Baaghi TV

Tag: بحران

  • دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    دبئی اور وسیع تر خطے میں جاری معاشی و سیکیورٹی بحرانوں کے باعث رہائشیوں کی ہجرت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پالتو جانوروں کو سڑکوں پر چھوڑنے یا پناہ گاہوں کے حوالے کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا ہے۔

    اس دل دہلا دینے والی صورتحال میں جانوروں کے پناہ گاہیں پر ہجوم ہو گئی ہیں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں مدد کے لیے پکار رہی ہیں،غیر یقینی صورتحال کے باعث رہائشی فوری طور پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اور اکثر پالتو جانوروں کو ساتھ لے جانے کے لیے وقت یا وسائل نہیں ہوتےمعاشی دباؤ کی وجہ سے لوگ اپنے جانوروں کے کھانے پینے اور طبی اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں جانوروں کے شیلٹرز پر ناقابل یقین حد تک دباؤ ہے، اور وہ ان ترک کیے گئے جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتحال اور اقتصادی دباؤ کے باعث تارکین وطن اپنے جانوروں کو ساتھ لے جانے کے بجائے چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو رہے ہیں، دبئی میں پالتو جانوروں کی پناہ گاہیں (Shelters) گنجائش سے زیادہ بھر چکی ہیں اور انہیں خوراک و طبی امداد کی قلت کا سامنا ہے جانوروں کو ترک کرنے کی بڑی وجوہات میں ملازمتوں کا ختم ہونا، مہنگائی، اور واپس اپنے ملک جانے کی جلدی شامل ہے حکام جانوروں کو ترک کرنے کے خلاف متنبہ کر رہے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ جانوروں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

    اس بحران نے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی متحرک کر دیا ہے جو چھوڑے گئے جانوروں کے لیے نئے گھر (Adoption) تلاش کر رہی ہیں۔

    جانوروں کے حقوق کے کارکنان ان افراد سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنے پالتو جانوروں کو تنہا نہ چھوڑیں اور ان کی منتقلی کے لیے متبادل راستے تلاش کریں، جیسے کہ انہیں کسی رشتہ دار یا تنظیم کے حوالے کرنا۔

    وزیراعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    دبئی میں ایک پناہ گاہ نے کہا کہ وہ "متروک کتے کے بچوں یا مالکان کے لئے کالوں کی تعداد سے مغلوب ہو رہے ہیں جو پالتو جانوروں کو پیچھے چھوڑنا چاہتے ہیں۔” ایک اور ریسکیو رضاکار نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ اسے لوگوں کی طرف سے روزانہ تقریباً پانچ پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اسے نہیں لے گا تو وہ اپنے پالتو جانوروں کو سڑک پر چھوڑ دیں گے۔

    کچھ مالکان ڈاکٹروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مکمل طور پر صحت مند جانوروں کا علاج کریں کیونکہ پالتو جانوروں کی نقل و حمل کا انتظام کرنا بہت مشکل یا مہنگا ہے۔ کتوں کو پیچیدہ اجازت ناموں کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں اکثر کارگو کے طور پر درجہ بندی کیا جاتا ہے۔ اس کا پتہ لگانے کے بجائے، کچھ مالکان صرف انہیں مارنے کا کہہ رہے ہیں۔

    العین کی ایک رہائشی اپنے پورچ پر ایک کریٹ میں ایک بلی اور چار بلی کے بچے ڈھونڈنے گھر آئی۔ مالک نے ایک نوٹ چھوڑا کہ "میں یہاں کے حالات کی وجہ سے اپنے ملک واپس جا رہا ہوں، مجھے آپ کے گیٹ کے سامنے رکھنے پر بہت افسوس ہے۔

    وزیراعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    دبئی میں ایک رضاکار نے سادہ الفاظ میں کہا: "یہاں کوئی مناسب، بڑے پیمانے پر پناہ گاہ کا نظام نہیں ہے جو اسے سنبھال سکے۔ چند جگہیں جو موجود ہیں وہ ہمیشہ بھری رہتی ہیں۔”

