Baaghi TV

Tag: بدترین ٹریفک جام

  • کراچی میں بدترین ٹریفک جام، اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں

    کراچی میں بدترین ٹریفک جام، اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں

    کراچی میں ایک بار پھر بدترین ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی مفلوج کر دی، متعدد اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔ گرومندر، جمشید روڈ، نمائش، ایم اے جناح روڈ اور صدر کی سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں دیکھی گئیں، جبکہ شہریوں کو گھنٹوں طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا۔شاہراہِ فیصل، گلستانِ جوہر، گلشنِ اقبال، نیپا، لیاقت آباد، تین ہٹی، لسبیلہ اور ناظم آباد کے علاقوں میں بھی ٹریفک کی صورتحال شدید خراب رہی۔

    ٹریفک جام کے باعث دفاتر، اسکولوں اور دیگر اہم مقامات جانے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیاں رینگتی ہوئی نظر آئیں۔ شہریوں نے انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    افغان طالبان کا بین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار

    اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ڈیفنس فلیٹ سے برآمد، طبعی موت کا شبہ

    پاک فضائیہ کی بھارت سے جھڑپ میں کارکردگی قابل ستائش، چینی ایئر چیف کا اظہارِ تحسین

    اٹلی:ایک شخص سیکیورٹی توڑ کر جہاز کے انجن میں جا گھسا، ہلاک

    10 جولائی تک شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا ملک گیر الرٹ جاری

  • پانی و بجلی کی بندش کیخلاف کراچی شہر میں احتجاجی مظاہرے، بدترین ٹریفک جام

    پانی و بجلی کی بندش کیخلاف کراچی شہر میں احتجاجی مظاہرے، بدترین ٹریفک جام

    کراچی میں پانی اور بجلی کی بندش کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں مختلف مقامات پر بدترینٹریفک جام کی صورتحال ہے، حکام کے مطابق عوامی غصے میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سسٹم کے لیے جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران پرانی سبزی منڈی کے قریب یونیورسٹی روڈ پر پانی کی لائن ٹوٹنے سے شہریوں کو جمعہ تک پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کو اپنے گھروں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مختلف علاقوں میں دونوں اطراف سے متعدد سڑکیں مکینوں کی جانب سے بلاک کی گئیں، جس کےنتیجے میں ٹریفک حکام کو ٹریفک متبادل راستوں پر موڑنے پر مجبور ہوئے، جہاں ٹریفک کے سست روی کے ساتھ چلنے کی اطلاعات ہیں۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہر بھر کی اہم سڑکوں پر کئی احتجاج اور دھرنے ہوئے،مرکزی ایم اے جناح روڈ پر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ریٹائرڈ ملازمین نے اپنی پنشن کے معاملے پر مظاہرے کیے، اسکے علاوہ تمام جگہوں پر احتجاج پانی اور بجلی کے مسائل پر کیے گئے۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا کے مطابق پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف مظاہروں کی وجہ سے اولڈ سٹی ایریاز بالخصوص آرام باغ، عیدگاہ چوک، تبت سینٹر اور فریسکو چوک سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ پولیس کو امن و امان کی صورتحال کے بگڑنے کے ساتھ مزید مظاہروں اور دھرنوں کی توقع ہے کیونکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ پرانی سبزی منڈی کے قریب پانی کی لائن ٹوٹنے کی وجہ سے شہر کے متعدد علاقوں میں جمعہ تک پانی کی سپلائی نہیں ہو سکتی۔

    ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ حکام کو ان شہری مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پولیس مظاہرین کے ساتھ بات چیت کرسکتی ہے یا ٹریفک کو موڑنے اور ریگولیٹ کرنے میں مدد کرسکتی ہے لیکن وہ پانی فراہم نہیں کرسکتے۔سید اسد رضا نے کہا کہ مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ تجاوزات کے خاتمے سمیت متعدد اقدامات کرکے ٹریفک کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس کوششیں کر رہے ہیں۔نئے تعینات ہونے والے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران شہر میں کم از کم 190 احتجاج اور دھرنے ہوئے جن کی بڑی وجہ پانی، بجلی اور دیگر مسائل تھے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تین ہٹی، گرو مندر، لیاری، غریب آباد، لیاقت آباد، عسکری پارک، سبزی منڈی، قائد آباد، داؤد چورنگی، لنک روڈ اور سہراب گوٹھ رہے۔پانی اور بجلی کے مسائل کے خلاف روزانہ اوسطاً دو سے تین احتجاج ہوتے ہیں، سربراہ ٹریفک پولیس کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقی اور سنجیدہ مسئلہ ہے، جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہ نجف کے قریب جہانگیر روڈ کے دونوں ٹریک ٹریفک کے لیے بند رہے کیونکہ رہائشیوں نے پانی اور بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج کیا۔

    مزید بتایا کہ متعدد ملحقہ سڑکوں جیسے نمائش چورنگی سے گرو منڈی، بہادر یار جنگ روڈ اور بزنس ریکارڈر روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے باعث شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستان اسٹیٹ آئل کے پٹرول پمپ کے قریب جمشید روڈ کے دونوں ٹریک انہی مسائل کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند رہے، لانڈھی 89 کے مکینوں نے پانی نہ ہونے کے باعث مین روڈ کے دونوں ٹریک بلاک کر دیے، جبکہ مرتضیٰ چورنگی بھی اسی مسئلے پر بند رہی۔پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف مکینوں کے احتجاج کے باعث گارڈن میں مین روڈ کے دونوں ٹریک بھی ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے، کورنگی انڈسٹریل ایریا سے بھی ایسے ہی مظاہروں کی اطلاع ملی۔

    50 روز گر گئے، پولیس ننھے صارم کے ملزم کا سراغ لگانے میں ناکام

    میئر پشاور کے اجلاس نہ بلانے پر ہنگامہ، ارکان نے گیٹ توڑ دیا

    افغان کارڈ رکھنے والوں کو واپس بھجوانے کے منصوبے کا آغاز

    رمضان المبارک کے لیے اسکولوں کے اوقات کار جاری

    کراچی، ڈمپرز میں فرنٹ اور رئیرویو کیمرہ لگانا لازمی

  • جماعت اسلامی وفد کی آئی جی سندھ سے ملاقات ،ٹریفک حادثات میں اموات پر اظہار تشویش

    جماعت اسلامی وفد کی آئی جی سندھ سے ملاقات ،ٹریفک حادثات میں اموات پر اظہار تشویش

    منعم ظفر خان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے ملاقات کیاور حادثات بالخصوص ڈمپرزو ٹینکرز کی ٹکر سے شہریوں کی بڑھتی ہوئی اموات ، بدترین ٹریفک جام اور ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے تبادلہ ٴ خیال کیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات مٰن وفد کا کہنا تھا کہ ٹریفک حادثات میں اس قدر بڑے پیمانے پر شہریوں کی اموات نہایت تشویش ناک امر ہے ، ان حادثات کا سبب بے ہنگم ٹریفک اور بے قابو ہیوی وہیکل کی شہر میں غیرقانونی آمد ورفت ہے ، ڈمپرز ، ٹینکرز اور ٹرالرز مقرر اوقات اور مقررہ راستوں سے ہٹ کر سارے شہرمیں چلتے نظر آتے ہیں ،ان کے اکثر ڈرائیورز غیر لائسنس یافتہ اور ٹریفک کے اُصولوں سے ناواقف ہیں ، حادثہ میں ضمانت اور نرم سزائوں کے قانون نے ان ڈرائیو رز کو قانون کی گرفت سے بے خوف کردیا ہے ، جماعت اسلامی کے وفد میں پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر و اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ ،نائب امراء جماعت اسلامی کراچی راجہ عارف سلطان اور مسلم پرویز شامل تھے۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ لائسنس کے اجراء کو آسان بنایا جائے ، چنگ چی رکشائوں کو متعین جگہوں پر پارکنگ کا سختی سے پابند کیا جائے ، سڑکوں پر موجود تجاوزات ختم کی جائیں ، ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو یونین کمیٹیز کے تعاون سے بہتر بنایا جائے اور ہر سطح پر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم بنایا جائے ،انہوں نے آئی جی سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ سارے شہر میں چنگ چی اور رکشائوں کی بے ہنگم پارکنگ نے شہر میں ٹریفک جام معمول بنادیا ہے ، ایک جانب شہری صوبائی حکومت اور کے ایم سی کی نااہلی کے سبب سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ سے اذیت میں مبتلا ہیں دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ کی لاقانونیت اور ٹریفک پولیس کی خراب کارکردگی نے بھی شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ، کراچی اگر ذمہ دار صوبائی حکومت اور حقیقی منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں ہوتا توشہر میں موثر ماس ٹرانزٹ سسٹم ہوتا ،شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بہترین بسیں مہیا ہوتیں جس کا سلسلہ نعمت اللہ خان کے دور میں شروع ہوا تھا اور کراچی کے 65فیصد شہری موٹر سائیکلوں اور چنگ چی رکشائوںمیں سفر کرنے پر مجبور نہ ہوتے .

