Baaghi TV

Tag: برسی

  • عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کی 29 ویں برسی

    عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کی 29 ویں برسی

    عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی : حبیب جالب حق و انصاف کی ایک توانا اور ناقابل تسخیر آواز تھی حبیب جالب 24مارچ 1928 ءکو ہوشیار پور میں پیدا ہوئے اور دہلی کے اینگلو عریبک ہائی اسکول سے میٹرک کیا حبیب جالب ابتدا میں جگر مراد آبادی سے متاثر تھے اور روایتی غزلیں کہا کرتے تھے اور ہمارے شعری افق پراس وقت نمودار ہوئے تھے جب آل انڈیا مسلم لیگ تحریک پاکستان میں سرگرم عمل تھی۔

    ان کا اصل نام حبیب احمد تھا، تقسیم ہند کے بعد وہ فیملی کے ساتھ پاکستان آ گئے انہوں نے کراچی میں کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا یہاں پر انہوں نے معاشرتی نا انصافیوں کو انتہائی قریب سے دیکھا اور پھر ان کا یہی مشاہدہ اور محسوسات ان کی نظموں کا موضوع بن گئے –

    اس تحریک کے زیراثرحبیب جالب ایک رومانی شاعرسے انقلابی شاعر کی منزل کی جانب گامزن ہوگئے حبیب جالب کی نظم کوفلم زرقا میں شامل کیا گیا، پہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے 1957ء میں شائع کیا-

    انہوں نے نامساعد حالات میں بھی عوام کیلئے آواز اٹھائی اور ان کی نمائندگی کا حق ادا کر دیا۔ ان کی آنکھ نے جو دیکھا اور دل نے جو محسوس کیا اس کو من و عن اشعار میں ڈھال دیا اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر انہوں نے ہر دور کے جابر اور آمر حکمران کے سامنے کلمہ حق بیان کیا۔

    حبیب جالب بطورپروف ریڈرکراچی سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں بھی ملازم رہے جالب عوامی شاعر تھے عظیم شاعرآخر دم تک پاکستان کے محنت کش طبقے کی زندگی میں تبدیلی کے آرزو مند رہے انہوں نے معاشرے کے ہر اس پہلو کے خلاف آواز اٹھائی جس میں آمریت کا رنگ جھلکتا تھا اس پرانہوں نے ایوب خان یحیی خان اور ضیاالحق کے دور آمریت میں قید وبند کی صعوبتیں بھی کاٹیں اور جلا
    وطنی بھی جھیلی-

    انہیں 23مارچ 2009ءکو بعد از وفات نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا۔حبیب جالب کی مشہور نظمیں ظلمت کوضیائی،قائد اعظم دیکھ رہے ہو اپنا پاکستان، فرنگی کا جو میں دربان ہوتا، وطن کو کچھ نہیں خطرہ،یہ منصف بھی تو قیدی ہیں،گل سن، میں نے اس سے یہ کہا،دستور،میں نہیں مانتا وغیرہ ہیں۔

    حبیب جالب 64 برس کی عمر میں 12مارچ 1993ء کو وفات پاگئے تھے۔

  • سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس ہو گئے

    سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس ہو گئے

    لاہور: لالی ووڈ اداکار سلطان راہی کی آج 26 ویں برسی منائی گئی-

    باغی ٹی وی :پنجابی فلموں کے نامور ہیرو سلطان محمد المعروف سلطان راہی1938ءکو بھارت کے شہر اترپردیش میں پیدا ہوئے قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔سلطان راہی نے اپنے کیریئر کا آغاز فلم ’’باغی‘‘ میں ایک معمولی سے کردار سے کیا لیکن 1972میں ریلیز ہونے والی فلم ” بشیرا“ کی کامیابی نے انہیں سپر اسٹار بنا دیا جبکہ ان کی فلم ” مولا جٹ “ نے باکس آفس پر کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے۔

    سلمان خان کی گھوڑے کے ساتھ شئیرکی گئی تصویر پر دلچسپ تبصرے

    سلطان راہی 80ء کے عشرے میں پنجابی فلموں کے معروف ہیرو رہے ہیں اور 700 سے زائد فلموں میں اداکاری کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیاہے سلطان راہی کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں موجود ہے جبکہ موت کے وقت بھی سلطان راہی کی 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں اوریہ بھی ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔

    بگ باس 15: سلمان خان کی کھلاڑی کو گھر میں گھس کر مارنے کی دھمکی دی

    فن کے سلطان کو 150 سے زائد فلمی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے 500 فلموں میں انہوں نے بطور ہیرو کردار ادا کیا ہے سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی فلم کی کامیابی کی ضمانت بن گئی ان کی دیگر کامیاب فلموں میں ’سالا صاحب‘، ’چن وریام‘،’اتھرا پتر‘،’ملے گا ظلم دا بدلہ‘، ’ وحشی جٹ ‘ ، ’ شیر خان ، ’ شعلے ‘ ، ’ آخری جنگ ‘ ،’جرنیل سنگھ‘، ’دو بیگھےزمین‘،’شیراں دے پتر‘ اور دیگرقابل ذکر ہیں سلطان راہی کو یہ اعزازبھی حاصل ہےکہ 12اگست 1981ءکو ان کی پانچ فلمیں’شیرخان‘،’ظلم دا بدلہ‘،’اتھرا پتر‘،’چن وریام‘ اور ’سالا صاحب‘ ایک ہی روز ریلیز ہوئی تھیں اور ان فلموں نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے تھے۔

    بھارتی موسیقار اے آر رحمن نے بیٹی کی منگنی کر دی

    سلطان راہی کو 9جنوری 1996ءکو گجرانوالہ کے قریب نامعلوم ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا سلطان راہی کی المناک موت کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری بحران کا شکار ہو گئی۔

    ملیالم اداکارصرف 10 منٹ میں سلمان خان کے گرویدہ ہو گئے

  • بینظیر کا قتل پوری قوم کو قتل کرنے کی سازش تھی،بلاول

    بینظیر کا قتل پوری قوم کو قتل کرنے کی سازش تھی،بلاول

    بینظیر کا قتل پوری قوم کو قتل کرنے کی سازش تھی،بلاول

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے یومِ شہادت پر پیغام جاری کیا ہے

    پی پی پی چیئرمین کی جانب سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کی 14 ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ایک تحریک اور مشعلِ راہ ہے ،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قومی جذبے، طویل جدوجہد اور مضبوط قیادت کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی شہید محترمہ بینظیر بھٹو ایک مثالی عالمی لیڈر تھیں ،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان میں بڑی بہادری سے جمہو ریت کے لیے تاریخی جدوجہد کی ،انہوں نے ملک کو بانی اجداد کے فکر و وژن کی روشنی میں حقیقی فلاحی ریاست بنانے کے لیئے اقدام کیئے ،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا روالپنڈی میں قتل صرف عوام کو غربت، بیروزگاری اور ناانصافیوں سے نجات دلانے کے خواب کا قتل نہیں تھا ،بلکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل پوری قوم کو قتل کرنے کی سازش تھی ،پاکستان کے خلاف اُس گہنونی سازش کو سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے "پاکستان کھپے” کے نعرے سے ناکام بنایا ،شہید محترمہ بینظیر بھٹو ہمہ گیر شخصیت کی مالک تھیں ،انہوں نے بطور ایک عوامی رہنما پاکستان میں اتحاد، ہم آہنگی اور ترقی پسند سوچ کو فروغ دیا ،شہید محترمہ بینظیر بھٹونے عوام کے سیاسی و معاشی حقوق کی حفاظت کی ،بطور وزیراعظم انہوں نے شدید مخالفت و رکاوٹوں کے باوجود ملک میں عوام دوست پالیسیاں متعارف کرائیں انہوں نے عوامی خدمت پر مبنی بیشمار اقدامات کئے اور عالمی سطح پر پاکستان کے درست امیج کو اجاگر کیا ،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے مادرِ وطن کی دفاع کے لیئے میزائیل ٹیکنالاجی کا تحفہ ایک ناقابلِ فراموش تحفہ ہے ،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جدوجہد کے دوران آمریتی کرگسوں کے ہاتھوں انتھائی مظالم کا سامنا کیا ،انہوں نے آمریتی قوتوں کے ہاتھوں اپنے والد، دو بھائیوں اور حتیٰ کہ اپنی والدہ کو گنوایاشہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی زندگی کی آخری گھڑی تک جمہوریت کی لڑائی لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کی ،آج کا دن یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ پاکستان سے دہشتگردی و انتھاپسندی کا خاتمہ کریں گے آج یہ بھی عہد کریں کہ جمہوریت کی مضبوطی، آئین و پارلیمان کی بالادستی، اور معاشرتی مساوات کے لیئے جدوجہد جاری رکھیں گے کیونکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو اس کے علاوہ خراج عقیدت پیش کرنے کا کوئی اور بھتر طریقہ نہیں ہوسکتا

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بینظیر بھٹو آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں،بینظیر بھٹو نے ہر ظالم و جابر آمر کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا، بینظیر بھٹو کا نظریہ اور فلسفہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہےبینظیر بھٹو نے اپنی آخری تقریر میں ملکی مستقبل کامکمل روڈ میپ پیش کیا تھا،سیکیورٹی خدشات کے باوجودبینظیر بھٹو کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی کرائم سین دھویا گیا، قتل میں ملوث لوگوں کو رہائی دی گئی، بینظیر بھٹو کے قتل کیس کو روزمرہ کی بنیاد پر سنا جائے، اب بھٹو خاندان کی تیسری نسل عدالتوں کی طرف دیکھ رہی ہے،

    واضح رہے کہ بے نطیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں جنہیں 27 دسمر 2007 کو لیاقت باغ میں جلسے کے بعد جلسہ گاہ سے باہرنکلتے ہوئے بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا تھا .بے نظیر کی شہادت کے بعد ہونیوالے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تھی اور آصف زرداری صدر پاکستان بنے تھے. پیپلزپارٹی نے حکومت بنانے کے بعد بے نظیر قتل کی تحقیقات اپنے پرانے مطالبے کے مطابق اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے درخواست دی جو اس نے قبول کر لی تھی۔ آصف علی زرداری نے بے نظیر کے قتل کی پہلی برسی پر دعویٰ کیا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ قاتل کون ہیں۔ لیکن صدر مملکت بن جانے کے بعد قتل کی دوسری برسی پر اپنی تقریر میں اس حوالہ سے کچھ نہیں کہا .

    انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے 9 سال8ماہ بعد بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا .عدالت کے جج اصغر خان نے فیصلہ سناتے ہوئے پولیس افسران ، سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی سٹی خرم شہزاد کو مجموعی طور پر17، 17سال قید ، پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے5 ملزمان بری کردیے تھے .

    بینظیر بھٹو کی برسی،تیاریاں آخری مراحل میں داخل، مریم نواز شریک ہوں گی یا نہیں؟

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    مولانا فضل الرحمان کواب اپنے حلوے کا بھی حساب دینا ہو گا،فارن فنڈنگ کیس میں نئی پیشرفت

    ،نوازشریف بتائیں اسامہ سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں اور کتنا چندہ کیوں لیا،

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    غیرملکی فنڈنگ کی دستاویزات کی فراہمی،الیکشن کمیشن میں فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

    بینظیر نے اپنی کتاب میں لکھا نواز شریف نے اسامہ بن لادن سے پیسے لیے،فرخ حبیب

  • معروف شاعرہ پروین شاکر کی 27 ویں برسی

    معروف شاعرہ پروین شاکر کی 27 ویں برسی

    محبت اور خوشبوؤں کے رنگ بکھیرنے والی معروف شاعرہ پروین شاکر کی آج 27ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : پروین شاکر24 نومبر1954 کوکراچی میں سید شاکر حسن کے گھر پیدا ہوئیں ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں نے بچپن میں پروین کو کئی شعرا کے کلام سے روشناس کروایا۔

    پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتی رہیں اور مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں، تعلیم مکمل کرنے کے بعد نو برس شعبہ تدریس سے منسلک رہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔

    خوشبو کی سفیر پروین شاکرکا آج 69 واں یوم پیدائش

    پروین شاکرنے انگریزی ادب اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی۔ بی۔ آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990ء میں ٹرینٹی کالج جو امریکا سے تعلق رکھتا تھا سے تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔

    پروین شاکر کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوپاتی ہے شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔

    عمران عباس کی والدہ کے انتقال پر شوبز شخصیات کا اظہار افسوس

    شاعری کی دنیا میں انہیں احمد ندیم قاسم جیسے ادیب کی سرپرستی حاصل رہی،کم عمری میں شاعری کا آغازکرنے والی پروین شاکرکوان کے پہلے شعری مجموعے’’خوشبو‘‘پرآدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا پروین شاکر کی معروف کتابوں میں خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہ تمام شامل ہیں۔

    پروین شاکر کے ساتھ دلچسپ اتفاق یہ ہوا کہ 1982 میں جب وہ سینٹرل سپیرئیر سروسزز(سی ایس ایس ) کے امتحان میں بیٹھیں تو اردو کے پرچے میں ایک سوال ان کی شاعری سے ہی متعلق تھا۔

    پروین شاکرکی شاعری ایک نسل کی نمائندگی کرتی ہے کیونکہ ان کی شاعری کا مرکزی نکتہ عورت ہے پروین شاکرنے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو نہایت خوبصورتی سے لفظوں کے قالب میں ڈھالا بلقیس خانم سے لے کرشہنشاہ غزل مہدی حسن تک پروین شاکرکا کلام بہت سے گلوکاروں نے گایا جوبہت مقبول ہوا۔

    اپنی شاعری سے ادبی دنیا میں نام بنانے والی شاعرہ 26 دسمبر 1994 میں اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئیں لیکن انسانی جذبات و احساسات کو لفظوں میں پرونے والی شاعرہ آج بھی اہل ذوق کے دلوں میں زندہ ہے۔

    سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کی والدہ انتقال کر گئیں