    K9 Friends Dubai، کتے کو بچانے والی ایک تنظیم نے ایک فوری درخواست پوسٹ کی: "ہم سمجھتے ہیں کہ صورتحال کشیدہ ہے اور وہاں کے خاندان حفاظت کے لیے اپنے آبائی ممالک کو واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ براہ کرم اپنے پالتو جانوروں کو اپنے ساتھ لے جائیں۔”

    عاشورہ سے محبت کرنیوالی ایرانی قوم کاغذی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی،علی لاریجانی

    ایک لاوارث کتے کو بچانے والے دبئی کے ریڈیو پریزینٹر پرکشت بلوچی نے کہا کہ پالتو جانور ڈسپوزایبل نہیں ہوتے۔ اگر آپ اپنے جانور کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو مدد، پرورش، بچاؤ، ذمہ داری کے ساتھ دوبارہ گھر رکھیں بس انہیں پیچھے نہ چھوڑیںمیونسپلٹی نے لاوارث جانوروں کے لیے فیڈنگ اسٹیشن شروع کیے ہیں، لیکن اس سے یہ حقیقت نہیں بدلی کہ سینکڑوں پالتو جانور اب سڑکوں پر یہ سوچتے پھر رہے ہیں کہ ان کے مالکان کہاں گئے۔

  • گندم کی قیمت میں اضافہ،آٹے کے بحران کا خدشہ

    گندم کی قیمت میں اضافہ،آٹے کے بحران کا خدشہ

    قصور
    گندم کی قیمت میں اضافہ،فلور ملز نے گندم سٹاک کرنا شروع کر دی،آنے والے دنوں میں آٹے کا بحران آنے کا خدشہ

    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ نے گندم کی سرکاری قیمت 3900 روپیہ فی من مقرر کی تھی تاہم کسان 4500 روپیہ فی من تک فروخت کر رہے ہیں جبکہ بہت زیادہ لوگوں نے گندم اس لئے سٹاک کی ہوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں مذید مہنگی کرکے فروخت کریں گے
    جبکہ گورنمنٹ کی مانیٹرنگ میں چلنے والی گندم منڈیوں سے بھی 4400 روپیہ فی من سے کم گندم نہیں مل رہی جو کہ بہت بڑا المیہ ہے
    نیز حیرت زدہ بات یہ ہے کہ فلور ملز 4600 روپیہ فی من تک گندم خرید رہی ہیں
    لوگ لوڈر رکشوں میں روزانہ کی بنیاد پہ فلور ملوں کو گندم بیچ رہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کا سارا دیہان گندم سے لڈی ٹرالیوں و ٹرکوں پہ ہے مگر لوگوں نے رکشوں میں گندم لیجانے کا شارٹ کٹ طریقہ لگا لیا ہے
    شہریوں کا سوال ہے کہ گورنمنٹ نے جو سبسٹڈی فلور ملوں کو دینی ہے وہی سبسٹڈی گندم منڈیوں میں عام شہریوں کو کیوں نہیں دی جا رہی؟
    گندم کی بلیک مارکیٹنگ سے آنے والے دنوں میں آٹے کا بہت بڑا بحران آنے کا خدشہ ہے

  • خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ہسپتال مالی بحران کا شکار

    خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ہسپتال مالی بحران کا شکار

    خیبر پختوںواہ میں دو بار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اثرات سامنے آنے شروع ہو گئے

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے لئے ٹیمیں رکھی گئیں اور انکو سرکاری خزانے سے پیسے دیئے گئے تا ہم ہسپتالوں کے لئے فنڈز نہیں رکھے گئے، خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ہسپتال مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے،

    ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال محمد عاصم کا کہنا ہے کہ ایل آر ایچ میں تمام سروسز بحال ہیں، موجودہ بجٹ سے فلحال کام چلا رہے ہیں۔ایل آر ایچ انتظامیہ نے منظور شدہ چار ارب روپے کے فنڈز ریلیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ ڈھائی ارب کا آپریشنل جبکہ ڈیڑھ ارب کا ڈیولپمنٹل بجٹ منطور ہوا تھا جو ابھی تک نہیں ملا،بجٹ روکنے سے صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال کو مسائل در پیش ہیں،بجٹ ریلیز سے مریضوں کو مسلسل علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تنخواہیں بھی وقت پر ملیں گی ، ترجمان کا کہنا تھا کہ ایل آر ایچ دیوالیہ نہیں ہوا، منطور شدہ بجٹ ملنے سے مسائل حل ہو جائیں گے

    اگر بجٹ نہ ملا تو رپورٹس کے مطابق نہ تو تنخواہوں کے لئے پیسے ہوں گے اور نہ ہی مریضوں کے علاج کے لئے کوئی رقم.خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ہسپتال مالی بحران کا شکار ہو چکا ہے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے کے پی کے سرکاری ہسپتالوں کو بھی لوٹا! یہ صوبہ 10 سال پی ٹی آئی کے ماتحت تھا اور اس کا قرضہ بے تحاشہ بڑھتا گیا! ہم نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے باہر خیموں میں آؤٹ ڈور ڈیلیوری کی تصاویر دیکھیں۔ صحت کارڈ لوٹنے کی اسکیم نے یہی کیا۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ دس سال کے پی میں عمران نے خوب ایمانداری سے کرپشن کی ہے،جس کا ثبوت یوتھیا خود شئیر کر رہا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال دیوالیہ ہوگیا،تنخواہوں کے پیسے نہیں۔پختونخوا کا اتنا برا حشر کیا ہے کہ آخری تین ماہ میں اساتذہ کو دینے کے پیسے نہیں تھے پھر عمران بھاگ گیا۔

    خیال رہے کہ یہ اسپتال ایک خاتون جس کا نام لیڈی ریڈنگ تھا ان کے نام سے منسوب یہ ایک بڑا ہسپتال خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قائم ہے۔ جبکہ یاد رہے کہ ایلس ایڈتھ آئزکس (لیڈی ریڈنگ) ہندوستان کے وائسرائے روفس آئزکس کی پہلی اہلیہ تھیں۔ وہ سنہ 1866 میں لندن میں پیدا ہوئیں تھیں اور وہ ریڈنگ کی پہلی ’مارشنیس‘ تھیں۔ برطانوی دور میں ان کے رفاہی کاموں کو مؤرخین نے انسان دوستی سے تعبیر قرار دیا ہے

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • رمضان سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کا نیا طوفان

    رمضان سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کا نیا طوفان

    قصور
    رمضان سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ باعث تشویش،بلیک مارکیٹنگ مافیا اور ناجائز منافع خور پہلے سے تیار بیٹھے تاجروں کو نیا بہانہ مل گیا

    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ نے رمضان سے چند دن قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مہنگائی کے نئے طوفان کو دعوت دی ہے
    بلیک مارکیٹنگ مافیا اور ناجائز منافع خور تاجر پہلے سے ہی رمضان کی امد کے پیش نظر چیزوں کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کئے بیٹھے ہیں تاہم اب ان کو سرکار کی طرف سے ایک اور بہانہ مل گیا ہے جس کے باعث وہ اب اپنی من مانیاں مذید کرینگے اور ماہ رمضان برکات میں لوگوں کو تگنی کا ناچ نچائیں گے
    گزشتہ رات گورنمنٹ نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپیہ فی لیٹر،ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپیہ فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 2 روپے 56 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے اور ابھی 31 مارچ تک کوئی پتہ نہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مذید بڑھا دی جائیں
    عوام کا کہنا ہے کہ اشرافیہ کے خرچ کم کرنے کے دعوے بےبنیاد ہی نکلے نا تو سرکاری گاڑیوں میں کمی کی گئی ہے نا ہی پروٹوکول میں کمی ہوئی ، بس ایک عوام پہ ہی جینے کی تنگی کرنا ان حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے

  • 7 بلین ڈالر کے قرض؛  پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار

    7 بلین ڈالر کے قرض؛ پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار

    7 بلین ڈالر کے قرضے کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہیں

    بلوم برگ کے مطابق بانڈ ہولڈرز پاکستان کی طرف سے ممکنہ ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے خوف زدہ ہیں کیونکہ بحران زدہ ملک کو کئی ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کا سامنا ہے، جسے وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا دو طرفہ قرض دہندگان کے رول اوور کے بغیر پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرے رہا ہے.

