Baaghi TV

Tag: بحران

  • چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں،فی الفورالیکشن کرائے جائیں،عمران خان

    چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں،فی الفورالیکشن کرائے جائیں،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتاہوں،جس تعداد میں خواتین اور نوجوان نکلے میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں،خواتین کو بھی ضمنی انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مبارکباد دیتاہوں،یہ آج میرے اور ملک کے لیے ایک اچھی بات ہے،کبھی بھی قوم نظریے کے بغیر نہیں بنتی،ایک بیرونی سازش کے تحت ہم پر امپورٹڈ حکو مت مسلط کی گئی،ہم کسی اور کی غلامی کیلئے تیار نہیں ہیں.

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آج ہم ایک قوم بننے جارہے ہیں،جب ہم ایک قوم بنیں گے تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے،قوم نے بتا دیا کہ ہم کسی اور کی غلامی کیلئے تیار نہیں ہیں،میں پہلی بار اس قوم میں بیداری دیکھ رہا ہوں ،اشرافیہ نے لندن میں جائیداد خریدی ہوئی ہے،ملک سے محبت کرنے والے سیاستدان علاج،شاپنگ اور عید بیرون ملک کرتےہیں،ایک سیاسی بحران پیدا کیا گیا،کورونا کے باوجود ہم نے ریکارڈ روزگار دیا تھا،ہمارے دور کے آخری2 سالوں میں ملک کی گروتھ اور ایکسپورٹ بڑھی تھیں،زراعت بھی صحیح راستے پر تھی.

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ کسانوں کو ہم نے پیسے دلوائے،ہمارے دور میں سب سے زیادہ ملک میں ڈالرز آرہے تھے،دوسالوں میں 75فیصد ہماری ایکسپورٹس بڑھی تھیں،دوسالوں میں 75فیصد ہماری ایکسپورٹس بڑھی تھیں،سازش کر کے ہماری حکومت گرائی گئی،ہم گھر بنانے کیلئے سود کے بغیر قرضے دے رہے تھے ،آتے ہی انہوں نے اپنے کرپشن کیسز معاف کروائے،ہماری حکومت کے دورمیں مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیاگیا،آج جو معاشی بحران ہے اس کی وجہ سیاسی بحران ہے جوانہوں نے پیدا کیا،تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن کرائے جائیں،پاکستان میں بحران کا واحد حل فی الفور شفاف انتخابات کرانا ہے.

    چیف الیکشن کمشنر میں اہلیت نہیں ،انہوں نے ن لیگ کو جتوانے کیلئے پوری کوشش کی ،کھلے عام پیسے دیتے ہوئے تصویریں آئیں،الیکشن کمیشن کے تمام فیصلے تحریک انصاف کیخلاف آتے تھے،قوم اپنی آزادی کے لئے باہر نکلی ہے الیکشن کے علاوہ اب کوئی راستہ نہیں ہے ،عوام کو فیصلہ کرنے دیں شفاف الیکشن اس الیکشن کمیشن کے زیر انتظام نہیں ہو سکتے ،الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں، ہمیں اس پر اعتماد نہیں ہے.

    عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے ضمنی الیکشن کے نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قوم کو ضمنی الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی.اجلاس میں ضمنی الیکشن میں کی جانیوالی دھاندلی کے واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا.

    میڈیا کی آزادی سے متعلق عمران خان کے بیان کو پی ایف یو جے نے حقائق کے منافی قرار دے دیا

    عمران خان نے کہا کہ قوم جاگ اٹھی ہے،پوری ٹیم نے پنجاب الیکشن میں بھرپور محنت کی، پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے، نوجوانوں نے دھاندلی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ عوام نے پہلے کی طرح اب بھی ان چوروں کو مسترد کردیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سازش کا جواب عوام نے اپنے ووٹوں سے دیا ہے۔ضمنی الیکشن کے نتائج نے امپورٹڈ حکومت کو مسترد کر دیا،

    لانگ مارچ، جلاؤ گھیراؤ کیس: عمران خان کی 5 مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظورhttps://login.baaghitv.com/torr-phorr-case-ik-ki-5-cases-me-zamanat-qabl-az-girftari-manzur/

     

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی اپنا بیانیہ جارحانہ انداز سے جاری رکھے گی.اجلاس میں پولیس کی جانب سے پی تی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی مزمت کی گئی.

