Baaghi TV

Tag: برسی

  • عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    آج 23 دسمبر کو برصغیر کی مشہور و مقبول گلوکارہ، "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ نورجہاں، جن کا اصل نام اللہ وسائی تھا، 1926 میں قصور، پنجاب کے ایک موسیقار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز نو برس کی عمر میں کلکتہ سے بطور چائلڈ سنگر کیا اور جلد ہی اپنی آواز اور گائیکی کے منفرد انداز سے ایک نئی پہچان حاصل کر لی۔

    پیدائش کے وقت نور جہاں کی خالہ نے نومولود بچے کے رونے کی آواز سن کر کہا، اس بچے کے رونے میں موسیقی ہے۔ نورجہاں کے والدین تھیٹر میں کام کرتے تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے نور جہاں بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھیں،نور جہاں نے فیصلہ کیا کہ وہ بطور پلے بیک سنگر اپنی شناخت بنائیں گی۔ ان کی والدہ نے نورجہاں کے ذہن میں موسیقی کی طرف بڑھتے ہوئے جھکاؤ کو پہچان لیا، اس راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب دی اور گھر پر موسیقی سیکھنے کا انتظام کیا۔

    نور جہاں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم کجن بائی سے اور کلاسیکی موسیقی کی تعلیم استاد غلام محمد اور استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی، 1930 میں نور جہاں کو انڈین پکچر کے بینر تلے بننے والی خاموش فلم ’ہند کے تارے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا، کچھ عرصے بعد ان کا خاندان پنجاب سے کلکتہ چلا گیا، اس عرصے کے دوران انہیں تقریباً 11 خاموش فلموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا، 1931 تک نور جہاں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنی پہچان بنا لی تھی۔ 1932 میں ریلیز ہونے والی فلم ششی پنوں نورجہاں کے سینما کیرئیر کی پہلی ٹاکی فلم تھی، اس عرصے میں نورجہاں نے کوہ نور یونائیٹڈ آرٹسٹ کے بینر تلے بننے والی کچھ فلموں میں کام کیا۔ کولکتہ میں ان کی ملاقات فلم پروڈیوسر پنچولی سے ہوئی،پنچولی نے نورجہاں کو فلم انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اسٹار کے طور پر دیکھا اور انہوں نے انہیں اپنی نئی فلم گل بکاولی کے لیے منتخب کیا،اس فلم کے لیے نورجہاں نے اپنا پہلا گانا ’سالا جوانیاں مانے اور پنجرے دے وچ‘ ریکارڈ کروایا۔ تقریباً تین سال کولکتہ میں رہنے کے بعد نور جہاں واپس لاہور چلی گئیں۔ وہاں ان کی ملاقات مشہور موسیقار جی اے چشتی سے ہوئی، جو اسٹیج پروگراموں میں موسیقی دیا کرتے تھے۔ انہوں نے نورجہاں کو اسٹیج پر گانے کی پیشکش کی جس کے بدلے میں نورجہاں کو فی گانا ساڑھے سات آنہ دیا گیا۔ ان دنوں ساڑھے سات آنہ اچھی رقم سمجھی جاتی تھی۔1939 میں پنچولی کی میوزیکل فلم گل بکاولی کی کامیابی کے بعد نور جہاں فلم انڈسٹری کی ایک مقبول شخصیت بن گئیں۔ اس کے بعد سنہ 1942 میں پنچولی کی پروڈیوس کردہ فلم خاندان کی کامیابی کے بعد نور جہاں نے بطور اداکارہ فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی۔

    نورجہاں نے اپنی زندگی کے 35 سال سے زائد عرصے تک پاکستان اور ہندوستان کی فلم انڈسٹری پر اپنی آواز کا جادو چلایا اور اپنے دور کی سب سے اہم گلوکارہ کے طور پر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اردو، پنجابی، سندھی اور دیگر زبانوں میں تقریباً 10,000 گانے ریکارڈ کیے، جو آج بھی موسیقی کی دنیا میں اہم مقام رکھتے ہیں۔1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران، نورجہاں کے ملی نغموں نے پاکستانی عوام اور فوج میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کیا۔ ان کے گانے "ہمتِ مردانہ”، "دل دل پاکستان” اور دیگر نغمے آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔ ان کی آواز نے فوجیوں میں حوصلہ پیدا کیا اور عوامی جذبات کو مضبوط کیا۔

