Baaghi TV

Tag: برصغیر

  • برصغیر کے لیجنڈ پلے بیک گلوکارمحمد رفیع

    برصغیر کے لیجنڈ پلے بیک گلوکارمحمد رفیع

    تم مجھے یوں بھلا نہ پاو گے
    جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
    سنگ سنگ تم بھی گنگناو گے

    محمد رفیع

    31 جولائی 1980: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برصغیر کے ایک ورسٹائل اور لیجنڈ پلے بیک گلوکار، محمد رفیع 24 دسمبر 1924 کو کوٹلہ سلطان سنگھ، امرتسر، ریاست پنجاب، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستانی بالی ووڈ انڈسٹری کے نامور گلوکاروں میں سے ایک تھے اور ہندی گانوں پر ان ان کی ایک خاص گرفت تھی۔ سال 1944 سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے، نامور سدا بہار گلوکار، محمد رفیع ایک ایسا نام ہے جسے ہمیشہ پورے احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔ ان کی آواز ہر ایک کی زندگی میں سکون بخش اور پرسکون عنصر بن گئی، جس نے لوگوں کے مزاج کو غمگین سے خوشی میں بدلنے میں مدد کی۔ محمد رفیع کا موسیقی کی طرف جھکاؤ بہت چھوٹی عمر سے شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بڑے بھائی نے اس کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور اپنے خاندان کو راضی کر لیا کہ وہ اسے موسیقی میں اپنا کیریئر بنانے دیں۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم پنڈت جیون لال مٹو سے لی۔ اس کے بعد استاد عبدالواحد خان اور استاد بڑے غلام علی خان اور فیروز نظامی سے تربیت حاصل کی۔ ان کے کیریئر کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے پہلی بار لاہور میں 13 سال کی عمر میں پرفارم کیا۔ اس کے بعد انہوں نے 1941 سے اے آئی آر (آل انڈیا ریڈیو) لاہور میں گانا شروع کیا۔

    ان کی شہرت کی ابتدا ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ جگنو فلم کیلئے گائے ہوئے دوگانے ” کبھی دکھ ہے کبھی سکھ ہے” سے ہوئی اور نور جہاں کی شہرت کی ابتدا بھی اسی دوگانے سے ہوئی۔ تقریباً ہر ہندوستانی زبان میں گانے گا کر سپر اسٹار نے کل 7400 گانوں کو اپنی سریلی آواز دی ہے۔ حب الوطنی، اداس، رومانوی، غزلوں، قوالیوں تک، محمد رفیع نے تقریباً ہر قسم کے گیت گائے ہیں۔ان کی گائیکی کا انداز بالکل منفرد تھا جس نے دوسرے گلوکاروں سے آگے کھڑے ہونے میں مدد کی وہ نہ صرف گلوکار تھےبلکہ اپنے آپ میں ایک لیجنڈ اور سپر اسٹار تھے۔ انڈسٹری میں ہر کوئی ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا کیونکہ ان کی آواز میں کامیابی کا ٹیگ تھا۔ ان کی استعداد اور آواز کے معیار کے لیے، انھیں حکومت ہند کی طرف سے دیے گئے پدم شری کے ساتھ ساتھ متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا

    وہ حاجی علی محمد اور اللہ رکھی کے ہاں پیدا ہوئے ان کے 4 بھائی تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی کزن بشیرہ بانو سے شادی کی اور ان کے ہاں ایک بیٹا تھا جس کا نام سعید تھا تقسیم کے بعد انہوں نے اپنے ساتھ ہندوستان آنے سےانکار کردیا اوران کی شادی ختم ہوگئی اس کے بعد انہوں نے بلقیس بانو سے شادی کی اور اس جوڑے کے چار بچے ہوئے جن کے نام نسرین، پروین، خالد اور حامد تھے۔

    ان کا عرفی نام ‘فیکو’ تھا۔ محمد رفیع کا جنازہ اس وقت کا سب بڑا جنازہ تھا کیونکہ ان کی تدفین کے وقت 10,000 سے زیادہ لوگ آئے تھے۔ ہندوستان کی آزادی کی پہلی سالگرہ پر، انہوں نے جواہر لال نہرو سے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ باندرہ، ممبئی میں ایک چوک کا نام ان کے نام پر محمد رفیع چوک رکھا گیا۔ ان کا آخری ریکارڈ شدہ گانا "شام پھر کیوں اداس ہے دوست” تھا۔ محمد رفیع کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فلم کرودھ (1990) میں محمد رفیع تو بہت یاد آیا کے عنوان سے ایک گانا شامل کیا گیا تھا۔ اس گانے کو معروف گلوکار محمد عزیز نے گایا تھا۔ محمد رفیع نے اردو کے علاوہ ہندی، سندھی، پنجابی و دیگر متعدد زبانوں میں گایا ہے انڈیا پوسٹ نے ان کی یاد میں 15-05-2003 کو ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا رفیع صاحب کا مجسمہ ان کی جائے پیدائش کوٹلہ سلطان سنگھ، امرتسر (پنجاب) میں قائم کیا گیا ہے گوگل نے ان کی 94 ویں سالگرہ پر ڈوڈل کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیامحمد رفیع 31 جولائی 1980 کو ممبئی، انڈیا میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئےان کی عمر انتقال کے وقت 55 سال 7 ماہ تھی

    محمد رفیع کے گائے ہوئے سیکڑوں سپر ہٹ اردو گیتوں میں سے چند ایک منتخب بول
    ۔۔۔۔۔۔۔

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    یہ میرا پریم پتر پڑھ کر کہ تم ناراض مت ہونا

    یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں

    یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہوں گے

    ہوئے ہم جن کیلئے برباد وہ چاہے ہم کو کریں نہ یاد

    انصاف کا مندر ہے یہ بھگوان کا گھر ہے

    کبھی دکھ ہے کبھی سکھ ہے

    بڑی مستانی ہے میری محبوبہ

    کھلونا جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

    مجھے عشق ہے تجھی سے میری جان زندگانی

    تم مجھے یوں بھلا نہ پائو گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برصغیر کی کلاسیکل گلوکارہ ، اداکارہ ، صحافی، شاعرہ اور وکیل ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل 20 اکتوبر 1918 کو بمبئی آنند رائو وکیل کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں انہوں نے ایم ایس سی، ایل ایل ایم اور ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ۔ سشیلا نے 7 سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دیا۔

    1942 میں انہوں نے کلاسیکل گائیکی کا آغازکیا اوربعد ازاں انہوں نے School for music shiv sangeetanjali کی بنیاد رکھی۔ موسیقی کے اس اسکول میں ان کے کئی مشہور فنکار شاگرد پیدا ہوئے ڈاکٹر سشیلا نےکچھ عرصےبمبئی ہائیکورٹ میں وکالت کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا نے متعدد فلموں میں اداکاری بھی کی جن میں فلم عالم آرا، خدا کی شان، یاد رہے اور سندیسہ وغیرہ شامل ہیں ۔

    موسیقی اور اداکاری میں فلم پروڈیوسر بابو رائو پٹیل نے ان کی بہت بڑی مدد کی اور بعد میں انہوں نے بابو رائو پٹیل سے شادی کی۔ شادی کے بعد بابوراؤ پٹیل اور ڈاکٹر سشیلا نے ایک فلمی رسالے ” Filmindia کا جاری کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتی رہیں اور شاعری بھی کرتی رہیں ۔ 24 جولائی 2014 بمبئی میں 96 برس کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے قائم کردہ میوزک کو ” سشیلا بابو رائو پٹیل” کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔

  • برصغیر کی نامور شاعر پنڈت برج نارائن چکبست

    برصغیر کی نامور شاعر پنڈت برج نارائن چکبست

    زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
    موت کیا ہے، انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

    برج نارائن چکبست 19 جنوری 1882 کو فیض آباد میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام پنڈت برج نارائن چکبست تھا لکھنؤ میں تعلیم حاصل کی. 1908ء میں قانون کا امتحان پاس کرکے وکالت کرنے لگے۔

