Baaghi TV

Tag: بحریہ ٹاؤن کراچی

  • سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کا این او سی منسوخ کر دیا

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کا این او سی منسوخ کر دیا

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو جاری کیا گیا پروویژنل این او سی برائے فروخت و اشتہارات منسوخ کر دیا ہے۔ یہ این او سی 19 ستمبر 2022 کو جاری کیا گیا تھا۔

    ایس بی سی اے کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے اور قانونی کارروائیوں کے باوجود 460 ارب روپے کی ادائیگی کی قسطیں 31 اگست 2026 تک مکمل نہیں کیں، جس کی وجہ سے این او سی کی بنیاد خطرے میں پڑ گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ جاری رہنے والا این او سی نہ صرف عوام کو گمراہ کرے گا بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔

    اتھارٹی نے سپریم کورٹ کے 3 ستمبر 2025 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے جاری این او سی فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بحریہ ٹاؤن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی زمین یا تعمیر شدہ یونٹس کی فروخت، خریداری، بکنگ یا اشتہارات سے گریز کرے۔

    نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ الاٹیز کے مفادات کا تحفظ سپریم کورٹ کے 23 نومبر 2023 کے فیصلے کے مطابق کیا جائے گا اور بحریہ ٹاؤن سے کہا گیا ہے کہ وہ الاٹیز کی تفصیلات فراہم کرے۔

    ایف بی آر کا صلاحیت بڑھانے کیلئے 1600 آڈیٹرز بھرتی کرنے کا اعلان

    ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کیس: ملزم کی ضمانت مسترد، جیل بھیج دیا گیا

    چھ مسلم ممالک پر اسرائیلی حملے، قطرڈپلومیسی تو وڑ گئی، اربوں ڈالر تحائف کام نہ آئے

    آئی سی سی رینکنگ جاری، بابر اعظم ون ڈے میں تیسرے نمبر پر

  • بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    قومی احتساب بیورو(نیب)سندھ کی بحریہ ٹاؤن کراچی کیخلاف جاری تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نیب کی جانب سے بحریہ ٹائون کراچی کیخلاف تحقیقات مزید تیزکردی گئی ہیں اور نیب نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی کو منجمد کر دیا ہے۔ڈی جی نیب سندھ جاوید اکبر ریاض کی جانب سے جاری لیٹر میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے ایک ہزار کمرشل کمرشل پلاٹس کو فوری منجمد کرنے کا حکم دیا گیا۔نیب نے بحریہ ٹائون کو الاٹ شدہ زمین کے علاوہ مزید زمین پر قبضے کے شواہد بھی اکٹھے کرلئے ہیں۔

    عمرایوب کوبلاول بھٹو پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے،شرجیل میمن

    واضح رہے کہاس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔

    کم سن امریکی بچوں کی نازیبا وڈیوز بنانے والا ملزم کراچی سے گرفتار

    نیب نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر پشاور اور جام شورو میں زمینوں پر قبضے کیے، انہوں نے بغیر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی ہیں۔نیب کے مطابق ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے.

    یورپی یونین کا امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

    یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی اراضی کی الاٹمنٹ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ریفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور صوبائی وزیر شرجیل میمن کے نام خارج کرنے کی درخواست پر بڑا ریلیف دے دیا، آئینی بینچ نے دونوں رہنماؤں کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ان کی طلبی کے نوٹسز کو معطل کر دیا اور نیب کو ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    چین، روس اور ایران جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات ، بیجنگ میزبان

    ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والی 90 خواتین کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ مل گیا

  • بحریہ ٹاؤن کراچی کیس:بینک نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا

    بحریہ ٹاؤن کراچی کیس:بینک نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں 190 ملین پاؤنڈ ادائیگی سےمتعلق برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور متعلقہ بینک کی دستاویزات سامنے آگئیں جبکہ متعلقہ بینک نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرادیں۔

    باغی ٹی وی : دستاویز کے مطابق ادائیگی ذاتی ہدایات، رضامندی سے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی، 190 ملین پاؤنڈملک ریاض کے فیملی ممبر اکاؤنٹ ہولڈر کی تحریری ہدایت پر پاکستان ٹرانسفر ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر نے این سی اے کے کہنے پر نہیں بلکہ خود رقم پاکستان بھجوائی،یہ تاثر درست نہیں کہ رقم حکومت پاکستان کو بھجوائی گئی تھی۔

    این سی اےاور متعلقہ بینک کی دستاویزات برطانیہ کے قوانین کے مطابق ہیں، اس پر قانونی کارروائی کا حق بھی برطانیہ کی متعلقہ عدالتوں کے خصوصی دائرہ اختیار میں ہے،دستاویزات میں برطانیہ کے این سی اے کا 2019 میں لکھا گیا ایک خط بھی شامل ہے خط میں تصدیق کی گئی اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم متعلقہ عدالت نے خود خارج کردیا تھااس سے ثابت ہوتا ہے ایسی کوئی بھی رقم حکومت پاکستان کیلئے ضبط نہیں کی گئی تھی، اس کا مقصد بحریہ ٹاؤن کیلئے استعمال کیا جانا تھا –

    ملک ریاض کا انٹرویو ریکارڈ ہو گیا؟

    دوسری جانب ملک ریاض حسین نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سپریم کورٹ میں درخواست دے دی،درخواست میں کہا گیا کہ نیب 190 ملین پاونڈز معاملہ کی تحقیقات کر رہا ہے، سپریم کورٹ ریمارکس یا آبزرویشنز نیب کی تحقیقات متاثر کر سکتی ہے، نیب سپریم کورٹ کی آبزرویشنز کا تحقیقات میں اثر لے سکتا ہےملک ریاض نے درخواست میں استدعا کہ کہ سپریم کورٹ درخواست کا جائزہ لےکر مناسب حکم جاری کرے۔

