Baaghi TV

Tag: برائی

  • اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اللہ پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی ذکر آیا ہے رب العالمین اور رحمت العالمین آیا ہے. یعنی رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لئے ہیں.

    کسی جگہ بھی صرف مسلمانوں کا رب یا صرف مسلمانوں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذکر نہیں آیا لیکن ہم لوگ اسلام کے خودساختہ ٹھیکیدار بن گئے.

    اگر اللہ پاک اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود لوگوں کو بشمول مسلمان رزق دے رہا ہے ان پر اپنی عنایات کی بارش کر رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر تنقید کرنے والے اور اس کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے.

    لیکن اس کے برعکس ہم نے لوگوں کے افعال کی بنیاد پر ان کے ایمان کا فیصلہ کر کے موقع پر ان کے ساتھ فوری انصاف کر کے دنیا میں اسلام کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا.

    جب بھی کہیں بھی شدت پسندی کا ذکر آتا ہے تو توجہ بےاختیار مسلمانوں کی طرف چلی جاتی ہے اس کی وجہ دنیا بھر میں بننے والا ہمارا تنگ نظری اور شدت پسندی کا امیج ہے.

    دین اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو وضاحت سے بیان کیا گیا.. ساتھ ہی حقوق اللہ پر یہ کہہ کر حقوق العباد کو فوقیت دی گئی کہ روزمحشر اللہ پاک حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی کو تو اپنی رحمت سے درگزر کر دے گا.

    لیکن اگر کسی نے حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی کی تو جب تک وہ شخص جس کا مذکورہ شخص نے حق غضب کیا اسے معاف نہیں کرے گا اللہ پاک بھی اس شخص کو معاف نہیں کرے گا.

    یہ بات تمام مسلمانوں کی تربیت کے لئے اللہ پاک نے تاکید سے بیان کی کیونکہ دنیا میں دین پھیلانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے قول و فعل سے دوسرے لوگوں کو متاثر کریں.

    لوگ آپ کی شخصیت دیکھ کر سوچیں کہ اگر یہ شخص اتنا اچھا ہے تو اس شخص کا دین کتنا اچھا ہو گا اور اس تجسس کی بنیاد پر وہ شخص دین کا مطالعہ شروع کرے اور آخرکار اسلام کی حقانیت کا قائل ہو جائے.

    لیکن ہم لوگوں نے اس کے بالکل برعکس طرزِ عمل شروع کر دیا.. ہماری ابتدا فرقہ ورانہ اختلافات سے شروع ہو کر اب اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کا اپنے سے معمولی اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کر سکتے.

    وہ دین جو ہمیں عفو درگزر کی تعلیم دیتا تھا اب ہم اس کے برعکس فوری بدلہ لینے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنے طرز عمل پر پچھتاتے ہیں کہ ہم نے جذبات میں آکر غلط قدم اٹھا لیا.

    جذبات میں آکر فوری ردعمل دے کر ہم اپنا اور دوسروں کا گھر خراب کرتے ہیں.. پہلے چند مخصوص موضوعات یا افعال ایسے ہوتے تھے جن پر لوگ فوری ردعمل دیتے تھے اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن اب تو لوگوں کو عدم برداشت اور ردعمل دینے کے لئے بہانہ درکار ہوتا ہے.

    ہم میں عدم برداشت پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے موقف کو سنتے، سمجھتے اور برداشت نہیں کرتے ہیں.ہم لوگوں کے بارے میں ایک مخصوص سوچ قائم کر لیتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو اسی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس پر ردعمل دیتے ہیں.

    ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی بندہ دس باتیں غلط یا اختلافی کرتا ہے تو وہ ایک بات یا عمل ایسا کر دیتا ہے جو اس کے گزشتہ اعمال یا باتوں کا مداوا ہوتا ہے. ہم اس شخص سے اس کی دس غلط باتوں پر تنقید کے لئے نہیں ملتے بلکہ اس سے ایک صحیح بات حاصل کرنے کے لئے ملتے ہیں.

    ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے عدم برداشت کے رویے کی وجہ سے دنیا میں ہمارا منفی امیج بن گیا ہے اور ہمیں خود میں برداشت پیدا کر کے اپنا امیج منفی سے مثبت کرنا ہے.

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا اگر آپ کو کوئی بات ناگوار یا اپنے عقائد کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو آپ ایسی محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں.

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نظریے یا عقائد کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل اختیار کریں اور مزے کریں.

    اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل سے باہر نکلنا پڑے گا اور خود میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ علم دنیا میں موتیوں کی طرح بکھرا ہوا ہے اور اسے ہر جگہ گھوم پھر کے حاصل کرنا پڑتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نظریے کی ترویج ہو تو اس کے لئے ہمیں پہلے خود کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانا پڑے گا اور اس کے بعد اپنے طرزِ عمل سے دوسروں کو متاثر کر کے انہیں اپنے نظریے کی طرف راغب کرنا پڑے گا اور یہ سب اس وقت ممکن ہو گا جب ہم میں برداشت پیدا ہو گی. نہیں تو لوگ یہ کہہ کر ہمارے نظریے سے دور ہوتے جائیں گے کہ اسلام تو اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں.

  • دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟  محمد عبداللہ

    دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟ محمد عبداللہ

    ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری شادی پر لاگو شرائط مثلاً بیوی سے اجازت کے ساتھ ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز وہ اٹھا رہے ہیں جن کی ابھی ایک بھی نہیں ہوئی اور اگلے کئی سالوں تک دور دور تک ان کی کنوارگی ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے.

    بہر حال یہ شرائط کسی طور بھی مدینہ کی اسلامی ریاست میں لاگو نہیں تھیں. دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنا خالصتا کسی بھی فرد کا ذاتی، انفرادی اور خاندانی ایشو یا عمل ہے گورنمنٹ اور مصالحتی کمیٹیوں اور کونسل کو ان میں دخل دینے کا اختیار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے. یہ ہمارے برصغیر کا ہی ایشو ہے جس میں دوسری، تیسری شادی کو برائی کی حد تک معیوب سمجھا جاتا ہے. یہاں پر سوکن اور دوسری شادی جیسے لفظوں کو گالی کی حد تک برا سمجھا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے ہمارے مقامی معاشرے میں بالکل بھی برداشت یا قبولیت نہیں ہے.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    حالانکہ دوسری شادی کرنے والا نہ تو جہیز وغیرہ کا طالب ہوتا اور نہ ہی دیگر سخت شرائط عائد کرتا ہے جن کی وجہ سے بیٹیوں کے والدین کی زندگیاں عذاب بنی ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ فضول رسموں اور رواجوں میں بھی دوسری شادی کے وقت پیسہ اور وقت برباد نہیں کیا جاتا ہے دوسری طرف کیفیت یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں اور بہنیں وطن عزیز میں ایسی ہیں جو جہیز اور لڑکے والوں کی سخت ترین شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے دل میں لاکھوں ارمان لیے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں. پاکستان میں خواتین کی ویسے ہی ماشاءاللہ سے کثرت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ دوسری شادی پر پہلے ہی والدین ڈرتے رہتے ہیں. ایسے میں جب آپ دوسری ، تیسری شادی کے حوالے سے اتنی سخت شرائط عائد کردو گے تو اس سے معاشرے میں انصاف نہیں پھیلے گا صاحب بلکہ شادیوں کی شرح کم ہوگی اور جس معاشرے میں شادی کی شرح کم ہوتی ہیں وہاں بے حیائی اور زناء کی شرح بڑھ جاتی ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور خاندانوں کے عائلی مسائل جب آپ ان مصالحتی کونسلوں کے سپرد کرو گے تو اس سے بھی گھروں اور معاشروں میں اصلاح کی بجائے بگاڑ ہی پیدا ہوں گے. کوئی بھی بندہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بہن، بیوی اور بیٹی کا مسئلہ باہر کے لوگ حل کرتے پھریں.
    ہاں آپ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھو کہ کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناروا سلوک تو نہیں کرتا، ظلم و زیادتی کا رویہ تو نہیں روا رکھتا.

    لہذا جو صاحب استطاعت ہیں ان کو کسی بھی شرط کے بغیر دوسری یا تیسری شادی وغیرہ کی اجازت ہونی چاہیے بلکہ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے. سب سے بڑھ کر جب اسلام نے دوسری شادی پر کوئی قدغن، پابندی یا شرط نہیں لگائی بلکہ کتاب و سنت سے اس پر واضح احکام ملتے ہیں اور اسلام اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اسلام سے بھی آگے نکل کر یہ شرائط اور پابندیاں لگانے والے؟؟

    Muhammad Abdullah