Baaghi TV

Tag: بحرین

  • نیول چیف کی بحرینی ولی عہد اور وزیراعظم سے ملاقات

    نیول چیف کی بحرینی ولی عہد اور وزیراعظم سے ملاقات

    نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے بحرین کے دورے کے دوران ولی عہد اور وزیر اعظم سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے مملکت بحرین کے ولی عہد، وزیراعظم اور بحرین ڈیفنس فورسز کے ڈپٹی سپریم کمانڈر سے اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف نے بحرین کے فیلڈ مارشل شیخ خلیفہ بن احمد الخلیفہ، بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر، اور رائل بحرین نیول فورس کے کمانڈر سے بھی ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور اور دفاعی تعاون بڑھانے پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔نیول چیف نوید اشرف نے بحرین میں اپنی موجودگی کے دوران رائل بحرین نیول فورس کا دورہ کیا اور وہاں تعینات جنگی جہاز “منامہ” کا بھی معائنہ کیا۔انہوں نے بحرین کے رائل کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا دورہ کرتے ہوئے سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال پر ایک لیکچر بھی دیا، جس میں خطے کی سلامتی اور دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات پر اہم نکات پیش کیے۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ نیول چیف نوید اشرف کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور باہمی تعاون کو نئی جہت دینے کا باعث بنے گا۔

    پی ایس ایل ٹیموں کے مالکان عمران خان کو فنڈنگ کرتے تھے، سابق رکن پی ٹی آئی

    گھریلو صارفین کوسردیوں میں گیس فراہمی کا شیڈول جاری

    لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

  • بحرین،سربراہ پاک فضائیہ کو فرسٹ کلاس میڈل سے نوازا گیا

    بحرین،سربراہ پاک فضائیہ کو فرسٹ کلاس میڈل سے نوازا گیا

    بحرین: پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو بحرین میڈل – فرسٹ کلاس سے نوازا گیا

    بحرین کے شاہ حماد بن عیسی آل خلیفہ کی جانب سے، بحرین کے نائب بادشاہ، شہزادہ سلمان بن حماد آل خلیفہ نے بحرین کے سکھیّر ایئر بیس پر پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو بحرین میڈل – فرسٹ کلاس عطا کیا۔ یہ اعزاز ایئر چیف کو دونوں برادرانہ ممالک کے مابین فوجی تعاون اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔

    تقریب میں بحرین کی سول اور فوجی قیادت کے اعلیٰ ارکان نے شرکت کی۔ شہزادہ سلمان بن حماد آل خلیفہ نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی بحرین بین الاقوامی فضائی شو میں پاکستان فضائیہ کے جے ایف-17 بلاک III لڑاکا طیاروں کے ہمراہ حصہ لینے پر دل سے شکریہ ادا کیا۔ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بحرین میڈل – فرسٹ کلاس حاصل کرنے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بحرین کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔

    بحرین بین الاقوامی فضائی شو کے دوران، یو ایس ایئر فورس سینٹرل کمانڈ (اے ایف سی این ٹی) کے کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل ڈیرک فرانس نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ ایئر چیف نے دونوں اسٹریٹجک اتحادی ممالک کے مابین موجودہ دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کمانڈر اے ایف سی این ٹی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہااور مشترکہ تربیت، مشقوں اور فوجی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

    علاوہ ازیں، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بحرین کے فوجی سربراہ، فیلڈ مارشل شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ سے بھی ملاقات کی۔

  • پی آئی اے کے بحرین میں تعینات کنٹری منیجر کو گرفتار کر لیا گیا

    پی آئی اے کے بحرین میں تعینات کنٹری منیجر کو گرفتار کر لیا گیا

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے بحرین میں تعینات کنٹری منیجر کو حراست میں لے لیا گیا ہے

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے بحرین میں کنٹری منیجر اویس علی کو مسافروں کے سامان میں سے چیزیں نکالنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے، کنٹری منیجر بحرین پر الزام ہے کہ وہ ایئر پورٹ پر سے مسافروں کا سامان اپنے دفتر لے جاتے تھے،مسافروں نے شکایت کی جس پر پی آئی اے کے کنٹری ہیڈ کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا،بحرین کے قوانین کے مطابق کسی بھی مسافر کا سامان دفتر میں لے جانا غیر قانونی ہے،پی آئی اے کنٹری ہیڈ کو بحرین کی ایئر پورٹ سیکورٹی نے گرفتار کیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ا س ضمن میں پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہےکہ” پی آئی اے انتظامیہ پاکستانی سفارتخانے سے رابطے میں ہے، معاملے کو قانونی نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں، کنٹری منیجر کو قانونی مدد فراہم کی جائے گی”۔