    امریکا نےسکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کی بھارتی سازش ناکام بنادی

    دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش کینیب کی ٹیم عمران خان سے 15 نومبر سے تفتیش کررہی ہے، جیل ذرائع کے مطابق نیب ٹیم کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر مستنصر امام کی سربراہی میں عمران خان سے جیل میں تفتیش کی جیل ذرائع نے بتایاکہ نیب ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی سے تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش کی نیب ٹیم تفتیش کے بعد اڈیالا جیل سے روانہ ہوگئی۔

    پی ٹی آئی کیخلاف دائر انٹراپارٹی کیس کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے مملک ریاض کے ضبط کیے گئے 190 ملین پاؤنڈ ایک تصفیے کے تحت حکومت پاکستان کو منتقل کیے تھے عمران خان نے این سی اے کو اجازت دی تھی کہ یہ رقم براہِ راست سپریم کورٹ آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے، سابق وزیراعظم کے اس اقدام کا بظاہرہ فائدہ ملک ریاض کو ہوا ہے کیوں کہ انہیں ایک مقدمہ میں 460 ارب روپے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے اس تصفیے کے بدلے میں ملک ریاض سے مالی فوائد حاصل کیے ہیں جن میں القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کا معاملہ سر فہرست ہے۔

  • بحریہ ٹاؤن کراچی  کی زمین کا اصل رقبہ کیا ہے؟ عدالتی احکامات پر سندھ حکومت متحرک

    بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمین کا اصل رقبہ کیا ہے؟ عدالتی احکامات پر سندھ حکومت متحرک

    کراچی: بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق عدالتی احکامات پر سندھ حکومت متحرک ہوگئی-

    باغی ٹی وی : باخبر ذرائع کے مطابق بحریہ ٹاؤن مجموعی طور پر کتنی زمین پر قائم ہے اور زمین کی ملکیت کے حوالے سے تحقیقات کےلیے کمیٹی قائم کردی گئی سندھ حکومت کی جانب سے کمشنر کراچی کی سربراہی میں کمیٹی بنادی گئی ہے جو سات روز میں رپورٹ تیار کرے گی،محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے جس کے تحت کمیٹی اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ بحریہ ٹاؤں کی کتنی زمین خریدی گئی اور کتنی پرقبضہ ہوا۔

    تحقیقات میں نشاندہی کی جائے گی کہ بحریہ ٹاؤن کی زمین کا اصل رقبہ کیا ہے اور بحریہ ٹاؤن نے کن شرائط پر نجی افراد سے زمینیں خریدی ہیں، کمشنر کراچی کی سربراہی میں قائم کمیٹی گوگل میپ ، نقشوں اور تصویروں کے ساتھ مکمل رپورٹ پیش کرے گی۔

    اسٹیٹ بینک نےخواتین کو بلا سود قرضے کی سہولت کا آغاز کر دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے عمل درآمد بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں 16 ہزار ایکڑ زمین کی خریداری کے لیے 21 مارچ 2019 کو 460 ارب روپے کی پیش کش قبول کی گئی تھی لیکن اس کے لیے چند شرائط و ضوابط مقرر کیے تھے۔

    سپریم کورٹ کے 4 مئی 2018 کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو زمین کی منظوری، بحریہ ٹاؤن کی زمین کے ساتھ اس کا تبادلہ اور سندھ حکومت کی طرف سے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈ ایکٹ 1912 کی دفعات کے تحت جو کچھ بھی کیا گیا وہ غیر قانونی تھا زمین منافع بخش ہاؤسنگ اسکیم کے لیے دی گئی تھی لیکن ایم ڈی اے نے اس کے بجائے اپنی نجی ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کے لیے بحریہ ٹاؤن کراچی کے ساتھ زمین کا تبادلہ کیا۔

    میرپورخاص:پولیس کی کارروائی،3 لاکھ 70 ہزار مالیت کی شراب برآمد

    بحریہ ٹاؤن کراچی نے کورونا وائرس کی وجہ سے کساد بازاری کے پیش نظر سپریم کورٹ سے ادائیگی کا منصوبہ منجمد کرنے کی درخواست کی تھی اور استدعا کی کہ 2.5 ارب روپے کی ماہانہ اقساط کی ادائیگی سات ستمبر 2020 سے ستمبر 2023 تک مؤخر کر دی جائے،16 دسمبر 2020 کو سپریم کورٹ نے کورونا وائرس سے متعلق معاشی کساد بازاری کی وجہ سے 2.5 ارب روپے کی ماہانہ قسط کے لیے بحریہ ٹاؤن کراچی کو تین سال کی چھوٹ دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

    یاد رہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے مقدمہ لڑنے کے بجائے برطانوی تحقیقاتی ایجنسی سے تصفیہ کر لیا تھا، جس کے بعد این سی اے نے 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاست پاکستان کی ملکیت قرار دے دی تھی۔

    موقع ملا تو سندھ کے شہروں کو لاہور اور فیصل آباد جیسا بنائیں گے،سعد رفیق …

    معلومات کے مطابق یہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں پہنچنے کے بجائے سپریم کورٹ کے اُس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 بلین روپے ایک تصفیے کے تحت قسطوں میں ادا کر رہے ہیں اور یوں برطانیہ سے ریاست پاکستان کو منتقل ہونے والی رقم ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں سپریم کورٹ کو ادائیگی کے لیے دے دی گئی۔

    نیب کے مطابق الزام یہی ہے کہ لگ بھگ 40 ارب روپے جو کہ قومی خزانے سے تھے بحریہ ٹاؤن کے قرض کی مد میں ایڈجسٹ کیے گئے۔

    آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