    منعم ظفر خان نے اس بات پر زور دیا کہ ٹریفک حادثات سے کسی بھی صورت میں شرپسندوں کو فائدہ اُٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے اور ان معاملات کو لسانی رنگ دینے اور مختلف طبقات میں کشیدگی کا سبب نہیں بننے دیں گے ۔ملاقات میں سیف سٹی پروجیکٹ کی جلد تکمیل پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی ، آئی جی سندھ نے اس موقع پر ٹریفک کی بہتری اور سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے پولیس کے اقدامات پر بریفنگ دی اور جماعت اسلامی کی جانب سے مثبت تجاویز کا خیر مقدم کیا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    بارودی مواد کا سراغ لگانے والی جدید مشینیں اے ایس ایف کو دینے کا فیصلہ

    حکومت کا ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا ارادہ نہیں، عرفان صدیقی

    پاکستان کو شکست، نیوزی لینڈ نے سہ ملکی ون ڈے سیریز جیت لی

    ،پنجاب میں خشک سالی کا الرٹ جاری

    افغان طالبان نے 34 ملین ڈالر کی 9 منزلہ تجارتی عمارت بنا لی

  • کراچی: بدترین ٹریفک جام، شہری پریشان

    کراچی: بدترین ٹریفک جام، شہری پریشان

    کراچی میں ڈسکو بیکری سے لے کر موتی موڑ تک شدید ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گلشن پل کے اوپر بھی سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور بڑی تعداد میں شہری نصف گھنٹے سے زائد وقت سے اس پیچیدہ صورتحال میں محصور ہیں۔ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کا کنٹرول کے لیے کوئی نمائندہ نظر نہیں آ رہا، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی قطاریں موچی موڑ سے لے کر ڈسکو بیکری تک پھیل چکی ہیں۔اس ٹریفک جام میں ایمبولینسز بھی پھنسی ہوئی ہیں، جو کہ ہنگامی صورتحال میں طبی امداد فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔شہریوں نے بدانتظامی سے بچنے کے لیے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو غلط سمت میں چلانا شروع کر دیا ہے، جس سے مزید مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، لوگ ٹریفک جام سے بچنے کے لیے گلیوں کے اندر داخل ہونے لگے ہیں، جس سے علاقے میں مزید افراتفری پھیل رہی ہے۔

    صدر مملکت سے 38 ویں ایئر وار کورس کے شرکاء کی ملاقات

    سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے 12 ناموں کی منظوری

    پسند کی شادی ،شوہر نے بیوی کو قتل کردیا

    ٹرمپ نے حاملہ خواتین کو قبل از وقت زچگیوں پر مجبور کردیا