Baaghi TV

Tag: بحیرہ احمر

  • حوثیوں کا بحری جنگ میں نیا حملہ: جنگ بندی مذاکرات مشکل میں،تحریر ، ناصر اسماعیل

    حوثیوں کا بحری جنگ میں نیا حملہ: جنگ بندی مذاکرات مشکل میں،تحریر ، ناصر اسماعیل

    صنعاء/غزہ: یمنی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے تجارت کرنے والے ایک اور تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف جنگ بندی کے مذاکرات میں نئی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔

    بحری راستوں پر حوثیوں کا کنٹرول
    حوثی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق:
    – "ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ اسرائیل کو سپورٹ کرنے والا کوئی بھی جہاز محفوظ نہیں ہوگا”
    – گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں یونانی پرچم والے جہاز "ٹیوٹر” کو نشانہ بنایا گیا
    – جہاز میں موجود 25 ملاحوں میں سے صرف 6 کو بحفاظت نکالا جا سکا

    غزہ: جنگ کے ایک اور خونریز دن
    مقامی ذرائع کے مطابق:
    – رفح کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں 23 شہری ہلاک
    – متاثرین میں 8 بچے اور 5 خواتین شامل
    – مقامی ہسپتالوں میں زخمیوں کا انبار، طبی سہولیات ناکافی

    مذاکرات کا اہم موڑ
    قطر میں جاری مذاکرات کے بارے میں خصوصی ذرائع کا کہنا ہے:
    – "نطزاریم کوریڈور” پر تنازعہ سب سے بڑی رکاوٹ
    – حماس کا اصرار: اسرائیلی فوجی مکمل انخلا کریں
    – اسرائیلی موقف: سلامتی کے لیے راستہ پر کنٹرول ضروری

    علاقائی ردعمل
    – ترکی: زبانی مذمت کے باوجود اسرائیل سے تجارت جاری
    – آذربائیجان: تیل کی ترسیل کے بدلے جدید اسلحہ حاصل کر رہا
    – ایران: حوثیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے

    انسانی حقوق کی پامالی
    اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا دعویٰ:
    – "غزہ میں انسانی المیہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے”
    – "امریکی پابندیاں حقائق کو چھپانے کی کوشش”

    اختتامیہ:
    صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف بحیرہ احمر میں بحری تجارت کو خطرات لاحق ہوں گے، بلکہ غزہ میں انسانی المیے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

  • بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر راکٹ حملہ، کشیدگی میں اضافہ، تحقیقات جاری

    بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر راکٹ حملہ، کشیدگی میں اضافہ، تحقیقات جاری

    بحیرہ احمر میں یمن کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز پر مسلح افراد نے بندوقوں اور راکٹ لانچروں سے خوفناک حملہ کر دیا، واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے گئے۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔برطانوی فوج کے زیر نگرانی یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود سیکیورٹی ٹیم نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    میری ٹائم سیکیورٹی فرم "امبری” کے مطابق حملہ آٹھ کشتیوں (اسکفز) کے ذریعے کیا گیا جب تجارتی جہاز شمال کی جانب سفر کر رہا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا۔یاد رہے کہ یمن کے حوثی باغی ماضی میں بھی بحیرہ احمر میں اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں تجارتی اور فوجی جہازوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ یہ حملے غزہ پر اسرائیلی بمباری کے جواب میں کیے جاتے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2023 سے جنوری 2025 کے درمیان حوثی باغیوں نے 100 سے زائد تجارتی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں دو جہاز تباہ اور چار ملاح جاں بحق ہوئے، جب کہ اس اہم سمندری گزرگاہ پر سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زائد کی تجارت شدید متاثر ہو چکی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں سیکیورٹی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے، عالمی برادری کی جانب سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    نیتن یاہو واشنگٹن روانہ، کل صدر ٹرمپ سے ملاقات

    گوجرانوالہ: تھانے کی حوالات سے 5 ملزمان فرار،غفلت پر انکوائری کا حکم

    یوم عاشور سیکیورٹی انتظامات، وزیراعظم کا وزیرداخلہ اور وزرائے اعلیٰ کو خراج تحسین

    روہڑی جنکشن پر مشتعل افراد کی توڑ پھوڑ، ویڈیو وائرل، ریلوے حکام خاموش

    غزہ مٰیں مزید 80 فلسطینی شہید، مجموعی شہادتیں 57 ہزار سے تجاوز

  • امریکا نے بحیرہ احمر میں اپنا ہی لڑاکا طیارہ مار گرایا

    امریکا نے بحیرہ احمر میں اپنا ہی لڑاکا طیارہ مار گرایا

    امریکا نے غلطی سے بحیرہ احمر میں اپنا ہی لڑاکا طیارہ مار گرایا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ غلطی سے گرائے گئے امریکی طیارے کے دونوں پائلٹ بچ گئے ہیں تاہم ایک کو معمول زخم آئے ہیں، ایف اے 18 ہارنیٹ طیارہ بحیرہ احمر میں امریکی جہاز کے قریب سے گزر رہا تھا ، میزائل کروز گیٹس برگ نے غلطی سے میزائل مار کر طیارے کو نشانہ بنایا، امریکی حکام نے اس ”فرینڈلی فائرنگ“ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

    واضح رہے کہ بحیرہ احمر گزشتہ ایک برس سے ملٹری حب بنا ہوا ہے اور امریکی فورسز یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس نے خطے میں جہاز رانی کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں۔