    نورجہاں کی فنی زندگی میں بے شمار ایوارڈز اور اعزازات شامل ہیں۔ 1957 میں انہیں بہترین گلوکاری اور اداکاری کے لیے صدر پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے نگار ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، ستارہ امتیاز، پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور ملینیم ایوارڈ جیسے اہم اعزازات بھی اپنے نام کیے۔ان کے گانے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سنے جاتے ہیں، اور ان کا اثر آج بھی موجود ہے۔ نورجہاں کی آواز کی مٹھاس اور گائیکی کے جذباتی رنگ ہمیشہ ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

    2000 میں آج ہی کے دن نورجہاں کراچی میں انتقال کر گئیں اور انہیں رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو دفن کیا گیا۔ ان کی وفات ایک ایسا لمحہ تھا جس سے پاکستانی قوم اور موسیقی کی دنیا ہمیشہ کے لیے غمگین ہو گئی۔نورجہاں کا فن اور ان کی شخصیت آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی آواز کی جادوگری، ان کے ملی نغمے اور ان کی بے شمار موسیقی کی تخلیقات انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی برسی پر مداحوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی یاد میں محافل منعقد کیں، جہاں ان کے گانے سن کر لوگوں نے اپنے پسندیدہ گانے دوبارہ سنے۔نورجہاں کا نام ہمیشہ گلوکاری کی دنیا میں ایک سنہری باب کے طور پر زندہ رہے گا اور ان کی گائیکی ہمیشہ نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی۔

  • سانحہ ریسکیو 15بلڈنگ 27مئی 2009  کے پولیس شہداء کی 15ویں برسی

    سانحہ ریسکیو 15بلڈنگ 27مئی 2009 کے پولیس شہداء کی 15ویں برسی

    سانحہ ریسکیو 15بلڈنگ 27مئی 2009ء کے پولیس شہداء کی 15ویں برسی کے موقع پر لاہور پولیس کی گارڈنے شہید انسپکٹر عبدالرؤف سلطان، شہید کانسٹیبل حافظ محمد ندیم، شہید کانسٹیبل شکیل احمد،شہید کانسٹیبل نثار،شہید کانسٹیبل محمد اکرم اور شہید کانسٹیبل عمیر نذیرکی برسی پر ان کی قبور پر حاضری دی۔

    لاہور پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کی قبورکو سلامی پیش کی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر فرض کی راہ میں جام ِشہادت نوش کرنے والے پولیس افسران اور جوانوں کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سانحہ ریسکیو 15بلڈنگ میں شہید انسپکٹر عبدالرؤف سلطان ودیگر کانسٹیبلان ڈیوٹی کے دوران دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔

    محکمہ پولیس شہدا ء کی قربانیوں کوکبھی فراموش نہیں کرے گا.سی سی پی او لاہور
    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور بلال صدیق کمیانہ نے سانحہ ریسکیو15بلڈنگ کے شہداء کی برسی کے موقع پرآج یہاں جاری اپنے بیان میں کہا کہ اہل وطن کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے والے پولیس افسران و اہلکار ہمارے ماتھے کاجھومر ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس کے شہداء کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں تازہ رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس اپنے شہداء کے خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ آج کا دن شہداء کے خاندانوں کے ساتھ تجدید عہد کا دن ہے، محکمہ پولیس شہدا ء کی قربانیوں کوکبھی فراموش نہیں کرے گا۔سی سی پی او لاہور نے کہا کہ شہداء کی جرأت اور بہادری کی داستانیں پوری فورس کیلئے مشعل راہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ شہداء کے ورثا کو گھروں کی فراہمی، بچیوں کی شادی اور بچوں کی کوالٹی ایجوکیشن کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں

  • قاسم سلیمانی  کی چوتھی برسی، مقبرے کے قریب دھماکے، 103 افراد جاں بحق

    قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی، مقبرے کے قریب دھماکے، 103 افراد جاں بحق

    ایران میں جنرل قاسم سلیمانی کے مقبرے کے قریب دھماکے ہوئے ہیں جن میں 103کے قریب اموات ہو چکی ہیں

    ایران میں دو دھماکوں کے نتیجے میں 103 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں،خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایران کی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قبرستان میں جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب کے قریب دو دھماکے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں 103 اموات ہو چکی ہیں،دو سو کے قریب افراد زخمی ہیں لاشوں اور زخمیوں‌کو ہسپتال منتقل کیا گیا، دھماکوں‌کے بعد ہر طرف افرا تفری مچ گئی

    گورنر کرمان کے مطابق دھماکے دہشتگردی کے واقعات ہیں، دھماکے دستی بم پھٹنے کے باعث ہوئے ہیں، سیکیورٹی حکام صورتحال کا جائزہ لے کر تحقیقات کر رہے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکوں میں ریموٹ کنٹرول بم استعمال کئے گئے،

    جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کیلیے منعقدہ تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے،ایران میں آج قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی منائی جا رہی ہے، انہیں 3 جنوری 2020 کو عراق میں امریکی ڈرون حملے میں شہید کیا گیا تھا.

    اسلامی جمہوریہ ایران کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلا دھماکا جبلیہ گنبد کے قریب انڈر پاس کے علاقے میں ہوا اور دوسرا دھماکا صاحب الزمان مسجد کے قریب کلی کے گیٹ پر ہوا۔”ارنا” کے مطابق "کرمان کے شہداء کے قبرستان کی طرف جانے والی سڑک کے ساتھ نصب دو دھماکہ خیز آلات کو دہشت گردوں نے دور سے اڑا دیا۔”

    ابھی تک کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ایرانی میڈیا کی طرف سے نشر کی جانے والی ویڈیوز میں کئی لاشوں کو چاروں طرف بکھرے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں کچھ لوگ زندہ بچ جانے والوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دیگر دھماکے کے علاقے سے نکلنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔

    کرمان ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ رضا فلہ نے کہا، "تمام حفاظتی اقدامات کے باوجود وہاں ایک خوفناک آواز سنی گئی۔ ہم ابھی بھی تفتیش کر رہے ہیں۔”کرمان کے گورنر کے سیکیورٹی ڈپٹی نے اس سے قبل ایک انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ دو دھماکے دہشت گرد حملے تھے۔

    دھماکوں کے بعد ایران میں جمعرات کو یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے،دھماکوں کے بعد شہر بھرمیں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے،

    قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کی ہدایت پر مارا گیا، پینٹا گون، ٹرمپ نے کیا کہا؟

    ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

    جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

    جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کیخلاف عالمی عدالت جانےکا اعلان

    قاسم سلیمانی بارے اطلاع دینے والے ایرانی شہری، امریکی جاسوس کو ایران نے سنائی سزائے موت

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومهدی المهندس بھی مارے گئے تھے۔

  • بیگم کلثوم نوازکی پانچویں برسی،لاہور میں تقریب

    بیگم کلثوم نوازکی پانچویں برسی،لاہور میں تقریب

    ن لیگ لاہور آفس میں بانی پاکستان قائد اعظم اورسابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کی پانچویں برسی کی تقریب ہوئی،

    تقریب میں ن لیگ کے سابق ارکان اسمبلی ،عہدیدار اور کارکنوں نے شرکت کی،ن لیگ لاہور کے صدر سیف الملوک کھوکھر ,جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر, خواجہ احمد حسان, ملک ریاض, وحید عالم خان نئ بھی برسی میں شرکت کی، قائداعظم محمد علی جناح اور بیگم کلثوم نواز کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی ،

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے بیگم کلثوم نواز کی وفات کو پانچ سال مکمل ہونے پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ بڑی بہنوں کی طرح بھابھی بیگم کلثوم نواز ہماری دعاؤں اور یادوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے آمریت کے خلاف ان کی بہادری، سیاسی بصیرت اور جدوجہد تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے بیگم کلثوم نواز نے مشکل کی گھڑی میں سیاسی میدان میں قدم رکھا اور ایسا شاندار کردار نبھایا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا سیاسی کارکنوں کے لئے وہ ایک شفیق والدہ کی طرح تھیں، وہ سراپا خیرخواہی اور دانائی تھیں علم وادب سے انہیں خصوصی محبت تھی، اسلام، قرآن اور مشرقی روایات ہی ان کی پہچان تھی ،ذاتی حوالے سے بڑی بہن کے طور پر ان کی شفقت، راہنمائی اور مخلصانہ مشورے میرا قیمتی اثاثہ ہے ،افسوس! دنیا سے رخصت ہوتے وقت ان کے پیاروں کو ان سے دور کردیا گیا تھا ،یہ غم ہم بطور خاندان کبھی بھلا نہیں سکتے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، اہل خانہ اور تمام وابستگان کو صبر جمیل دے۔ آمین

    واضح رہے کہ سابق وزیراوعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو دنیا سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے، مشرف دور میں پارٹی کو متحد رکھنے کیلئے مرحومہ کی جدوجہد آج بھی یاد ہیں، اپوزیشن جماعتوں کو آمریت کیخلاف متحد کرنے پر ’’مادر جمہوریت‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔پاکستان کے تین مرتبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کینسر کے عارضہ کے باعث 68 برس کی عمر میں 11 ستمبر 2018 میں لندن کے ہسپتال میں انتقال کر گئی تھیں۔

    بیگم کلثوم نواز تین مرتبہ پاکستان کی خاتون اول رہیں۔ لاہور کے کشمیری گھرانے میں پیدا ہونے والی کلثوم نواز رستم زماں گاما پہلوان کی پوتی تھیں، بیگم کلثوم نواز کو اگست 2017 میں لندن کے ہارلے کلینک لے جایا گیا جہاں انہیں کینسر تشخیص کیا گیا، جون 2018 میں دل کا دورہ پڑنے پر انہیں اسی طبی مرکز میں دوبارہ داخل کرایا گیا، جہاں وہ وفات تک زیر علاج رہیں۔مرحومہ تقریبا ایک سال 25 دن تک لندن میں زیر علاج رہیں اور بالآخر موت وحیات کے کشمکش کے بعد 11 ستمبر 2018 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئیں۔ مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

  • ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوارالحق کا کہنا ہے کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے، ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی : بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے 75ویں یوم وفات پراپنے پیغام میں نگراں وزیراعظم بے کہا کہ ہم قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتےہیں،ان کی قیادت کےبغیرآزادریاست کاخواب پورانہ ہوتا، آئین قائداعظم کے 14نکات کی نمائندگی کرتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل دورسےگزررہاہے اور ہمیں قائد کے اصولوں پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے آئیں عہد کی تجدید کریں کہ ہم اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

    پرویزالٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی

    نگران وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم کی زندگی اصول پسندی، آئینی جدوجہد، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں کا عملی نمونہ تھی، قائد کے پاکستان میں کسی کو لسانی، طبقاتی، مذہبی اور عددی بنیادوں پر فوقیت حاصل نہیں۔

    قائد اعظم کے درجات کی بلندی کی دُعا کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑنے مزید کہا کہ سب کومل کرپاکستان کی ترقی کیلئےمحنت کرنی ہوگی-

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

  • نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نوازکی آج چوتھی برسی

    نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نوازکی آج چوتھی برسی

    سابق وزیراوعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو دنیا سے بچھڑے 4 برس بیت گئے، مشرف دور میں پارٹی کو متحد رکھنے کیلئے مرحومہ کی جدوجہد آج بھی یاد ہیں، اپوزیشن جماعتوں کو آمریت کیخلاف متحد کرنے پر ’’مادر جمہوریت‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔

    پاکستان کے تین مرتبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کینسر کے عارضہ کے باعث 68 برس کی عمر میں 11 ستمبر 2018 میں لندن کے ہسپتال میں انتقال کر گئی تھیں۔

    بیگم کلثوم نواز تین مرتبہ پاکستان کی خاتون اول رہیں۔ لاہور کے کشمیری گھرانے میں پیدا ہونے والی کلثوم نواز رستم زماں گاما پہلوان کی پوتی تھیں، بیگم کلثوم نواز کو اگست 2017 میں لندن کے ہارلے کلینک لے جایا گیا جہاں انہیں کینسر تشخیص کیا گیا، جون 2018 میں دل کا دورہ پڑنے پر انہیں اسی طبی مرکز میں دوبارہ داخل کرایا گیا، جہاں وہ وفات تک زیر علاج رہیں۔

    مرحومہ تقریبا ایک سال 25 دن تک لندن میں زیر علاج رہیں اور بالآخر موت وحیات کے کشمکش کے بعد 11 ستمبر 2018 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئیں۔ مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

  • بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی آج انتہائی عقیدت واحترام سے منائی جا رہی ہے، بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    کراچی شہر کی بندرگاہ کے قریب واقع وزیر مینشن نامی عمارت میں 1876 کوجناح بھائی پونجا کے گھرآنکھ کھولنے والے محمد علی جناح آنے والے برسوں میں مسلمانان ہند کے میر کارواں بن گئے اور عرصہ دراز سے استحصال میں پھنسی قوم کو اپنی سیاسی بصیرت کی وجہ سے الگ مملکت کی شناخت دی۔قائداعظم کو پاکستان کی آزادی کے لیے ان کی بے مثال خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی پروگرام نشر کئے جا رہے ہیں۔

    بابائے قوم کےسنہری اصول آج بھی مسائل کی دلدل سے نکلنے کیلئے مشعل راہ ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مختلف تقاریب بھی منعقد کی گئی ہیں۔

    یاد رہے کہ برصغیر میں ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کا وہ دیرینہ خواب جو اسلامیان ہند گذشتہ دو صدیوں سے دیکھتے چلے آرہے تھے 14 اگست کو شرمندہ تعبیر ہوا، قائد اعظ محمد علی جناح قوم کیلئے آزادی حاصل کرنے کے فوراً بعد 11 ستمبر 1948 کو انتقال کرگئے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے آج بابائےقوم قائداعظم محمدعلی جناح کا74 یومِ وفات ہے.پوری قوم آج کےدن قائدِاعظم کی مسلمانانِ برصغیر کےحقوق کی جنگ میں انتھک جدوجہد، دوراندیشی اورقائدانہ صلاحیتوں پرانہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے.قائدِ اعظم کی قیادت کےبغیر مسلمانوں کیلئےآزاد ریاست کاخواب کبھی شرمندہءِ تعبیرنہ ہوتا.

    انہوں نے کہا کہ آج قوم کو پاکستان کو درپیش چیلینجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے بابائے قوم کے ایمان، اتحاد اور تنظم کے لازوال سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی سب سے ذیادہ ضرورت ہے. معاشی مشکلات میں گھرے وطنِ عزیز کو سیلاب کی قدرتی آفت کا سامنا ہے یم.

    شہباز شریف نے کہا کہ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی طاقت، اتحاد اور بھائی چارے سے اپنی صفوں میں ایسا نظم و ضبط لے کر آئیں گے کہ صرف سیلاب و معاشی مشکلات نہیں بلکہ تمام چیلینجز پرقابو پاکر قائد کےعظیم پاکستان کی منزل کو جلد حاصل کر لیں گے.راستہ دشوار ضرور ہےمگر منزل کا حصول ناممکن ہر گز نہیں.

    وفاقی وزیر برائے خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ قوم کو ہر مشکل امتحان میں قائدِ اعظم کی پیروی کرنا ہوگی، آج ایک بار پھر سیلاب کی شکل میں ارضِ وطن کو ایک چیلنج کا سامنا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے یومِ وفات پر اپنے پیغام میں کہا کہ قیامِ پاکستان جیسا عظیم کارنامہ قائدِ اعظم کی جمہوری جدوجہد کا نتیجہ ہے، وہ ملک میں سب کے لیے سماجی انصاف چاہتے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ قائدِ اعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے اصولوں پر کاربند رہیں، ان کے رہنما اصول اتحاد، یقین محکم اور نظم وضبط پر کاربند ہونا ہو گا۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قائد اعظم نے سیاسی جدوجہد کر کے آزاد ریاست کی بنیاد رکھی، قائد اعظم کی فلاسفی پر عمل پیرا ہیں۔بابائے قوم کی برسی پر اپنے پیغام میں آصف علی زرداری نے بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو متحد اورمضبوط بنانے کی ضمانت 1973 کا آئین ہے، اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری نے قائد اعظم کے پاکستان کو مستحکم کیا ہے۔

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ پوری قوم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے. قائدِاعظم کے زریں اصول اتحاد،ایمان نظم و ضبط ہمارے لیے مشعل راہ ہیں. آئیں عہد کریں کہ قائدِاعظم کے فرمودات پر عمل پیرا ہو کر ملک کو آگے لے کر جائیں گے. باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بن کر ملک کو قائد اعظم کا پاکستان بنائیں گے.

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے یوم وفات پر پیغام میں کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔قائداعظمؒ کے زریں اصولوں ”ایمان، اتحاد، تنظیم“ کو اپنا کر ہم مملکت خدا داد پاکستان کو درست سمت میں ڈال سکتے ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ قائداعظمؒ کے اصولوں پر چل کر ہی ہم پاکستان کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ آج اگر ہم خود کو آزاد قوم کہلاتے ہیں تو اس کے پیچھے قائداعظمؒ کی مدبرانہ سیاست ہے۔بانی پاکستان محمد علی جناحؒ بااصول، انصاف پسند اور جرأت مند مدبر تھے۔ تحمل،برداشت اوررواداری پر مبنی پرامن معاشرے کا قیام بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کا خواب تھا۔ ایسا پاکستان جہاں سب کو یکساں سماجی و معاشی انصاف ملے گا۔ قائد اعظمؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سیاسی اور ذاتی مفادات کو پس پشت رکھ کر بحیثیت قوم اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کی مثالی فضا پیدا کی جائے۔

  • سُروں کے شہنشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی 25 ویں برسی منائی  جا رہی ہے

    سُروں کے شہنشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی 25 ویں برسی منائی جا رہی ہے

    موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی 25 ویں برسی منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : 1948 میں فیصل آباد میں معروف قوال فتح علی خان کے گھر پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان قوالی اورلوک موسیقی میں اپنی پہچان آپ تھے۔ نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف خاندان کےدیگرافراد کی گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا۔’’حق علی مولا علی‘‘ اور’’دم مست قلندرمست مست‘‘ نے انہیں شناخت عطا کی۔

    موسیقی میں نئی جہتوں کی وجہ سے ان کی شہرت پاکستان سے نکل کرپوری دنیا میں پھیل گئی۔ بین الاقومی سطح پرصحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار1995 میں ریلیز ہونے والی فلم’’ڈیڈ مین واکنگ‘‘ تھا جس کے بعد انہوں نے ہالی ووڈ کی ایک اور فلم ’’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘‘ کی بھی موسیقی ترتیب دی۔

    1995 میں نصرت فتح علی خان کا نام پوری دنیا میں اس وقت روشن ہوا جب کینیڈ ا کے گٹارسٹ مائیکل بروک مغربی سازوں پر ان کے کئی فیوژن مارکیٹ میں لے آئے، پیٹر گیبریل کے ساتھ ان کے البم مست مست کی گونج بھی پوری دنیا میں سنی گئی، انہیں فن موسیقی کا دیوتا کہا گیا۔