  • فلائی جناح  کا بحرین کے لیے فلائٹ آپریشن کا باضابطہ آغاز،پہلی پرواز روانہ

    فلائی جناح کا بحرین کے لیے فلائٹ آپریشن کا باضابطہ آغاز،پہلی پرواز روانہ

    اسلام آباد:پاکستان کی سستی ترین ائیر لائن فلائی جناح نے بحرین کے لیے فلائٹ آپریشن کا باضابطہ آغاز کردیا –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فلائی جناح کی پہلی پرواز9P764 سو سے زائد مسافروں کو اسلام آباد سے بحرین لے کر روانہ ہو گئی، پہلی پرواز 100 سے زائد مسافروں کو اسلام آباد سے لے کر روانہ ہوئی اس حوالے سے ایئرپورٹ پر ایک تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔

    تقریب میں ایئرپورٹ مینیجر آفتاب گیلانی، فلائی جناح کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) ارمان یحییٰ نے شرکت کی، فلائی جناح انتظامیہ نے مسافروں اور کریو کےہمراہ یادگاری کی کاٹ کر پرواز کا افتتاح کیا۔

    فلائی جناح کے مطابق ابتدا میں اسلام آباد سے براہ راست بحرین کے لیے ہفتے میں دو پروازیں آپریٹ ہوں گی۔

    10 سالہ بچے نے فرمائش پوری نہ کیے جانے پر خودکشی کرلی

    گزشتہ ماہ فلائی جناح نے اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد سے بحرین کے روٹ پر ابتدائی طور پر منگل اور جمعرات کے روز ہفتہ وار دو پروازیں چلائی جائیں گیاسلا م آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ اور بحرین انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے درمیان پروازوںکا شیڈول 13جون2024سے نافذ العمل ہوگا۔

    فلائی جناح کے چوتھے بین الاقومی روٹ کے آغاز کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ فلائی جناح کواسلام آباد اور لاہور سے شارجہ کیلئے اور اسلام آباد سے عمان کے دارلحکومت مسقط تک بین الاقوامی روٹ متعارف کرانے کے بعد ہمیں اسلام آباد سے بحرین کیلئے اپنے چوتھے بین الاقوامی روٹ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے اپنے بین الاقوامی روٹ میںیہ توسیع ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے مسافروں کو سستے فضائی سفر کی سہولت فراہم کرنے کے ہمارے عزم کے عین مطابق ہے۔

    جون کے آخر میں بارش کے دو سلسلے ملک میں داخل ہوں گے،محکمہ موسمیات

    واضح رہے کہ فلائی جناح اس وقت اپنے پانچ جدید ایئر بسA320طیاروں پر مشتمل بیڑے کے ساتھ پاکستان کے پانچ بڑے شہروں کراچی،لاہور،اسلام آباد،پشاور اور کوئٹہ میںخدمات سر انجام دے رہی ہے ، مسافر فلائی جناح کی ویب سائٹ (www.flyjinnah.com) یا کال سینٹر(111-000-035) یا ٹریول ایجنسیوں کے ذریعہ پروازوں میں بکنگ کراسکتے ہیں

  • شدیددھندسیالکوٹ میں اترنے والی پروازیں لاہور ایئرپورٹ پر اتار دی گئیں

    شدیددھندسیالکوٹ میں اترنے والی پروازیں لاہور ایئرپورٹ پر اتار دی گئیں

    سیالکوٹ(نمائندہ باغی ٹی وی شاہدریاض)سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے والی چار پروازیں موسم کی خرابی کے باعث لاہور ایئرپورٹ پر اتار دی گئیں۔

    دھند کے باعث سیالکوٹ سے دبئی، بحرین، شارجہ،جانے والی چار پرواز منسوخ کر دی گئیں، منسوخ ہونے والی پروازوں میں دبئی جانے والی Ek 2115 ، بحرین جانے والی پرواز GF77 اور GF 769 اور شارجہ جانے والی پرواز G9 553 شامل ہیں۔

    جدہ جانے والی پرواز Pk 745 اب لاہور سے آپریٹ ہو گی، دبئی جانے والی پرواز Ek 619 بھی تاخیر کا شکار ہو گئی۔

    علاوہ ازیں سیالکوٹ ایئرپورٹ پر اترنے والی 4 پروازیں شدید دھند کے باعث لاہور ایئرپورٹ پر اتار دی گئیں۔

  • فیفا ورلڈ کپ 2034 کا انعقاد؛ میزبانی کیلئے بحرین اور کویت  نے سعودیہ کی حمایت کردی

    فیفا ورلڈ کپ 2034 کا انعقاد؛ میزبانی کیلئے بحرین اور کویت نے سعودیہ کی حمایت کردی

    فیفا ورلڈ کپ 2034 کا انعقاد سعودی عرب میں کرانے کے لیے بحرین اور کویت نے سعودی عرب کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ کویت اور بحرین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ایشیائی ، عرب اور خلیجی نمائندگی کے لیے مملکت کی مکمل حمایت کرتے ہیں جبکہ کویت فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ عبداللہ الشاہین نے اپنے ایک بیان میں کہا ‘ کے ایف اے ‘ فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد کی بولی میں سعودی عرب کے بڑے حامیوں میں سے ایک حامی ہوگا۔ عبداللہ الشاہین نے فٹ بال شائقین کو متوجہ کرنے اور ان کی بہترین میزبانی کی اہلیت کے حوالے سے مملکت کی تحسین کرتے ہوئے کہا ہم ورلڈ کپ 2034 کے لیے سعودی عرب کی حمایت کرتے ہیں۔

    تاہم دوسری جانب بحرین نے بھی ورلڈ کپ کے لیے سعودی بولی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بحرین کی وزارت خارجہ نے میزبانی اور تجربے کی سعودی اہلیت اور قائدانہ کردار کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی عرب پر کامل اعتماد کا اظہار کیا۔ وزارت کارجہ بحرین نے کہا ہہمیں سعودی کامیابیوں پر فخر ہے۔ مملکت میں عالمی سطح کے کاروباری، سیاسی ، اور کھیلوں سے متعلق پروگرامات منعقد ہو چکے ہیں جبکہ واضح رہے سعودی عرب کی طرف سے ورلڈ کپ 2034 کے لیے بولی دینے کا معاملہ 2022 قطر ورلڈ کپ میں سعودی فٹبال ٹیم کی فاتحانہ شہرت اور عالمی سطح پر ارجنٹینا جانے مانے فٹ بالر لیونعل میسی کی ٹیم کو شکست دینے کے بعد سے شروع ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا
    اردو یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر عہدے سے فارغ
    استحکام پاکستان پارٹی کی رجسٹریشن کا نوٹیفکیشن جاری
    الیکٹرک موٹر سائیکل بنانے کے لیے 31 کمپنیوں کو لائسنس جاری
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)
    اگر پاکستان سے سپورٹر بھی یہاں ہوتے تو اور اچھا لگتا، بابراعظم
    تاہم اس حوالے سے سعودی عرب کے کھیلون کے وزیر اور سعودی اولپک کے سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل قطر ورلد کپ میں سعودی تیم کی کارکردگی کھیلوں کے ساتھ سعودی وابستگی اور لگاو کی ایک مثال ہے۔ سعودی عرب 2018 سے مسلسل کامیابی سے کھیلوں کے ٹورنامنٹوں کا انعقاد کررہا ہے۔ اس دوران پچاس سے زائد سپورٹس سرگرمیاں سعودی حسن انتطام کا حوالہ بن چکی ہیں۔

  • کراچی: افغانستان سے بحرین کے پارسل سےساڑھے 14 کلو گرام آئس ہیروئن برآمد

    کراچی: افغانستان سے بحرین کے پارسل سےساڑھے 14 کلو گرام آئس ہیروئن برآمد

    کراچی : افغانستان سے بحرین کے پارسل سے کراچی میں ساڑھے 14 کلو گرام آئس ہیروئن پکڑی گئی، پارسل افغانستان سے بحرین بھیجا جارہا تھا، پارسل مزار شریف سے بحرین روانہ کیا گیا تھایہ انکشاف بھی ہوا کہ پارسل وصول نہ کرنے پر قریبی ملک پاکستان بھیج دیا گیا۔

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز ڈرگ انفورسمنٹ سیل نے کارروائی کرتے ہوئے کارٹن سے 30 کروڑ روپے مالیت کی آئس منشیات برآمد کرلی،کراچی ائیرپورٹ کسٹمز ڈرگ انفورسمنٹ سیل کے کلیکٹر شفیق احمد لاٹکی کے مطابق ان کے عملے نے کراچی ائیرپورٹ پر لاوارث میں منشیات کا سراغ لگایا۔

    انہوں نے بتایا کہ فروٹ باسکٹس پر مشتمل پارسل افغانستان کے شہر مزار شریف سے رفیع نامی شہری نے بحرین کے گلباز خان کے نام روانہ کیا تھا، غالباً پکڑے جانے کے ڈر سے بحرین میں متعلقہ شخص نے پارسل وصول نہیں کیا۔

    فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر مولانا رومی

    حکام کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے کے ڈر سے پارسل وصول نہیں کیا گیا، بحرینی حکام نے پارسل کھولے بغیر کراچی بھیج دیا،کراچی ائیرپورٹ پر شک کی بنا پر کسٹمز ڈرگ انفورسمنٹ کے عملے نے پارسل کی چیکنگ کی تو عملے نے دوران چیکنگ پارسل میں اعلیٰ کوالٹی کی 14 کلو 500 گرام کرسٹل آئس کا سراغ لگایا۔

    پارسل کھولنے پر کارٹن سے 30 کروڑ روپے مالیت کی اعلیٰ کوالٹی کی کرسٹل آئس برآمد ہوئی جس پر کسٹمز پریونٹیو افسر کی مدعیت میں درج مقدمہ کے تحت مزید کارروائی جاری ہے۔

    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز

  • اسپتال میں زیر علاج مریض صحت یاب ہونے کے بعد ایمبولینس چرا کر فرار ہوگیا

    اسپتال میں زیر علاج مریض صحت یاب ہونے کے بعد ایمبولینس چرا کر فرار ہوگیا

    بحرین: اسپتال میں زیر علاج ایک مریض صحت یاب ہونے کے بعد ایمبولینس چرا کر فرار ہوگیا-

    باغی ٹی وی : یہ انوکھا واقعہ بحرین میں پیش آیا بدھ کے روز بحرینی کیپٹل پولیس نے ایک 23 سالہ شخص کو گرفتار کرنے کے اعلان کیا اور بتایا اس شخص نے نے اسپتال سے ایمبولینس چرا لی تھی،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-


    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو دکھایا گیا جو ایمبولینس لے کر فرار ہوگیا اس دوران ویڈیو بنانے والا قہقہ بھی لگا رہا ہے پولیس نے کہا کہ اس حوالے سے ضروری قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ایمبولینس چور کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    کیا دماغ چیزیں جان بوجھ کر بھولتا ہے؟نئی تحقیق میں ماہرین کے انکشاف

    قبل اس طرح کا واقعہ امریکا میں پیش آیا تھا جس میں پولیس کا کہنا تھا کہ شمالی ورجینیا میں متعدد شاہراہوں پرکو متاثر کیا ، پھر ایک ایمبولینس میں فرار ہو گیا اس نے ایمبولینس کو مدد کے لئے بلایا اور بعد اسے چوری کر کے فرار ہو گیا، وہ ورجینیا اور ڈی سی میں متعدد مجرمانہ مقدمات میں مطلوب تھا-

    سعودی تحائف فروخت کرنے پربرازیل کے سابق صدر کی گرفتاری کا امکان

    حکام نے بتایا تھا کہ ایک درجن سے زائد حادثات میں متعدد افراد زخمی ہوئے جب 30 سالہ ڈیرل ٹی کالڈویل نے ہفتہ کو انٹر سٹیٹس 66 اور 395 پر گاڑیوں کو ٹکر ماری اور ورجینیا کے گریلی پوائنٹ پارک میں جان بوجھ کر لوگوں کو بھگانے کی کوشش کی پولیس نے ملزم کا پیچھا کیا لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گھنٹوں ٹریفک کو روکا رکھا اور نیشنلز پارک میں شام کے بیس بال کے لیے جانے والے شائقین کے لیے تاخیر کا باعث بنا۔