  • بجلی کا بحران برقرار،بجلی کا شارٹ فال 7000 میگاواٹ سے زیادہ

    بجلی کا بحران برقرار،بجلی کا شارٹ فال 7000 میگاواٹ سے زیادہ

    بجلی کا بحران برقرار،ملک میں بجلی کا مجموعی شارٹ فال 7800 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 29ہزار اور پیداوار 21ہزار 200 میگا واٹ کے لگ بھگ ہے جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے-

    ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز سے 10ہزار 241 میگاواٹ،وِنڈ پاور سے ایک ہزار 629 ، سولر پلانٹس سے 123،بگاس سے 120،جوہری پلانٹس سے 2ہزار 275 اور ہائیڈل پاور سے 5 ہزار میگاواٹ سمیت دیگر ذرائع سےبجلی پیدا ہو رہی ہے۔

    اُدھر لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) ذرائع کے مطابق لیسکو کو تقریباً 800 میگاواٹ شارٹ فال کا سامناہے،لیسکو نے ساڑھے 3 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول دیا ہے ۔

    تاہم کئی کئی گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، لوڈمیں کمی سے ٹرانسفارمرز اور میٹر جلنےکی شکایات بھی بڑھ گئی ہیں۔

    روہڑی میں بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ،عوام کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج جاری ہے جبکہ مظاہرین نے سڑک پر دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے-

    قبل ا زیں وزیراعظم کی زیر صدارت منقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کو پاور ڈویژن کی طرف سے لوڈشیڈنگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ جون 2022 میں بجلی کی جنریشن کی کیپسٹی 23 ہزار900 میگا واٹ تک تھی اجلاس میں بجلی کی فراہمی کے دوران ہونے والے لائن لاسز کے حوالے سے بحث کی گئی۔

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا تھا کہ لائن لاسز میں کمی کے لیے ایک مکمل پلان مرتب کیا جائے گا، گردشی قرضے میں کمی لانے کی کوششوں میں تیزی لائے جائے گی۔ شرکائے اجلاس نے پاور سیکٹر میں موجود گردشی قرضے کے حوالے سے تشویش کا بھی اظہار کیا۔

    وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہماری حکومت کا مختصر وقت باقی ہے، ہمیں اسی عرصے میں بہتری لانی ہے، کوشش کی جائے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 2 گھنٹے سے زیادہ نہ ہو بجلی منصوبے بروقت مکمل ہوتے تو لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی، پچھلی حکومت نے وقت پر گیس نہیں خریدی، پاور پلانٹس کیلئے ہمیں تیل کی خریداری کرنا پڑی۔

    میاں شہباز شریف نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز کو صوبوں کے حوالے کرنے سے متعلق تفصیلی پلان بنانے کی ہدایت دی انہوں نے کہا صوبائی حکومتوں کے پاس ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے بہتر حکمت عملی کی صلاحیت ہوتی ہے۔

    وفاقی وزیر توانائی کو وزیراعظم نے ہدایت دی کہ 2 بہترین اور 2 سب سے خراب کارکردگی والی ڈسٹری بیوشن کمپنیز کا دورہ کریں، دونوں کمپنیز کی کارکردگی کے فرق کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ کابینہ میں جمع کروائیں اور ٹیوب ویلز کی سولر انرجی پر منتقلی کے حوالے سے پلان جلد از جلد مرتب کریں۔