    نصرت فتح علی خاں کی قوالی کے 125 سےزائد آڈیو البم جاری ہوئےاوران کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل ہے استاد نصرت فتح علی خاں نے فن موسیقی کی روحانی کیفیات کے ذریعے پوری دنیا کو مرید بنائے رکھا۔ عالمی سطح پر جتنی شہرت انھیں ملی وہ شاید کسی اور موسیقاریا گلوکارنصیب نہیں ہوئی جب کہ میڈونا جیسی گلوکارہ بھی ان کے ساتھ گانے کی خواہش مند تھی۔

    وہ حقیقی معنوں میں پاکستان کے بہترین سفیر تھے کہ جہاں لفظ ’’پاکستان‘‘ سے لوگ ناواقف تھے وہاں پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طورپرمتعارف کرایا۔ موسیقارایم ارشد نے کہا کہ وہ لاجواب آرٹسٹ اورمیوزک کو سمجھنے والے آدمی تھے۔ ان جیسے فنکار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگریہ کہا جائے کہ وہ موسیقی کے ماتھے کا جھومرتھے توبے جا نہ ہوگا۔

    عظیم گلوکارکوصدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سمیت متعدد ملکی اورغیرملکی ایوارڈزسے نوازا گیا۔ 1987 میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس، نگار ایوارڑ سمیت متعدد ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ نصرت فتح علی خان گردوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث صرف 48 سال کی عمرمیں 16اگست 1997ء کودنیا سے کوچ کر گئے مگر ان کا فن آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

  • احمد ندیم قاسمی کی آج 14 ویں برسی منائی جا رہی ہے

    احمد ندیم قاسمی کی آج 14 ویں برسی منائی جا رہی ہے

    معروف شاعر، افسانہ اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی آج14ویں برسی منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب کے ایک اعوان گھرانے میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام پیر غلام نبی تھا۔

    نامورادیب کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی 1920ء میں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ اس کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے جہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول میسر آیا احمد ندیم قاسمی نے 1921 – 1925میں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930ء-1931ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931ء صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہوگئے جہاں سے 1935ء میں بی اے کیا۔

    اپنی طرز کے منفرد شاعر احمد ندیم قاسمی بہاولپور سے لاہور پہنچے تو اختر شیرانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ انہیں بے حد عزیز رکھنے لگےاو ان کی کافی حوصلہ افزائی کی لاہور میں احمد ندیم قاسمی کی ملاقات امتیاز علی تاج سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنے بچوں کےرسالے پھول کی ادارت سونپ دی ایک سال ادارت کی اوراس دوران بچوں کے لیے بہت سی نظمیں بھی لکھیں ۔ ادب کی دنیا میں قدم رکھا تو جس صنف میں طبع آزمائی کی اسے امر کر دیا۔

    احمد ندیم قاسمی نےافسانہ اور شاعری میں شہرت پائی ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں شمار ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

    احمد ندیم قاسمی کی شاعری کی ابتداء 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں 1964ء سےامروز لاہور میں ادبی، علمی اورتہذیبی موضوعات پر ہر ہفتے مضامین لکھتے رہے۔

    احمد ندیم قاسمی نے 1936 میں انجمن ترقی پسند سے وابستگی اختیار کر لی تھی۔ وہ انجمن کے سکریٹری بھی رہے اور انہیں دو بار جیل بھی گئے احمد ندیم قاسمی نے بے شمار ادبی رسائل میں ادارتی فرائض بھی سرانجام دیئے ان کی 17 سے زائد افسانوی اور 6 شعری مجموعوں سمیت متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔

    1936ء میں ریفارمز کمشنر لاہور کے دفتر میں بیس روپے ماہوار پر محرر کی حیثیت سے ملازم ہوئے اور 1937ء تک یہیں کام کرتے رہے۔ 1939ء – 41ء کے دوران ایکسائز سب انسپکٹر کے طور پر ملازمت کی۔

    1939ء میں محکمہ آبکاری میں ملازم ہو گئے۔ 1942ء میں مستعفی ہو کر لاہور چلے آئے۔ تہذیب نسواں اور پھول کی ادارت سنبھالی 1943ء میں (ادب لطیف) کے ایڈیٹر مقرر ہوئے 1945ء – 48ء میں ریڈیو پشاور سے بحیثیت اسکرپٹ رائٹر وابستہ رہے تقسیم کے بعد ڈیڑھ سال ریڈیو پشاور میں ملازم رہے۔

    1948ء میں ریڈیو پاکستان کی ملازمت چھوڑ دی اور واپس لاہور چلے آئے یہاں انہوں نے ہاجرہ مسرور کے ساتھ مل کر ایک نئے ادبی رسالے ’’نقوش‘‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک کامیاب رسالہ ثابت ہوا۔

    فنی خدمات کے صل میں احمد ندیم قاسمی کو پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سمیت متعدد ایوارڈز اور اعزازات سےنوازا گیا احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006ء کو مختصر علالت کے بعد حرکت قلب بند ہونے سے قریبا 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہفتہ 8 جولائی 2006ء کو انہیں سانس کی تکلیف کے بعد لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کروایا گیا جہاں انہیں عارضی تنفس فراہم کیا گیا تھا، لاہور ہی میں ملتان روڈ پر ملت پارک کے نزدیک شیخ المشائخ قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

    10جولائی 2009ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے احمد ندیم قاسمی کی تیسری برسی کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراحمد ندیم قاسمی کا ایک خوب صورت پورٹریٹ شائع کیا گیا تھا۔ پانچ روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ فیضی امیر صدیقی نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں3RD DEATH ANNIVERSARY OF AHMAD NADEEM QASMI 1916-2006 کے الفاظ تحریر تھے.

  • مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لئے بھارت سے سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے

    مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لئے بھارت سے سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے

    پنجا ب میں چالیس سال حکمرانی کرنے والےسکھ لیڈر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 183 ویں برسی کی تقریبات میں شرکت کے لئے بھارت سے 450 کے سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے،

    پاکستان پہنچنے پر متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکر ٹری رانا شاہد نے مہمانوں کا استقبال کیا جبکہ پردھان سردار امیر سنگھ , ڈپٹی سیکر ٹری عمران گوندل , بورڈ ترجمان عامر ہاشمی , سکیورٹی انچارج امجد الطاف و دیگر افسران اور سکھ رہنما انکے ہمراہ تھے . متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکر ٹری رانا شاہد نے میڈیا کے نما ئندوں کو بتایا کہ چیرمین بورڈ حبیب الرحمن گیلانی کے خصو صی احکامات کی روشنی میں بھارت سے آنے والے مہمانوں کے لئے آئے ہیں . پردھان سردار امیر سنگھ کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ بورڈ نے PSGPC کے ساتھ مکمل مشاورت کے ساتھ انتظامات مکمل کیے ہیں جس پر ہم مطمعن ہیں.

    . ڈپٹی سیکر ٹری عمران گوندل نے بتایاکے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریب 29 جون گورودوارہ ڈیرہ صاحب میں منعقد ہو گی بورڈ ترجمان کے مطابق سکھ یاتری لاہور سے سپیشل ٹرینوں کے ذریعے ننکانہ صاحب پہنچ گئے ہیں جہاں پر 24 جون کو یاتری گورودوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال کا دورہ کرنے کے بعد 26 جون کو لاہور واپس آئیں گے .

    لاہور سے 27 اور 28 جون کو گورودوارہ کر تارپور صاحب نارووال اور گورودوارہ روہڑی صاحب ایمن آباد کا دورہ کر کے واپس لاہور آئیں گے , استقبا ل کے موقع پر یاتریوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پہنچ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے , مذہبی تقریبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی محبت ہمیں یہا ں کھینچ لاتی ہے , یہا ں آنے والے تمام یاتریوں کو بہت پیار اور عزت ملتی ہے , سکھ یاتری مختصر دورے کے لئے پاکستان آتے ہیں اور حسین یادیں لیے واپس لوٹتے ہیں .