Baaghi TV

Tag: بحری ناکہ بندی

  • حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی پر عملی اقدامات شروع کرتے ہوئے سعودی جہازوں اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ جاری کر دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے ایف ایم ریڈیو پر انگریزی زبان میں ایک مختصر پیغام نشر کیا، جس میں سعودی عرب سے وابستہ تمام جہازوں کو ریڈ سی کے بجائے خلیجِ عدن کے راستے سفر کرنے کی ہدایت کی گئی پیغام میں کہا گیا کہ اگر سعودی جہازوں نے حوثیوں کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو وہ ان کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

    یونان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی مارسکس کے مطابق یہ اعلان خطے میں سمندری سلامتی کی صورتِ حال میں ایک اہم اور خطرناک پیشرفت ہے، کیونکہ اب کشیدگی فضائی اور سیاسی محاذ سے بڑھ کر بحری راستوں تک پہنچ چکی ہے، اگر حوثیوں نے اس ناکا بندی پر عملی کارروائی شروع کی تو ابتدائی طور پر سعودی ملکیت یا سعودی مفادات سے وابستہ تجارتی جہاز نشانہ بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ حوثیوں نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا تھا، بیان میں کہا گیا تھا کہ 20 جولائی سے سعودی بندرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت حوثیوں کی جانب سے ممنوع تصور کی جائے گی، جب کہ خلاف ورزی کرنے والے جہاز پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    حوثیوں کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے بھی خبردار کیا گیا کہ وہ سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں،ایسی سرگرمی میں ملوث جہازوں کو کسی بھی مقام پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اس کی سخت مذمت کی گئی بحیرۂ احمر اس وقت سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ بن چکا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

    بحری تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 19 جولائی کے دوران باب المندب کی گزرگاہ سے 209 تجارتی جہاز گزرے، جب کہ حوثی ماضی میں بھی اس علاقے میں متعدد جہازوں پر حملے کر چکے ہیں،باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سمندر ی تجارت کا تقریباً 15 فی صد حصہ گزرتا ہے،ماہرین کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اس علاقے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی شپنگ صنعت کو سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

  • جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں

    جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں

    ٹوکیو: جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے نبردآزما روس نے جاپان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرڈالی۔

    جاپان کی وزارت دفاع کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو بتایا گیا کہ روسی بحری جہاز جاپانی سمندری حدود کے عین باہر جنوبی جزیرے اوکینوتوری شیما کے قریبی پانیوں میں داخل ہوا۔

    جاپان کی بحری سیلف ڈیفنس فورس نے تصدیق کی کہ بدھ کی صبح پانچ بجے کے قریب خفیہ معلومات جمع کرنے والے روسی بحری جہاز تقریباً پینتالیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع جزیرے سے متصل زون میں داخل ہوا اور بعد ازاں مغرب کی جانب روانہ ہوگیا۔جاپانی وزارت دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ بحری جہاز کتنی دیر تک اس زون میں رہا؟

    اس سے قبل وزارت نے بحری سیلف ڈیفنس فورس نے انکشاف کیا کہ تین روسی بحری جہاز بحیرۂ مشرقی چین سے بحیرۂ جاپان میں داخل ہونے کے لیے منگل سے بدھ کے روز آبنائے تسُوشیما سے گزرے تھے، یہ آبنائے جاپان کے مرکزی جنوب مغربی جزیرے کیُوشُو اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان واقع ہے۔

    وزارت کا کہنا تھا کہ ان بحری جہازوں میں ایک تباہ کن اور ایک فریگیٹ شامل تھا، وہ پیر کی شام کو بحیرۂ مشرقی چین میں سینکاکُو جزائر سے متصل زون میں بھی داخل ہوئے جبکہ ایک پیر کو پہلے ہی زون میں تھا۔

    وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ جنگی بحری جہازوں کا اس زون سے گزرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے تاہم حکام روسی بحری جہازوں یہاں آنے کے مقصد کا تجزیہ کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ جزائر جاپان کے زیر انتظام ہیں، چین اور تائیوان ان کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جاپانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان کی خود مختاری کا کوئی حل طلب معاملہ وجود نہیں رکھتا۔

  • چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    لاہور(……9251 +)ہندوستان نے اپنی بحریہ کومزید 57 رافیل جنگی طیاروں سے لیس کرکےپاکستان اورچین کوپیغام بھیج دیا،اطلاعات ہیں‌ کہ ہندوستانی بحریہ کل اپنی بحریہ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کچھ کرنے جارہا ہے ، اس حوالے سے ہندوستانی دفاعی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنی بحریہ کومزید مضبوط کرکے پاکستان اور چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہندوستان سے کبھی بھی نہ ٹکرانا

    ادھرہندوستانی افواج کی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنے نئے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ملٹی رول کیریئر پر مبنی جنگی طیاروں کی تلاش میں ہے جو اس وقت بھارت کی سمندری حدود میں آزمائش کے مرحلے میں ہے اور کارکردگی چیک ہونے کے بعد اس کو شامل کیا جائے گا
    ادھر ہندوستانی بحریہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ MiG-29K کو تبدیل کرنے کے لیے جڑواں انجن والا طیارہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو فی الحال INS وکرمادتیہ سے چل رہا ہے۔

     

     

    ہندوستانی بحریہ 6 جنوری سے گوا میں آئی این ایس ہنسا میں ساحل پر مبنی ٹیسٹ سہولت میں رافیل لڑاکا طیاروں کے بحری ورژن کی فلائٹ ٹیسٹنگ کرے گی تاکہ 40,000 ٹن وزنی کیریئر آئی این ایس وکرانت کے مطابق بہترین جنگی طیارے کا تعین کیا جا سکے۔

    شاید اسی طاقت کے بل بوتے پر ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرمبیر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی بحریہ ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ جنگجوؤں کے مشترکہ حصول کا پیچھا کر سکتی ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روسی ساختہ جنگی طیاروں خاص کر میگ 29 کے متبادل کے طور پر ہندستانی بحریہ نے ڈائریکٹوریٹ آف نیول ایئر اسٹاف کی طرف سے جنوری 2017 میں ملٹی رول کیریئر برن فائٹر کے لیے معلومات کی درخواست (RFI) جاری کی گئی تھی کیونکہ فی الحال آپریشنل Mig-29K کو 2034 میں مرحلہ وار ختم کیا جانا ہے۔

    ہندوستانی بحریہ نے اپنے بحری بیڑوں کو مضبوط سے مضبوط تربنانے کےلیے مبنی جڑواں انجن لڑاکا طیاروں کے لیے عالمی ٹینڈر کا جائزہ لینے کا انتخاب کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹوئن انجن ڈیک بیسڈ فائٹر (ٹی ای ڈی بی ایف) 2032 تک پہنچنا ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کل ہونے والے جنگی مظاہروں کے بعد اگرکوئی صورت حال تسلیٰ‌ بخش ہوتی ہے تو پھر ہندوستانی بحریہ اسی مقام پر رافیل-ایم (میرین) طیارے کے متبادل کے طور پر امریکی F-18 سپر ہارنٹس کی جانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بوئنگ F-18 سپر ہارنیٹ امریکی بحریہ کے لیے ایک آزمائشی اور ہندوستانی بحریہ کی ڈیمانڈ پر مبنی ملٹی رول فائٹر ہے، جس میں 1991 کی خلیجی جنگ سے متعلق حیرت انگیز مشنز ہیں۔

     