    بلوم برگ نے مزید لکھا کہ ملک کے ڈالر بانڈز جمعرات کو نومبر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئے ہیں جبکہ فِچ ریٹنگز کے مطابق سرمایہ کاروں نے آنے والے مہینوں میں 7 بلین ڈالر کی واپسی کی اپنی صلاحیت کا وزن کیا، بشمول مارچ میں واجب الادا 2 بلین ڈالر، چینی قرضے بھی شامل ہیں.

    عالمی ادارے نے مزید کہا کہ موڈی کی انوسٹرز سروسز کی جانب سے اس ہفتے پاکستان کو مزید گھٹا کر ردی میں ڈال دیا گیا ہے کیونکہ ملک کو بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے جیسے کہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں اور افراط زر ریکارڈ بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ پاکستان میں حکام ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ قرضے پر اعتماد کر رہے جو کہ ابھی تک مبہم ہے۔

    سنگاپور میں ولیم بلیئر انویسٹمنٹ کے فنڈ مینیجر جونی چین جنہوں نے حال ہی میں پاکستانی قرضوں میں کمی کے بارے کہا: "ہم پہلے سے ہی خطرات کا انتظام کر رہے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔

    جبکہ بلوم برگ نے کہا کہ پاکستان کے اگلے سال اپریل میں واجب الادا 8.25 فیصد بانڈ مسلسل تیسرے دن ڈالر پر 0.8 سینٹ کم ہوکر 51.1 سینٹ پر بتائے گئے۔ موڈیز نے بدھ کے روز ایک نوٹ میں کہا کہ جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے ملک کی بیرونی مالیاتی ضروریات کا تخمینہ تقریباً 11 بلین ڈالر ہے جس میں 7 بلین ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

    دریں اثناء وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کو فروری میں چائنہ ڈویلپمنٹ بینک سے 700 ملین ڈالر کا قرضہ ملا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم لی کیچیانگ نے آئی ایم ایف کے سربراہ کو بتایا کہ چین "تعمیری طریقے سے” بہت زیادہ مقروض ممالک کی مدد کے لیے کثیر الجہتی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے.

  • عوام الناس کوبروقت آٹےکی فراہمی کےلیےفلورملزکوآٹےکاکوٹہ دوگناکردیا:پرویزالٰہی

    عوام الناس کوبروقت آٹےکی فراہمی کےلیےفلورملزکوآٹےکاکوٹہ دوگناکردیا:پرویزالٰہی

    لاہور:گندم وآٹا بحران کےخاتمہ کیلئےوزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نےپنجاب کی فلور ملوں کوگندم کا یومیہ سرکاری کوٹہ بڑھا کردوگنا کردیا۔وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی کےزیرصدارت ہنگامی اجلاس ہوا، اجلاس میں سیکرٹری خوراک نادر چٹھہ اور ہمیش خان نے شرکت کی۔

    پنجاب میں آٹامزیدمہنگا،نان بائیوں کاروٹی کی قیمت 40روپےکرنےکااعلان

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ فلور ملوں کو گندم کا یومیہ سرکاری کوٹہ بڑھا کر ڈبل کردیا گیا، صوبے بھر میں سیل پوائنٹس کو بھی دوگنا کر دیا گیا ہے، انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ آٹا بحران کے خاتمہ کیلئے 24 گھنٹے کے اندر اندر لائحہ عمل طے کیا جائے۔

    کےالیکٹرک کی اجارہ داری جولائی تک ختم ہوجائیگی:چیئرمین نیپرا

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبہ بھر میں روزانہ 10 کلو آٹے کے 18 لاکھ 40 ہزار تھیلے سرکاری ریٹ پر دستیاب ہوں گے، سوموار سے فلور ملوں کو ان کے اپنے مطالبے سے زیادہ 26 ہزار ٹن سرکاری گندم جاری کر دی جائے گی۔اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا سرکاری کوٹہ بڑھنے سے نجی گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔

    صوفیہ مرزا اورمریم مرزا کی گرفتاری کے لیے اقدامات حتمی مراحل میں داخل

    ادھرپنجاب میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے، حکومت اورضلعی انتظامیہ قیمتیں برقراررکھنے میں بری طرح ناکام ہوگئیں۔چکی مالکان نےایک مرتبہ پھر آٹا 10روپےفی کلو بڑھا دیا،جس کے بعد فی کلو نرخ 160 روپے پرپہنچ گئے۔رپورٹ کے مطابق 80 کلو والی فائن میدے کی بوری بھی ایک ماہ میں بار بار مہنگی ہوکر 4 ہزار کے مجموعی اضافے کے بعد 12 ہزار 600 کی ہوگئی، 15 کلو والا آٹے کا تھیلا 200 روپے اضافے کے بعد 2150 میں فروخت ہورہا ہے۔

    ازبکستان نے پاک، افغان اور ازبک ریل کارمنصوبے پر فزیبلٹی رپورٹ پاکستان کو دیدی

    سستا سرکاری آٹا مارکیٹ سے غائب ہے جس کی وجہ سے شہری پریشانی کا شکار اور مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ صوبائی وزیر خوراک حسنین بہادر دریشک کا کہنا ہے روزانہ 23 ہزار میٹرک ٹن آٹا ٹریکنگ پوائنٹس پر دے رہے ہیں، جہاں ذخیرہ اندوزی کی شکایت ملے گی کارروائی کریں گے۔

  • یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر    مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

    یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

    برلن :یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکرمرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی ،اطلاعات کے مطابق یورپ کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے کیونکہ یوکرین میں روسی فوجی کارروائی کے دوران گیس اور بجلی کی قیمتیں بے مثال سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    یوروپی حکومتیں روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال پر خطرہ محسوس کرتی ہیں جس کے نتیجے میں اس موسم سرما میں بڑے پیمانے پر مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے ساتھ ساتھ کئی حصوں میں خشک سالی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے بھی براعظم میں بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں امریکن یونیورسٹی میں ترقیاتی سیاست کی پروفیسر نومی حسین کہتی ہیں، "حکومتیں جو بھی راستہ منتخب کریں، آنے والا موسم سرما سماجی بدامنی سے دوچار ہونے والا ہے۔”

    برطانیہ کے ایک رہائشی فلپ کیٹلی نے شکایت کی، "زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے اور پھر بھی آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ اس رقم پر زندہ رہیں گے جب کوئی بحران نہیں تھا… میں یا تو گرم کر سکتا ہوں یا کھا سکتا ہوں۔” .

    دریں اثنا، توانائی کی قلت کے خوف نے صارفین کو لکڑی کی طرف راغب کیا ہے اور وہ سردیوں سے پہلے لکڑی کو ذخیرہ کرنے پر مجبور ہیں۔

    فرانس میں، توانائی کی قیمتوں میں 28.5 فیصد اضافے کے ساتھ، حالت اس قدر خراب ہے کہ لوگ آئندہ موسم سرما کے لیے خود کو تیار کرنے کے لیے لکڑیاں جلانے والے چمنی استعمال کرنے کے لیے لکڑیاں جمع کر رہے ہیں۔ اس سے لکڑی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں نئی ​​کساد بازاری ریکارڈ کی جائے گی اور یہ 1750 یورو فی میگا واٹ گھنٹے تک پہنچ جائے گی۔
    جرمنی میں، بجلی کا سال آگے کا معاہدہ 995 یورو ($995) فی میگا واٹ گھنٹے تک پہنچ گیا جبکہ فرانسیسی مساوی 1,100 یورو سے آگے بڑھ گیا۔

    ملک کا دریائے رائن جو یورپ کے نقل و حمل کے نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، بھی اس بحران میں حصہ ڈال رہا ہے، کیونکہ خشک سالی کی وجہ سے پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے جہازوں کو پوری طرح سے دریا میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ میں ٹرانسپورٹ، شپنگ اور پوسٹل انڈسٹریز میں گزشتہ ہفتوں کے دوران بڑے پیمانے پر ہڑتالیں دیکھنے میں آئی ہیں، کیونکہ مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ وہ بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں۔