    9 برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ کسی استاد کو کلام دکھایا نہ کوئی تخلص رکھا. چکبست اُن کی گوت تھی، کہیں کہیں اس کا استعمال کیا ہے۔ غالب ؔ، انیسؔ اور آتش ؔسے متاثر تھے۔ شاعری کی ابتداء غزل سے کی۔ بعد میں قومی نظمیں لکھنے لگے۔ایک رسالہ ’ستارۂ صبح‘ بھی جاری کیا تھا۔ چکبست کا مجموعہ کلام ‘‘صبح وطن ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

    12 فروری1926ء کو ایک مقدمے کی پیروی کیلئے بریلی گئے. لکھنؤ واپسی آنے کیلئے بریلی ریلوے سٹیشن پر فالج کا حملہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد سٹیشن پر ہی انتقال ہوگیا۔

    ان کے کچھ اور اشعار :

    دردِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا
    آدمیّت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

    ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺎﻗﺪﺭﯼٔ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺻﻠﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺎ

    دنیا سے لے چلا ہے جو تو حسرتوں کا بوجھ
    کافی نہیں ہے سر پہ گناہوں کا بار کیا

    چھٹکی ہوئی ہے گورغریباں پہ چاندنی
    ہے بیکسوں کو فکر چراغ مزار کیا

    سر میں سودا نہ رہا پاؤں میں بیڑی نہ رہی
    میری تقدیر میں تھا بے سر و ساماں ہونا

    ہے مرا ضبطِ جنوں، جوشِ جنوں سے بڑھ کر
    تنگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا

    ہم اسیروں کی دعا ہے کہ چمن سے اک دن
    دیکھتے خانہ صیّاد کا ویراں ہونا

    ﺍﮔﺮ ﺩﺭﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺁﺷﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺰﺍ ﮨﻮﺗﺎ

  • مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی اپنے معاصرین میں اپنی شاعری کے نئے رنگوں اور دکھ درد کی بے شمار صورتوں میں لپٹی ہوئی زندگی کے سبب سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ یگانہ کا نام مرزا واجد حسین تھا پہلے یاس تخلص کرتے تھے بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا۔ ان کی پیدائش 17 اکتوبر 1884ء کو محلہ مغلپورہ عظیم آباد میں ہوئی۔

    1903 میں کلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تنگیِ حالات کے سبب تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ 1904ء میں واجد علی شاہ کے نواسے شہزادہ میرزا محمد مقمیم بہادر کے انگریزی کے اتالیق مقرر ہوئے۔ مگر یہاں کی آب وہوا یگانہ کو راس نہیں آئی اور وہ عظیم آباد لوٹ آئے۔

    عظیم آباد میں بھی ان کی بیماری کا سلسلہ جاری رہا اس لئے تبدیلی آب وہوا کے لئے 1905ء میں انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا۔ یہاں کی آب وہوا اور اس شہر کی رنگا رنگ دلچسپیوں نے یگانہ کو کچھ ایسا متأثر کیا کہ پھریہیں کے ہورہے، یہیں شادی کی اور یہیں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ تلاش معاش کیلئے لاہور اور حیدرآباد گئے بھی گئے لیکن لوٹ کر لکھنؤ ہی آئے۔

    ابتدائی کچھ برسوں تک تو یگانہ کے تعلقات لکھنؤ کے شعراء وادباء کے ساتھ خوشگوار رہے، انہیں مشاعروں میں بلایا جاتا اور یگانہ اپنی تہہ دار شاعری اور خوش الحانی کی بنا پر خوب داد وصول کرتے لیکن دھیرے دھیرے یگانہ کی مقبولیت لکھنوی شعراء کو کھلنے لگی۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی غیرلکھنوی لکھنؤ کے ادبی معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے۔ اس لیے یگانہ کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ ان کے لیے معاشی مشکلیں پیدا کی جانے لگیں۔ اس دشمنی کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب یگا نہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی رباعیاں کہہ دی تھیں جن کی وجہ سے سخت مذہبی خیالات رکھنے والوں کو تکلیف ہوئی۔

    اس موقع کا فائدہ اٹھا کریگانہ کے مخالفین نے ان کے خلاف ایسی فضا تیار کی کہ مذہبی جوش وجنون رکھنے والے یگانہ کو لکھنؤ کی گلیوں میں کھیچ لائے، چہرے پر سیاہی پوت کران کا جلوس نکالا اور طرح طرح کی غیرانسانی حرکتیں کیں۔لکھنؤ کے اس ادبی معاشرے میں یگانہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس سوچ کے خلاف لڑنا تھا جس کے تحت کوئی فرد یا گروہ زبان وادب اور علم کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔

    یگانہ کی شاعری کی داستان لکھنؤ میں کی جانے والی ایک ایسی شاعری کی داستان ہے جو وہاں کی گھسی پٹی اور روایتی شاعری کو رد کرکے فکر وخیال اور زبان کے نئے ذا ئقوں کو قائم کرنے کی طرف مائل تھی۔ لکھنؤ میں یگانہ کے معاصرین ایک خاص انداز اور ایک خاص روایت کی شاعری کی نقل اڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے یہاں نہ کوئی نیا خیال تھا اور نہ ہی زبان کا کوئی نیا ذائقہ وہ داغ و مصحفی کی بنائی ہوئی لکیروں پر چل رہے تھے۔

    لکھنؤ میں یگانہ کی آمد نے وہاں کے ادبی معاشرے میں ایک ہلچل سی پیدا کردی۔ یہ ہلچل صرف شاعری کی سطح پر ہی نہیں تھی بلکہ یگانہ نے اس وقت میں رائج بہت سے ادبی تصورات ومزعومات پر بھی ضرب لگائی اور ساتھ ہی لکھنو کے اہلِ زبان ہونے کے روایتی تصور کو بھی رد کیا۔ غالب کی شاعری پر یگا نہ کے سخت ترین اعتراضات بھی اس وقت کے ادبی ماحول میں حد سے بڑھی ہوئی غالب پرستی کا نتیجہ تھے۔

    یگانہ کی شاعری آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ وہ زبان اور خیالات کی سطح پر شاعری کو کن نئے تجربوں سے گزار رہے تھے۔ یگانہ نے بیسوی صدی کے تمام تر تہذیبی، سماجی اور فرد کے اپنے داخلی مسائل کوجس انداز میں چھوا اور ایک بڑے سیاق میں جس طور پرغزل کا حصہ بنایا، اس طرح ان کے عہد کے کسی اور شاعرکے یہاں نظر نہیں آتا۔ یہی تجربات آگے چل کر جدید اردو غزل کا پیش خیمہ بنے۔

    یگانہ کی کتابیں : شعری مجموعے : نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ، گنجینہ۔ دیگر : چراغ سخن، غالب شکن۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
    مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

    کشش لکھنؤ ارے توبہ
    پھر وہی ہم وہی امین آباد

    درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے
    وہم کی کیا دوا کرے کوئی

    کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی
    کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

    موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی
    لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

    واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا
    یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

    سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
    سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

    خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
    خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

    وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ
    مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

    خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گا
    گرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پر

    دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

    پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
    اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

    شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل
    غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا
    جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو
    کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے

    پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
    خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

    بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
    خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

    کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
    دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

    پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش
    اب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

    غالب اور میرزا یگانہؔ کا
    آج کیا فیصلہ کرے کوئی

    مفلسی میں مزاج شاہانہ
    کس مرض کی دوا کرے کوئی

    کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہو
    دل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیں

    نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے
    بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا

    مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
    پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

    جھانکنے تاکنے کا وقت گیا
    اب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے

    پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
    اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

    آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے
    کل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سے

    خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
    خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

    صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے
    اپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر

    دیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا
    سب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا

    مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
    بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

    باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آ
    ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

    دور سے دیکھنے کا یاسؔ گنہ گار ہوں میں
    آشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے

    دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں
    انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا

    مرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے
    حق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے

    نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس
    بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

    دنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں
    اللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا

    رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے
    پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

    کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
    اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

    حسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے
    سات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا

    یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں
    دل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے

    پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ
    سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

    ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
    عرش بریں میں اور ترے آستانے میں

    فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے
    دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا

    یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبار
    مہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا

    ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ
    بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

    بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں
    کہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے

    یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
    یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں

    امتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا
    آئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر