Baaghi TV

Tag: بحرالکاہل

  • ایرانی تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب، بحرالکاہل تک پہنچ گیا

    ایرانی تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب، بحرالکاہل تک پہنچ گیا

    ایرانی آئل کمپنی کا جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایک ایرانی آئل کمپنی کا تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کو عبور کرتے ہوئے ایشیا بحرالکاہل کے علاقے تک پہنچ گیا ہےذرائع کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں کروڑوں ڈالر مالیت کا خام تیل موجود ہےا س جہاز کو سری لنکا کے قریب دیکھا گیا تھا جس کے بعد یہ انڈونیشیا کے سمندری را ستے سے آگے بڑھ رہا ہے ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ درجنوں ایرانی جہاز امریکی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کئی ایرانی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا ہے اور اس ناکہ بندی کے باعث ایران کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

  • چین کے تین طیارہ بردار بحری جہاز بحرالکاہل میں سرگرم

    چین کے تین طیارہ بردار بحری جہاز بحرالکاہل میں سرگرم

    امریکی میڈیا کے مطابق چین نے پہلی بار اپنے تین طیارہ بردار بحری جہاز کھلے بحرالکاہل میں تعینات کر دیے ہیں، جو فلپائن، جاپان اور کوریا کے قریب سمندری علاقوں میں فوجی مشقوں میں مصروف ہیں۔

    چین کا نیا طیارہ بردار جہاز ’فوجیان‘ اپنی آزمائشی مراحل مکمل کر چکا ہے اور جدید الیکٹرو میگنیٹک کیٹا پولٹ سسٹم سے لیس ہے۔ چین کے کیریئر اسٹرائیک گروپس گزشتہ ایک ماہ سے مکمل طاقت کے ساتھ سمندر میں جدید ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہے ہیں۔چینی بحریہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یہ فوجی مشقیں معمول کی تربیت کا حصہ ہیں اور کسی خاص ملک کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ان مشقوں کا مقصد دور دراز علاقوں میں آپریشنز کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

    عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق چین دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت بن چکا ہے، اور اس کا نیا ایٹمی توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز ’ٹائپ 004‘ بحرہند اور بحر اوقیانوس تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ چین اب امریکا کے بعد واحد ملک ہے جو بیک وقت کئی کیریئر گروپس سمندر میں چلا رہا ہے۔

    49 لاکھ زائد المیعاد شناختی کارڈز پر جاری موبائل سمز بند کرنے کا فیصلہ

    امریکی قومی سلامتی کا اہم اجلاس جاری،ایران سے متعلق حکمت عملی پر غور

    ایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی شہری یاٹس کے ذریعے فرار ہونے لگے

    اسرائیلی طیارے ترکیہ کی حدود میں داخل ، ترک طیاروں کی فوری جوابی پرواز

    روس کی ایران اسرائیل تنازع پر ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش، اسرائیل کی ہچکچاہٹ برقرار

  • بحرِ الکاہل  میں مشن کے دوران عجیب و غریب متعدد انواع کی مخلوقات دریافت

    بحرِ الکاہل میں مشن کے دوران عجیب و غریب متعدد انواع کی مخلوقات دریافت

    اسٹاک ہوم: بحرِ الکاہل (Pacific ocean) میں ایک مشن کے دوران محققین نے سمندر کے گہرے ترین خطے میں متعدد انواع کی مخلوقات دریافت کی ہیں جن کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق سویڈن کے محققین بحر الکاہل کے گہرے ترین خطے Clarion-Clipperton Zone کا دورہ کر رہے تھے جہاں انہوں نے کچھ ایسی انواع دریافت کیں جن کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیابحر الکاہل کے اندر موجود یہ گہرا ترین خطہ میکسیکو اور ہوائی کے درمیان واقع ہے، دریافت ہونے والی یہ مخلوقات اس خطے کے ایسے علاقے میں رہتی ہے جہاں سورج کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا، ہمیشہ تاریکی کا راج رہتا ہے۔

    سویڈن کی یونیورسٹی آف گوتھنبرگ نے اپنے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ مشرقی بحر الکاہل میں کلیریون کلپرٹن زون میں تحقیقی مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے یہ زیرسمندر خطے زمین کے سب سے کم دریافت کیے جانے والے حصے ہیں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہاں رہنے والی دس انواع میں سے سائنس اب تک صرف ایک کے بارے میں بیان کرپائی ہے۔

    غزہ جنگ : اختلافات پر نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اپنے عہدے …

    Clarion-Clipperton Zone سمندر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کی گہرائی 3500 سے 5500 میٹر تک ہے اگرچہ تمام سمندری خطے زمین کی کُل سطح کا نصف سے زائد ہیں لیکن ان میں بسنے والی دلچسپ مخلوقات کے بارے بہت ہی کم معلومات ہیں۔

    غیرملکی ائیرلائن کی پرواز منسوخ ہونے سے 136 عازمین حج شدید پریشانی کا شکار

  • بحرالکاہل میں 5000 سے زائد نئے اقسام کے جاندار دریافت

    بحرالکاہل میں 5000 سے زائد نئے اقسام کے جاندار دریافت

    لندن: بحرالکاہل کے ایک گہرے علاقے کلیریئن کلِیپرٹن زون میں 5000 سے زائد نئے اقسام کے جاندار دریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ہوائی اور میکسیکو کے درمیان 60 لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط کلیریئن کلِپرٹن زون سمندر کی تہہ کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں مستقبل میں کان کنی متوقع ہے محققیں نے اس خطے میں 5 ہزار 578 نئی اقسام کی حیات دریافت کی جن میں سے 92 فیصد سائنس میں بالکل نئی ہیں اور تقریباً سبھی اس خطے کے لیے منفرد ہیں صرف چھ، بشمول ایک گوشت خور سپنج اور ایک سمندری ککڑی کے جو کہیں اور دیکھے گئے ہیں۔

    اسپیس کا سفر کرنے والی پہلی عرب خاتون ریانا برناوی

    یہ پہلی بار ہے کہ کلیریئن-کلیپرٹن زون (CCZ)، جو کہ بحر الکاہل میں ہوائی اور میکسیکو کے درمیان 1.7m مربع میل پر محیط معدنیات سے مالا مال علاقہ ہے، کی پہلے سے نامعلوم حیاتیاتی تنوع کو جامع طور پر دستاویز کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق جانداروں کے معدوم ہونے کے خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے اہم ہو گی-

    کرنٹ بائیولوجی جریدے میں شائع مضمون کے مطابق اس میں 5,578 مختلف انواع شامل ہیں، جن میں سے ایک اندازے کے مطابق 88 فیصد سے 92 فیصد کو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

    اب واٹس ایپ صارفین میسج ڈیلیٹ کرنے کی بجائے ایڈٹ کر سکیں گے

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ میوریل ریبون کے مطابق اس خطے سے تعلق رکھنے والی 438 حیات کے متعلق معلوم ہے لیکن ایسی 5 ہزار 142 بے نام انواع ہیں جن کے غیر رسمی نام ہیں ان حیات کے متعلق تفصیلات موجود نہیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کے انواع کا تو علم ہے لیکن ان کی ذیلی قسم کی شناخت نہیں ہوسکتی۔

    شناخت کیے جانے والے اکثر جانداروں میں آرتھروپوڈز، جھینگے اور کیکڑے جیسے بغیر ریڑھ کی ہڈی والے خول دار جاندار جبکہ دیگر میں اینیلِڈ اور نیماٹوڈا گروپ کے کیچھوے شامل تھے۔

    زیر سمندر 7000 سال پرانی سڑک دریافت