    یورپ اب بھی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ یہ گیس کے استعمال کو کم کرنے کے اقدامات کو بھی نافذ کر رہا ہے اور ایک متبادل ذریعہ کے طور پر، جوہری توانائی پر بھی توجہ دینا شروع کر دی ہے۔

  • برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے

    برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے

    لندن :برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پہلے کورونا اور اب روس یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ بھر میں توانائی کا ایک بحران ہے اور اس بحران میں سب سے زیادہ متاثر برطانیہ بھی ہوا ہے ،کہا جارہا ہے کہ برطانوی صارفین کے لیے توانائی کی قیمت اکتوبر سے 80 فیصد بڑھ جائے گی، برطانیہ کے ریگولیٹر نے کہا۔ اوسطاً سالانہ گھریلو بلز £3,549 (€4,204) تک بڑھ جائیں گے۔

    یوکے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام برطانوی شہریوں پر قیامت بن کر گزرے گا ، اور افراط زر کو مزید ہوا دے گا اور حکومت پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔

    Ofgem کے چیف ایگزیکٹیو جوناتھن بریرلی نے کہا کہ اس اضافے کا برطانیہ بھر کے گھرانوں پر "بڑے پیمانے پر اثر” پڑے گا، اور جنوری میں ایک اور اضافے کا امکان ہے، جو توانائی کی منڈیوں میں قیمتوں کے اہم دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھرانوں تک مزید مدد پہنچانے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا، "حکومتی امدادی پیکج ابھی مدد فراہم کر رہا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ نئے وزیر اعظم کو اکتوبر اور اگلے سال آنے والے قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔”انہوں نے مزید کہا ، "ردعمل کو ہمارے سامنے موجود بحران کے پیمانے سے ملنے کی ضرورت ہوگی۔”

    وزیر خزانہ ندیم زہاوی نے کہا کہ وہ اگلی حکومت کے لیے تیار رہنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس کا تقرر اس وقت کیا جائے گا جب 5 ستمبر کو لز ٹرس یا رشی سنک وزیر اعظم بنیں گے۔

    ریگولیٹر کا یہ اقدام گیس کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے درمیان سامنے آیا ہے، جو یوکرین میں روس کی جنگ کے آغاز کے بعد سے بڑھ گئی ہے جس نے ماسکو پر مغربی پابندیاں عائد کی ہیں۔

  • یورپ میں توانائی کا بحران انتہا کو پہنچ گیا،ایندھن خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں‌

    یورپ میں توانائی کا بحران انتہا کو پہنچ گیا،ایندھن خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں‌

    یورپ میں انرجی کے بحران میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں، سردیوں کےلئے ایندھن خریدنے کے لئے لوگ تین دن سے جنگل میں لائنوں میں کھڑے ہیں۔

    یورپ میں گیس اور انرجی کا بحران شروع ہو گیا ہے، مشرقی یورپ کے ملک مالڈووا میں سستا ایندھن خریدنے کی امید میں لوگ تین دن سے لائن بنا کر جنگل میں کھڑے ہیں۔

    شہریوں نے کچھ اس طرح اپنی صورتحال بتائی کہ:

    ’’ تین دن ہوئے گئے ہیں اور تین سو لوگ یہاں لائنوں میں کھڑے ہیں۔ صبح کو اہلکار آتے ہیں اورہمیں دیکھ کر مذاق اڑاتے ہیں، حتی ہمارے پاس حمل و نقل کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے، ہمارے پاس سوار ہونے کی بھی کوئی چیز نہیں ہے۔

    یہاں ہم بغیر پانی اور غذا کے بھوکے کھڑے ہیں۔ ہم سب کو امید تھی کہ سستا ایندھن خریدیں گے لیکن یہاں صرف تین مکعب میٹر ایندھن فروخت کر رہے ہیں اور وہ خریدنا بھی ناممکن ہے کیونکہ اس کی قیمت بالکل سستی نہیں ہے۔‘