    بچوں سے جنسی جرائم پر پرنسپل کو 15 برس قید کی سزا

  • بحرین میں 500 قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی

    بحرین میں 500 قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی

    بحرین میں کم از کم 500 قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے-

    باغی ٹی وی: "دی گارڈین” کے مطابق زیر حراست افراد نے 7 اگست کو کھانے سے انکار کرنا شروع کیا، اور اس کے بعد سے بڑھتی ہوئی تعداد میں شامل ہو گئے، جن کی تعداد کم از کم 500 ہے جو کہ کسی خلیجی ریاست کے جیلوں میں بدانتظامی کیخلاف سب سے بڑا مظاہرہ ہےسید الوداعی، بحرین انسٹی ٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی (برڈ) اور جاؤ جیل کےایک سابق قیدی نے کہا کہ یہ شاید سب سے زیادہ طاقتور ہڑتالوں میں سے ایک ہے جو بحرینی جیل کے نظام کے اندر ہوا ہے اس کا پیمانہ بہت زیادہ ہے۔

    کالعدم الوفاق اپوزیشن پارٹی کےذریعے جاری کیےگئے قیدیوں کے ایک بیان کے مطابق، بھوک ہڑتال میں ان کے سیل کے باہر وقت بڑھانے کے مطالبات شامل ہیں، فی الحال یہ دن میں ایک گھنٹہ تک محدود ہے، جیل کی مسجد میں باجماعت نماز، خاندان کی پابندیوں میں تبدیلیاں تعلیم کی سہولیات میں بہتری اور مناسب طبی اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی،شامل ہیں یہ فضول مطالبات نہیں ہیں بلکہ انسانی زندگی کے لیے ضروری مطالبات ہیں-

    ہالینڈ میں سیاستدان کی جانب سے پولیس کی موجودگی میں قرآن پاک کی بے حرمتی

    خلیج کے چھوٹے جزیرے بحرین کی آبادی 1.5 ملین ہے، مشرق وسطیٰ میں فی کس قید کی شرح سب سے زیادہ ہے ایک اندازے کے مطابق 3,800 لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں جن میں سے برڈ کا اندازہ ہے کہ 1,200 ضمیر کے قیدی ہیں۔

    2011 میں بحرین میں حکمران آل خلیفہ خاندان کے خلاف جمہوریت کے حامی مظاہروں کے بعد سے، مظاہروں سے منسلک لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو قید کیا گیا ہے حکومت نے دو سیاسی جماعتوں پر پابندی سمیت کارکنوں، سول سوسائٹی اور اپوزیشن سیاسی گروپوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

    ٹرمپ کے ہوٹل میں کام کرنیوالی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی

    بحرین میں قید 1200 سیاسی قیدیوں میں سے زیادہ تر جاو جیل میں ہیں سابق قیدیوں جیسے الوداعی کا کہنا ہے کہ سیاسی قیدیوں کو الگ الگ بلاکس میں رکھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ خاص طور پر سخت سلوک کیا جاتا ہے۔

    معروف سیاسی قیدی، جن میں انسانی حقوق کے تجربہ کار عبدالہادی الخواجہ بھی شامل ہیں، جاؤ میں بھوک ہڑتال کرنے والوں میں شامل ہیں۔ ان کی بیٹی، کارکن مریم الخواجہ نے کہا کہ ان کے والد، جو 2011 سے قید ہیں، نے دل کی بیماری کے لیے مناسب طبی علاج کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنی بھوک ہڑتال شروع کی، جب انھیں 11 مواقع پر ماہر امراض قلب سے ملاقات سے انکار کیا گیا۔

    واضح رہے کہ یہ مطالبات بحرینی جیل حکام کی جانب سے قیدیوں کے طبی علاج سے انکار اور دیگر مختلف زیادتیوں کی رپورٹس کے درمیان سامنے آئے ہیں۔

    پرواز کے اڑان بھرنے سے قبل پائلٹ بیہوش، ہسپتال پہنچنے پرہوئی موت

  • سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات کے علاقوں بحرین، مدین، کالام جانے کا اتفاق ہوا، دوستوں کے ہمراہ لاہور سے جمعہ کی شب تین بجے روانگی ہوئی، ناشتہ اسلام آباد میں کرنے کے بعد تالاش پہنچے وہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد کالام تک کا سفر کرنا تھا، راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کی جانب سے ظہرانے کے بعد سفر کا نئے سرے سے آغاز ہوا،محترم عابد بخاری صاحب "ہمسفر” تھے جن کا ہر تھوڑی دیر بعد "خطبہ” ہوتا تھا جس میں وہ سوات کی خوبصورت وادی کا تعارف کرواتے تھے اور علاقے کے عوام کو درپیش مسائل، کے ساتھ ساتھ خطبہ میں سیاسی تڑکا بھی لگاتے تھے، سیدو شریف ایئر پورٹ سے گزرے ،منزل کالام تھی، اورجب ہمیں بخاری صاحب نے بتایا کہ روڈ سیلاب کی وجہ سے خراب ہے مزید تین سے چار گھنٹے لگیں گے، یہ سن کر اپنے تو ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ رات تین بجے کے لاہور سے نکلے ہوئے تھے، کیا کرتے،بامر مجبوری، سیٹ پر بیٹھے، شیشے کے ساتھ سر لگایا اور سونے کی ناکام کوشش کی ، البتہ میری ساتھ والی سیٹ پر موجود بٹ صاحب نے تو شاید ایک ہفتے کی نیند ہی دوران سفر میں پوری کر لی

    گزشتہ برس شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے سوات بپھر گیا تھا، کالام میں معروف ہنی مون ہوٹل مکمل طور پر دریا میں بہہ گیا تھا تو اسکے علاوہ بھی املاک کو نقصان پہنچا تھا، اگست 2022 میں سیلاب آیا تھا اور نقصان ہوا تھا، اب تقریبا ایک برس بعد اس علاقے کی طرف گئے تو انتہائی المناک مناظر دیکھے، دریا کنارے ہوٹل،دکانیں، عمارتیں، سب کے نیچے سے پانی بہہ رہا، مکین چھوڑ چکے، سیلاب کے بعد سڑک کو کم ا ز کم دس فٹ اونچا کرنا پڑا، بحرین میں صورتحال یہ ہے کہ عمارتیں تباہ ہو چکیں، کسی بھی وقت گر سکتی ہیں ، ہوٹل ویران پڑے ہیں، سڑک کی حالت ایسی کہ بقول بخاری صاحب کے اگر سڑک صحیح ہوتی تو ہم دو گھنٹے میں پہنچ جاتے لیکن سڑک صحیح نہ ہونے کی وجہ سے چار گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا.

    سیلاب نے تو گزشتہ برس تباہی مچائی ہی مچائی، لیکن سڑک کی تباہی اور مرمت نہ ہونے میں کچھ سیاسی وڈیروں کا بھی ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو اونچا نیچا دکھانے کے لئے عوام کو ریلیف دلوانے کی بجائے پریشان کرتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں فوتگی ہوتے ہی جنازے پر پہنچ جاتے اور الیکشن ہو جائے تو اسکے بعد انکا باپ بھی مر جائے تو اسکے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوتے،بحرین، مدین سے کالام تک سڑک اگرچہ سیلاب سے بھی تباہ ہوئی تا ہم کچھ ایسے مقامات ہیں جہاں سیاسی چپقلش نے پل نہیں بننے دیئے، اگر ان مقامات پر پل بن جاتے تو راستے مزید آسان ہو جاتے، تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید جو حالیہ دنوں میں روپوش اور سیکورٹی اداروں کو مطلوب ہیں اور ن لیگی امیر مقام کے مابین سیاسی چپقلش سوات کے باسیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے تو وہیں آنیوالے سیاحوں کے لئے بھی کسی اذیت سے کم نہیں، اگر پل بنوانے کا کام امیر مقام کرواتے تو مراد سعید رکوا دیتے اور اگر مراد سعید کرواتے تو امیر مقام رکوا دیتے، کے پی میں اگرچہ تحریک انصاف کی نو برس حکومت رہی، مراد سعید وفاقی وزیر بھی رہے صوبے میں حکومت تحریک انصاف کی تھی لیکن مقامی بیوروکریسی میں زیادہ اثرورسوخ امیر مقام کا ہونے کی وجہ سے کام رکے رہے، یوں دونوں بڑی جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں،سیاح آتے تو ہیں لیکن ایک بار کالام تک سڑک پر سفر کر کے شاید دوبارہ نہ آنے کا دل میں ارادہ کرتے ہوں گے، سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو سہولیات دی جائیں انکی مشکلات میں اضافے کی بجائے کمی کی جائے، ایک بار چترال جاتے ہوئے ٹنل سے گزرے جو پرویز مشرف نے بنائی تھی اور پھر اسی وجہ سے وہ چترال سے الیکشن جیتے تھے کیونکہ انہوں نے وہاں‌کے مکینوں کی ایک بڑی مشکل حل کر دی تھی، سوات کے باسیوں کو بھی چاہئے کہ جو بھی عوامی مفادات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو انکو الیکشن میں سبق سکھانا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دس برس بھی سوات کے باسی اسی ایک سڑک کو روتے رہیں گے ،ابھی تک بھلا ہو پاک فوج کا، جو سیلاب کی تباہی کے بعد سڑک کی مرمت پر کام کر رہی ہے، دس پندرہ فٹ سطح زمین سے ،پچھلی سڑک سے مزید سڑک کو اونچا کیا گیا مٹی ڈالی گئی تب جا کر سڑک استعمال کے قابل ہوئی تا ہم ابھی بہت کام ہونا ہے اور یوں لگ رہا ہے آنیوالے ایک دو برس اس کی تکمیل کو لگ جائیں گے، افواج پاکستان کے جوان جہاں ملکی سرحدوں پر چوکس ہیں وہیں قدرتی آفات میں ہنگامی امداد ، ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف کا کام بھی کرتے ہیں، اب سڑک کی تعمیر و مرمت کیا یہ سول حکومت کا کام نہیں؟ بحرین سے کالام تک 34 کلومیٹر سڑک ہے مگر موجودہ حالت میں یہ سفر دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا تو اگلے دو سے تین برس مشکلات ہی رہتی ہیں ، سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہو جاتی اور کئی مقامات پر تو ایسے لگتا کہ شاید ابھی گاڑی گئی ،ایک طرف دریا ،اور انتہائی خطرناک سڑک، ایسے میں اس سفر میں سیاح لطف اندوز ہونے کی بجائے موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں

    دریا کے دوسری طرف کے باسیوں کی بحرین و دیگر علاقوں میں آمدورفت کے لئے چیئر لفٹ لگی ہوئی ہیں جو بہہ گئیں، جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ایک مقام پر عارضی پل بنایا تھا، اسی مقام پر پل بناتے ہوئے دو رضاکار دریائے سوات میں گر گئے اور انکی موت ہو گئی تھی،سیلاب نے خوبصورت وادی کی حالت ایسی کر دی کہ وہاں کے مکین بھی اب وہ علاقہ چھوڑ رہے کیونکہ جب بھی بارشیں ہوں "گٹے گٹے پانی” کی بجائے سیلاب ہی آتا اور ابھی پچھلی بحالی ہوئی نہیں ہوتی اور نئی تباہی پھر نئے سرے سے،

    گزشتہ برس سیلاب سے دکانیں، ہوٹل، مکان گرے، ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد مکانات، 50 کے قریب ہوٹلز تباہ ہوئے تھے ، اور ابھی تک وہ تباہ حال ہی ہیں، مکین علاقہ چھوڑ چکے، لاہور پریس کلب کے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد بھی ٹور میں ہمراہ تھے، انہوں نے جب سوات میں تباہی کے مناظر دیکھے تو کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ "یہ عذاب الہیٰ ہے” عابد بخاری چند منٹ کے وقفے سے مسلسل خطبہ دیئے جاتے رہے اور ہم سنتے رہے،امجد بخاری بھی عابد بخاری کا ساتھ دیتے رہے لیکن زیادہ نہیں، کالام میں ہنی مون ہوٹل دریائے سوات میں بہہ گیا تھا، کالام سے واپسی پر دن کی روشنی میں تباہی کے مناظر نظر آئے، ایک رپورٹ کے مطابق جب سیلاب آیا تو کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت تھی،اور تحریک انصاف کے ان حلقوں سے منتخب نمائندے ان ایام میں اپنے علاقوں میں ہونے کی بجائے بیرون ملک سیر کر رہے تھے جس کی وجہ سے مقامی لوگ نالاں نظر آئے، سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان تھے، جس میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے تھا، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود نہیں تھے دونوں غیر ملکی دورے پر تھے،میاں شرافت جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر لندن میں تھے، ۔سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، نہ تو سیلاب متاثرین کو ملے اور نہ ہی انکی مدد و ریلیف کے لئے کوئی اقدام اٹھایا تھا،یہی وجہ ہے کہ اب بھی سوات کے باسیوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھے جذبات نہیں ہیں،گزشتہ قسط میں سوات میں موجودہ حالات پر عوام کی رائے،،،تحریر کر چکا ہوں

    نوٹ، اگلی قسط "ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے،” ہو گی

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1683823400559726594