سیکشن، N-90 کا الپوری- بشام سیکشن، N-140 کا گلگت-شندور سیکشن اور اسٹریٹجک ہائی وے S-1 کو شنگوس کے مقام پر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے.

    تاہم کچھ شاہراہوں پر بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، قومی شاہراہ N-50 ژوب-ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن،N-95 فتح پور -کالام سیکشن اور موٹر وے M-8 وانگو ہلز -بانجا سیکشن پر بحالی کا کام جاری ہے ; یہ شاہراہیں بھی جلد ہی ٹریفک کے لیےمکمل بحال کر دی
    جاینگی.

  • جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص

    جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے فی الفور 5 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی آبادکاری کیلئے ”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے ہرممکن وسائل فراہم کریں گے۔مخیر حضرات اپنے مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد کیلئے آگے آئیں۔”وزیراعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف فنڈ“ کی پائی پائی متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔

     

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

     

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی۔سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اور پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی بھی اس موقع پرموجود تھے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی پوری مشینری مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد میں مصروف ہے۔

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

     

    انہوں نے کہا کہ میری ہدایت پر چیف سیکرٹری پنجاب کامران افضل متاثرہ علاقوں میں خود امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تونسہ، ڈی جی خان اور راجن پور میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دلی دکھ اور افسوس ہے۔ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔جو کچھ انسانی بس میں ہوا، آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کیلئے کر گزریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے نقصانات کے ازالے کیلئے سروے کا حکم دے دیا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت پنجاب کی پہلی ترجیح ہے۔

    پنجاب حکومت مشکل کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرین کی دوبارہ آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔سیلاب سے متاثرہ ہر فرد کو اس کا حق دیا جائے گا اور انشاء اللہ قوم کی تائید و حمایت سے اس چیلنج سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں میں پاک فوج کا تعاون لائق تحسین ہے۔ ریسکیو اینڈ ریلیف کے حوالے سے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہیں۔پاک فوج قابل فخر ادارہ ہے جو ناگہانی صورتحال سے دوچار لوگوں کی مدد میں بھی پیش پیش ہے۔فوجی جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی اور ناگہانی آفت، پاک فوج ہر آزمائش کی گھڑی میں قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے۔پاک فوج کے دستوں نے لوگوں کی بروقت مدد کی اور محفوظ انخلاء کو یقینی بنایاجس پر کورکمانڈر ملتان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔پاک فوج کے تعاون سے کئی قیمتی جانوں کو پچاناممکن ہوا۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں غضنفر عباس چھینہ،شہاب الدین خان، محمد عامر عنایت شاہانی،غضنفر عباس شاہ، غلام علی اصغر خان لہری،گلریز افضل گوندل،تیمور علی لالی، سردار محمد محی الدین خان کھوسہ، محمد علی رضا خان خاکوانی، محمد اعجاز حسین اور محمد احسن جہانگیرشامل تھے۔

  • سیلاب متاثرین کی بحالی و تعمیر نو کے لئے پرائم منسٹر ریلیف فنڈ بھی قائم، قوم دل کھول کر عطیات دے،وزیراعظم

    سیلاب متاثرین کی بحالی و تعمیر نو کے لئے پرائم منسٹر ریلیف فنڈ بھی قائم، قوم دل کھول کر عطیات دے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کی فوری مالی امداد کےلئے 37.2 ارب روپے کے فلڈریلیف کیش پروگرام کے تحت رقوم کی تقسیم کا عمل تیزکر دیا گیا ہے جبکہ سیلاب متاثرین کی بحالی و تعمیر نو کے لئے پرائم منسٹر ریلیف فنڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے .

    سیلاب میں جاں بحق ہونےوالے افرادکے لواحقین کوفی کس 10 لاکھ روپے جبکہ ہر متاثرہ گھر کی تعمیر نو کے لئے 5 لاکھ روپے فراہم کئے جائیں گے، این ڈی ایم اے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اشتراک سے ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی مالی امداد کے لئے پرائم منسٹر فلڈ ریلیف کیش تعاون پروگرام کا بلوچستان کے ضلع جھل مگسی سے آغاز کیا گیا ہے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے جذبے اور لگن سے دکھی انسانیت کی خدمت کے عزم کے تحت ملک بھر خصوصا بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کی امدادی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیاں اور صوبائی اور مقامی حکومتوں اور انتظامیہ کی طرف سے سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر فلڈ ریلیف کیمپوں میں منتقلی، راشن اور ریلیف کے سامان، خیموں، بستر، ڈی واٹرنگ پمپس اور کشتیوں کی فراہمی، رابطہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے جبکہ وزیر اعظم خود بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم کا عزم ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم وطنوں کا ساتھ نبھائیں گے اور سیلاب متاثرین کو پھر سے آباد کر کے دکھائیں گےِ، متاثرہ خاندانوں اور علاقوں کی رونقیں اور مسکراہٹیں لوٹا ئیں گے۔ پرائم منسٹر فلڈ ریلیف کیش تعاون پروگرام کا بلوچستان کے ضلع جھل مگسی سے آغاز کر دیا گیاہے اور فی خاندان پچیس ہزارروپے فراہم کئے جائیں گے۔ رقم کی ترسیل کے لئے ملک بھر میں خصوصی کیمپس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، شادی شدہ خواتین اور بیوائوں کو ترجیحی بنیادوں پر مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ سیلاب متاثرین اہلیت جاننے کے لئے اپنا قومی شناختی نمبر 8171 پر ایس ایم ایس کریں ، نادرا ریکارڈ سے تصدیق کے بعد سیلاب میں جاں بحق 493 افراد کے لواحقین میں دس دس لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کئے جا چکے ہیں۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے این ڈی ایم اے کو سیلا ب زدہ علاقوں میں ریسکیو ریلیف آپریشن کے لئے 5ارب روپے کی فراہمی کی گئی ہے، اس کے علاوہ گھروں کی تعمیر نو کے لئے پانچ لاکھ روپے فی گھر دیئے جائیں گے ۔ پرائم منسٹر ریلیف فنڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے جس میں عوام اپنے عطیات جمع کرا سکتے ہیں، پرائم منسٹر ریلیف فنڈ اکائونٹ نمبر G-12164 ہے۔وزیر اعظم کی ہدایت پر مشکل گھڑی میں اپنوں کا ساتھ دینے کے عزم کے تحت وزیراعظم فلڈ ریلیف کیش پروگرام کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ 15لاکھ مستحق خاندانوں کے 90 لاکھ افراد کے لئے بائیومیٹرک تصدیق سے پچیس ہزار روپے فی خاندان متاثرہ علاقوں میں شراکت دار بینکوں کے خصوصی کیمپس کے ذریعے رقم کی ادائیگی کی جائے گی جس کے لئے 8171 سے انہیں رہنمائی ایس ایم ایس بھیجا جائے گا۔

    اس کے علاوہ سروے کی تکمیل کے بعد ہر متاثرہ گھر کی تعمیر نو کے لئے پانچ لاکھ روپے فی گھر اور جان بحق افراد کے ورثا کے لئے دس لاکھ روپے فی خاندان امداد دی جائے گی ۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس ضمن میں اب تک 542 میں سے 493جاں بحق افراد کے لواحقین کو بذریعہ چیک ادائیگی کی جا چکی ہے اور ریلیف آپریشن کے لئے این ڈی ایم اے کو پانچ ارب کی فراہمی کر دی گئی ہے۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے عوام کے خادم کے طور پر متاثرین سیلاب کو یہ یقین دلایا ہے کہ جب تک آخری گھر آباد نہیں ہوتا میں چین سے نہیں بیٹھوں گااور میرا آپ سے یہ وعدہ ہے ۔ وزیر اعظم نے قوم سے بھی اپیل کی کہ آپ بھی آگے بڑھیں مصیبت زدہ ہم وطنوں کی بحالی کے لئے پرائم منسٹر فلڈ ریلیف سے فنڈ میں دل کھول کر عطیات دیں.

  • ملک بھر کےمندر وں اور گورودواروں کی اصل حالت میں بحالی کا فیصلہ

    ملک بھر کےمندر وں اور گورودواروں کی اصل حالت میں بحالی کا فیصلہ

    متروکہ وقف املاک بورڈ نے ملک بھر کے مندر وں اور گورودواروں کی تہذیب کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اصل حالت میں بحالی اور تزئین و آرائش کرنے کے لئے چار مختلف صوبائی محکموں کی خدمت حاصل کر لیں .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر محکمہ آثار قدیمہ پنجاب , NCA لاہور , والڈ سٹی اتھارٹی لاہور اور محکمہ سیاحت پنجاب شامل ہیں ٹرسٹ بورڈ کی جانب سے ایڈیشنل سیکر ٹری شرائنز رانا شاہد سلیم نے محکموں کے نما ئندوں کے ساتھ MOU پر دستخط کیے.

    اس موقع پر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مفتی عبد الشکور , چیرمین بورڈ حبیب الرحمنٰ , پردھان سردار امیر سنگھ , سیکر ٹری ثناء اللہ خان , عدیل احمد سی اے , ڈپٹی سیکر ٹری ایڈمن منیر احمد , اسسٹنٹ ایڈ منسٹریٹر ایڈمن راجہ احتشام فاروق , ڈپٹی سیکر ٹری پراپرٹیز یا سر اصغر مونگا , ترجمان بورڈ عامر حسین ہاشمی و دیگر موجود تھے . چیرمین بورڈ حبیب الر حمنٰ کا کہنا ہے کہ ان تمام اداروں کی خدمت حا صل کر کے پاکستان میں موجود اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور تاریخی ورثہ کو انکی مذہبی روایات کے مطابق اصل حالت میں بحال کیا جا ئے گا , جس سے ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا.

    مزید برآں سکھ مذہب کے لیڈر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لئے سینکڑوں سکھ یاتری آج واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان داخل ہوں گے جہاں متروکہ وقف املاک بورڈ کے اعلی حکام اور مقامی سکھ یاتریوں کا استقبال کریں گے چیرمین بورڈ حبیب الرحمن گیلانی کا کہنا ہے کہ مہمانوں کے لیے فول پروف سیکورٹی سمیت دیگر تمام تر انتظامات مکمل کیے گئے ہیں بورڈ افسران , میڈیکل و سکیورٹی عملہ مہمانوں کی خدمت کے لیے ہمراہ ہوں گے