    دوسری طرف یورپ میں توانائی بحران، سوٹزر لینڈ نے عوام کو موم بتیاں تیار رکھنے کا مشورہ دے دیا،شدید گرمی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بے حال یورپ، توانائی کے استعمال میں بچت اور روسی قدرتی گیس پر انحصار میں کمی کی کوششوں میں ہے۔

    اسپین میں ائیر کنڈیشنر کے محدود استعمال کے اصول نافذالعمل کر دئیے گئے ہیں۔ عوامی آمد و رفت کے دفاتر اور کاروباری مراکز میں ائیر کنڈیشنر کا درجہ 27 سے کم نہیں کیا جائے گا اور مذکورہ مقامات پر دروازوں کو بند رکھنا ضروری ہو گا۔

     

     

    موسم سرما میں ہیٹروں کو 19 درجے سے زیادہ پر نہیں چلایا جا سکے گا۔ہسپتالوں، اسکولوں اور بیوٹی پارلروں کو ان پابندیوں سے معاف رکھا جائے گا۔ ریستورانوں میں ائیر کنڈیشنر 25 درجے پر چلائے جا سکیں گے۔

    یونان اور اٹلی میں گذشتہ ماہ سرکاری عمارتوں میں ائیر کنڈیشنر کے استعمال میں پابندیاں نافذ کر دی گئی تھیں اور ائیر کنڈیشنروں کا 27 سے کم درجے پر استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔

    فرانس میں ائیر کنڈیشنر والے کاروباری مراکز کے لئے دروازے بند رکھنے کی پابندی کا اطلاق کر دیا گیا اور پابندی پر عمل نہ کرنے والے کاروباری مراکز کے لئے 750 یورو جرمانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    جرمنی نے بھی ہینوور میں ہسپتالوں اور اسکولوں کے علاوہ سرکاری عمارتوں میں ائیر کنڈیشنروں کا استعمال ممنوع قرار دے دیا تھا۔

    سوٹزر لینڈ میں موسم سرما میں لوڈ شیڈنگ کی وارننگ جاری کی گئی اور وفاقی الیکٹرک کمیشن نے عوام کو سردیوں کے لئے موم بتیاں اور جلانے کی لکڑی ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  • پاکستان آرمی نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا،حافظ محمد طاہر اشرفی

    پاکستان آرمی نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا،حافظ محمد طاہر اشرفی

    چیئر مین متحدہ علماء بورڈ پنجاب حافظ محمد طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد سے تعاون کیلئے مخیر حضرات دل کھول کر امداد کریں، ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامت کی ضرورت ہے، دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں انہیں مناسب پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ضرورت ہے،ملک میں امن و استحکام کے ذریعے سے ہی معاشی بحران پر قابو پایاجاسکتاہے.

    سب سے بڑا ڈاکو پنجاب کا وزیراعلیٰ تو ڈیرھ ارب کرپشن سیکنڈل کا ملزم مشیر مقرر

    پاکستان آرمی نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز میزاب گروپ کی طرف سے ”عمرہ سیمینار 2022”سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے لانے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم تجارت، سیاحت کے ذریعے ملکی معیشت کو بہتری کی طرف کامزن کرسکتے ہیں۔

     

    آرمی چیف کی میجر جنرل امجد حنیف (شہید) اور میجر محمد طلحہ منان (شہید) کے اہل خانہ سے ملاقات

     

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ پاک نے قدرتی وسائل سے مالامال کررکھا ہے اور ہمارے شمالی علاقہ جات انتہائی خوبصورت ہیں وہا ں پر سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب بھی اب اپنا انحصار پٹرول کی بجائے سیاحت اور تجارت کے فرغ پر کررہا ہے کیونکہ یہی وہ شعبے ہیں جن سے معیشت کو بے پناہ فائدہ ہوسکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے کیلئے تمام سیاسی رہنمائوں کو مل بیٹھ کر موثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ  ہمیں ہمیشہ پاک فوج نے بحرانوں سے نکالا ہے اور اب بھی وہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے پر عزم ہیں۔طاہر اشرفی نے کہا کہ سیلاب کی صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو رورہا ہے اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب نے تباہی مچائی ہے جن کی مدد کیلئے پاک فوج کے جوان اور فلاحی ادارے پیش پیش ہیں۔