    بھارتی دفاعی حکام کے درمیان چلنے والی گفتگو اور باہمی پیغام رسانی سے یہ بھی چیزیں‌ سامنے آئی ہیں‌کہ IAC-1 کو INS وکرانت کے طور پر 15 اگست 2022 کو ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پرہندوستانی بحری بیڑوں میں آپریشنل کرنے کا پروگرام ہے ۔ ہندوستانی بحریہ طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں سے 2022 میں چار سے پانچ Rafale-M طیارے لیز پرلینے کا پروگرام بنا چکی ہے تاکہ طیارہ بردار جہاز کو آپریشنل بنایا جا سکے۔

    ہندوستان میں امبالہ ایئربیس پر پہلے ہی رافیل کی دیکھ بھال اور پرواز کی تربیت کی سہولت موجود ہے۔ بحریہ کے ہوا بازوں کو آئی این ایس ہنسا میں تربیت دی جائے گی۔

    اس موقع پر یہ بھی بتا دوں کہ چند دن پہلے اپنے حالیہ دورہ ہندوستان میں، فرانسیسی وزیر دفاع نے بھی ہندوستان کو کیرئیر پر مبنی رافیل کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔فرانسیسی وزیردفاع کا کہا تھا – "ہمیں معلوم ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جلد ہی پہنچ جائے گا…اور اس کے لیے مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہندوستان دوسرا رافیل خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت، اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ہندوستان کو ضرورت ہو تو فرانس ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ حاصل کیے جانے والے 36 سے زائد رافیل لڑاکا طیارے فراہم کرے گا۔

     

    2016 میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی، Dassault Aviation بحریہ کے ساتھ Rafale کے بحری قسم کی فروخت کے بارے میں بات چیت کر رہی تھی۔

    ہندوستانی بحریہ کو بوئنگ کا جڑواں سیٹوں والا F/A-18 بلاک III سپر ہارنیٹ اس کے RFI کے جواب میں 57 ملٹی رول کیریئر پر مبنی فائٹرز کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سپر ہارنیٹ بلاک III سپر ہارنیٹ کا سب سے نفیس قسم ہے اور چوتھی نسل کی لڑاکا صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑتا ہے۔

    ٹچ اینڈ گو لینڈنگ Rafale-M – امریکی بحریہ کے ذریعےیہ طیارہ "اسکی جمپ” ریمپ سے چل سکتا ہے اور اسے ہندوستانی تجزیہ کاروں کے ذریعہ "محفوظ ہند-بحرالکاہل کے لئے فعال کرنے والا” کا نام دیا گیا ہے، جنہوں نے سپر ہارنٹس کی صلاحیتوں اور ہندوستانی بحریہ کے لئے موزوں ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔ یورو ایشین ٹائمز

    "F/A-18 سپر ہارنیٹ بلاک III ہندوستانی بحریہ (IN) کو پیش کش پر ہے جو امریکی بحریہ (USN) کا سب سے جدید، کثیر کردار، فرنٹ لائن لڑاکا ہے اور یہ بیڑے کے لیے ورک ہارس ہے، اور ایسا ہی رہے گا۔ ،‘‘ انکور کناگلیکر، ہیڈ انڈیا فائٹرز سیلز، بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی، نے پہلے فنانشل ایکسپریس کو بتایا۔

    فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ رافیل میرین فائٹرز کو سپر ہارنٹس پر برتری حاصل ہے کیونکہ فرانس اور ہندوستانی حکومت کے درمیان 36 رافیل ڈبلیو کے لیے 8.7 بلین ڈالر کی ایک میگا ڈیل طے پائی تھی۔

    ادھر بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی بحریہ ایک طرف پاکستان کوجواب دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف بھارت ، جاپان ،آسٹریلیا اور امریکہ کے ساتھ ملکر جنوبی چین اور کواڈ ممالک کے درمیان ہونے والے جنگی معاہدوں کے مطابق چین کے بحری راستوں کی ناکہ بندی کے لیے استعمال ہوں گے جس کا مقصد چین کی بحری ناکہ بندی کرکے چین کومعاشی طورپرکمزوراور تباہ حال کرنا ہے