  • ملک میں بجلی کا سنگین بحران جاری، شارٹ فال  7 ہزار سے تجاوز کر گیا

    ملک میں بجلی کا سنگین بحران جاری، شارٹ فال 7 ہزار سے تجاوز کر گیا

    بجلی کا شارٹ فال 7 ہزار 674 میگا واٹ تک پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق شدید گرمی کے باعث بجلی کی طلب میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث بجلی کا شارٹ فال 7 ہزار 674 میگا واٹ تک پہنچ گیا ملک میں بجلی کی کل طلب 29 ہزار 900 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ بجلی کی کل پیداوار 22 ہزار 226 میگاواٹ ہے۔

    لاہور:سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

    ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے سے تجاوز کرچکا ہے۔

    پاور ڈویژن ذرائع کا بتانا ہے کہ ملک میں پانی سے 5 ہزار 625 میگاواٹ، سرکاری تھرمل پلانٹس 1 ہزار 327 میگاواٹ، نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار 11ہزار 500 میگاواٹ، ونڈ پاور پلانٹس 1ہزار 235 اور سولرپلانٹس سے پیداوار 122 میگاواٹ بجلی تیار کی جارہی ہے۔

    وزارت توانائی کے مطابق بجلی کی بندش کی بڑی وجہ پاورہاؤسزکو تیل اور گیس کی قلت ہے۔

    قربانی کیلئے لائے گئے جانوروں سے بھرا ٹرک الٹ گیا،17 بکرے ہلاک

  • توانائی بحران،آج لاہور میں تمام بازار اور مارکیٹیں بند رہیں گی

    توانائی بحران،آج لاہور میں تمام بازار اور مارکیٹیں بند رہیں گی

    توانائی بحران پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت آج لاہور میں تمام بازار اور مارکیٹیں بند رہیں گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لاہور کی تھوک اور پرچون مارکیٹیں بھی بند ہوں گی جبکہ میڈیکل اسٹور، پیٹرول پمپ، ٹائر شاپ، دودھ اور دہی کی دکانیں کھلی ہوں گی۔اس کے علاوہ سبزی، پھل اور گوشت کی دکانیں بھی کھلی رہیں گی۔

     

    پائیدار ترقی کے لئے ڈیجیٹل طریقوں کو اپنایا جائے،وزیراعظم

     

    دوسری جانب ذرائع کے مطابق لسیکو نے ساڑھے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا شیڈول دے دیا ہے، لیسکو کا شارٹ فال 400 میگاواٹ ہو گیا ہے۔جبکہ کراچی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان کی توانائی دو کمپنیوں پر منحصر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس توانائی یا گیس نہیں ہے، 1200 ملین یونٹ ایل این جی ہم بیرون ملک سے لاتے ہیں اور اس کو بجلی کے کارخانوں کو دے رہے ہیں۔

    مصدق ملک کا کہنا تھا کہ روس کی جنگ کے بعد سے شدید بحران پیدا ہوا ہے، جو ایل این جی 4 ڈالر کی ملتی تھی اب 40 ڈالر کی بھی نہیں مل رہی۔وزیر مملکت نے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی طور پر قیمتوں کو کیسے قابو کریں؟انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم مشکل فیصلے کر رہے ہیں تو اس کا سیاسی خمیازہ بھی بھگتنا ہے۔ ساتھ میں وزیر مملکت نے جولائی تک ملک میں بجلی بحران ختم ہونے کی نوید بھی سنائی۔

  • روس کیجانب سے گیس کی بندش، یورپ میں بحران کا خدشہ

    روس کیجانب سے گیس کی بندش، یورپ میں بحران کا خدشہ

    سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد بھی روس یورپ کو گیس فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے مگر گزشتہ ہفتے صورتحال بدل گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق روس نے کیف کے لیے یورپ کی حمایت پر بظاہر انتقامی کارروائی میں توانائی ذرائع کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے گیس سپلائی کو کم کردیا ہے۔

    عالمی جنگ؟روس سے جنگ کیلئے فوج تیار رہے، برطانوی آرمی چیف کا حکم

    روس نے گزشتہ دنوں نورڈ اسٹریم پائپ لائن سےگیس کی سپلائی میں 60 فیصد کٹوتی کی ہے جس سے جرمنی، فرانس، آسٹریا اور جمہوریہ چیک متاثر ہوئے ہیں گیس کی سپلائی میں کمی سے توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے یورپی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔

    نچوڑ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، خطے کی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا اور یورپی یکجہتی کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے – کریملن کے لیے تمام فتوحات جو کہ یورپی رہنماؤں نے ملک کے ایک اعلیٰ سطحی دورے کے دوران یوکرین کے لیے حمایت پر زور دیا۔

    کنسلٹنٹ ووڈ میکنزی لمیٹڈ کے مطابق، اگر روس اپنا مرکزی رابطہ مکمل طور پر بند کر دیتا ہے، تو خطے میں جنوری تک سپلائی ختم ہو سکتی ہے۔

    مغرب ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے:ہمیں کوئی پرواہ نہیں: روس

    یورپ میں روسی گیس کا سب سے بڑا خریدار جرمنی ہے جسے اب 60 فیصد کم گیس مل رہی ہے جرمنی کے وزیر اقتصادیات رابرٹ ہیبیک نے جمعرات کو اے آر ڈی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سنگین صورتحال ہے، ایک کشیدہ صورتحال ہے۔ "یہ مغربی اتحادیوں اور روس کے درمیان طاقت کی آزمائش ہے-

    اٹلی کے لیے روسی گیس کی فراہمی کی شرح میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔

    صدر ولادیمیر پیوٹن نے فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے آہستہ آہستہ چھوٹے اقدامات میں سپلائی کو روک کر کئی دہائیوں پر محیط قابل اعتماد توانائی کے تعلقات کو برقرار رکھا، اور پھرجون کے وسط میں ان اقدامات کو تیز کر دیا۔

    پیرس انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل اسٹڈیز کے پروفیسر تھیری بروس نے کہا، "یہ مزید کمی یورپی یونین کی سطح پر اسٹوریج کو دوبارہ بھرنے کو چیلنج کرنے اور یورپی یونین کے کمزور اتحاد کو جانچنے کے لیے ہے یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ نل مکمل طور پر بند نہ ہو جائے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ

    کشیدگی کی وجہ سے، یورپی قدرتی گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا جو یوکرین میں روس کی جنگ کے ابتدائی مراحل کے بعد سے سب سے بڑا ہفتہ وار فائدہ ہے اس خطے کے پاس روس کی پائپ لائنوں کا بہت کم متبادل ہے، خاص طور پر موسم سرما کے دوران، ناروے اور نیدرلینڈز سے اسپیئر گنجائش بہت کم ہے، اور مائع قدرتی گیس کے کارگوز کے مزید سخت ہونے کی امید ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر روس کی جانب سے مرکزی لنک کو بند کردیا جائے تو یورپ جنوری میں گیس کی سپلائی سے محروم ہوجائے گا یورپ کے پاس ابھی روس سے ہٹ کر توانائی کے حصول کا کوئی ٹھوس متبادل موجود نہیں، بالخصوص موسم سرما کے دوران۔

    اسی طرح دنیا بھر میں ایل این جی کی طلب بھی بڑھ گئی ہےاور چین دنیا میں ایل این جی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے تو یورپی ممالک کو ایندھن کے اس ذریعے کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    اس صورتحال میں اٹلی کی جانب سے ایک ایمرجنسی منصوبے پر کام کیا جارہا ہے جسے آئندہ چند روز میں متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

    جرمنی نے بھی 3 مراحل پر مشتمل ایک منصوبہ تیار کیا ہے جبکہ توانائی کی بچت پر بھی زور دیا جارہا ہے جرمنی میں نیشنل گیس ایمرجنسی کا اعلان بھی کیا جاسکتا ہے جس کے تحت شہریوں کو گیس کی فراہمی محدود کی جائے گی۔

    جرمن گیس کمپنی BNetzA کے سربراہ کلوس مولر نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ روس کی جانب سے گیس کی سپلائی میں کمی کے باعث ہم سب کو بہت سنجیدہ صورتحال کا سامنا ہے، جب تک ممکن ہوگا ہم اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

    چین، 2021 میں ایل این جی کا دنیا کا سب سے بڑا درآمد کنندہ، اس سال CoVID-19 پابندیوں کی وجہ سے طلب میں کمی کے بعد اسپاٹ خریداریوں میں کمی کر دی ہے۔ لیکن امکان ہے کہ اس موسم سرما میں استعمال میں واپسی ہو جائے گی، جس سے چین کو فالتو ایل این جی کی کم ہوتی ہوئی مقدار کے لیے یورپ کے خلاف کھڑا کر دیا جائے گا۔ ٹیکساس کے ایک اہم برآمدی ٹرمینل کی مرمت سے سپلائی میں مزید رکاوٹ آئے گی-

    تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:ڈونلڈ ٹرمپ

  • امپورٹڈ ایندھن پراب کوئی پاور پلانٹ نہیں لگایا جائےگا:خرم دستگیر

    امپورٹڈ ایندھن پراب کوئی پاور پلانٹ نہیں لگایا جائےگا:خرم دستگیر

    اسلام آباد:امپورٹڈ ایندھن پر اب کوئی پاور پلانٹ نہیں لگایا جائے گا،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے بجلی انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ ایندھن پر اب کوئی پاور پلانٹ نہیں لگایا جائے گا۔

    بجلی کا شارٹ فال 6 ہزارمیگاواٹ سے تجاوز، لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ،شہری پریشان

    تفصیلات کے مطابق مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراء کی تقریب میں خرم دستگیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی سروے معشیت کا کھنڈر خانہ ہے، سروے کا سب سے بڑا کھنڈر خانہ پاور ڈویژن ہے۔انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے 250 فیصد بڑھ چکا ہے، گزشتہ دور حکومت فساد عمرانی اور کارکردگی کے نتائج آج بھگت رہے ہیں، ہم گردشی قرض 11 سو ارب پر چھوڑ کر گئے، نالائق حکومت 2 ہزار 4 سو 67 ارب پر گردشی قرضوں کو لے گئی۔

    بدترین لوڈشیڈنگ،روزہ داروں کی صوبائی و وفاقی گورنمنٹ سے رحم کی اپیل

    ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کی حکومت کیلئے کہا گیا کہ بجلی کی زیادہ پیداوار چھوڈ گئے، 2018 سے 22 تک توانائی کے جتنے منصوبوں کا افتتاح ہوا ان پر نام نواز شریف کا تھا، گزشتہ چار سالوں میں 8 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں آنی چاہیے تھی۔

    کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کاسلسلہ جاری ہے،شہری پریشان

    خرم دستگیر نے کہا کہ بدقسمتی سے چار سالوں میں ایک بھی میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کی گئی، شنگھائی پاور پلانٹ 14 سو میگا واٹ تک کا منصوبہ تھا تاخیر کی گئی، کروٹ، شنگھائی اور تریموں اگر تینوں پلانٹس چلتے تو آج لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی۔

    وفاقی وزیر برائے بجلی انجینئر خرم دستگیر خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں دوبارہ سے وطنِ عزیز کی تعمیر کا کہا گیا ہم نے تعمیر شروع کر دی ہے، امپورٹڈ ایندھن پر اب کوئی پاور پلانٹ نہیں لگایا جائے گا۔

  • حکومت توانائی بحران اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے،صادق سنجرانی

    حکومت توانائی بحران اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے،صادق سنجرانی

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کے بحران اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے، مختلف شعبوں کی ترقی میں عالمی بینک کا تعاون لائق تحسین ہے، اقتصادی بحالی اور استحکام کیلئے ٹھوس پالیسیاں مرتب کر کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ سے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بنحسائین نے ملاقات کی۔ ملاقات میں توانائی، تعلیم، صحت اور ترقیاتی شعبوں میں جاری اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت توانائی کے بحران اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے، مختلف شعبوں کی ترقی میں عالمی بینک کا تعاون لائق تحسین ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحالی اور استحکام کیلئے ٹھوس پالیسیاں مرتب کر کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، پاکستان میں تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تمام ترسہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عوام کے نمائندوں کے طور پر پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے کوشش کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورلڈ بینک گورننس اور سروس ڈیلیوری کے لے ادارہ جاتی اصلاحات میں پارلیمان اور حکومت پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی بینک تکنیکی اور مالی امداد کے ذریعے ملک کی نوجوان آبادی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پائیدار ترقی کیلئے مشترکہ فریم ورک بنانے کیلئے پارلیمان اور ورلڈ بینک حکومت کو انگیج کرسکتی ہیں جس سے امداد کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ ورلڈ بینک کنٹری کے ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے، پائیدار ترقی اور توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے ورلڈ بینک پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔

  • عمران خان معیشت کو سدھارنے کے عمل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں: دی اکنامسٹ

    عمران خان معیشت کو سدھارنے کے عمل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں: دی اکنامسٹ

    اسلام آباد:پاکستان میں ایک طرف سیاسی عدم استحکام ہے تو دوسری طرف معاشی بدحالی بھی عروج پر ہے ، پاکستان کے معاشی بحران پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی جریدے دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان معیشت کو سدھارنے کے عمل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم اپنی دھمکیوں سے حکومت کی توجہ اہم امور سے ہٹا رہے ہیں۔

    پاکستان کے سیاسی اور معاشی بحران کے حوالے سے دی اکنامسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستانی معیشت دہائیوں سے بدنظمی کا شکار ہے،ملک کے نظام کو چلانے کےلیے قرضے لے کر ایسے منصوبے بنائے کہ جن سے فائدہ کم مل رہا ہے، جبکہ یوکرین تنازع اور کورونا سے معیشت مزید چیلنجز کا شکار ہوئی، پاکستان کو بجٹ اور عالمی ادائیگیوں کے خسارے کا سامنا ہے۔

    موجودہ حالات کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی جریدے کے مطابق شہباز حکومت معاشی فیصلوں کے حوالے سے فیصلہ کن دکھ رہی ہے، تاہم پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی صورت میں معاشی اصلاحاتی عمل کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔

    دی اکنامسٹ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر قبل از وقت انتخابات ہوتے ہیں تو آئی ایم ایف بھی ایک ایسی حکومت کو سنجیدہ نہیں لے گا جو چند ہفتوں کی مہمان ہو۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • بجلی بحران کا ذمہ دار کون،لوڈشیڈنگ کب تک ختم ہو سکتی ہے؟ خرم دستگیر نے بتا دیا

    بجلی بحران کا ذمہ دار کون،لوڈشیڈنگ کب تک ختم ہو سکتی ہے؟ خرم دستگیر نے بتا دیا

    بجلی بحران کا ذمہ دار کون،لوڈشیڈنگ کب تک ختم ہو سکتی ہے؟ خرم دستگیر نے بتا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ گزشتہ روز مدینہ منورہ واقعے پر ہم سب کا دل دکھا ہوا ہے سابق وزیر داخلہ نے کہا تھا یہ لوگ حرم پاک جائینگے تو ان کے ساتھ کیا ہوگا،اس نفرت کی دیوار کو پاکستان تک محدود رکھا جائے تو بہتر ہوگا سعودی اتھارٹیز نے ایکشن لیا اب ایسا نہیں ہوگا

    وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں بجلی کا بحران ہے جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ہے، دیہی علاقوں میں زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو ہی ہےجس کی وجہ ایندھن نہ ہونا ہے،پانچ ہزار 739میگاواٹ بجلی کی پیداوارنہیں ہو رہی ہے ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث ساڑھے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی نہیں بنا پارہے، ٹیکنیکل فالٹ اور سالانہ مین ٹنینس کے باعث 2ہزار سے زائد میگاواٹ بجلی سسٹم میں نہیں، کچھ پلانٹس مرمت کے لیے بند ہیں جس کی وجہ 2ہزارسے زائد میگاواٹ بجلی نہیں بن رہی، بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں میں ملازمین کی عید کی چھٹیاں کینسل کردی ہیں،یکم مئی سے ایل این جی اور 2 مئی سے فرنس آئل اور گیس ملے گی ،فرنس آئل اور گیس کے ملنے کے بعد اگلے 10دن میں لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوگی پورٹ قاسم کاپلانٹ پرسوں سے کام شروع کردے گا،

    وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کے کارخانے چلانے کیلئے ایندھن کسی کریانہ سٹور سے نہیں ملتا جو فوری خرید لیا جائے۔ایندھن خریداری میں تاخیر کی براہ راست ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ایندھن خریداری کیلئے کام شروع کر دیا،امید ہے اگلے 10 دن میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی ہوگی ہائیڈل جنریشن مئی میں پانی کی وجہ سے بہتر ہوگی، مسئلہ بجلی کی پیدوار کا نہیں بلکہ بجلی بنانے والے کارخانے چلانے کیلئے ایندھن کی کمی کا بحران ہے،جسکی زمہ دار عمران خان حکومت ہے۔مسلم لیگ ن نے جب حکومت چھوڑی تو ملک میں اضافی بجلی بن رہی تھی زیرو لوڈشیڈنگ تھی۔ ہم نے ڈیٹا کی فراہمی کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں ،وزیر اعظم کو بریفنگ کے بعد ملک میں 3 ہزار میگاواٹ اضافی ڈیمانڈ سامنے آگئی ہے،ہم 23 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا چاہے ہیں،کے الیکٹرک کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل کوپہنچ چکا ہے،مالی معاملات فوری طور پر حل نہیں ہوں گے سرکیولر ڈیٹ دو ہزار 460 ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے موسم سرمامیں گیس کا چیلنج آئے گا، نمٹنے کی تیاری شروع کر دی

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے ایم کیو ایم والے کتنے شریف ہیں،سعید غنی

    عمران نیازی نے آئی ایم ایف کے آگے ہتھیار ڈال دئیے،شہباز شریف

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ امپورٹڈ حکومت کی غلط فیصلہ سازی کے باعث ہوئی،ن لیگ کے ایل این جی معاہدے ڈفالٹ کر گئے،سارا دارومدار فرنس آئل پر ڈال کے اس کا ا سٹاک بھی ختم کر دیاگیا،صحیح حکمت عملی اپنائی جاتی تو لوڈشیڈنگ نہ ہوتی،عید کی چھٹیوں کے باعث انڈسٹری کا لوڈ ختم ہو جاتا ہے،امپورٹڈ حکومت چھٹیوں کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ ختم ہونے کی امید لگائے بیٹھی ہے،ہمارے دور میں ایسی لوڈشیڈنگ کبھی ایسی لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی،

    دوسری جانب گرمی کی شدت میں اضافہ، بجلی کی طلب بڑھ گئی ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے ملک میں بجلی کا شارٹفال 7300 میگاواٹ ہو چکا ہے ،کئی شہرون میں دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، کراچی ،لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور،ملتان، بدین اور سوات سمیت کئی شہروں میں بجلی غائب ہونے کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔کراچی میں لوڈشیڈنگ سے مستثنٰی علاقوں میں بھی کئی کئی گھنٹے بجلی غائب ہورہی ہے، شہرکے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کادورانیہ 8 سی15 گھنٹوں تک پہنچ گیا، لاہور میں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز متعلقہ حکام کو یکم مئی تک بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کی ہدایت کی ہے۔

  • بحران زدہ سری لنکا نے قرض نادہندہ ہونے کا اعلان کر دیا

    بحران زدہ سری لنکا نے قرض نادہندہ ہونے کا اعلان کر دیا

    غیر ملکی زرمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر کا سامنا کرتے ہوئے، سری لنکا نے منگل کو اعلان کیا کہ بحران کا شکار ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج کے زیر التواء اپنے بیرونی قرضوں کے حوالے سے بات کرے گا قرض کی فراہمی کی معطلی آئی ایم ایف کے ساتھ مجوزہ انتظامات کے مطابق ایک منظم اور متفقہ تنظیم نو کے زیر التواء عبوری مدت کے لیے ہوگی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سری لنکن وزارت خزانہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا کی حکومت کی یہ پالیسی ہوگی کہ وہ عام قرض کی خدمات کو معطل کر دے 12 اپریل 2022 کو واجب الادا متاثرہ قرضوں کی رقم پر لاگو ہوگا –

    سری لنکن صدر کے خلاف سب سے بڑا تاریخی احتجاج ،’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے

    یہ پالیسی تمام بین الاقوامی بانڈز، مرکزی بینک اور غیر ملکی مرکزی بینک کے درمیان سویپ کے علاوہ تمام دو طرفہ قرضوں، کمرشل بینکوں اور ادارہ جاتی قرض دہندگان کے ساتھ تمام قرضوں پر لاگو ہوگی قرض کی فراہمی کی معطلی آئی ایم ایف کے ساتھ مجوزہ انتظامات کے مطابق ایک منظم اور متفقہ تنظیم نو کے زیر التواء عبوری مدت کے لیے نافذ رہے گی۔

    حکومت نے جنوری میں اپنی درآمدات کی ادائیگی کے لیے ڈیفالٹ کے مطالبات کی مزاحمت کی اس کے بعد خوراک، گیس اور بجلی کی قلت کے باعث معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے لوگ ملک بھر میں مظاہرے کر رہے ہیں اور حکومت کو غیر ملکی کرنسی کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے غلط طریقے سے نمٹنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

    ایک تجزیہ کار، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ قرض کی یکطرفہ معطلی ہے، قرض دہندگان کے ساتھ بات چیت یا رضامندی کی درخواست کا نتیجہ نہیں”۔

    فلپائن :سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 30 ہزارافراد بے گھر ہوگئے

    سری لنکا کے بیرونی قرضوں کی فراہمی کی ذمہ داریوں کو 6 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ سمجھا جاتا تھا جنوری میں، 500 یو اسی ڈی ملین کے خودمختار بانڈ کی ادائیگی طے کی گئی۔جولائی میں مزید ایک بلین ڈالر کی ادائیگی واجب الادا ہے۔

    مرکزی بینک کے سابق ڈپٹی گورنر، ڈبلیو اے وجیوردینا نے کہا کہ حکومت کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے بہت کم ذخائر رہ گئے ہیں اور اس وجہ سے کوئی آپشن دستیاب نہیں ہے اس کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد قرض کی خدمات کو معطل کرنے کی پالیسی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    سری لنکا کو 1948 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے بجلی کی طویل بندش اور ایندھن، خوراک اور دیگر روزمرہ کی ضروریات کی قلت پر لوگ ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ صدر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    صدر گوٹابایا راجا پاکسے نے اپنی حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرمبادلہ کا بحران ان کی وجہ سے نہیں تھا اور معاشی بدحالی بڑی حد تک وبائی بیماری تھی جس کی وجہ جزیرے کے ملک کی سیاحت کی آمدنی اور اندرون ملک ترسیلات زر میں کمی تھی۔

    یوکرینی صدر نے جنوبی کوریا سے طیارہ شکن میزائل سسٹم اور جنگی ساز و سامان مانگ لیا