  • امریکا :بحیرہ احمر کی حفاظت کیلئے 12 سے زائد اتحادیوں کے ساتھ نئی فوج تشکیل

    امریکا :بحیرہ احمر کی حفاظت کیلئے 12 سے زائد اتحادیوں کے ساتھ نئی فوج تشکیل

    امریکا نے بحیرہ احمر کی حفاظت کے لیے 12 سے زائد اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئی فوج تشکیل دے دی ۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا سمیت 12 سے زائد ممالک کے جنگی جہاز اور ان پر تعینات فوجی بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی سلامتی یقینی بنائیں گے اس فوج میں شامل جہاز اور فوجی مشترکہ گشت بھی کریں گےامریکی وزیر خارجہ لائیڈ آسٹن نے دو دن قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ خطے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر بحیرہ احمر کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات ناگزیر ہیں۔

    ممالک نے اس اتحاد میں اعلانیہ شمولیت اختیار کی ہے جبکہ متعدد ممالک نے خاموشی سے متعلقہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں اس 12 ملکی اتحاد میں امریکا کے علاوہ برطانیہ ، کینیڈا، فرانس ، اٹلی،اسپین، ناروے ، نیدر لینڈز ، بحرین سمیت دیگرشامل ہیں۔

    آڈیو لیکس کیس: ایف آئی اے سمیت دیگر کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت

    https://x.com/GlobeEyeNews/status/1736994371504074986?s=20
    https://x.com/Sprinter99800/status/1737368893948076097?s=20
    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں نے بحیرہ احمر سے گزرنے والے مال بردار اور تیل بردار جہازوں پر حملے بڑھادیئے تھے جس کے نتیجے میں علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے تھے اور اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیموں میں بھی اضافہ ہوا تھا، صورتِ حال کی سنگینی کے پیش نظر برٹش پٹرولیم، مرسک اور دیگر بہت سے بڑے کاروباری اداروں نے اپنے جہازوں کا روٹ بدل کر انہیں جنوبی افریقا کی کیپ آف گڈ ہوپ بندر گاہ سے گزارنے کا اعلان کیا تھا۔
    https://x.com/Sprinter99800/status/1737368893948076097?s=20

    عمران خان سائفر کیس،درخواستگزار کو رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت،سماعت ملتوی

  • یوم تاسیس پر بحیرہ احمر کے پانیوں میں سعودی عرب کا پرچم لہرا دیا

    یوم تاسیس پر بحیرہ احمر کے پانیوں میں سعودی عرب کا پرچم لہرا دیا

    جدہ: 20 سعودی شہریوں نے یوم تاسیس کی خوشی میں جدہ میں بحیرہ احمر کے پانیوں میں 30 فٹ نیچے سعودی عرب کے یوم تاسیس کا جشن منایا اور اس موقعے پر مملکت کا پرچم زیر آب لہرایا گیا سعودی شہری "ایکو آف دی ڈیپ” اور "لیٹس گو” کی ٹیم میں شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : ” العربیہ ” کے مطابق سعودی غوطہ خورٹیم ’چلو غوطہ لگائیں‘ کے رکن کیپٹن فیصل فلیمبان کا کہنا تھا کہ سمندر کے نیچے یوم تاسیس منانے کا اپنا ہی مزہ ہے اس تجربے میں غوطہ خوری کی خوشی، جشن کی خوشی اور سعودی عرضہ کی کارکردگی شامل ہے جہاں 20 غوطہ خوروں نے تھوبے، شماغ، دقلہ اور قمنا جیسا لباس زیب تن کیا اس طرح انہوں نے سمندر میں تیس فٹ کی گہرائی پر سعودی عرب کا قومی پرچم لہرایا۔

    دنیا کے سب سے خوبصورت اور جدید ’میوزیم آف دی فیوچر‘ کا افتتاح

    انہوں نے کہا کہ کسٹم سوٹ کے بغیر غوطہ خوری کے لیے پیشہ ورانہ اور اعلیٰ درجے کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ہر غوطہ خور کو تفویض کیے گئے وزن اور فن اسٹروک کو مدنظر رکھا جاتا ہے یہ اقدام بطور پیشہ ور غوطہ خوروں کی ان کی کوششوں سے کیا گیا تھا اور اس کام کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں کئی ریہرسل اور آلات کی مشق کرنے میں کئی ہفتے لگے۔

    سوئس سیکرٹس: مزید بین الاقوامی رہنماؤں اور اہلخانہ کے خفیہ اکاؤنٹس سامنے آگئے

    واضح رہے کہ یوم تاسیس ایک قومی موقع ہے سعودی عرب میں ہرسال 22 فروری کو یوم تاسیس منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔جس میں مملکت سعودی عرب، قیادت اور عوام سنہ 1727 عیسوی یعنی 3 صدیاں پہلے مملکت کے قیام کی یاد مناتے ہیں اس میں شان و شوکت سے متعلق مختلف ضروری تاریخی معانی،سعودی ریاست کے ورثہ،عظمت اور بہادری کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس عظیم قومی دن کی مناسبت سے سعودی عرب کے پاسپورٹ ڈاریکٹوریٹ نے یہ مہر جاری کی ہے جسے مملکت کی بین الاقوامی گذرگاہوں پر گذرنے والے مسافروں کی دستاویزات پر لگایا گیا۔

    ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا…